08/09/2023
" قیامت خود بتائے گی قیامت کیوں ضروری تھی "
میری اکثر کوشش ہوتی ہے کہ کالج آنے جانے کے لیے مین روڈ کا استعمال نا کروں جہاں پر ٹریفک کا زیادہ ہجوم ہو
دراصل میرا سکولز روڈ کو اور کم ٹریفک والے روڈ کو استعمال کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ بعض بچے گرمی میں پیدل سکول آ جا رہے ہوتے ہیں تب میں انہیں اپنی گاڑی میں لفٹ دے دیتا ہوں یا کوئی بزرگ پیدل ہوتا ہے تو اسے اپنی گاڑی میں بیٹھا کر اسے اپنی منزل تک چھوڑ دیتا ہوں
گزشتہ دنوں میں کالج سے واپسی پر گھر آ رہا تھا تو ویران راستے میں ایک بچی دوڑتے ہوئے میرے گاڑی کے سامنے آئی میں نے فوراً بریک لگائی تو وہ بچی رو جا رہی تھی کچھ بولنے سے پہلے اس نے ایک شخص کی طرف اشارہ کیا جو سڑک پر لیٹا ہوا تھا میں اس شخص کو دیکھ کر فوراً گاڑی سے اترا اور اس شخص کی جانب تیزی سے بڑھا میں جیسے ہی اس شخص کے قریب گیا تھا وہ بے ہوش تھا میں نے اس بچی سے پوچھا کہ یہ کون ہیں اور کیا ہوا ہے تو اس نے مجھے رو کر بتایا کہ یہ میرے بابا ہیں وہ لڑکی بہت ڈری ہوئی اور سہمی ہوئی تھی وہ اور کچھ نہیں بتا پا رہی تھی صرف روئے جا رہی تھی
ویران روڈ ہونے کی وجہ سے وہاں میرے علاؤہ کوئی موجود نہیں تھا اور میں زیادہ دیر کسی کا انتظار بھی نہیں کرسکتا تھا کیونکہ اس شخص کی طبیعت بہت خراب لگ رہی تھی میں نے اپنی مدد آپ کے تحت اس شخص کو اٹھایا اور ہسپتال لے جانے کے لیے اپنی گاڑی میں لیٹا دیا اور وہ بچی بھی اپنے بابا کے ساتھ بیٹھ گئ ہم کچھ ہی دیر میں سٹی ہسپتال جا پہنچے
ہسپتال جا کر ہم نے ڈاکٹرز کو بلایا ڈاکٹرز نے اس شخص کو ایمرجنسی وارڈ میں شفٹ کردیا اتنے میں اس بچی نے روتے روتے مجھ سے موبائل مانگا کہ میں اپنے گھر والوں کو اطلاع کردوں میں نے اسے موبائل دیا اس نے اپنی امی کو کال کرکے بتایا کہ بابا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ہم سٹی ہسپتال میں موجود ہیں
میں نے اس بچی کو حوصلہ دیا اور پوچھا بیٹا آپ کے بابا کو ہوا کیا ہے تو بچی نے روتے ہوئے بتایا کہ یونیورسٹی سے واپسی پر میرے بابا مجھے اپنی بائیک پر گھر لے کر جارہے تھے کہ راستے میں تین مسلح افراد نے گن پوائنٹ پر ہم سے موٹر سائیکل موبائلز اور جو آج ابو 22 ہزار روپے پینشن نکلوا کر آرہے تھے ان مسلح افراد نے ہم سے چھین لیے پھر ان لوگوں نے مجھے جیسے ہی کانوں کی بالیاں (جو کے گولڈ) کی تھی چھیننے کے لیے پکڑا تو میرے بابا نے ایک زور دار آواز نکالی کہ خدا کے لیے میری بیٹی کو چھوڑ دو میری بیٹی کو ہاتھ مت لگاؤ وہیں پر میرے بابا گر گئے اور وہ ڈاکو میرے کانوں سے بالیاں کھینچ کر لے گئے اس بچی کے کانوں سے خون بھی بہہ رہا تھا
پھر میں روڈ پر کیسی مسیحا کا انتظار کرنے لگی کہ کوئی آئے اور میرے بابا کو ہسپتال لے جائے آپ کے آنے سے پہلے 4/5 موٹر سائیکل اور ایک گاڑی والا بھی گزارا میں ان کے سامنے بھی بھاگ کر گئ کہ خدارا میرے بابا کو بچا لو لیکن کسی نے میری مدد تک نہیں کی یہ تو اللّٰہ کا شکر ہے آپ آگئے جہنوں نے ہمیں ہسپتال تک پہنچا دیا
اتنے میں بچی کی والدہ اور بھائی بھی آگئے انہوں نے میرا شکریہ ادا کیا ابھی وہ مجھ سے میرا نام اور میرے بارے میں پوچھ ہی رہے تھے کہ ایک ڈاکٹر آیا اور اس نے بولا کہ آپ کے مریض کو بہت سخت ہارٹ آٹیک ہوا ہے شکر ہے آپ وقت پر ہسپتال لے آئے ورنہ انکی جان چلی جاتی اب آپ اپنے مریض کو دو دن ہسپتال میں رکھیں پھر بےشک آپ انہیں گھر لے جائیے گا اور کوشش کیجئے گا انہیں کوئی ٹینشن پریشانی نا آنے پائے
وہ بچی بہت روئے جارہی تھی اس نے مجھے کہا کہ آج آپ نا آئے ہوتے تو شاید میرے بابا کی جان چلی جاتی
ایک بوڑھے شخص کے درد کا اندازہ لگانا شاید ناممکن ہو جس کی آنکھوں کے سامنے اس کی بیٹی کو تین ڈاکو پکڑ کر اسکی بالیاں اتاریں یہ دکھ بچی کا باپ برداشت نہیں کر پایا اور اسے ہارٹ آٹیک ہوگیا
اتنے ظالم ڈاکو تھے جہنوں نے موٹر سائیکل چھین لی پینشن کے 22 ہزار چھین لیے دو موبائلز چھین لیے لیکن انکی لالچ اس قدر بڑھ گئ تھی کہ ایک معصوم بچی کی کانوں کی بالیاں تک چھین لیں
دوسرا یہ معاشرہ بے حس ہوگیا ہے
اس معاشرے میں احساس ختم ہوگیا ہے ایک شخص جو زندگی اور موت کی کشمکش میں روڈ پر پڑا تھا اسکی معصوم بچی روڈ پر سے گزرنے والے لوگوں کو مدد کے لیے پکارتی رہی لیکن کوئی مدد کے لیے نا رکا سب لوگ آنکھیں بند کرکے احساس سے عاری ہو کر چلتے بنے اور یہاں تک کہ کسی نے پولیس وغیرہ کو بھی اطلاع نا دی کہ ایک شخص روڈ پر کیوں پڑا ہے اور ایک لڑکی کیوں دھاڑیں مار مار کر روئے جارہی ہے
میری آپ سب سے گزارش ہے کہ خدارا انسانیت کے کام آنا سیکھیں مشکل میں مجبور انسانیت کی مدد کرنے سے ہی خدا راضی ہوتا ہے اور میرے خیال میں دنیا و آخرت میں سرخرو ہونے کا واحد راستہ ہی انسانیت سے محبت ہے
پروفیسر شازل منظور خان