Dr Muhammad Latif Kalyar

Dr Muhammad Latif Kalyar Pharmacist+Dentist🦷,And LLB continue ⚖️
Allhmdulilah for everything ❤️✔️

الحمدللہ۔شکر ہے رب تعالیٰ کی پاک ذات کا۔ 🤲🤲❤️     #کلیارکہتےہیں      ゚viralシfypシ゚viralシalシfollower
20/04/2026

الحمدللہ۔
شکر ہے رب تعالیٰ کی پاک ذات کا۔ 🤲🤲❤️
#کلیارکہتےہیں ゚viralシfypシ゚viralシalシfollower

اپنی جگہ بدلیں، اپنے لوگ بدلیں، اپنا ماحول بدلیں، لیکن کسی کو خوش کرنے کے لیے اپنی شخصیت کبھی نہ بدلیں۔.see moreMuhammad...
19/04/2026

اپنی جگہ بدلیں، اپنے لوگ بدلیں، اپنا ماحول بدلیں، لیکن کسی کو خوش کرنے کے لیے اپنی شخصیت کبھی نہ بدلیں۔.see more
Muhammad Latif

#کلیارکہتےہیں #کلیار

゚viralシfypシ゚

25/02/2026

یہ سادہ سا حولیہ یہ سانولی رنگت یہ اداس چہرے ہم سے جو کوئی دل لگائے تو کیوں لگائے
゚viralシfypシ゚

اکثر لوگ ماں کے دودھ کو ایک عام سی چیز سمجھتے ہیں صرف سفید رنگ کا سیال جو بچے کی بھوک مٹاتا ہے۔مگر حقیقت اس سے کہیں زیاد...
23/02/2026

اکثر لوگ ماں کے دودھ کو ایک عام سی چیز سمجھتے ہیں
صرف سفید رنگ کا سیال جو بچے کی بھوک مٹاتا ہے۔
مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری اور حیرت‌ انگیز ہے۔

ماں کا دودھ محض چکنائی، لحمیات اور شکر کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک متحرک اور پیچیدہ حیاتیاتی نظام ہے۔
پیدائش کے فوراً بعد نکلنے والے گاڑھے زردی مائل دودھ (کولوسٹرم) کو قدرت کا پہلا ٹیکہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔
اس میں مدافعتی اجزا کی بھرمار ہوتی ہے، جو نومولود کو جراثیم سے لڑنے کی ابتدائی قوت بخشتے ہیں۔
چند دنوں میں اس کی ترکیب تبدیل ہوتی ہے اور یہ "عبوری دودھ" اور پھر "پکا دودھ" میں ڈھل جاتا ہے۔
یہاں تک کہ ایک ہی مرتبہ دودھ پلانے کے دوران شروع اور آخر میں دودھ کی چکنائی کی مقدار مختلف ہو سکتی ہے تاکہ بچے کی توانائی کی ضروریات پوری ہوتی رہیں۔

ماں کے دودھ میں موجود مدافعتی اجزا کی فہرست طویل ہے:
سیکرٹری ائی جی اے (Secretory IgA) جو بچے کے نظامِ تنفس اور ہاضمہ کو انفیکشن سے بچاتا ہے،
لیوکوسائٹس (سفید خون کے خلیے) جو جراثیم کو براہِ راست تباہ کرتے ہیں،
لیکٹوفرین جو آئرن کو جراثیم سے چھین کر ان کی افزائش روکتا ہے،
اور ہیومن مِلک اولیگوسیکرائڈز جو آنتوں میں مفید بیکٹیریا کی پرورش کرتے ہیں اور نقصان دہ جراثیم کو پنپنے نہیں دیتے۔
ان سب کے علاوہ اس میں لیپٹین اور کورٹیسول جیسے ہارمونز بھی موجود ہوتے ہیں، جو بچے کے میٹابولزم اور نشوونما کو متوازن رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

مصنوعی دودھ بہت سے حالات میں ایک ضروری اور کارآمد متبادل ہے، اور اس کی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن یہ ماں کے دودھ کی طرح زندہ خلیات، اینٹی باڈیز اور ہارمونز فراہم نہیں کر سکتا کیونکہ یہ وہ چیزیں ہیں جو صرف ایک زندہ جسم تخلیق کر سکتا ہے۔
یہ الفاظ محض جذبات پر مبنی نہیں ہیں، بلکہ سائنس پر مبنی حقیقت ہیں۔

ماں کا دودھ خوراک سے بڑھ کر ہے
یہ قوتِ مدافعت ہے،
یہ نشوونما کی معاونت ہے،
اور سب سے بڑھ کر یہ انسانی جسم کی تخلیقی صلاحیت کا عملی ثبوت ہے۔

اور اگر کسی نے آپ کو حال ہی میں یہ نہیں بتایا،
تو یہ بات ذہن نشین کر لیں:
انسانی جسم واقعی حیرت انگیز ہے۔ بے شک الله کی تخلیق بے مثأل ھے۔سبحان الله
゚viralシfypシ゚

بچپن میں کتنے پیسے لیکر سکول جایا کرتے تھے۔؟پلیز لمبی لمبی مت چھوڑنا  😂🤭
03/02/2026

بچپن میں کتنے پیسے لیکر سکول جایا کرتے تھے۔؟
پلیز لمبی لمبی مت چھوڑنا 😂🤭

اگر برے وقت میں آ پ کا فون نہیں بجتا تو اچھے وقت میں کسی کا اٹھانا بھی مت🥰
03/02/2026

اگر برے وقت میں آ پ کا فون نہیں بجتا تو اچھے وقت میں کسی کا اٹھانا بھی مت🥰

03/02/2026

مینوں اتھوں پڑھ جتھوں میں خاموش آ ںاے ہسنا ہسا نا ہنر ہے میرا
03/02/2026

مینوں اتھوں پڑھ جتھوں میں خاموش آ ں
اے ہسنا ہسا نا ہنر ہے میرا

بھاگتے لمحوں میں، ٹھہری ہوئی زندگی 🤍        Islamba
02/02/2026

بھاگتے لمحوں میں، ٹھہری ہوئی زندگی 🤍


Islamba

Address

Chashma
42030

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Muhammad Latif Kalyar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category