16/02/2026
رمضان المبارک کی ساعتیں قریب آ پہنچی ہیں۔ یہ وہ مہینہ ہے جس کے آتے ہی فضائیں نور سے بھر جاتی ہیں، دلوں میں نرمی اترتی ہے اور بندۂ مومن کو اپنے رب سے قریب ہونے کا نادر موقع عطا ہوتا ہے۔ یہی وہ ماہِ مبارک ہے جس کے بارے میں قرآن نے اشارہ کیا کہ اسی میں کتابِ ہدایت نازل ہوئی—گویا رمضان نزولِ قرآن کی یادگار بھی ہے
رمضان محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں؛ یہ ضبطِ نفس، اصلاحِ باطن اور تعلق باللہ کی عملی تربیت ہے۔ سحری سے افطار تک کا سفر ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اگر اللہ کے حکم پر ہم حلال چیزوں سے رک سکتے ہیں تو حرام سے رکنا کیوں دشوار ہو؟ تراویح کی صفیں ہمیں اجتماعیت اور وحدت کا درس دیتی ہیں، اور سحر کی تنہائیاں بندے کو راز و نیاز کا سلیقہ عطا کرتی ہیں۔
یہ مہینہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے معمولات کا جائزہ لیں، قرآن سے رشتہ مضبوط کریں، دلوں کی کدورتیں صاف کریں اور امت کے درد کو محسوس کریں۔ جو شخص رمضان کو پا کر بھی نہ بدلا، اس نے دراصل ایک عظیم موقع کھو دیا۔ یہ عزم کریں کہ اس سال کا رمضان ہمارے لیے محض ایک عبادتی مہینہ نہیں بلکہ زندگی کا نیا موڑ ثابت ہو—ایسا موڑ جو ہمیں تقویٰ، اخلاص اور عملِ صالح کی راہوں پر ثابت قدم کر دے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کی حقیقی قدر پہچاننے اور اس کی برکتوں سے بھرپور استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
غیور احمد قاسمی
جامعہ مظاہر علوم وقف سہارنپور