زویار بلڈنگ میٹریل آدھی کوٹ

  • Home
  • زویار بلڈنگ میٹریل آدھی کوٹ

زویار بلڈنگ میٹریل آدھی کوٹ مضبوط اور دلکش تعمیرات کے لیے معیاری سامان

گھر کی دیواروں کو خوبصورت بنانے کے لیے اپنی پسند کی جالیاں با رعایت حاصل کریں ۔03016333201
03/04/2026

گھر کی دیواروں کو خوبصورت بنانے کے لیے اپنی پسند کی جالیاں با رعایت حاصل کریں ۔
03016333201

03/04/2026

معیاری دیدہ زیب ٹف ٹائلز کی تیاری کا کام جاری ہے

03/04/2026

ہر قسم کی جالیاں، دیدہ زیب ٹف ٹائلز دستیاب ہیں۔

03/04/2026

ذرا ایک عام گھرانے کی تصویر دیکھیے۔ ایک اوسط گھرانے کا ماہانہ گاڑی کا فیول جو کل تک بالفرض پچیس ہزار کا لگتا تھا، آج پینتیس ہزار مانگ رہا ہے۔ بچوں کی وین کا خرچ پندرہ ہزار سے بڑھ کر بائیس ہزار تک جا پہنچا ہے۔ بجلی کے بل جو پہلے ہی کسی عذاب سے کم نہ تھے اب فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر چالیس ہزار سے سیدھا ساٹھ ہزار تک پہنچ چکے ہیں۔ اور سب سے بنیادی ضرورت، ماہانہ راشن ، چالیس پچاس ہزار سے بڑھ کر پچھہتر ہزار تک جانے والا ہے۔یہ محض اعداد نہیں یہ ایک عام انسان کی سانسوں کی قیمت ہے جو بڑھتی جا رہی ہے۔

اور پھر اسکول فیس۔ مہنگائی بڑھے گی تو فیس بھی بڑھے گی، کیونکہ آخر سکولز نے بھی “ایڈجسٹ” کرنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایڈجسٹمنٹ صرف عوام نے ہی کیوں کرنی ہے؟ کیا کسی نے کبھی یہ سوچا کہ ایک تنخواہ دار آدمی اپنی آمدن کو کہاں سے ایڈجسٹ کرے؟۔یہ کہانی صرف مہنگائی کی نہیں ترجیحات کی بھی ہے۔جن کے قافلے چالیس گاڑیوں پر مشتمل ہوتے ہیں، جن کے لیے سڑکیں خالی کرا دی جاتی ہیں، جن کے لیے پروٹوکول زندگی کا حصہ ہے ۔ ان کے لیے یہ سب محض خبریں ہیں۔ نہ ان کے بجلی کے بل بڑھتے ہیں، نہ انہیں فیول کی قیمت کا احساس ہوتا ہے۔ ان کے لیے مہنگائی ایک گراف ہے عوام کے لیے یہ ایک سانحہ ہے۔

یہ سانحہ کہ آپ سارا ماہ گدھے کی طرح محنت کریں ، ہزار مسائل جھیل کر کمائیں اور پھر بھی مہینے کے آخر میں سب لُٹ چکا ہو۔ یہ صرف مالی پریشانی نہیں یہ کسی بھی فرد پر زبردست نفسیاتی دباؤ بھی ہے۔ یہ وہ خاموش اذیت ہے جو ہر گھر میں محسوس کی جاتی ہے۔مڈل کلاس ختم ہو گئی ہے۔ کسی بھی سوسائٹی میں مڈل کلاس، اپر مڈل کلاس اور لوئر کلاس میں بفر زون اور ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ یہی وہ سفید پوش طبقہ ہوتا ہے جو آفس جابز یا چھوٹا کاروبار کرتا ہے۔ اب تو ہر کلاس متاثر ہو رہی ہے۔فرق یہ ہے کہ کسی کلاس پر ضرب کم محسوس ہوئی ہے تو کسی کا دیوالیہ نکل رہا ہے۔ اگر اپر مڈل کلاس ایک سٹیپ ڈاؤن ہوئی ہے تو لوئر مڈل کلاس تین سٹیپ ڈاؤن ہو چکی ہے۔ غریب کا حال مت پوچھیں۔

جب تک پالیسیوں کا مرکز عوام نہیں بنتے جب تک قربانی صرف نیچے والوں سے لی جاتی رہے گی تب تک یہ خلا بڑھتا ہی جائے گا۔مہنگائی کا یہ سیلاب شاید فوری طور پر خشک نہ ہو مگر کم از کم کشتی کو اتنا مضبوط ضرور بنایا جانا چاہئیے تھا کہ لوگ ڈوبنے کے بجائے کنارے تک پہنچ سکیں۔ یہ بحران وقتی ہے۔ کل کو جنگ ختم ہو گی پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتیں واپس آ جائیں گی۔ کیا اٹھہتر سالوں میں اس ملک پر حکمران سیاسی و عسکری اشرافیہ اس ملک کو اتنا بھی نہ سنبھال پائی کہ دو تین ماہ عالمی بحران آ جائے تو اس سے عوام براہ راست متاثر نہ ہونے پائیں۔ اور پھر پٹرول کی قیمتیں تو جنگ کے بعد سنبھل سکتی ہیں مگر اشیائے ضروریہ یا گروسری، اسکول فیسوں، ٹرانسپورٹ چارجز، وغیرہ وغیرہ کو کون کم کرے گا۔ یہ جس رفتار سے اوپر جاتی ہیں اس سے کئی گنا گم رفتار سے نیچے آتی ہیں وہ بھی سخت حکومتی مونیٹرنگ کے بعد۔

یہ ہے وہ المیہ جس کا پچیس کروڑ عوام شکار ہیں۔ پھر حکومتوں کو شکایت ہوتی ہے عوام گالی کیوں دیتے ہیں۔ آپ نے انہیں احترام کرنے کی کونسی وجہ دی ہے ؟۔ جس کا چولہا متاثر ہو گا، بچے متاثر ہوں گے، معیار زندگی جو پہلے ہی گیا گزرا ہے وہ متاثر ہو گا تو وہ اور کیا دے گا ؟۔ مہنگائی اپنے ساتھ ڈپریشن، فرسٹریشن، پینک اٹیکس، چڑچڑاپن اور جہالت بھی لاتی ہے۔ دہشتگردی بھی غربت و جہالت کی جنمی پراڈکٹ ہے۔ اس نظام کو کون درست کرے گا ؟

اگر سیاسی و عسکری اشرافیہ میں کسی کو کاروبار ، ریاست اور قوم کے حالات کو بدلنے میں کوئی حقیقی دلچسپی ہوتی تو وہ یقیناً اسی استطاعت اور کامیاب منصوبہ بندی کا سہارا لیتے جس کے ذریعے انہوں نے ذاتی معاشی معاملات کو ایسے سنبھالا ہے کہ ہر طرف سے فائدہ کے سوا کچھ نتیجہ سامنے نہیں آتا۔ نہ کوئی سہارا ہے نہ کوئی تنگی، جن تمام سالوں میں پاکستانی عوام کی ہڈیوں سے ماس غائب ہو گیا اسی دوران اشرافیہ فربہ اندام ہو گئے۔ ملک کی معیشت ڈوب گئی، ان کی دولت کے انبار آسمان کو چھونے لگے۔

حکومتی آفس میں وزیر بے تدبیر اور بے بس نظر آئے مگر اپنی صنعتوں اور ملوں میں ان سے کائیاں اور ماہر کاروباری دکھائی نہ دیا۔ ڈی ایچ ایز تو پھلتے پھولتے رہے مگر دفاع کا سارا بوجھ خزانے پر ہی رہا۔یہ کیا ماجرہ ہے کہ ملک کی معیشت کو درست کرنے میں ناکام افراد ذاتی دولت اکھٹا کرنے میں اتنے کامیاب ہو جاتے ہیں؟ اگر ان کو تبدیلی لانا ہوتی تو آج غریب کی اولاد جھگیوں میں مٹی پھانکنے کے بجائے دبئی اور لندن میں ارب پتیوں کے ساتھ ان کی اولادوں کی طرح مکمل آسائش میں نہ پل بڑھ رہے ہوتے ؟۔جیسے کاروباری مواقعے اور خالص برق رفتار منافعے پاکستان کی سول و عسکری ایلیٹ کو میسر ہو جاتے ہیں کیا یہ رعایتیں کبھی ہمیں بھی مل سکیں گی ؟۔ یا یہ عوام دنیا میں گھاس چرنے ہی آئے ہیں۔

حضور عوام بس یہی تو چاہتے ہیں جیسے ڈی ایچ ایز اور دیگر عسکری پیداواری یونٹس پھلتے پھولتے ہیں، جیسے سیاسی اشرافیہ کی شوگر ملیں چلتی ہیں، جیسے شریف خاندان کے کاروبار ترقی کرتے ہیں، جیسے لاڑکانہ سرکار کی بزنس ایمپائر بڑھتی ہے، ویسے ہی ملک اور اس کی عوام بھی زیادہ نہ سہی بس ذرا سی آپ کے مقابل ایک فیصد ہی خوشحال ہو لے۔ اور تو کچھ نہیں مانگتے۔

18/03/2026

الحمدللہ 1500 مربع فٹ ٹف ٹائلز کا ایک آرڈر مکمل ہوا۔ اپنی پسندیدہ ٹف ٹائلز لگوانے کے لیے رابطہ کریں

اپنے گھروں، باغیچوں، راہداریوں اور صحنوں کو سجائیں دیدہ زیب ٹف ٹائلز سے۔ اپنے پسندیدہ ڈیزائن اور مختلف رنگوں میں  ٹف ٹائ...
15/03/2026

اپنے گھروں، باغیچوں، راہداریوں اور صحنوں کو سجائیں دیدہ زیب ٹف ٹائلز سے۔
اپنے پسندیدہ ڈیزائن اور مختلف رنگوں میں ٹف ٹائلز بنوانے کے لیے رابطہ کریں۔
03016333201

لیکن اکثر والدین چاہتے ہیں کہ بچہ فوراً ٹھیک ہو جائے، اس لیے وہ جلدی صحت یابی کے لیے وقتی حل یا انجیکشن کا مطالبہ کرتے ہ...
15/03/2026

لیکن اکثر والدین چاہتے ہیں کہ بچہ فوراً ٹھیک ہو جائے، اس لیے وہ جلدی صحت یابی کے لیے وقتی حل یا انجیکشن کا مطالبہ کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے، یہ موقع اکثر غیر تربیت یافتہ یا غیر مستند افراد (quacks) استعمال کرتے ہیں اور بچوں کو بلا ضرورت گوشت میں یا انٹرا مسکیولر انجیکشنز لگاتے ہیں۔ یہ انجیکشن زیادہ تر کولہے (Buttock) کے پٹھوں میں دیے جاتے ہیں، جو بچوں کے لیے حساس مقام ہے کیونکہ یہاں ایک نہایت اہم نرو (Nerve)گزرتی ہے، جسے شیاٹک نرو کہتھ ہیں۔

شیاٹک نرو دماغ اور ٹانگ کے پٹھوں کے درمیان بنیادی رابطہ فراہم کرتی ہے اور پاؤں اور ٹانگ کی حرکت، چلنے، کھڑے ہونے، انگلیوں کی حرکت اور توازن برقرار رکھنے میں اسکا اہم کردار ہے۔ اگر انجیکشن غلط جگہ، زاویے یا تکنیک سے لگایا جائے، یا دوا اس نرو کے قریب یا اندر چلی جائے، تو یہ نقصان کا شکار ہو سکتی ہے۔ نتیجتاً بچے میں مختلف علامات ظاہر ہو سکتی ہیں، جیسے: ٹانگ یا پاؤں کی کمزوری یا حرکت میں کمی، پاؤں کا لٹک جانا (فٹ ڈراپ)، چلنے میں مشکل اور غیر فطری لنگڑا چلنا، ٹانگ یا پاؤں میں درد، جلن یا سن ہونا، اور پٹھے کمزور یا سکڑ جانا۔

تشخیص کے لیے سب سے پہلے کلینیکل معائنہ کیا جاتا ہے، جس میں بچے کے پٹھوں، حرکت، ردعمل اور چلنے کے انداز کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں مزید جانچ کے لیے NCS/EMG، الٹراساؤنڈ یا ایم آر آئی(MRI) کیے جاتے ہیں تاکہ نقصان کی شدت اور مقام معلوم کیا جا سکے۔

علاج کے مراحل میں سب سے پہلے بچے کے درد کو کم کرنا بنیادی قدم ہوتا ہے، اس کے بعد فزیوتھراپی شروع کی جاتی ہے تاکہ پٹھوں اور اعصاب کی حرکت اور طاقت بحال ہو سکے۔ بعض بچوں کو چلنے میں مدد دینے کے لیے مصنوی سپورٹ بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ اگر نقصان شدید یا دیرپا ہو اور بچے میں بہتری نہ آ رہی ہو تو بعض صورتوں میں سرجری پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ فیصلہ صرف مکمل جانچ اور ماہر چائلڈ نیورولوجسٹ کی رائے کے بعد کیا جاتا ہے۔

والدین کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ غیر ضروری انجیکشن سے پرہیز کریں۔ انجیکشن صرف اسی صورت میں دیے جائیں جب واقعی ضرورت ہو اور کسی مستند چائلڈ اسپیشلسٹ یا بچے کے مخصوص ڈاکٹر نے مشورہ دیا ہو۔ بروقت تشخیص اور صحیح علاج بچوں کے اعصاب اور پٹھوں کی مکمل بحالی میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور مستقل معذوری سے بچاتا ہے۔

جہاں تک ویکسینیشن کا تعلق ہے، والدین مطمئن رہیں کہ زیادہ تر ویکسینز جلد میں یا ایسے پٹھوں میں لگائ جاتی ہیں جہاں ایسے نقصان کا خطرہ نہ ہو اور یہ انجیکشن بالکل محفوظ ہیں۔ ویکسینز ہمیشہ تربیت یافتہ عملے کے ذریعے لگوائی جائیں، کیونکہ یہ بچوں کی صحت کے لیے نہایت ضروری اور محفوظ ہیں۔

ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ چائلڈ نیورولوجسٹ
ایگزیکٹو کلینک، فاطمہ میموریل ہسپتال، لاہور

15/03/2026

الحمدللہ
زویار بلڈنگ میٹریل کی تیار کردہ دلکش ٹف ٹائلز۔
پل 111 سرگودھا کی کالی بجری سے تیار کردہ ٹف ٹائلز خوبصورتی اور پائیداری کا ایک دلکش امتزاج ہیں۔
اپنی پسندیدہ ڈیزائن کی ٹائلز آرڈر پہ بنوانے کے لیے ابھی رابطہ کریں۔
03016333201






10/03/2026

*میانوالی کے علاقے پائی خیل میں ژالہ باری ⛈️🌧️*

عوام کو مفت سولر سسٹم کیسے ملے گا؟ طریقہ کار طےگھریلو صارفین کو پنجاب حکومت آسان اقساط پر سولر سسٹم لگا کر دے گیپروگرام ...
10/07/2024

عوام کو مفت سولر سسٹم کیسے ملے گا؟ طریقہ کار طے

گھریلو صارفین کو پنجاب حکومت آسان اقساط پر سولر سسٹم لگا کر دے گی

پروگرام کے تحت ابتدائی طور پر 45 لاکھ گھریلو صارفین کو پنجاب حکومت آسان اقساط پر سولر سسٹم لگا کر دے گی

یہ سولر سسٹم جس گھر میں لگایا جائے گا سب سے پہلے اسکے یونٹس دیکھے جائیں گے

سولر سٹم لگوانے کے لیے گھریلو صارفین کو 8800 پر شناختی کارڈ نمبر اور بجلی بل پر درج ریفرنس نمبر کو بھیجنا ہوگا

جس سے رجسٹریشن کا عمل مکمل ہوگا رجسٹریشن مکمل ہونے کے بعد قرعہ اندازی کے ذریعے گھریلو صارفین کو سولر سٹم دیا جائے گا

ابتدائی طور پر بینک آف پنجاب اور نیشنل بینک کے ذریعے صارفین سولر کی 25 فیصد قیمت ادا کریں گے

اس رقم پر صارفین پر سود عائد نہیں گا، صارفین کو سولر کی اصل قیمت 5 سال میں قسطوں میں ادا کرنا ہوگی

صارف کو سولر کی قیمت بجلی کے بل کی صورت میں بذریعہ اقساط ادا کرنا ہوگی

جو صارفین سولر سٹم کے اہل ہوں گے ان کے گھر سولر سسٹم حکومت کے پاس رجسٹرڈ کمپنی لگائے گی

یہ سولر سٹم ستمبر یا اکتوبر میں لگنا شروع ہوجائیں گے

200 یونٹ تک استعمال کرنے والے صارفین کو حکومت مفت سولر پینل دے گی

200 سے 500 یونٹس استعمال والے صارفین کو بلا سود قرض فراہم کیا جائے گا

جبکہ 500 یونٹس سے زائد استعمال کرنے والے صارفین کے لیے حکومت 75 فیصد بلا سود قرض کی فراہمی میں اپنا حصہ ڈالے گی

*کس کو کتنے کلو واٹ کا سولر سسٹم ملے گا؟*

ایسے گھریلو صارفین جن کے بجلی کے ماہانہ یونٹ 50 یا اس سے کم ہیں انہیں 500 واٹ جبکہ 50 سے 100 یونٹ کے گھریلو صارفین کو ایک کلو واٹ کا سولر سسٹم دیا جائے گا

200 سے 300 یونٹ کے صارفین 1100 واٹ، 300 سے 400 یونٹ کے صارفین 1650 واٹ اور 500 یونٹ کے صارفین 2200 واٹ تک کا سسٹم لگوا سکیں گے

ایسے گھریلو صارفین جن کی بجلی کا استعمال ایک سال کے دوران میں 500 یونٹس تک رہا ہے، وہ اس سیکم سے مستفید ہو سکیں گے

جس گھر کا صرف ایک میٹر ہوگا وہی اس روشن گھرانہ اسکیم سے مستفید ہوسکیں گے

اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے صارف کا فائلر ہونا بھی ضروری ہے

نان فائلر ہونے کی صورت میں سسٹم صارف کے کوائف قبول نہیں کرے گا

وہ صارفین جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام یا کسی دوسرے حکومتی امدادی پروگرام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں وہ سولر سسٹم کے حصول کی اس اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے

روشن گھرانہ اسکیم میں بجلی چوری کرنے والے صارفین کو سولر سسٹم نہیں ملے گا

حکومت ریفرنس نمبر اور شناختی کارڈ نمبر کے ذریعے دیکھے گئی کہ اس صارف پر پہلے سے بجلی چوری کی کوئی ایف آئی آر تو درج نہیں ہے

تلاش گم شدہ ۔۔۔آدھی کوٹ کے رہائشی نوجوان عثمان خان ولد حبیب اللہ خان پٹھان پشاور گزشتہ روز سے لاپتا ہے ابھی تک کوئی پتہ ...
04/07/2024

تلاش گم شدہ ۔۔۔
آدھی کوٹ کے رہائشی نوجوان عثمان خان ولد حبیب اللہ خان پٹھان پشاور گزشتہ روز سے لاپتا ہے ابھی تک کوئی پتہ نہیں،
اگر کسی کو اس کے بارے علم ہو تو لواحقین یا تھانہ نورپورتھل اطلاع کریں ۔۔
03054111880
03464792290

Address

زویار بلڈنگ میٹیریل آدھی کوٹ نزد شہنشاہ ہوٹل

Telephone

+923016333201

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when زویار بلڈنگ میٹریل آدھی کوٹ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to زویار بلڈنگ میٹریل آدھی کوٹ:

  • Want your business to be the top-listed Food & Beverage Service?

Share