Reality in world

Reality in world Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Reality in world, p/o yousif shah taseel district bhakkar, Bhakkar.

ایران پر اب پابندیاں ختم ہو گئی ہیں، ایران سے سستا پٹرول خریدو اور عوام کو 50 روپے فی لیٹر دو۔ اب یہ حرام خوریاں بند کرو...
19/06/2026

ایران پر اب پابندیاں ختم ہو گئی ہیں، ایران سے سستا پٹرول خریدو اور عوام کو 50 روپے فی لیٹر دو۔ اب یہ حرام خوریاں بند کرو۔ یہ ملک تمہارے باپ کا نہیں، 25 کروڑ عوام کا ملک ہے۔

ایران پر اب پابندیاں ختم ہو گئی ہیں، ایران سے سستا پٹرول خریدو اور عوام کو 50 روپے فی لیٹر دو۔ اب یہ حرام خوریاں بند کرو۔ یہ ملک تمہارے باپ کا نہیں، 25 کروڑ عوام کا ملک ہے۔

📕📚 یہ امیر المؤمنین حضرت علیؑ کی ایک کرامت اور فضیلت ہے۔روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت علیؑ جامعِ مسجد کوفہ میں منبر پر ...
01/06/2026

📕📚 یہ امیر المؤمنین حضرت علیؑ کی ایک کرامت اور فضیلت ہے۔
روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت علیؑ جامعِ مسجد کوفہ میں منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک مسجد کے دروازے سے ایک بہت بڑا سانپ داخل ہوا۔
وہ سیدھا حضرت علیؑ کی طرف بڑھنے لگا، جبکہ لوگ خوف و ہراس میں مبتلا ہوگئے۔
سانپ امیر المؤمنینؑ کے قریب پہنچا اور ایسی زبان میں ان سے گفتگو کرنے لگا جسے وہاں موجود لوگ نہیں سمجھتے تھے، اور امامؑ اس کی بات غور سے سنتے رہے۔
پھر امامؑ نے بھی اسی کی زبان میں جواب دیا۔ گفتگو ختم ہونے پر سانپ نے احتراماً امامؑ کے سامنے سر جھکایا اور مسجد سے باہر چلا گیا۔
حاضرین نے اس واقعے کے بارے میں امامؑ سے دریافت کیا تو آپؑ نے فرمایا:
"یہ جنات کا بادشاہ تھا۔ اسے ایک پیچیدہ مسئلہ درپیش تھا، اس کے حل کے لیے میرے پاس آیا تھا۔ میں نے اس کی رہنمائی کی، اس نے میرا شکریہ ادا کیا، میرے لیے دعا کی اور واپس چلا گیا۔"
اسی واقعے کی وجہ سے مسجد کے اس دروازے کو "بابُ الثعبان" (سانپ کا دروازہ) کہا جانے لگا، اور یہ کرامت و فضیلت حضرت علیؑ سے منسوب ہو کر مشہور ہوگئی۔
بیان کیا جاتا ہے کہ بنو امیہ نے حضرت علیؑ کی اس فضیلت کو مٹانے کی کوشش کی۔ چنانچہ معاویہ نے ایک ہاتھی لا کر اس دروازے کے پاس باندھ دیا تاکہ لوگ اس دروازے کو "بابُ الفیل" (ہاتھی کا دروازہ) کہنا شروع کر دیں اور حضرت علیؑ اور سانپ کے واقعے کو بھول جائیں۔
کچھ عرصے تک بنو امیہ کے دورِ حکومت میں اس دروازے کا نام تبدیل رہا، لیکن بعد میں دوبارہ "بابُ الثعبان" (سانپ کا دروازہ) نام رائج ہوگیا، جو امیر المؤمنین حضرت علیؑ کی ایک فضیلت کی یادگار کے طور پر باقی رہا۔
📕 ماخذ : مدينة المعاجز

مرغ کی بانگ (Crowing) قدرت کی انجینئرنگ کا ایک ایسا حیرت انگیز شاہکار ہے جو بظاہر عام سا نظر آتا ہے، لیکن اس کے پیچھے چھ...
28/05/2026

مرغ کی بانگ (Crowing) قدرت کی انجینئرنگ کا ایک ایسا حیرت انگیز شاہکار ہے جو بظاہر عام سا نظر آتا ہے، لیکن اس کے پیچھے چھپی سائنس واقعی دنگ کر دینے والی ہے۔ آپ نے جو معلومات شیئر کیں، وہ بالکل درست ہیں اور مرغ کے کانوں کا یہ خودکار نظام (Natural Noise-Canceling System) حیاتیاتی دنیا کا ایک انوکھا کرشمہ ہے۔
1. مرغ کی بانگ کی شدت (100 ڈیسیبل کا دھماکا)
جب ایک مرغ صبح سویرے اذان یا بانگ دیتا ہے، تو اس کی آواز کی شدت 100 ڈیسیبل (dB) یا اس سے بھی زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ کچھ نسلوں میں تو یہ آواز 130 ڈیسیبل تک بھی پہنچ جاتی ہے۔

اس آواز کی طاقت کا اندازہ آپ اس موازنے سے لگا سکتے ہیں:

عام گفتگو: 60 ڈیسیبل۔

روڈ ڈرلر یا چین سا (Chainsaw): 100 ڈیسیبل۔

جیٹ انجن کی گرج: 120 سے 130 ڈیسیبل۔

انسانی کانوں کے لیے 85 ڈیسیبل سے اوپر کی آواز مسلسل سننا سماعت کو مستقل نقصان پہنچا سکتا ہے، اور 130 ڈیسیبل پر تو انسانی کان کا پردہ پھٹ سکتا ہے۔

2. مرغ خود بہرا کیوں نہیں ہوتا؟ (قدرتی ہیڈ فونز)
پتہ چلا کہ مرغ کی بانگ اتنی تیز ہوتی ہے کہ اگر وہ خود اسے اسی شدت سے سنے تو وہ اپنی ہی آواز سے ہمیشہ کے لیے بہرا ہو جائے۔ لیکن قدرت نے اس کے سر کے اندر ایک خودکار ایئر پلگ (Earplug) یا نوائز کینسلنگ ہیڈ فون کا نظام رکھا ہے:

کان کی نالی کا بند ہونا (Ear Canal Collapse): جب مرغ بانگ دینے کے لیے اپنی گردن کو پورا پیچھے کی طرف کھینچتا ہے اور اپنی چونچ کھولتا ہے، تو اس کی گردن کی ہڈیوں اور پٹھوں کی حرکت سے اس کے کان کی بیرونی نالی (Auditory Canal) خودکار طور پر سکڑ کر بند ہو جاتی ہے۔

گوشت کا حفاظتی ٹکڑا (Soft Tissue Flap): گردن پیچھے کرنے پر اس کے کان کے پاس موجود نرم گوشت کا ایک مخصوص چوتھائی گولائی والا ٹکڑا (Quarter-Spherical Flap) حرکت میں آتا ہے اور کان کے سور

خطے کی اقوام اور سرزمینیں اب امریکی اڈوں کے لیے ڈھال کا کام نہیں کریں گی۔اب نہ صرف امریکہ کو جارحیت اور فوجی اڈے قائم کر...
28/05/2026

خطے کی اقوام اور سرزمینیں اب امریکی اڈوں کے لیے ڈھال کا کام نہیں کریں گی۔اب نہ صرف امریکہ کو جارحیت اور فوجی اڈے قائم کرنے کے لیے کوئی محفوظ ٹھکانہ حاصل نہیں رہے گا بلکہ وہ روز بروز اپنی سابقہ پوزیشن سے مزید دور ہوتا جا رہا ہے

مجتبی خامنہ ای
ایرانی سپریم لیڈر

سورج تقریبا4ارب60کروڑسال سے مسلسل جل رہا ہے ۔اور حیرت کی بات یہ ہے کہ آج بھی اُس کے اندر کی آگ ایک لمحے کے لیے بھی نہیں ...
24/05/2026

سورج تقریبا4ارب60کروڑسال سے مسلسل جل رہا ہے ۔اور حیرت کی بات یہ ہے کہ آج بھی اُس کے اندر کی آگ ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رکی۔ہرایک سیکنڈمیں سورج اتنی توانائی خارج کرتا ہے ۔کہ اگر زمین پر موجود تمام انسان پوری زندگی صرف بجلی ہی استعمال کرتے رہیں ۔تب بھی وہ اُس توانائی کے برابر نہیں پہنچ سکتے۔آسان مثال سے سمجھیں۔اگر پوری زمین کے تمام ایٹمی بم ایک ہی وقت میں پھٹ جائیں تو جو توانائی پیدا ہوگی ۔سورج صرف ایک سیکنڈ میں اُس سے کھربوں گنا زیادہ طاقت پیدا کرتا ہے۔یا ایسے سمجھیں۔اگر ایک چھوٹا سا بلب آپ کے کمرے کو روشن کرتا ہے۔تو سورج ایسا دیوہیکل بلب ہے۔جو ایک ساتھ اربوں کھربوں دنیاوں کو روشن کرسکتا ہے۔لیکن سب سے خوفناک بات یہ ہے۔یہ ساری روشنی اور گرمی کسی لکڑی تیل یا گیس سے نہیں بنتی۔بلکہ سورج کے اندر ہر لمحہ خوفناک ایٹمی دھماکے ہورہے ہوتے ہیں۔جی ہاں ۔ہر سیکنڈ سورج کے اندر ایسا جہنم بھڑک رہا ہے جس کا تصور بھی انسان کے لیے مشکل ہے۔سورج کا درمیانی حصہ یعنی اُس کا کور اتنا گرم ہے کہ وہاں کا درجہ حرارت تقریباڈیڑھ کروڑڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔یہ اتنا گرمی ہے اگر زمین کا سب سے طاقتور آتش فشاں سب سے بڑی آگ اور ہزاروں ایٹمی دھماکے ایک جگہ جمع کردیے جائیں تب بھی وہ سورج کے مرکز کے سامنے کچھ نہیں۔وہاں دباؤ اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ ہائیڈروجن کے ننھے ایٹم ایک دوسرے سے ایسے ٹکراتے ہیں جیسے دو گاڑیاں انتہائی رفتار سے آپس میں ٹکرا جائیں۔لیکن سورج کے اندر یہ ٹکراؤ صرف دو چیزوں کے درمیان نہیں ہوتا بلکہ کھربوں ایٹم ہر لمحہ ٹکرا رہے ہوتے ہیں۔پھر اچانک وہ آپس میں جڑ جاتے ہیں اور ایک خوفناک دھماکے کے ساتھ توانائی پیدا ہوتی ہے۔اسی عمل کو نیوکلیئر فیوژن کہتے ہیں۔یہی وہ طاقت ہے جو سورج کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔سورج ہر سیکنڈ تقریبا60کروڑٹن ہائیڈروجن استعمال کرتا ہے۔60کروڑٹن ۔یہ تعداد اتنی بڑی ہے کہ اگر آپ روزانہ لاکھوں ٹرک بھر کر بھی ہائیڈروجن لے جائیں تب بھی سورج کی صرف چند لمحوں کی ضرورت پوری نہیں ہوسکتی۔اور پھر اس میں سے تقریبا40لاکھ ٹن مادہ مکمل طور پر توانائی میں بدل جاتا ہے۔یہ وہی توانائی ہے جو روشنی گرمی اور زندگی بن کر خلا میں پھیلتی ہے۔اور حیرت کی بات یہ ہے سورج کی روشنی کو زمین تک پہنچنے میں صرف آٹھ منٹ لگتے ہیں۔یعنی اگر سورج اچانک غائب ہوجائے تو ہمیں آٹھ منٹ تک پتا بھی نہیں چلے گا۔لیکن سورج کے اندر کا منظر وہ حقیقت میں کسی جہنم سے کم نہیں۔اگ کے ایسے طوفان جن میں پوری زمین ایک چھوٹے کنکر کی طرح لگے۔پلازما کی ایسی لہریں جو ہزاروں کلومیٹر اونچائی تک پھٹ پڑتی ہیں۔اور آگ کے ایسے بگولے جو پورے سیارے نگل سکتے ہیں۔سورج کی سطح مسلسل اُبلتی رہتی ہے۔ایسے جیسے چولہے پر رکھا پانی کھول رہا ہو۔فرق صرف اتنا ہے وہ پانی نہیں بلکہ آگ کا سمندر ہے۔کبھی کبھی سورج اچانک ایک خوفناک دھماکہ کرتا ہے۔اتنا بڑا دھماکہ کہ اربوں ایٹمی بم بھی اُس کے سامنے کمزور لگیں۔انہیں سولرفلیئرکہا جاتا ہے۔جب یہ دھماکے ہوتے ہیں تو سورج خلا میں آگ اور توانائی کا زبردست طوفان پھینکتا ہے۔اگر ایسا طاقتور طوفان سیدھا زمین سے ٹکرا جائے تو سیٹلائٹس جل سکتے ہیں انٹرنیٹ بند ہوسکتا ہے موبائل سگنلز ختم ہوسکتے ہیں اور پوری دنیا اندھیرے میں ڈوب سکتی ہے۔اور لوگ اسی لیے سورج کو صرف خوبصورت ستارہ نہیں سمجھتے بلکہ ایک خطرناک کائناتی طاقت سمجھتے ہیں۔اور سب سے حیرت والی بات ۔جو روشنی آج آپ کے چہرے پر پڑ رہی ہے وہ سورج کے اندر لاکھوں سال پہلے پیدا ہوئی تھی۔کیونکہ سورج کے اندر روشنی سیدھی باہر نہیں نکل سکتی۔وہ باربار ایٹموں سے ٹکراتی رہتی ہے جیسے کوئی انسان بہت بڑے ہجوم میں پھنس جائے۔کبھی دائیں کبھی بائیں کبھی آگے…کبھی پیچھے اور لاکھوں سال بعد کہیں جا کر وہ روشنی سورج کی سطح تک پہنچتی ہے۔پھر وہ خلا میں سفر کرتی ہے…اور صرف آٹھ منٹ میں زمین تک پہنچ کر ہماری صبح بن جاتی ہے۔لیکن سورج ہمیشہ ایسا نہیں رہے گا۔ایک دن اُس کے اندر موجود ہائیڈروجن کم ہونے لگے گی۔پھر سورج مزید خوفناک ہوجائے گا۔وہ آہستہ آہستہ پھیلنا شروع کرے گا…جیسے آگ سے بھرا ہوا غبارہ۔وہ اتنا بڑا ہوسکتا ہے…کہ عطارد…زہرہ…اور شاید زمین کو بھی نگل جائے۔اس وقت زمین پر سمندر اُبلنے لگیں گے۔ہوا جلنے لگے گی۔پہاڑ پگھلنے لگیں گے۔اور ہماری دنیا ایک جلتا ہوا مردہ پتھر بن سکتی ہے۔یہ سب اربوں سال بعد ہوگا لیکن حقیقت یہ ہے کہ سورج آج بھی ہر سیکنڈ ایک خوفناک جنگ لڑ رہا ہے۔آگ کی جنگ دباؤ کی جنگ اور ایٹمی طاقت کی جنگ۔اور سب سے ڈراؤنی بات اگر سورج صرف ایک لمحے کے لیے بھی اپنی توانائی بنانا بند کردے تو زمین پر موجود ہر چیزاندھیرے سردی اور موت میں ڈوب سکتی ہے۔
تخریر۔۔۔عالم نامہ Aalam nama

24/05/2026
محمد حفیظ  اپنے ہمشکل کے ساتھ، 🫣کیا کوئی گیس کرسکتا ہے کے اصلی والا حفیظ کونسا ہے 🤔 بتاؤ
23/05/2026

محمد حفیظ اپنے ہمشکل کے ساتھ، 🫣
کیا کوئی گیس کرسکتا ہے کے اصلی والا حفیظ کونسا ہے 🤔 بتاؤ

ایک عام سی بلی کو خاص تربیت دے کر اس کے جسم کے اندر مائیکروفون اور سننے والے آلات نصب کیے گئے تاکہ وہ دشمنوں کی باتیں ری...
23/05/2026

ایک عام سی بلی کو خاص تربیت دے کر اس کے جسم کے اندر مائیکروفون اور سننے والے آلات نصب کیے گئے تاکہ وہ دشمنوں کی باتیں ریکارڈ کر سکے
اس منصوبے پر اُس وقت کے حساب سے کروڑوں ڈالر خرچ کیے گئے اور اسے جدید جاسوسی ٹیکنالوجی کی بڑی امید سمجھا جا رہا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پروگرام میں سائنسدانوں نے بلی کے دماغ کے قریب ایک اینٹینا بھی فٹ کیا تھا تاکہ وہ دور سے کنٹرول کی جا سکے۔ یہ اُس وقت کی سب سے خفیہ اور مہنگی تجرباتی کوششوں میں سے ایک تھی۔
مگر کہانی کا سب سے حیران کن موڑ یہ تھا کہ جیسے ہی بلی کو پہلی اصل مشن پر چھوڑا گیا، وہ سڑک پار کرتے ہوئے ایک ٹیکسی کے نیچے آ کر موقع پر ہی ہلاک ہو گئی
یوں لاکھوں ڈالر اور برسوں کی محنت صرف چند لمحوں میں ختم ہو گئی۔
یہ منصوبہ آج بھی تاریخ کے سب سے عجیب اور ناکام جاسوسی تجربات میں شمار کیا جاتا ہے۔

آپ کے خیال میں ایسی ٹیکنالوجی بنانا صحیح تھا یا یہ صرف وقت اور پیسے کا ضیاع تھا؟

تہران کے انقلاب اسکوائر پر ہزاروں افراد نے  ایرانی حکومت و افواج کے حق  میں مظاہرہ کیا۔ رات گئے تک جاری اس مظاہرے میں  خ...
23/05/2026

تہران کے انقلاب اسکوائر پر ہزاروں افراد نے ایرانی حکومت و افواج کے حق میں مظاہرہ کیا۔

رات گئے تک جاری اس مظاہرے میں خواتین کی بڑی تعداد موجود تھی۔

جنہوں نے ’ میراعشق ایران‘ ،’ میری جان ایران‘ اور’ ہم آپ کےساتھ ہیں خواہ کوئی بھی ہو میدان‘ کے نعرے لگائے۔

Address

P/o Yousif Shah Taseel District Bhakkar
Bhakkar
030002

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Reality in world posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share