20/08/2026
آج ڈاکٹر اسماء مشتاق کے انتقال کی خبر نے ایک بار پھر یہ حقیقت سامنے رکھ دی کہ زندگی کتنی بے یقینی ہے۔ انسان ساری زندگی اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کرتا رہتا ہے—یہ کرنا ہے، وہ حاصل کرنا ہے، ساٹھ سال کی عمر میں یہ کریں گے، ریٹائرمنٹ کے بعد وہ کریں گے… مگر ہمیں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اگلا لمحہ ہمارے نصیب میں ہے بھی یا نہیں۔
ڈاکٹر اسماء مشتاق نے اسپینٹک (Spantik) کی 7,027 میٹر بلند چوٹی کامیابی سے سر کی، لیکن واپسی کے دوران تقریباً 6,400 میٹر کی بلندی پر انہیں High-Altitude Sickness کا شدید سامنا کرنا پڑا۔ اتنی بلندی پر آکسیجن کی مقدار بہت کم ہونے کی وجہ سے جسم، دماغ اور پھیپھڑوں پر خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ گائیڈز نے فوری طور پر ہر ممکن مدد فراہم کی، لیکن افسوس کہ وہ جانبر نہ ہو سکیں۔ یہی ان کی موت کی بیان کردہ بنیادی وجہ ہے۔
ڈاکٹر اسماء 2017-18 میں لاہور میں ہماری اینستھیزیا ٹیم کے ساتھ ہاؤس جاب کر چکی تھیں۔ ایک نوجوان، باصلاحیت اور زندگی سے بھرپور ڈاکٹر کا اتنی کم عمری میں یوں اچانک دنیا سے چلے جانا میرے لیے اب بھی ناقابلِ یقین ہے۔ جب ان کی وفات کی خبر سنی تو دل اور دماغ دونوں ماننے کو تیار نہیں تھے کہ یہ واقعی ہو گیا ہے۔ 💔
یہ واقعہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم دنیا کے مستقبل کے لیے تو بہت کچھ سوچتے اور تیاریاں کرتے ہیں—گھر، کیریئر، پیسہ، سفر، ریٹائرمنٹ اور نہ جانے کیا کچھ… لیکن اپنی آخرت کے لیے کتنی تیاری کرتے ہیں؟ ہم اکثر سوچتے ہیں کہ ابھی بہت وقت ہے، بعد میں عبادت کریں گے، بعد میں خود کو بدلیں گے، بعد میں نیکی کی طرف آئیں گے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ موت نہ عمر دیکھتی ہے، نہ وقت، نہ منصوبے۔
ہمیں اپنی زندگی کے فیصلے کرتے ہوئے یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ایک دن ہمیں اپنے رب کے سامنے اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔ اس لیے دنیا کے مستقبل کی منصوبہ بندی کے ساتھ اپنی آخرت کی تیاری بھی ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ ڈاکٹر اسماء مشتاق کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی آخری منزل آسان فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ، دوستوں اور تمام چاہنے والوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ اللہ ہمیں بھی اپنی زندگی کو غنیمت سمجھنے اور آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔ 🤲💔