Malik Arfan

Malik Arfan Pakistan

حافظ آباد میں مون سون کے اثرات نمودار ہونے لگے، شہر بھر میں وبائی امرض نے پنچے گاڑنا شروع کر دیے🤧چند روز قبل ہونے والی ب...
28/07/2025

حافظ آباد میں مون سون کے اثرات نمودار ہونے لگے، شہر بھر میں وبائی امرض نے پنچے گاڑنا شروع کر دیے🤧
چند روز قبل ہونے والی بارشوں کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں گندا پانی اب تک جمع ہے جس کے باعث وبائی امراض کا پھیلاؤ شروع ہو گیا ہے۔
شہر اور گرد و نواح میں چکن پاکس، ڈائریا، خارش، نزلہ، زکام اور بخار جیسے امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔
صفائی اور نکاسی آب کے مسائل نے شہریوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
چکن پوکس سے بچاؤ کے لیے بچوں کو صاف ستھرا رکھیں، کپڑوں اور بستر کی صفائی کا خاص خیال رکھیں، اور متاثرہ افراد سے میل جول محدود کریں تاکہ بیماری نہ پھیلے۔ ڈائریا کی صورت میں صرف صاف، ابلا ہوا یا فلٹر شدہ پانی استعمال کریں اور کھانے پینے کی اشیاء کو ڈھانپ کر رکھیں۔ بچوں کو بازاری اشیاء کھانے سے روکیں۔ بارش کے پانی اور گندگی سے دور رہیں، خاص طور پر گلیوں اور جوہڑوں کے قریب جانے سے پرہیز کریں۔ اگر علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر قریبی صحت مرکز سے رجوع کریں تاکہ بروقت علاج ممکن ہو سکے۔

28/07/2025

پنجاب حکومت نے ڈی ایچ کیو ہسپتال حافظ آباد کو 325 بیڈڈ اسپتال کا درجہ دے دیا۔
حکومتِ پنجاب کے ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ نے نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے ضلع حافظ آباد کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال کو 325 بیڈز پر مشتمل ہسپتال قرار دیے دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ تمام پرانی اطلاعات اور اعدادوشمار کو منسوخ کرتے ہوئے اسپتال کے موجودہ سول انفراسٹرکچر اور دستیاب بیڈ اسپیس کے تفصیلی جائزے کے بعد کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ حافظ آباد کی عوام کے لیے صحت کی سہولیات میں بہتری کی طرف ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
تاہم، اس اعلان کے بعد عوام کی توقعات بڑھ گئی ہیں کہ اسپتال میں عملہ، سہولیات، ادویات اور دیگر طبی وسائل کو بھی نئے معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا جائے۔

Address

Abu Dhabi UAE
Abu Dhabi

Telephone

+971554196297

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Malik Arfan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Malik Arfan:

Share