01/09/2026
لاہور ہائیکورٹ نے خلع کے 15سال پرانے کیس کا فیصلہ سنا دیا ،عدالت کے مطابق شوہر، بیوی کے والد کی جانب سے دلوایا گیا 11 تولہ سونا محض خلع کی بنیاد پر واپس لینے کا حق دار نہیں ، شوہر سونا اپنے وسائل سے خریدنے کا قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہ کر سکا جس پر عدالت نے درخواست گزار خاتون کی اپیل جزوی طور پر منظور کر لی ۔لاہور ہائیکورٹ نے خلع کے باعث بیوی کو 11 تولہ سونا واپس نہ کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے،جسٹس راحیل کامران نے ڈاکٹرر خسانہ کی درخواست پر 18 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا ۔
فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار نے 2011 میں شوہر سے خلع،نان نفقہ،سامان جہیز اور سونے کی واپسی کادعویٰ دائر کیا، درخواست گزار کے مطابق 11 تولہ سونا اس کے والد نے دلوایا تھا، شوہر کا مؤقف تھا کہ گھر اور 11 تولے سونا اس نے خود دلوایا،خلع کی صورت میں واپس ملنا چاہیے، فیملی کورٹ نے2018 میں خاتون کو 11 تولے سونا یا اس کی قیمت شوہر کو بطور بدلِ خلع واپس کرنے کا حکم دیا تھا۔
درخواست گزار نے فیملی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سیشن کورٹ اپیل دائر کی، سیشن کورٹ نے 2020 میں فیملی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا فیصلہ ،درخواست گزار نے2020میں ماتحت عدالتوں کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا، شوہر 11 تولہ سونا اپنے وسائل سے خریدنے کا قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہ کر سکا، نابالغ بچے کا نان نفقہ والد کی قانونی،اخلاقی اورسماجی ذمہ داری ہے، شوہر نے اپنی مالی حیثیت کے بارے میں متضاد مؤقف اختیار کیا، نان نفقہ میں سالانہ اضافےکی شرح 15 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کرنے کا ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا جاتاہے،شوہر نے سونے کے ساتھ گھر بھی واپس لینے کی استدعا کی تھی، فیملی کورٹ کا شوہر کو گھر واپس نہ دینےکا فیصلہ درست تھا، خاتون کے والد کو مکان کا قبضہ دینے کی سول عدالت کی ڈگری برقرار رکھی جاتی ہے۔