11/08/2026
*12 اگست 1948 - بابڑہ سانحہ / Babrra Massacre*
مقام: بابڑہ گراؤنڈ، تحصیل تنگی، ضلع چارسدہ، خیبرپختونخوا
یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا بڑا سیاسی قتلِ عام تھا جسے "پختونوں کی کربلا" بھی کہا جاتا ہے۔
# # # *1. پس منظر - آخر کیوں ہوا؟*
پاکستان بننے کے فوراً بعد خیبرپختونخوا میں سیاسی بحران شروع ہو گیا تھا۔
1. *ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت کی برطرفی*: 1946 کے انتخابات میں ڈاکٹر خان صاحب کی خدائی خدمتگار پارٹی نے 50 میں سے 33 سیٹیں جیتی تھیں۔ 22 اگست 1947 کو گورنر جنرل نے ان کی حکومت توڑ دی۔
2. *گرفتاریاں*: اس کے بعد خدائی خدمتگار تحریک کے رہنما خان عبدالغفار خان "باچا خان" اور دیگر سینکڑوں کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا۔
3. *کالا قانون*: جولائی 1948 میں گورنر نے ایک آرڈیننس جاری کیا جس کے تحت حکومت کسی کو بھی بغیر وجہ بتائے گرفتار کر سکتی تھی اور ان کی جائیداد ضبط کر سکتی تھی۔
ان سب کے خلاف احتجاج کے لیے خدائی خدمتگاروں نے 12 اگست 1948 کو بابڑہ میں ایک بڑا پرامن جلسہ بلایا۔
# # # *2. سانحہ کیسے پیش آیا؟*
1. *جگہ*: بابڑہ گراؤنڈ، چارسدہ۔ یہ باچا خان کا آبائی علاقہ بھی تھا۔
2. *فائرنگ*: جب مظاہرین جلسے کے لیے جمع ہوئے تو صوبائی حکومت کے حکم پر پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری نے فائرنگ کر دی۔
3. *حکم کس کا تھا*: یہ حکم اس وقت کے وزیراعلیٰ NWFP، عبدالقیوم خان کشمیری کے حکم پر ہوا تھا۔
- *کچھ تجزیہ نگاروں کے مطابق*: 600 سے زیادہ ہلاک اور 1500 زخمی
# # # *4. سانحے کے بعد*
1. *یاد*: اس دن کو ہر سال "یومِ شہداء بابڑہ" کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ANP اور دیگر سیاسی جماعتیں جلسے کرتی ہیں اور 5 منٹ کی خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔
2. *اہمیت*: اسے پختون قوم کی جدوجہد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے اسے "کربلا آف پٹھانز" کا نام بھی دیا گیا۔
یہ واقعہ آج بھی KPK کی سیاست اور تاریخ میں بہت اہم ہے۔