18/07/2026
مولانا فضل الرحمن کو گالیاں دینے والو!
ایک سوال کا جواب تو دے دو۔
تحریر راشدمحمودسومرو
سیکریٹری جنرل جمعیت علماء اسلام سندھ
چار دہائیوں سے پاکستان کی سیاست میں موجود ایک شخص
جس نے آئین، پارلیمنٹ اور جمہوریت کی بات کی، دہشت گردی کے خلاف دوٹوک مؤقف اختیار کیا، شدت پسند مسلح گروہوں کے خلاف آواز بلند کی، اپنی جماعت کے ہزاروں کارکنوں اور رہنماؤں کی شہادتوں کا دکھ سہا، قاتلانہ حملوں کا سامنا کیا،
لیکن نہ پاکستان سے وفاداری بدلی اور نہ آئین سے وابستگی۔
آج وہ اگر یہ پوچھ رہے ہین کہ
جب عوام ٹیکس دیتی ہے،ریاستی اداروں پر قومی خزانے سے اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں تو پھر عوام کے جان و مال کا تحفظ کہاں ہے؟
تو اس سوال کا جواب دینے کے بجائے پوری ٹرول بریگیڈ میدان میں کہڑی کرنے کے بجاء
اگر مولانا غلط ہیں تو دلیل سے جواب دو۔
اگر ان کا مؤقف کمزور ہے تو آئین، قانون اور حقائق سے رد کرو
مگر جب جواب صرف گالی، تمسخر، کردار کشی اور ٹرولنگ ہو
تو لوگ یہ سوال ضرور کرین گے کہ آخر آپ کے پاس دلیل کیوں ختم ہو گئی ہے؟؟
مولانا صاحب کی برسوں کی سیاسی زندگی کے باوجود آپ ان پر کرپشن کا کوئی ثابت شدہ عدالتی فیصلہ نہین لاسکتے آپ ان پر اب بھی الزامات تو دہراتے ہیں مگر انہیں کسی کیس مین مجرم کے طور پر پیش نہیں کرسکتے
سیاسی اختلاف ہر شہری کا حق ہے، لیکن کسی ایسے شخص کو جس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ پارلیمنٹ، آئین اور جمہوری سیاست میں گزارا ہو، محض اس لیے نشانہ بنانا کہ اس نے طاقتور حلقوں سے سوال پوچھ لیاہے جمہوری روایت نہیں
یاد رکھین
سوال پوچھنے والا ہمیشہ غدار نہیں ہوتا اور سوال سے بھاگنے والا ہمیشہ حق پر نہیں ہوتا
گالی کبھی دلیل نہیں بنتی، ٹرولنگ کبھی سچ کو دفن نہیں کر سکتی اور تاریخ ہمیشہ شور مچانے والوں کی نہیں، کردار، استقامت اور اصولوں پر کھڑے رہنے والوں کی گواہی دیتی ہے
یاد رکہنا
مولانا محب وطن پاکستانی ہیں آپکے پیڈ ملازم آپکی نوکری تو کرسکتے ہین پاکستانی عوام کی دلوں سے نہین نکال سکتے۔