14/09/2022
اسلام علیکم
الحمدللہ رب العالمین
اللہ تعالیٰ کے کرم سے باقاعدہ طور پر شاعری کا آغاز کر دیا ہے
میری پہلی کاوش آپ حضرات کے سامنے پیش کر رہا ہوں
اُردو غزل ۔۔
رات گزری کہ پچھلا پہر تھا
یقیں غالب کہ وقت سحر تھا
بدن تھکا تھا کروٹیں بدل بدل کے
پڑ گئیں تھیں بستر پے سلوٹیں اچھل اچھل کے
تھا یہ خواب کہ ہوش سا تھا
کہ سامنے وہ بیٹھا مدہوش سا تھا
سرخ تھیں آنکھیں سیاہ حلقے پڑے ہوئے تھے
شاید کہ میری طرح وہ بھی جاگا رات بھر کا تھا
لمس جو ہوئی محسوس تو جھلسا سا گیا میں
یاد آیا کہ وہ یارانہ جو سال بھر کا تھا
حال جب پوچھا کہ کیسے ہو تم
ضبط کر لیا کہ ہاتھ صبر کا تھاما ہوا تھا
چینخ چینخ کے بھڑاس نکالوں آئی سوچ مجھے
لیکن وہ مخلص یار سال بھر کا تھا
کہنے کو تو تھا ہنس ہنس کے بات کر رہا
کھا رہا تھا اسے جو وہ درد اندر کا تھا
میں نے محسن پوچھا کہ کیسا رہا ساتھ اپنا
جھٹ بولا جیسا بھی تھا یارانہ غضب کا تھا
(محسن عابد محسن)