Dr. Shahzad Jaffar Chishti

Dr. Shahzad Jaffar Chishti Dr. Shahzad Jaffar Chishti
Consultant Anesthetist | Community Projects | Chishtian
0300-7020705
(2)

22/08/2026

ایک باصلاحیت سنگر اپنی محنت اور لگن کے ساتھ اپنے خواب کو حقیقت بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ 🎶❤️
میری سب بھائیوں سے گزارش ہے کہ اس بھائی کو ضرور Follow کریں اور اس کی حوصلہ افزائی کریں۔ تو اپنا پیار اور سپورٹ ضرور دیں۔ ❤️🎤

22/08/2026

دنیا کے 100+ ممالک میں چلنے والا عالمی برانڈ Yadea ⚡🛵 آج اپنے دوست حارث کے ساتھ Yadea الیکٹرک اسکوٹی دیکھنے اور لینے کا تجربہ کیا۔

Yadea — جدید سفر، بہتر مستقبل! 🔋✨

21/08/2026

بطور کمیونٹی ہمارا فرض ہے کہ اپنے آس پاس موجود ہر شخص کا خیال رکھیں، خاص طور پر ان لوگوں کا جو مہنگائی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ کسی ضرورت مند کو نظرانداز نہ کریں، کیونکہ تھوڑی سی مدد بھی کسی کے لیے بہت بڑا سہارا بن سکتی ہے۔ ❤️

اگر ہماری آواز کسی مجبور گھرانے تک نہیں پہنچ سکتی، تو پھر ہمارے ہزاروں فالوورز کس کام کے؟سوشل میڈیا نے ہمیں صرف شہرت، پہ...
21/08/2026

اگر ہماری آواز کسی مجبور گھرانے تک نہیں پہنچ سکتی، تو پھر ہمارے ہزاروں فالوورز کس کام کے؟

سوشل میڈیا نے ہمیں صرف شہرت، پہچان اور فالوورز نہیں دیے… اس نے ہمیں ایک ذمہ داری بھی دی ہے۔

اللہ نے اگر کسی کو عزت دی ہے، لوگوں میں مقام دیا ہے اور ہزاروں لوگ اس کی بات سنتے ہیں، تو یہ صرف اس شخص کا کمال نہیں۔ اس مقام کے پیچھے انہی لوگوں کی محبت اور اعتماد ہوتا ہے۔

اس لیے میرے نزدیک سوشل میڈیا کا اصل مقصد صرف لائکس، ویوز اور فالوورز نہیں۔

اگر میری ایک پوسٹ کسی ایک ضرورت مند گھرانے تک مدد پہنچا دے، تو میرے لیے یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

آج میں آپ کے سامنے ایک ایسے خاندان کی بات رکھ رہا ہوں جس کے حالات دیکھ کر واقعی دل دکھا۔

کچھ عرصہ پہلے ایک بہن نے اس خاندان کے لیے مجھ سے رابطہ کیا تھا۔ اپنی مصروفیات کی وجہ سے میں فوراً نہیں جا سکا۔ دوبارہ رابطہ ہوا تو مجھے خود شرمندگی محسوس ہوئی کہ جس خاندان کو میری توجہ کی ضرورت تھی، میں وہاں وقت پر نہیں پہنچ سکا۔

میں کل خود ان کے گھر گیا۔

اور جو دیکھا، وہ آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔

اس خاندان کے والد، جمیل صاحب، تقریباً آٹھ ماہ سے بستر پر ہیں۔ ٹانگ کے فریکچر کے بعد وہ کام کرنے کے قابل نہیں رہے۔ گھر میں ان کی اہلیہ ہی ان کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔

چار بیٹیاں ہیں؛ تین کی شادیاں ہو چکی ہیں جبکہ ایک بیٹی گھر پر ہے اور تعلیم حاصل کر رہی ہے۔

ایک بیٹا ہے جو دہاڑی دار مزدوری کرتا ہے۔ تقریباً 1000 روپے روزانہ کماتا ہے۔ یعنی اگر مسلسل کام ملے تو تقریباً 26 ہزار روپے ماہانہ۔

اور پھر اسی گھر کا تقریباً 9 ہزار روپے بجلی کا بل۔

اس کے علاوہ بستر پر موجود والد کی ادویات، علاج، گھر کا راشن اور روزمرہ کے اخراجات۔

سوچیے…

26 ہزار روپے ماہانہ آمدن میں ایک بیمار والد، بجلی کا بل، دوائیں، راشن اور گھر کے باقی اخراجات کیسے پورے ہوتے ہوں گے؟

یہ وہ لوگ ہیں جو شاید کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے، مگر حالات نے انہیں ہماری مدد کا محتاج کر دیا ہے۔

اور سب سے اہم بات:

یہ کوئی سنی سنائی کہانی نہیں۔ میں خود اس گھر گیا ہوں، خود حالات دیکھے ہیں اور اپنی طرف سے تصدیق کی ہے۔

ہم میں سے بہت سے لوگ سال کے آخر میں زکوٰۃ نکالتے ہیں، صدقہ کرتے ہیں یا کسی کی مدد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اگر آپ ایسے کسی مستحق خاندان کی تلاش میں ہیں تو اس خاندان کو یاد رکھیں۔

آپ کی چھوٹی سی مدد ان کے لیے شاید بہت بڑی راحت بن جائے۔

مدد کے لیے JazzCash:

0321-9419683
Account Name: Ameer Hamza Jameel
یہ اکاؤنٹ جمیل صاحب کے بیٹے کے نام پر ہے۔

اگر آپ 500، 1000 یا 5000 روپے دے سکتے ہیں تو ضرور دیں۔
اگر مالی مدد ممکن نہیں تو صرف یہ پوسٹ شیئر کر دیں۔

ہو سکتا ہے آپ کا ایک شیئر کسی ایسے شخص تک پہنچ جائے جو اس خاندان کے پورے مہینے کا راشن لے دے۔
ہو سکتا ہے کسی کی دی ہوئی رقم ان کے والد کی دواؤں کا خرچ اٹھا لے۔
اور ہو سکتا ہے آپ کی وجہ سے اس گھر کا بجلی کا بل ادا ہو جائے۔

ہم میں سے ہر شخص پورا بوجھ نہیں اٹھا سکتا، لیکن اگر بہت سے لوگ تھوڑا تھوڑا بوجھ اٹھا لیں تو ایک مجبور گھرانہ سنبھل سکتا ہے۔

میرے لیے سوشل میڈیا پر آنے کا مقصد تب ہی پورا ہوتا ہے جب میری آواز، میری پوسٹ یا میرے فالوورز کی طاقت کسی انسان کے کام آ جائے۔

آئیں اس بار صرف پوسٹ کو لائک نہ کریں…
اس خاندان کے لیے کچھ کریں۔

اللہ تعالیٰ آپ کے رزق میں برکت دے اور آپ کو دوسروں کے لیے آسانی کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔ ❤️

21/08/2026

زوہیب آٹو کرافٹ سے اپنے گھر کی نیم پلیٹ بنوائی، ماشاءاللہ بہت ہی خوبصورت اور بہترین بنائی ہے۔ 👌❤️
کام کی کوالٹی، فنشنگ اور ڈیزائن واقعی قابلِ تعریف ہے۔ بہت شکریہ زوہیب آٹو کرافٹ! ❤️

21/08/2026

🍕 Cheesy Bites — ایک مزیدار وزٹ! 😍

کچھ دوستوں، سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے ساتھ Cheesy Bites وزٹ کرنے کا موقع ملا۔
ہم نے یہاں کا پیزا ٹرائی کیا اور واقعی ذائقہ بہت اچھا لگا۔ 😋🍕

اچھی کمپنی، مزیدار کھانا اور ایک خوبصورت وقت — اس سے زیادہ کیا چاہیے! ❤️

اگر آپ بھی Cheesy Bites جائیں تو پیزا ضرور ٹرائی کریں۔ 🍕✨

آن لائن نظام… سہولت کے لیے یا عوام کو مزید ذلیل کرنے کے لیے؟کبھی زمین یا پلاٹ کی خرید و فروخت کا معاملہ پڑ جائے تو انسان...
21/08/2026

آن لائن نظام… سہولت کے لیے یا عوام کو مزید ذلیل کرنے کے لیے؟

کبھی زمین یا پلاٹ کی خرید و فروخت کا معاملہ پڑ جائے تو انسان پہلے ہی ذہنی طور پر تیار ہوتا ہے کہ اب ذلیل و خوار ہونا ہے۔

میں نے حال ہی میں ایک پلاٹ فروخت کیا۔ تقریباً ایک ماہ گزر چکا ہے، لیکن ابھی تک انتقال/بیان کے مراحل مکمل نہیں ہو سکے۔ آغاز ہوا فرد سے۔

کہا گیا کہ فرد آن لائن اراضی ریکارڈ سینٹر سے حاصل کریں۔ میں گیا تو پہلے دن سسٹم نہیں چل رہا تھا، دوسرے دن بھی یہی جواب، پھر تیسرے، چوتھے… پانچ چھ دن صرف اس لیے ضائع ہوئے کہ سسٹم لاگ اِن نہیں ہو رہا تھا۔

دل میں خیال آیا کہ اگر یہی فرد پٹواری صاحب سے لینی ہوتی تو شاید اسی دن مل جاتی۔

آخرکار فرد ملی اور میں نے خریدار کو دے دی۔ اب اگلا مرحلہ تحصیلدار کے سامنے بیان کا تھا۔ وہاں بھی یہی کہانی شروع ہوگئی۔

کبھی تحصیلدار صاحب موجود نہیں، کبھی سسٹم نہیں چل رہا، کبھی لاگ اِن نہیں ہو رہا۔

خریدار نے مجھے رقم آن لائن ٹرانسفر کر دی تھی، اس لیے وہ بھی پریشان تھا کہ رقم دے دی ہے لیکن اگلا مرحلہ مکمل نہیں ہو رہا۔ میں نے اسے تسلی دی کہ پریشان نہ ہو، میں خود بیان دوں گا۔

میں روزانہ ہسپتال جانے سے پہلے اپنا شناختی کارڈ جیب میں رکھتا اور تحصیلدار کے دفتر پہنچ جاتا۔ خریدار بھی اپنی چھوٹی بچی کے ساتھ روز وہاں چکر لگاتا رہا۔ صبح سے دوپہر، پھر تین چار بجے تک انتظار… اور جواب ایک ہی:

“سسٹم لاگ اِن نہیں ہو رہا۔”

یہاں میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میری شکایت کسی پٹواری، اراضی سینٹر کے عملے یا کسی تحصیلدار کے خلاف نہیں۔ میری شکایت نظام کے خلاف ہے۔

آج تقریباً ایک دو ہفتے بعد سسٹم چلا تو معلوم ہوا کہ اس دوران تحصیلداروں کے تبادلے بھی ہو چکے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج ایک ہی دن میں بے شمار لوگوں کے بیانات لینے تھے۔

میں وہاں پہنچا تو ایسا رش تھا کہ بیان کرنا مشکل ہے۔ خواتین گرمی میں کھڑی تھیں، بزرگ لوگ بیٹھے انتظار کر رہے تھے، لوگ گھنٹوں سے اپنی باری کے منتظر تھے اور ایک کمپیوٹر بار بار بند ہو رہا تھا۔

مجھے ایک ایمرجنسی کیس کے لیے ہسپتال بھی جانا تھا۔ میں نے تحصیلدار صاحب سے اپنی مجبوری بتائی تو انہوں نے میری درخواست کو سمجھا اور میرے کام کو ترجیح دی۔ میں ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میری ایمرجنسی کو سمجھا۔

لیکن سوال پھر بھی اپنی جگہ موجود ہے:

ہم نے آن لائن نظام کیوں بنایا تھا؟

لوگوں کو سہولت دینے کے لیے یا ایک نئے طریقے سے انہیں دفاتر کے چکر لگوانے کے لیے؟

ڈیجیٹل نظام کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ شہری گھر سے یا چند منٹ میں اپنا کام مکمل کر سکے۔ لیکن اگر ہر مرحلہ کسی ایک کمپیوٹر، ایک لاگ اِن، ایک سرور یا کسی مخصوص افسر کی دستیابی سے منسلک ہو جائے، اور سسٹم بند ہونے کی صورت میں پورا کام رک جائے، تو یہ سہولت نہیں بلکہ ڈیجیٹل اذیت بن جاتی ہے۔

اور سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ میرا پہلا تجربہ نہیں۔ کچھ عرصہ پہلے بھی ایک دوست کے ساتھ زمین کے معاملے میں تقریباً یہی صورتحال دیکھی تھی۔

ایک مہینے میں صرف دو مراحل مکمل ہوئے ہیں، تیسرا مرحلہ ابھی باقی ہے۔

ذرا تصور کریں، جس شخص نے زمین خریدی ہے وہ ایک مہینے سے روزانہ چکر لگا رہا ہے۔ اس کا وقت، پیٹرول، کام، ذہنی سکون—سب کچھ اس نظام کی خرابی کی نذر ہو رہا ہے۔

ہم ترقی کی طرف ضرور جا رہے ہیں، لیکن صرف “آن لائن” کا لفظ لگا دینے سے نظام ترقی یافتہ نہیں ہو جاتا۔

اگر آن لائن نظام بنایا گیا ہے تو اسے واقعی آن لائن، تیز، قابلِ اعتماد اور متبادل نظام کے ساتھ بنایا جائے۔

سرور بند ہو تو دستی متبادل موجود ہو۔
لاگ اِن نہ ہو تو شہری کا کام نہ رکے۔
ایک افسر موجود نہ ہو تو پورا دن ضائع نہ ہو۔
اور سب سے بڑھ کر، عام آدمی کو عزت کے ساتھ اپنا قانونی کام کروانے کا حق ملے۔

ورنہ عوام کے لیے فرق صرف اتنا رہ جائے گا کہ پہلے پٹواری کے دفتر کے چکر لگتے تھے، اب آن لائن سسٹم کے چکر لگ رہے ہیں۔

ڈیجیٹل پاکستان کا مطلب یہ نہیں کہ ذلت بھی ڈیجیٹل کر دی جائے۔

آج ڈاکٹر اسماء مشتاق کے انتقال کی خبر نے ایک بار پھر یہ حقیقت سامنے رکھ دی کہ زندگی کتنی بے یقینی ہے۔ انسان ساری زندگی ا...
20/08/2026

آج ڈاکٹر اسماء مشتاق کے انتقال کی خبر نے ایک بار پھر یہ حقیقت سامنے رکھ دی کہ زندگی کتنی بے یقینی ہے۔ انسان ساری زندگی اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کرتا رہتا ہے—یہ کرنا ہے، وہ حاصل کرنا ہے، ساٹھ سال کی عمر میں یہ کریں گے، ریٹائرمنٹ کے بعد وہ کریں گے… مگر ہمیں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اگلا لمحہ ہمارے نصیب میں ہے بھی یا نہیں۔

ڈاکٹر اسماء مشتاق نے اسپینٹک (Spantik) کی 7,027 میٹر بلند چوٹی کامیابی سے سر کی، لیکن واپسی کے دوران تقریباً 6,400 میٹر کی بلندی پر انہیں High-Altitude Sickness کا شدید سامنا کرنا پڑا۔ اتنی بلندی پر آکسیجن کی مقدار بہت کم ہونے کی وجہ سے جسم، دماغ اور پھیپھڑوں پر خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ گائیڈز نے فوری طور پر ہر ممکن مدد فراہم کی، لیکن افسوس کہ وہ جانبر نہ ہو سکیں۔ یہی ان کی موت کی بیان کردہ بنیادی وجہ ہے۔

ڈاکٹر اسماء 2017-18 میں لاہور میں ہماری اینستھیزیا ٹیم کے ساتھ ہاؤس جاب کر چکی تھیں۔ ایک نوجوان، باصلاحیت اور زندگی سے بھرپور ڈاکٹر کا اتنی کم عمری میں یوں اچانک دنیا سے چلے جانا میرے لیے اب بھی ناقابلِ یقین ہے۔ جب ان کی وفات کی خبر سنی تو دل اور دماغ دونوں ماننے کو تیار نہیں تھے کہ یہ واقعی ہو گیا ہے۔ 💔

یہ واقعہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم دنیا کے مستقبل کے لیے تو بہت کچھ سوچتے اور تیاریاں کرتے ہیں—گھر، کیریئر، پیسہ، سفر، ریٹائرمنٹ اور نہ جانے کیا کچھ… لیکن اپنی آخرت کے لیے کتنی تیاری کرتے ہیں؟ ہم اکثر سوچتے ہیں کہ ابھی بہت وقت ہے، بعد میں عبادت کریں گے، بعد میں خود کو بدلیں گے، بعد میں نیکی کی طرف آئیں گے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ موت نہ عمر دیکھتی ہے، نہ وقت، نہ منصوبے۔

ہمیں اپنی زندگی کے فیصلے کرتے ہوئے یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ایک دن ہمیں اپنے رب کے سامنے اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔ اس لیے دنیا کے مستقبل کی منصوبہ بندی کے ساتھ اپنی آخرت کی تیاری بھی ضروری ہے۔

اللہ تعالیٰ ڈاکٹر اسماء مشتاق کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی آخری منزل آسان فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ، دوستوں اور تمام چاہنے والوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ اللہ ہمیں بھی اپنی زندگی کو غنیمت سمجھنے اور آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔ 🤲💔

Address

FareedTown, Millroad, Chishtian, District Bahawalnagar
Chishtian Mandi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Shahzad Jaffar Chishti posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share