22/08/2026
مانسہرہ کا مسحور کن اور پراسرار پہاڑ: بریڑی ماتا کی تاریخی و مذہبی حقیقت۔۔۔
پاکستان کا ضلع مانسہرہ جہاں قدرتی حسن سے مالا مال ہے، وہیں اپنے دامن میں صدیوں پرانی تاریخ، تہذیب اور پراسرار داستانیں بھی سمیٹے ہوئے ہے۔ مانسہرہ کے اسی بریڑی پہاڑ کی چوٹی پر موجود عظیم الجثہ اور حیرت انگیز پتھر آج بھی ہر دیکھنے والے کو ششدر کر دیتے ہیں۔
تقسیمِ ہند (1947ء) سے قبل اس علاقے میں ہندو برادری کی بڑی تعداد آباد تھی، جو اس مقام کو مذہبی اعتبار سے انتہائی مقدس مانتی تھی۔ مقامي روایات اور تاریخی حوالوں کے مطابق اس چوٹی پر موجود پتھروں کو "بریڑی ماتا" یا "براری ماتا" کے نام سے جانا جاتا تھا، جہاں ہندو یاترا اور پوجا کے لیے آتے تھے۔ مانسہرہ کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہ علاقہ ہندو ازم اور بدھ ازم کا اہم مرکز رہا ہے، جس کی ایک بڑی مثال مانسہرہ شہر کے قریب "چٹی گٹی" کے مقام پر موجود قدیم شو مندر (Shiva Temple) بھی ہے، جو اس خطے کے تاریخی اور مذہبی پس منظر کی تصدیق کرتا ہے۔
بریڑی پہاڑ کی بلندی سے مانسہرہ شہر اور وادی کا نظارہ دل فریب ہے، لیکن ان سب سے بڑھ کر یہ عظیم الشان پتھر اور ان سے جڑی قدیم تاریخ سیاحوں اور محققین کی توجہ کا مرکز بنی رہتی ہے۔ یہ تصاویر صرف ایک قدرتی منظر نہیں، بلکہ اس خطے کی قدیم تاریخ کا ایک خاموش باب ہیں۔
نوٹ: یہ معلومات صرف تحقیق اور دستیاب تاریخی و مقامی حوالوں پر مبنی ہے۔ اگر آپ کے پاس اس مقام یا تاریخ کے حوالے سے مزید معلومات، صحیح نام یا مستند روایت موجود ہے تو کمنٹ سیکشن میں اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں۔.