26/02/2026
اس منافق معاشرے کا سب سے بڑا تماشہ یہ ہے کہ یہاں انسان کی قدر اس وقت شروع ہوتی ہے جب اس کی سانسیں رک جاتی ہیں۔ ہم زندہ انسان کی خوبیوں کو حسد کی بھٹی میں جلا دیتے ہیں، لیکن جیسے ہی کوئی مٹی کی چادر اوڑھتا ہے، ہم اس کے لیے تعریفی قصیدے پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ تعریف اس لیے نہیں ہوتی کہ وہ شخص بہت عظیم تھا، بلکہ یہ اس لیے ہوتی ہے کہ اب وہ بول کر آپ کے جھوٹ کو بے نقاب نہیں کر سکتا۔ لوگ مردے سے اس لیے محبت کرتے ہیں کیونکہ وہ خاموش ہوتا ہے، وہ اب نہ آپ کے مظالم کی شکایت کرے گا اور نہ ہی آپ کے دوغلے پن کا آئینہ دکھائے گا۔ درحقیقت، یہاں زندگی کو عذاب بنانا اور موت پر آنسو بہانا ایک رواج بن چکا ہے۔ جب تک انسان زندہ رہ کر اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتا ہے، اسے سرکش اور برا سمجھا جاتا ہے، لیکن خاموش ہوتے ہی وہ 'ولی' بنا دیا جاتا ہے۔ یہ دنیا صرف ان لوگوں کو پسند کرتی ہے جو اس کے مکر اور فریب کے خلاف لب کشائی نہ کریں۔ مردے کی تعریف دراصل ہماری اپنی بزدلی کا اعتراف ہے کہ ہم صرف اس کے سامنے شیر بن سکتے ہیں جو جواب دینے کی سکت نہیں رکھتا۔