21/05/2026
جنوبی بھارت کی سیاست میں ایک حیرت انگیز موڑ آیا ہے، جہاں ایک باہمت نوجوان مسلم خاتون نے تاریخ کے اوراق پلٹ دیے ہیں۔ فاطمہ تہلیہ نے پیرامبرا اسمبلی حلقے سے ایک شاندار فتح اپنے نام کر کے انڈین یونین مسلم لیگ کی پہلی خاتون ایم ایل اے بننے کا منفرد اعزاز حاصل کر لیا ہے۔
انہوں نے کسی عام حریف کو نہیں، بلکہ کمیونسٹ پارٹی کے انتہائی طاقتور سیاستدان ٹی پی رام کرشنن کو شکست دے کر سب کو حیران کر دیا ہے۔ فاطمہ کے حق میں پڑنے والے 81 ہزار 429 ووٹوں نے اس عظیم الشان کامیابی کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
یہ وہ علاقہ ہے جو کئی دہائیوں تک بائیں بازو کی سیاست کا مضبوط قلعہ سمجھا جاتا تھا۔ مگر اس نوجوان خاتون نے اپنی انھتک محنت، جاندار انتخابی مہم اور عوام سے سچے رابطے کی بدولت برسوں پرانا سیاسی نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا۔
پیشے کے اعتبار سے قانون کی ماہر فاطمہ، ہمیشہ سے خواتین کے حقوق، حجاب کے دفاع اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ایک توانا آواز رہی ہیں۔ ان کی اسی سچی لگن اور زبردست مہم نے ان کی مقبولیت کو عروج پر پہنچا دیا۔
الیکشن کے دنوں میں انہیں انٹرنیٹ پر کڑی تنقید اور مذہبی تعصب کا نشانہ بنایا گیا، لیکن ان کے پختہ ارادوں میں کوئی لغزش نہ آئی اور انہوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ ان کی یہ شاندار اور تاریخی جیت آج ہر نوجوان اور خاتون کے لیے ہمت، حوصلے اور ایک روشن امید کی نئی کرن بن چکی ہے۔
Disclaimer: This report is based on election-related media coverage and publicly available information.