Wajiha Aziz

Wajiha Aziz ھر کسی پر یقین نہ کریں
کیونکہ نمک اور چینی کا رنگ ایک جیسا ہوتا ہے
وجیھہ عزیز🏞️
Highlights

26/06/2026

عون بن عبد اللہ نے فرماتے ہیں :

" میں نے امیر المومنین عمر بن عبد العزیز سے عرض کیا:

" کہا جاتا ہے کہ اگر تم میں ایک عالم بننے کی صلاحیت ہو تو جہاں تک ممکن ہو , عالم بننے کی کوشش کرو، اور اگر تم عالم نہیں بن سکتے تو پھر ایک طالب علم بنو، اور اگر طالب علم بننے کی بھی صلاحیت نہیں ہے تو پھر ان سے (علماء و طالب علم) سے محبت کرو، اگر تم ان سے محبت کے قابل بھی نہیں ہو تو پھر (کم از کم) ان سے نفرت مت کرو-"
عمر بن عبد العزیز نے جواب دیا:

" سبحان اللہ ! اللہ نے اس (آخری ) بندے کو بھی مہلت دی ہے-"

[معرفة التاریخ ٣/٣٩٨،٣٩٩، ابن عبدالبر جامع بيان العلم وفضله ، ١.١٤٢-١٤٣]

25/06/2026

سورۃ یٰسین میں تدبر !

میں سور ۃ یٰسین پر بہت دیر تک رکا رہا...
اور میں نے اس میں ایک ایسی بات پائی جس کی طرف ہم عام طور پر زیادہ دھیان نہیں دیتے...

(لِّيُنذِرَ مَن كَانَ حَيًّا) — تاکہ وہ اس شخص کو ڈرائے جو زندہ ہے۔

پھر میں نے خود سے سوال کرنا شروع کیا...

کتنے ایسے زندہ لوگ ہیں جنہوں نے سورۃ یٰسین پڑھی اور اس سے فائدہ اٹھایا؟

ان میں سے کتنے لوگوں نے اس سے کوئی ایک سبق یا معنی ہی سیکھ لیا؟

ان میں سے کتنے لوگوں کی زندگی پر اس نے اثر ڈالا اور اس میں کچھ تبدیلی لائی؟

یہ ہزاروں لاکھوں لوگ جو اسے روزانہ پڑھتے ہیں.. انہوں نے اس کے ساتھ کیا کیا (اس پر کتنا عمل کیا)؟

پھر میں نے خود سے پوچھا... میں نے اس سورۃ کے ساتھ کیا کیا؟

میں تھوڑی دیر رک کر اس سورت میں تدبر کرنے لگا۔

سچی بات یہ ہے کہ اس میں بہت سی آیات نے میری توجہ کھینچی، لیکن جس چیز نے سب سے زیادہ مجھے اپنی طرف متوجہ کیا، وہ اس بستی کا قصہ ہے جس کے پاس رسول بھیجے گئے تھے۔

شاید ہم میں سے اکثر لوگ اس قصے کو جانتے ہیں.. لیکن اس قصے میں جس چیز نے مجھے روکا، اس نے مجھے حیرت زدہ کر دیا۔

قصے میں ہے کہ...
بستی کا ایک شخص ( حبیب نجار ) رسولوں کی دعوت پر ایمان لے آیا، اور وہ اپنے لوگوں کی تڑپ اور فکر لیے (شہر کے آخری کونے سے) دوڑتا ہوا آیا۔ وہ اپنی قوم سے گفتگو کرنے اور انہیں اس راستے کی طرف بلانے آیا جسے وہ کامیابی اور خوش بخت کا راستہ سمجھ چکا تھا۔ وہ ان کے لیے خیر اور بھلائی لے کر آیا تھا۔

لیکن اس کی قوم کی طرف سے اسے یہ صلہ ملا کہ انہوں نے اسے قتل کر دیا، اور وہ کوئی عام قتل نہیں تھا، بلکہ انتہائی بے دردی کے ساتھ مارا گیا۔

پھر اس کے بعد جو ہوا، وہ آپ کو حیران کر دے گا...!!!

جہاں قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اس شخص سے کہا گیا: (ادْخُلِ الْجَنَّةَ) "جنت میں داخل ہو جا"... ! ! !

اگر میں اس کی جگہ ہوتا تو فوراً یہ سوچتا:
"اے میرے رب! کیا تو ان قاتلوں سے میرا انتقام نہیں لے گا؟ اے رب! کیا تو انہیں عذاب نہیں دے گا؟"

لیکن جس چیز نے مجھے دنگ کر دیا، وہ اس شخص کی تمنا تھی جو بالکل مختلف تھی۔

قرآنی آیات کا متن اور ترجمہ:
قرآنِ کریم میں اس منظر کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:

قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ ۖ قَالَ يَا لَيْتَ قَوْمِي يَعْلَمُونَ ﴿٢٦﴾ بِمَا غَفَرَ لِي رَبِّي وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَمِينَ ﴿٢٧﴾
(حکم ہوا کہ) جنت میں داخل ہو جا۔ اس نے کہا: اے کاش! میری قوم کو معلوم ہو جاتا (26) کہ میرے رب نے میری مغفرت فرما دی اور مجھے عزت دار لوگوں میں شامل کر دیا (27)

سچی بات یہ ہے کہ میں اس عظیم اور بے مثل نفسِ انسانی کے سامنے بہت دیر تک حیرت سے کھڑا رہا۔ کتنا وسیع اور ظرف والا دل تھا یہ! جس میں اپنے قاتلوں کے لیے کوئی کینہ اور بغض تک نہ تھا۔

بلکہ اس کے برعکس، جنت کی خوشخبری ملتے ہی اس کی پہلی تمنا یہ تھی کہ کاش اس کا معاشرہ اس انجام کو جان لیتا، کاش وہ اس خیر کو دیکھ لیتے جو اللہ نے نیکوکاروں کے لیے تیار کر رکھی ہے: (یا لیت قومی یعلمون)۔

مجھے حیران کر دیا ان کی قوم کے لیے خیر خواہی کے جذبے نے، باوجود اس کے کہ انہوں نے اس کے ساتھ اتنا برا سلوک کیا۔

مجھے حیران کر دیا ان کی اصلاح کی تڑپ نے، باوجود اس کے کہ ان کا عناد اور ضد کھل کر سامنے آ چکی تھی۔

مجھے حیران کر دیا ان کے اندر دعوتِ خیر کے اس جذبے نے، جبکہ اب ان سے عمل کا مطالبہ بھی ختم ہو چکا تھا (وہ دنیا سے رخصت ہو چکے تھے)۔

مجھے حیران کر دیا دوسروں کے لیے ان کی اس خیر خواہی نے، یہاں تک کہ ان کے لیے بھی جنہوں نے انہیں اذیت دی۔

مجھے حیران کر دیا کہ ان کی پہلی اور سب سے بڑی تمنا یہ تھی کہ: "کاش وہ جان لیتے..."

میں اس نچوڑ (خلاصے) تک پہنچا ہوں:
بڑے لوگ ہی ایک اعلیٰ مقصد یعنی لوگوں کی اصلاح کے لیے ان کی جہالت اور بدتمیزی کو برداشت کرتے ہیں۔

بڑے لوگ ہی ذاتی انتقام کی خاطر کسی سے دشمنی نہیں پاتے۔

بڑے لوگ ہی وہ ہوتے ہیں جن کی تمنائیں تعمیری (بنائو کی) ہوتی ہیں۔

بڑے لوگ ہی لوگوں تک اصلاح کا پیغام پہنچانے کی قیمت (تکالیف کی شکل میں) خوشی سے ادا کرتے ہیں۔

بڑے لوگ ہی وہ ہوتے ہیں جن کی قدر کا عام طور پر معاشرے کو علم نہیں ہوتا۔

اچھا کردار اور نیک سیرت وہ سب سے خوبصورت چیز ہے جو انسان دوسروں کے دلوں میں چھوڑ کر جاتا ہے..

جب دل مر جائے.. تو رحمت چلی جاتی ہے۔

جب عقل مر جائے.. تو حکمت چلی جاتی ہے۔

اور جب ضمیر مر جائے.. تو سب کچھ ہی چلا جاتا ہے۔
Wajiha Aziz

ایک دفعہ سلیمان علیہ السلام اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک چِڑے کے پاس سے گزرے، جو کسی چڑیا کے گرد چکر کاٹ رہا تھا۔ سلیمان علی...
21/06/2026

ایک دفعہ سلیمان علیہ السلام اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک چِڑے کے پاس سے گزرے، جو کسی چڑیا کے گرد چکر کاٹ رہا تھا۔

سلیمان علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا :
جانتے ہو یہ کیا کہہ رہا ہے؟

ساتھیوں نے کہا: اللہ کے نبی، بتائیے کیا کہہ رہا ہے؟

فرمایا: یہ اس چڑیا سے اپنے رشتے کی بات چلا رہا ہے، اور کہہ رہا ہے:
"مجھ سے شادی کر لو، دمشق کے جس بالا خانے میں کہو گی تمہیں رکھوں گا۔

حالانکہ دمشق کے بالا خانے پتھروں سے بنے ہیں، وہاں پرندے نہیں رہ سکتے۔ لیکن ہر رشتہ مانگنے والا یوں ہی سبز باغ دکھاتا ہے۔" 🫡

مسکرائیے!! کیونکہ دنیا کہ سارے غم آپ کی ملکیت تھوڑی ہیں 😊🥀🥀

#محرم

19/06/2026

تاریخ دانوں نے روایت کیا ہے کہ عمر بن خطابؓ، جنہیں ان کی سختی اور قوت کے لیے جانا جاتا ہے، ایک دن مدینہ میں لوگوں کے لیے کھانے کے دسترخوان لگا رہے تھے۔ انہوں نے ایک شخص کو بائیں ہاتھ سے کھاتے ہوئے دیکھا، تو پیچھے سے آ کر کہا:

"اے عبداللہ! دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔"

اس شخص نے جواب دیا: "اے عبداللہ! میرا دایاں ہاتھ مصروف ہے۔"

عمرؓ نے دوبارہ یہی بات کہی۔

شخص نے پھر وہی جواب دیا۔

عمرؓ نے پوچھا: "اسے کیا مصروفیت ہے؟"

تو اس نے جواب دیا: "یہ ہاتھ غزوۂ مؤتہ میں زخمی ہوا تھا، اب حرکت نہیں کرتا۔"

یہ سن کر عمرؓ اس کے پاس بیٹھ گئے اور رونے لگے، اور سوالات کرنے لگے:

"تجھے وضو کون کراتا ہے؟

تیرے کپڑے کون دھوتا ہے؟

تیرا سر کون دھوتا ہے؟

اور۔۔۔ اور۔۔۔ اور۔۔۔؟"

اور ہر سوال کے ساتھ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

پھر انہوں نے اس کے لیے ایک خادم، ایک سواری اور کھانے کا بندوبست کیا، اور اس سے معذرت کرنے لگے کہ انہوں نے نادانستہ طور پر ایسی بات کہہ دی جو اسے تکلیف دے گئی۔

اسی طرح قوانین بنتے ہیں...

عمرؓ رات کو مدینے کی گلیوں میں گشت کرتے تھے، نہ کہ رعایا پر نظر رکھنے کے لیے، بلکہ ان کے حالات جاننے کے لیے۔

ایک رات انہوں نے ایک دیہاتی عورت کو اپنے شوہر کی یاد میں اشعار پڑھتے سنا:

"طویل ہو گیا ہے یہ رات، اور اس کا اندھیرا بڑھ گیا ہے

مجھے نیند نہیں آتی کہ میرا محبوب میرے ساتھ نہیں

اگر نہ ہوتی وہ ذات جس کا عرش آسمانوں پر ہے

تو یہ بستر میرے ہجر کی شدت سے ہل گیا ہوتا"

امیر المؤمنین قریب آئے، سنا، اور پھر دروازے کے پیچھے سے پوچھا:

"اے بہن! کیا ہوا؟"

عورت نے جواب دیا:

"میرے شوہر کئی مہینوں سے جہاد کے لیے گئے ہوئے ہیں، میں انہیں یاد کرتی ہوں۔"

عمرؓ فوراً اپنی بیٹی حفصہؓ کے پاس گئے اور پوچھا:

"عورت اپنے شوہر کی جدائی کتنے عرصے برداشت کر سکتی ہے؟"

بیٹی شرما گئی اور سر جھکا لیا، تو عمرؓ نے عاجزی سے کہا:

"اللہ حق کہنے سے نہیں شرماتا، اگر یہ سوال رعایا کے معاملے کے لیے نہ ہوتا تو میں نہ پوچھتا۔"

حفصہؓ نے جواب دیا:

"چار، پانچ یا چھ مہینے۔"

عمرؓ واپس گئے اور تمام فوجی کمانڈروں کو لکھا:

"فوجوں کو چار ماہ سے زیادہ نہ روکا جائے۔"

یوں عورت کے ایک فطری حق کی بنیاد پر ایک قانون بنا۔

یہ قانون ریاست نے نہیں، بلکہ معاشرے (ایک دیہاتی عورت اور حفصہؓ) نے تشکیل دیا۔ ریاست نے صرف اسے نافذ کیا۔

اسی طرح عورت کا قانون تشکیل پایا۔

ایک رات عمرؓ گشت پر تھے تو ایک بچے کی رونے کی آواز سنی۔ قریب گئے اور پوچھا:

"کیا ہوا بچے کو؟"

ماں نے کہا:

"میں اسے دودھ چھڑوا رہی ہوں، اس لیے رو رہا ہے۔"

ظاہر ہے، یہ عام بات تھی۔ لیکن عمرؓ نے اس سے بات چیت کی تو معلوم ہوا کہ وہ عورت صرف اس لیے بچے کو وقت سے پہلے دودھ چھڑا رہی ہے تاکہ بیت المال سے ملنے والے سو درہم حاصل کر سکے، جو صرف دودھ چھڑانے کے بعد دیے جاتے تھے۔

عمرؓ گھر واپس گئے، مگر نیند نہ آئی۔ اس بچے کی سسکیوں نے دل کو جھنجھوڑ دیا تھا۔

انہوں نے فوراً حکم جاری کیا:

"بچے کو پیدائش کے وقت ہی سے سو درہم دیے جائیں، نہ کہ دودھ چھڑانے کے بعد۔"

یوں بچوں کے لیے قانون بنا جو ان کی مناسب غذا اور صحت کا ضامن بن گیا۔

اگر عمرؓ اس عورت سے گفتگو نہ کرتے تو یہ قانون نہ بنتا۔

یوں بچے کا قانون بھی تشکیل پایا۔

عمرؓ کو اپنے بھائی زید سے محبت تھی، جو حروبِ ارتداد میں شہید ہو گئے تھے۔

ایک دن بازار میں عمرؓ کی ملاقات زید کے قاتل سے ہوئی، جو اب مسلمان ہو چکا تھا۔

عمرؓ نے غصے سے کہا:

"اللہ کی قسم! میں تجھ سے اتنی نفرت کرتا ہوں جتنا زمین بہتے ہوئے خون سے کرتی ہے!"

اعرابی نے پوچھا:

"کیا اس نفرت سے میرے حقوق متاثر ہوں گے، اے امیر المؤمنین؟"

عمرؓ نے کہا:

"نہیں۔"

تو اعرابی نے بے پروائی سے کہا:

"محبت کا غم تو عورتیں کرتی ہیں۔"

(یعنی مجھے تمہاری محبت کی پروا نہیں، میرے اور تمہارے درمیان صرف حقوق اور فرائض کا رشتہ ہے)

عمرؓ نے غصے کے باوجود نہ اسے جیل بھیجا، نہ سزا دی۔

اس کی آزادی رائے کا احترام کیا۔

یوں معاشرے میں آزادیِ اظہار کا قانون بنا۔

ایک عورت نے ایک جمعے کے خطبے کے دوران کہا:

"اے عمر! تم غلطی پر ہو۔"

یہ اس وقت ہوا جب عمرؓ نے مہر کی حد مقرر کرنے کا قانون تجویز کیا۔

وہ عورت عام تھی، مگر اس کی دلیل درست تھی۔

عمرؓ نے نہ اسے گرفتار کیا، نہ سزا دی، نہ شرمندہ کیا، بلکہ علی الاعلان کہا:

"عمر غلطی پر تھا، اور عورت نے درست کہا۔"

اور اس قانون کو واپس لے لیا۔

یوں مہر کی مقدار کا فیصلہ معاشرے پر چھوڑ دیا گیا۔

یوں قوانین بنتے ہیں۔۔۔ معاشرے کی ضرورت، خواہش، روایت، اور فطری تقاضوں سے۔

قانون نہ ایوان اقتدار میں بنتے ہیں، نہ محلات میں، بلکہ لوگوں کی نبض پر ہاتھ رکھ کر، ان کی حالت سن کر، ان سے سیکھ کر۔

اصل قانون ساز معاشرہ ہے،؛ اقتدار

نہیں۔

رضی اللہ تعالیٰ عنہ ❤️

منتخب

17/06/2026

#محرم
#اسلام
#دین
Wajiha Aziz

16/06/2026
13/06/2026

قرآنِ کریم کی عجیب ترین طبی معلومات میں سے ایک!
ہم سب کو یہ مبارک آیت یاد ہے: {فَضَرَبْنَا عَلَىٰ آذَانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِينَ عَدَدًا}
" پھر ہم نے غار میں کئی سال کے لیے ان کے کانوں پر پردہ ڈال دیا/تھپک کر سلا دیا"

عام طور پر اس آیت کا سادہ سا مفہوم یہی لیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اصحابِ کہف سے آواز کو روک دیا تاکہ وہ گہری نیند سو سکیں اور بیدار نہ ہوں!

یہ بات تو اپنی جگہ بالکل درست ہے، لیکن کیا آپ نے کبھی خود سے یہ سوال کیا: قرآن نے "فَضَرَبْنَا عَلَىٰ آذَانِهِمْ" (ہم نے ان کے کانوں پر پردہ ڈالا) کیوں فرمایا، اور "فَضَرَبْنَا عَلَىٰ أَسْمَاعِهِمْ" (ہم نے ان کی سماعتوں پر پردہ ڈالا) کیوں نہیں فرمایا؟
کان (الأذن) اور سماعت (السمع) میں کیا فرق ہے؟

آیت کے پیچھے چھپا طبی راز :

اس کے پیچھے ایک حیرت انگیز طبی معجزہ پوشیدہ ہے جسے جدید طب نے اب دریافت کیا ہے!

تصور کیجیے کہ انسان طبی لحاظ سے صرف ایک طریقے سے نہیں، بلکہ دو طریقوں سے سنتا ہے:

1..... ہوائی ترسیل (Air Conduction):

یہ وہ روایتی سماعت ہے جسے ہم سب جانتے ہیں، جہاں آواز ہوا کے ذریعے سفر کرتی ہے اور بیرونی کان سے ہوتی ہوئی دماغ تک پہنچتی ہے۔

2.... ہڈیوں کی ترسیل (Bone Conduction):

اور اصل سرپرائز یہ ہے! کھوپڑی کی ہڈیوں میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ آواز کے ارتعاشات (vibrations) کو براہِ راست "اندرونی کان" (Inner Ear) تک اور وہاں سے دماغ تک پہنچا دیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ اپنے بیرونی کانوں کو مکمل طور پر بند بھی کر دیں، تب بھی آپ کی ہڈیاں آپ تک آواز پہنچا سکتی ہیں!

طبی معلومات: اسی وجہ سے جب ڈاکٹر سماعت کے مسائل کا معائنہ کرنا چاہتے ہیں، تو وہ ایک آلہ استعمال کرتے ہیں جسے "ٹوننگ فورک" (Tuning Fork / شوکہ رنانہ) کہا جاتا ہے۔ وہ اسے بجا کر سر کی کسی بھی ابھری ہوئی ہڈی پر رکھتے ہیں، جس سے مریض بیرونی کان کی ہوا کے بغیر بھی اپنے اندر آواز سن لیتا ہے (یعنی بیرونی کان میں کوئی آواز نہ ہونے کے باوجود، صرف ہڈی کے ذریعے آواز سنائی دیتی ہے)!

یہاں سے قرآن کا معجزہ ظاہر ہوتا ہے
اسی جگہ سے قرآنِ پاک کے لفظ کی عظمت اور حیرت انگیز درستگی سامنے آتی ہے:

اگر قرآن فرماتا "فضربنا على أسماعهم" (ہم نے ان کی سماعتوں پر پردہ ڈالا—یعنی صرف بیرونی سماعت)، تو یہ ممکن تھا کہ جب وہ زمین پر لیٹے ہوئے ہوں، تو کوئی بھی تیز آواز ان کی ہڈیوں کے ذریعے منتقل ہو کر انہیں نیند سے بیدار کر دیتی!

لیکن معجزہ یہ ہے کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: {فَضَرَبْنَا عَلَىٰ آذَانِهِمْ} (ہم نے ان کے کانوں پر پردہ ڈالا)، یعنی یہ تعطیل (بلاکیج) پورے کان، اس کے تمام حصوں اور آواز پہنچانے کے تمام طریقوں (بیرونی و اندرونی، ہوائی و ہڈیوں کی ترسیل) پر محیط تھی۔ یوں پورے 309 سال تک سماعت کا عمل مکمل طور پر ناممکن بنا دیا گیا!

کیا آپ نے قرآنی لفظ کی درستگی اور اس کا طبی اعجاز دیکھا؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی کتاب میں کوئی ایک لفظ بھی اتفاقاً نہیں آتا۔

(ڈاکٹر ہارون جاد کی کتاب "لطائف الوحی"، صفحہ 22 سے ماخوذ)
Wajiha Aziz

11/06/2026

آئیں آپکو ایک سچی محبت کی لازوال داستان سناتے ہیں.
ابوالعاص نبوت سے پہلے ایک دِن رسولﷺ کے پاس آیا اور کہا "میں اپنے لِیے آپکی بڑی بیٹی زینب کا ھاتھ مانگنے آیا ھوں.
رسولﷺ نے فرمایا : "میں اِن کی اِجازت کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا

گھر جا کر رسولﷺ نے زینب سے کہا : "تیری خالہ کے بیٹے نے تیرا نام لِیا ھے کیا تم اِس پر راضی ھو؟
زینب کا چہرہ سُرخ ھوا اور مُسکرا دیں

رسولﷺ اُٹھ کر باھر تشریف لے گئے اور ابوالعاص بن الربيع کا رِشتہ زینب کیلئے قبول کِیا

یہاں سے مُحبت کی ایک داستان شروع ھوتی ھے

جس میں مصیبتیں ہی مصیبتیں ہیں

ابوالعاص سے زینب رض کا بیٹا "علی" اور بیٹی "اِمامہ" پیدا ھوئے ، پھر آزمائش شروع ھو جاتی ھے کیونکہ ان کی شادی کے بعد نبیﷺ پر وحی نازل ھوئی آپ نے اعلان فرمایا کہ وہ اللہ کے رسولﷺ ہیں.

ابوالعاص کہیں سفر میں تھا جب واپس آیا تو بیوی اِسلام قبول کر چُکی تھی

جب گھر میں داخل ھوا تو بیوی نے کہا : "میرے پاس تمہارے لِیے ایک عظیم خبر ھے"

یہ سُن کر وہ اُٹھ کر باھر نِکل گیے اور کہا کہ تم دوسرے عقیدے کی ہو چکی ہو. دور رہو اب مجھ سے. زینب خوف زدہ ھو کر اِن کے پیچھے پیچھے باھر نِکلتی ھے اور کہتی ھے : "میرے ابو نبیؐ بنائے گئے ھیں اور میں اِسلام قبول کر چُکی ھوں"

ابوالعاص : تم نے مُجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟

اب دونوں کے درمیان ایک بڑا مسئلہ پیدا ھوتا ھے جو کہ عقیدے کا مسئلہ تھا
زینب : میں اپنے ابوؐ کو جُھٹلا نہیں سکتی اور نہ ھی میرے ابوؐ کبھی جھوٹے تھے ، وہ تو صادق اور امین ھیں ، میں اکیلی نہیں میری ماں اور بہنیں بھی اِسلام قبول کر چُکی ھیں ، میرا چچازاد بھائی علی بن ابی طالب بھی اِسلام قبول کر چُکے ھیں ، تیرا چچازاد عثمان بن عفان بھی مُسلمان ھو چُکے ھیں ، تمہارے دوست ابوبکر بھی اِسلام قبول کر چُکے ھیں.

ابوالعاص : مگر میں نہیں چاھتا کہ لوگ یہ کہیں کہ اپنی قوم کو چھوڑ دِیا ، اپنے آباؤ اجداد کو جُھٹلایا ، تیرے ابوؐ کو ملامت نہیں کرتا ھوں بس میں اپنی قوم سے دغا نہیں کرونگا.

بہرحال ابوالعاص نے اِسلام قبول نہیں کِیا یہاں تک کہ ہِجرت کا زمانہ آ گیا اور زینب رسولﷺ کے پاس آئی اور فرمایا : اے اللہ کے رسولﷺ کیا آپ مُجھے اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ رھنے کی اِجازت دینگے؟

رسولﷺ نے فرمایا : اپنے شوھر اور بچوں کے پاس ھی رھو.

وقت گُزرتا گیا اور دونوں اپنے بچوں کے ساتھ مکہ میں ھی رھے یہاں تک کہ غزوہِ بدر کا واقعہ پیش آیا اور ابوالعاص قریش کی فوج کے ساتھ اپنے سُسر کے خلاف لڑنے کے لیے روانہ ھوا ، زینب خوف زدہ تھی کہ اِسکا شوھر اِسکے اباؐ کے خلاف جنگ لڑے گا اِسلیے روتی ھوئی کہتی تھی : اے اللہ میں ایسے دِن سے ڈرتی ھوں کہ میرے بچے یتیم ھوں یا اپنے ابوؐ کو کھو دوں

ابوالعاص بن الربيع رسولﷺ کے خلاف بدر میں لڑے ، جنگ ختم ھوئی تو داماد سُسر کی قید میں تھا ، خبر مکہ پہنچ گئی کہ ابوالعاص جنگی قیدی بنائے گئے.

زینب پوچھتی رھی کہ میرے والدؐ کا کیا بنا؟ لوگوں نے بتایا کہ مسلمان تو جنگ جیت گئے جِس پر زینب نے سجدہِ شُکر ادا کِیا
پھر پوچھا : میرے شوھر کو کیا ھوا؟
لوگوں نےکہا : اِسکو اِسکے سُسر نے جنگی قیدی بنایا

زینب نے کہا : میں اپنے شوھر کا فدیہ (دیت) بھیج دونگی
شوھر کا فدیہ دینے کیلئے زینب کے پاس کوئی قیمتی چیز نہیں تھی اِسلیے اپنی والدہ ام المومنین خدیجہ کا ھار اپنے گلے سے اُتار دِیا اور ابوالعاص بن الربيع کے بھائی کو دے کر اپنے والدﷺ کی خدمت میں روانہ کِیا ، رسولﷺ ایک ایک قیدی کا فدیہ وصول کر کے اِنکو آزاد کر رھے تھے ، اچانک اپنی زوجہ خدیجہ کے ھار پر نظر پڑی تو پوچھا : یہ کِس کا فدیہ ھے؟
لوگوں نے کہا : یہ ابوالعاص بن الربيع کا فدیہ ھے

یہ سُن کر رسولﷺ رو پڑے اور فرمایا : یہ تو خدیجہ کا ھار ھے ، پھر کھڑے ھوگئے اور فرمایا : اے لوگو یہ شخص بُرا داماد نہیں ، کیا میں اِسکو رِہا کر دوں؟ ، اگر تم اِجازت دیتے ھو تو میں اِس کا ھار بھی اِسکو واپس کر دوں؟

لوگوں نے کہا کیوں نہیں ، اے اللہ کے رسولﷺ آپ پر ہماری نسلیں قربان. آپ جو حکم دیں گے وہ ہی ہوگا.

رسولﷺ نے ھار ابوالعاص کو تھما دِیا اور فرمایا : زینب سے کہو کہ خدیجہ کے ھار کا خیال رکھے ، پھر فرمایا : اے ابوالعاص کیا میں تم سے تنہائی میں کوئی بات کر سکتا ھوں؟ اِن کو ایک طرف لے جا کر فرمایا : اے ابوالعاص اللہ نے مُجھے کافر شوھر اور مسلمان بیوی کے درمیان جدائی کرنے کا حُکم دے دِیا ھے اِسلیے میری بیٹی کو میرے حوالے کر دو.

ابوالعاص نے کہا : جی ھاں میں واپس جاتے ہی بھجوا دونگا اسے.

دوسری طرف زینب شوھر کے اِستقبال کے لئے گھر سے نِکل کر مکہ کے داخلی راستے پر اِنکی راہ دیکھ رھی تھی ، جب ابوالعاص کی نظر اپنی بیوی پر پڑی فوراً کہا میں جا رھا ھوں.
زینب نے کہا : کہاں؟

ابوالعاص : میں نہیں تم اپنے باپؐ کے پاس جانے والی ھو

زینب : کیوں؟

ابوالعاص : میری اور تمہاری جدائی کیلئے جاؤ اپنے باپؐ کے پاس جاؤ کیونکہ انہوں نے فیصلہ بتایا ہے کہ کافر شوہر کے پاس مسلمان بیوی نہیں رہ سکتی.

زینب : کیا تم میرے ساتھ جاؤ گے اور اِسلام قبول کرو گے؟.
ابوالعاص : نہیں ،

زینب اپنے بیٹے اور بیٹی کو لے کر مدینہ منورہ چلی گئی. جہاں چھ سال کے دوران کئی رشتے آئے مگر زینب نے قبول نہ کِیے اور اِسی اُمید سے اِنتظار کرنے لگی کہ شاید شوھر اِسلام قبول کر کے آئے گا.

چھ سال بعد ابوالعاص ایک قافلے کے ساتھ مکہ سے شام کے سفر پر روانہ ھوا ، سفر کے دوران راستے میں صحابہ کی ایک جماعت نے اِنکو گرفتار کِیا اور ساتھ مدینہ لے گئے. مدینہ جاتے ھوئے زینب اور اِنکے گھر کے بارے میں پوچھا فجر کی اذان کے وقت زینب کے دروازے پر پُہنچا ، زینب نے اِن پر نظر پڑتے ھی پوچھا : کیا اِسلام قبول کر چُکے ھو؟

ابوالعاص : نہیں

زینب : ڈرنے کی ضرورت نہیں ، تم مدینے کے والی صلعم کی پناہ میں ہو. خالہ زاد کو خوش آمدید علی اور امامہ کے باپ کو خوش آمدید

رسولﷺ نے فجر کی نماز پڑھائی تو مسجد کے آخری حصے سے آواز آئی کہ

"میں ابوالعاص بن الربيع کو پناہ دیتی ھوں"

نبیﷺ نے فرمایا : کیا تم لوگوں نے سُن لِیا جو میں نے سُنا ھے؟..
سب نے کہا : جی ھاں اے اللہ کے رسولﷺ

زینب نے کہا : اے اللہ کے رسولﷺ ابوالعاص میرا خالہ زاد ھے اور میرے بچوں کا باپ ھے میں اِنکو پناہ دیتی ھوں.
رسولﷺ نے قبول کر لِیا اور فرمایا : اے لوگو یہ بُرا داماد نہیں اِس شخص نے مُجھ سے جو بات کی سچ بولا اور جو وعدہ کِیا وہ نبھایا اگر تم چاھتے ھو کہ اِسکو اِس کا مال واپس کر کے اِسکو چھوڑ دِیا جائے اور یہ اپنے شہر چلا جائے یہ مُجھے پسند ھے ، اگر نہیں چاھتے ھو تو یہ تمہارا حق ھے اور تمہاری مرضی ھے میں تمہیں ملامت نہیں کرونگا

لوگوں نے کہا : ھم اِس کا مال واپس کر کے اِس کو جانے دینا چاھتے ھیں

رسولﷺ نے فرمایا : اے زینب تم نے جِس کو پناہ دِی ھم بھی اِسکو پناہ دیتے ھیں ، اِس پر ابوالعاص زینب کے ساتھ اِن کے گھر چلے گئے اور رسولﷺ نے زینب سے فرمایا : اے زینب اِن کا اکرام کرو کہ یہ تیرا خالہ زاد اور بچوں کا باپ ھے مگر یہ تمہارے قریب نہ آئے کیونکہ یہ تمہارے لیے حلال نہیں ہے اب.

گھر جا کر حضرت زینب نے ابوالعاص بن الربيع سے کہا : اے ابوالعاص جدائی نے تُجھے تھکا دِیا ھے وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا ہے کیا اِسلام قبول کر کے ھمارے ساتھ رھو گے؟

ابوالعاص : نہیں

اپنا مال لے کر مکہ روانہ ھو گیا جب مکہ پہنچا تو کہا : اے لوگو ، یہ لو اپنے اپنے مال ، کیا کسی کا کوئی مال میرے ذِمے ھے؟..
لوگوں نے کہا : اللہ تمہیں بدلہ دے تم نے بہتر وعدہ نبھایا

ابوالعاص نے کہا : میں گواھی دیتا ھوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدﷺ اللہ کے رسول ھیں

اسکے بعد مدینہ روانہ ھوا اور جب مدینہ پہنچے تو پھر فجر کا وقت تھا ، سیدھا نبیﷺ کے پاس گئے اور کہا : کل آپﷺ نے مجھے پناہ دِی تھی اور آج میں کہنے آیا ھوں کہ "میں گواھی دیتا ھوں کہ اللہ کے سِوا کوئی معبود نہیں اور آپﷺ اللہ کے رسولؐ ھیں"

ابوالعاص نے کہا : اے اللہ کے رسولﷺ کیا زینب کے ساتھ رجوع کی اِجازت دیتے ھیں؟ میں تھک چکا ہوں اب جدائی سہتے سہتے.

نبیﷺ نے ابوالعاص کا ھاتھ پکڑ کر فرمایا : آؤ میرے ساتھ..
زینب کے دروازے پر لے جا کر دروازہ کھٹکھٹایا اور زینب سے فرمایا : یہ تمہارا خالہ زاد واپس آیا ھے اسلام قبول کر چکا ہے تم سے رجوع کی اِجازت مانگ رھا ھے کیا تمہیں قبول ھے؟
زینب کا چہرہ سُرخ ھوا اور مُسکرائی

عجیب بات یہ ھے کہ اِس واقعے کے صرف ایک سال بعد زینب کا اِنتقال ھوا جِس پر ابوالعاص زاروقطار بچوں کی طرح رونے لگے حتی کہ بعد میں بھی لوگوں کے سامنے رو پڑتے اور رسولﷺ اِن کے سر پر ھاتھ پھیر کر تسلی دیتے تھے.

جواب میں ابوالعاص کہتے : اے اللہ کے رسولﷺ ، اللہ کی قسم زینب کے بغیر دُنیا میں زندہ نہیں رہ سکتا

اور ایک سال کے بعد ھی ابوالعاص بھی اِنتقال کر گئے.

حوالہ (مصدر : روائع من التاريخ الاسلامی)

08/06/2026

ایک مرتبہ حضرت رابعہ بصری رحمتہ اللّہ علیہ (آپ) کہیں سے گزر رھی تھیں ۔
دیکھا کہ ایک شخص لوگوں کو جنت کے بارے میں ترغیب دلا رھا تھا ،
آپ رک گئیں اور فرمایا ؛
" میاں خدا سے ڈرو ،
تم لوگوں کو کب تک اللّٰہ پاک کی محبت سے غافل رکھو گے ۔
تمہیں چاھیے کہ پہلے اپنے خدا کی محبت کی تعلیم دو ،
پھر جنت کا شوق دلاؤ "
اس شخص نے جب آپکی بات سنی تو تنک کے بولا ؛
" اے دیوانی جا اپنا رستہ لے "
حضرت رابعہ بصریؒ کہنے لگیں کہ ؛
" میں تو دیوانی نہیں ھوں ۔
ھاں تو نادان ضرور ھے کہ راز کی بات نہ سمجھ سکا ۔
ارے جنت تو قید خانہ ھے ،
مصیبت کا گھر ھے کہ اگر وھاں اللّٰہ پاک کا قرب و دیدار میسر نہ ھو ،
کیا تو نے آدم علیہ السلام کا حال نہیں سنا کہ جب تک ان پر خدا کا سایہ رہا کیسے آرام سے جنت میں میوہ خوری کرتے رھے
اور جب خطا کر بیٹھے
اور شجر ممنوعہ کا پھل کھا لیا تو خدا کی شفقت کا سایہ سر سے اٹھ گیا ،
تو وھی جنت آدم علیہ السلام کے لیے مصیبت کا گھر اور قید خانہ بن کر رہ گئی "
پھر کہا ؛
" کیا تجھےابراھیم خلیل اللّٰہ کا حال معلوم نہیں کہ جب وہ محبت الہی پر پورے اترے اور آگ میں ڈالے گئے تو وہ آگ ان کے لیے جنت و عافیت بن گئی ۔
پس !
پہلے جنت کے مالک کی محبت پیدا کرو ،
پھر جنت میں جانے کی آرزو کرو ،
ایسی جنت میں جا کر کیا کرو گے کہ جہاں تم پر اللّٰہ پاک کا سایہ نہ ھو ،
اگرجنت کسی مشتاق کو مل جائے مگر وہاں دیدار الٰہی نصیب نہ ھو تو ایسی جنت کس کام کی؟
اور
اگرعاشقوں کو دوزخ ملے اور وھاں دیدار الٰہی نصیب ھو تو ایسی دوزخ اس جنت سے لاکھ درجے بہتر ھے ۔
اسے شوق سے لے لو ،
دنیا و مافیہا میں اور اس ساری کائنات میں کوئی کام کی چیز ھے تو وہ عشق الٰہی ھے "
انسان اللّٰہ پاک کا گھر ھے
اور
وہ انسان کے دل میں ھے

(انسان حقیقی یعنی روح اس دنیا میں اللّٰہ پاک کی ملاقات اس کی معرفت و پہچان حاصل کرنے آئی ھے
اور
اسم اللّٰہ ذات کے ذکر سے یہ پہـچان اپنے اندر سے حاصل ھوتی ھے ۔)

03/06/2026

تمہیں سورۂ قریش کا ایک ایسا
کمال بتاؤں جوزندگی میں تمہیں کہیں نہیں
ملا تھا وہ یہ ہےکہ اگر چاہتے ہو کہ ساری کائنات کے
خزانے جو زمین کے نیچے دفن ہیں
اوروہ اللہ کے علم میں ہیں اور اللہ ہی جانتا ہے
تو پھر سورۂ قریش کو اپنی زندگی کا ایسا ساتھی بنائیں جو کبھی جدا نہ ہو۔۔۔ سفر ہو‘ زندگی ہو‘ موت کا آخری وقت ہو‘ کھانا ہو ‘پینا ہو‘ اولاد ہو‘ گھر ہو‘ جھونپڑی ہو‘ محل ہو۔۔۔

خاص وقت کا خاص عمل اور نسلیں کامیاب: اگر کوئی شخص سورۂ قریش کو اس وقت پڑھے جس وقت میاں بیوی کے ملنے کا وقت ہوتا ہے یعنی اس سے پہلے جب انسان اپنے لباس سے جدا نہ ہو اور صرف تین بار‘سات بار یا گیارہ بار پڑھ لے اس سے جو بھی اولاد پیدا ہوگی‘ وہ اولاد کبھی ننگی نہیں ہوگی اللہ ان کو
اچھا لباس دے گا‘کبھی بھوک نہیں ہوگی یعنی ان کو اللہ پاک بہترین کھانے دے گا کبھی خوفزدہ نہ ہوگی نہ غم سے نہ دشمن سے نہ کسی درندے سےنہ کسی جادو سے اور نہ ہی کسی مشکل سے اور ان کو بھوک کا خوف‘ غم کاخوف‘ چھننے کا خوف‘ لٹنے کا خوف‘ مشکلات کا خوف‘ پریشانیوں کا خوف اور مسائل کا خوف ان کو نہیں ہوگا اور زندگی ان کی آسودہ گزرے گی۔رزق ‘برکت لائی اور تنگدستی گئی۔۔

میرے رزق میں برکت’ میرے مسائل حل مجھے زندگی میں ترقیاں ملیں‘ حالات سنورے‘ زندگی سنوری میں نے غربت تنگدستی سے اپنے آپ کو نکلتے ہوئے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا۔۔۔ میں نہیں نکل سکتا تھا‘ بہت کوشش کی لیکن نہیں نکل سکا اور اب ایسا نکلا کہ آج لوگ مجھے مالدار کہتےہیں۔۔۔ کوئی مجھے تنگدست نہیں کہتا‘ کوئی فقیر نہیں کہتا اور میں اپنی زندگی میں اسی تنگدستی اورفقیری سے نکلا ہوں اور ایسا نکلا ہوں کہ میں آگے سے آگے بڑھا۔۔۔ حالات نے مجھے بہتر سےبہتر بنا دیا۔ کہ سورۂ قریش کو جب چودھویں رات کاچاند ہو اور موسم گرما کا ہواور صحن میں سورہےہوں تو چاند کو دیکھتے ہوئے یہ سورۂ پڑھتے رہیں۔۔۔ پڑھتے رہیں۔۔۔ پڑھتے رہیں۔۔۔ اور اپنی چار مرادوں کو دل میں لے کر پڑھتے رہیں۔۔۔ مراد نمبر ایک: فاقہ ،تنگدستی ،غربت، معاشی مسائل،کاروباری مسائل، روزگار کے مسائل، تنگدستی کے مسائل۔ مراد نمبر دو: خوف کسی انسان سے‘ کسی جانور سے اور کسی جن سے یا لٹنے کا خوف‘ گمراہ ہونے کا خوف‘ فتنوں کا خوف‘ مشکلات کا خوف‘ پریشانیوں کا خوف‘ زندگی کی ناکامیوں کا خوف۔۔۔ تیسری مراد : آپ کو کہیں سے امن چاہیے اور اپنے آپ کو ہر حال میں تنگدست اور بے حال محسوس کرتے ہیں اور آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ زندگی کے اس گوشے میں پہنچے جہاں کوئی آپ کا ساتھی اور مدد گار نہیں اور آپ کو کوئی حاصل کرنے والا اور ساتھ دینا والا نہیں اورآپ سمجھتے ہیں کہ آپ تنہا ہوگئے ہیں۔۔۔ چوتھی مراد: آپ گناہوں کی گمراہی میں اور زندگی کی ذلتوں میںیا پھر بد سے بدتر زندگی میں آپ چلے گئے ہیں اور ولایت چاہتے ہیں‘ فقیری چاہتےہیں‘تعلق چاہتے ہیں‘ نسبت احسان چاہتے ہیں آپ رات کی تنہائیوں میں آنسو چاہتے ہیں۔۔۔ دعا کا لفظ چاہتے ہیں۔۔۔ دعا کا اہتمام چاہتےہیں۔۔۔ دعا کی طاقت چاہتے ہیں اور دعا کی تاثیر چاہتے ہیں بس۔۔۔ میرا گھر‘ میرا تن‘ میرا من بے روشن:سورۂ قریش بلاتعداد چاند کو دیکھتے ہوئے پڑھیں اور بس ایک تصور ضرور کریں کہ مولا چاند کچھ نہیں‘ مخلوق ہے ۔۔۔تو خالق ہے اور تو نے اس چاند میں روشنی ڈالی۔۔۔ مولا !میرا گھربے روشن۔۔۔ میرا تن بےروشن۔۔۔ میرا من بے روشن۔۔۔ میری زندگی میں اندھیرا‘ میری راہوں میں اندھیرا‘ میری آنکھوں میں اندھیرا۔۔۔ میری نسلوں میں اندھیرا۔۔۔ مجھےغربت کا اندھیرا۔۔۔ مجھے تنگدستی کا اندھیرا۔۔۔ مجھے گناہوں کا اندھیرا۔۔۔ مشکلات کا اندھیرا۔۔۔ خوف کا اندھیرا۔۔۔ ذلتوں کا اندھیرا۔۔۔ ظلمتوں کا اندھیرا۔۔۔ ناکامیوں کا اندھیرا۔ میرے اوپر چھا گیا ہے تو جس طرح اپنی تجلی سے چاند کو روشن کرتا ہے اس سورۃ کی برکت سے اپنی تجلی بھیج اور میرا سب کچھ روشن کردے اور مجھے روشنی دے دے ۔ عمل کا طریقہ:ہر چاند کی بارہ، تیرہ اور چودہ کو اگر یہ عمل کرتے رہیں تین دن کریں یا ہر چاند جب بھی روشن ہو دس دن کریں یا کم از کم چودھویں کی چاند کی رات کو کریں اور یہ باتیں کرتے کرتے سوجائیں اور اگر آپ چاند کو نہیں دیکھ پاتے آپ کے پاس وہ ماحول نہیں کہ جس میں چھت یا صحن میسر ہو لیکن چودھویں کا چاند ہے اور تاریخ چودھویں کی ہے تو پھر تصور تصور میں یہ عمل کرتے کرتے لیٹ جائیں چاہےچاند نظر نہ بھی آئے لیکن یہی تصور ہو اور یہی عمل آپ کرتے چلے جائیں۔ اپنی نسلوں میں یہ عمل ضرور سکھانا: اپنی نسلوں میں یہ عمل ضرور سکھانا کیونکہ آپ تو پاگئے اگر نسلیں نہ پائیں تو پھر آپ بھی پاکر آخر کتنا پائیں گے۔۔۔ نسلیں آپ کی شادو آباد ہوجائیں گی اور اس کو اگر زندگی بھر کا معمول بنالیں تو آپ پر وہ خیروبرکت کی ر اہیں کھلیںگی اور آپ پروہ رحمت کی اور برکت کے راستے کھلیں گے جنہیں آپ نے کبھی سوچا اور پایا نہ ہوگا۔
اجازت کیلے ایک بار سورہ اخلاص پڑھ کر کمنٹ میں اللہ لکھ دے

Address

Battagram Pirhari
Dubai

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Wajiha Aziz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category