JUI working community

JUI working community جمیعت طلبہ اسلام JTI mehran university KHAIRPUR mirs

18/07/2026

پشاور:صوبائی امیر سینیٹر مولانا عطاءالرحمٰن کی پریس کانفرنس

18/07/2026

مرکزی صدر J.T.I کا پیغام
ذمہ داران و کارکنان کے نام

18/07/2026

تازہ ترین
آج اسلام آباد میں
قائد ملت اسلامیہ قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب سے شاھین جمعیت محافظ ختم نبوت حضرت مولانا حافظ حمد اللہ صاحب کی خوشگوار ملاقات ۔۔
💕🪔✌

18/07/2026

یکـــــم محـــــرم الحــــــرام
یـــــوم شہـــــادت حضـــــــرت عمــــــر فــــاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ

18/07/2026

جمعیت علماء اسلام کے زیر اہتمام کل قبائلی جرگہ سے قائد محترم قبائلی عوام کے ساتھ ہمدردی اور فاٹا انضمام کے حوالے سے پشتو زبان میں ایک تاریخی بیان ۔
قبائلی عوام کا حقیقی غمخوار ۔

18/07/2026

مولانا فضل الرحمن کو گالیاں دینے والو!
ایک سوال کا جواب تو دے دو۔
تحریر راشدمحمودسومرو
سیکریٹری جنرل جمعیت علماء اسلام سندھ

چار دہائیوں سے پاکستان کی سیاست میں موجود ایک شخص
جس نے آئین، پارلیمنٹ اور جمہوریت کی بات کی، دہشت گردی کے خلاف دوٹوک مؤقف اختیار کیا، شدت پسند مسلح گروہوں کے خلاف آواز بلند کی، اپنی جماعت کے ہزاروں کارکنوں اور رہنماؤں کی شہادتوں کا دکھ سہا، قاتلانہ حملوں کا سامنا کیا،
لیکن نہ پاکستان سے وفاداری بدلی اور نہ آئین سے وابستگی۔

آج وہ اگر یہ پوچھ رہے ہین کہ
جب عوام ٹیکس دیتی ہے،ریاستی اداروں پر قومی خزانے سے اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں تو پھر عوام کے جان و مال کا تحفظ کہاں ہے؟
تو اس سوال کا جواب دینے کے بجائے پوری ٹرول بریگیڈ میدان میں کہڑی کرنے کے بجاء

اگر مولانا غلط ہیں تو دلیل سے جواب دو۔

اگر ان کا مؤقف کمزور ہے تو آئین، قانون اور حقائق سے رد کرو

مگر جب جواب صرف گالی، تمسخر، کردار کشی اور ٹرولنگ ہو
تو لوگ یہ سوال ضرور کرین گے کہ آخر آپ کے پاس دلیل کیوں ختم ہو گئی ہے؟؟

مولانا صاحب کی برسوں کی سیاسی زندگی کے باوجود آپ ان پر کرپشن کا کوئی ثابت شدہ عدالتی فیصلہ نہین لاسکتے آپ ان پر اب بھی الزامات تو دہراتے ہیں مگر انہیں کسی کیس مین مجرم کے طور پر پیش نہیں کرسکتے

سیاسی اختلاف ہر شہری کا حق ہے، لیکن کسی ایسے شخص کو جس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ پارلیمنٹ، آئین اور جمہوری سیاست میں گزارا ہو، محض اس لیے نشانہ بنانا کہ اس نے طاقتور حلقوں سے سوال پوچھ لیاہے جمہوری روایت نہیں

یاد رکھین

سوال پوچھنے والا ہمیشہ غدار نہیں ہوتا اور سوال سے بھاگنے والا ہمیشہ حق پر نہیں ہوتا

گالی کبھی دلیل نہیں بنتی، ٹرولنگ کبھی سچ کو دفن نہیں کر سکتی اور تاریخ ہمیشہ شور مچانے والوں کی نہیں، کردار، استقامت اور اصولوں پر کھڑے رہنے والوں کی گواہی دیتی ہے
یاد رکہنا
مولانا محب وطن پاکستانی ہیں آپکے پیڈ ملازم آپکی نوکری تو کرسکتے ہین پاکستانی عوام کی دلوں سے نہین نکال سکتے۔

فیصلہ کرنے سے پہلے ایک بار پوری تقریر ضرور سن لیجیے۔گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر مولانا فضل الرحمٰن کی تقریر کا صرف ا...
18/07/2026

فیصلہ کرنے سے پہلے ایک بار پوری تقریر ضرور سن لیجیے۔

گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر مولانا فضل الرحمٰن کی تقریر کا صرف ایک جملہ بار بار نشر کیا جا رہا ہے، جیسے پوری تقریر میں بس یہی ایک بات تھی۔

میری گزارش ہے کہ اگر انصاف کرنا ہے تو چند سیکنڈ کا کلپ نہیں، پوری تقریر سنیے۔

جس جملے پر اعتراض کیا جا رہا ہے، اسے اس کے سیاق و سباق سے الگ کر دیا گیا۔

میرے نزدیک اصل سوال یہ نہیں کہ ایک جملے کو کیسے پیش کیا گیا،

بلکہ یہ ہے کہ مولانا پوری تقریر میں کیا کہنا چاہتے تھے؟

میری سمجھ کے مطابق ان کی گفتگو کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔

ہمارے فوجی جوان، پولیس اہلکار، ایف سی کے سپاہی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اہلکار اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔

یہ قربانیاں پوری قوم کے لیے قابلِ احترام ہیں اور ان پر کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا۔

لیکن کیا ان قربانیوں کا احترام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم یہ سوال بھی نہ پوچھیں کہ آخر یہ خون کب تک بہتا رہے گا؟

کیا یہ پوچھنا غلط ہے کہ دہشت گردی کا مستقل خاتمہ کیوں نہیں ہو رہا؟

کیا یہ مطالبہ غیر آئینی ہے کہ ہر ریاستی ادارہ اپنے آئینی دائرۂ اختیار میں رہ کر کام کرے اور منتخب نمائندوں کو آئین کے مطابق فیصلے کرنے دیے جائیں؟

جمہوریت کی بنیاد ہی یہی ہے کہ فوج، عدلیہ، پارلیمنٹ اور انتظامیہ، سب اپنے اپنے آئینی دائرے میں رہ کر ذمہ داریاں ادا کریں۔

اسی سے ادارے بھی مضبوط ہوتے ہیں اور ریاست بھی۔

شہداء ہماری عزت ہیں، ان کے خاندان ہماری ذمہ داری ہیں، اور ان کی قربانیوں کا تقاضا یہی ہے کہ ایسا نظام قائم ہو

جہاں مزید ماؤں کی گودیں ویران نہ ہوں، مزید بچے یتیم نہ ہوں، اور مزید جوان اپنے وطن کی خاطر جان دینے پر مجبور نہ ہوں۔

اختلاف ضرور کیجیے، لیکن پوری تقریر سن کر۔

اگر مولانا کے مؤقف سے اختلاف ہے تو پوری تقریر کا جواب پوری دلیل سے دیجیے، نہ کہ چند سیکنڈ کے تراشے ہوئے کلپ سے۔

سوال پوچھنا جمہوریت ہے، آئین کی بالادستی کا مطالبہ جمہوریت ہے،

اور ہر ادارے سے اس کے آئینی کردار کی توقع رکھنا بھی جمہوریت ہی ہے۔

یہی پاکستان کے مضبوط، مستحکم اور پُرامن مستقبل کا راستہ ہے۔

18/07/2026

M***i Abdul Wahid Qureshi

Address

Ghotki
65110

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when JUI working community posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share