14/08/2022
کچھ لوگ رنجیت سنگھ کو اپنا ہیرو اور باپ مانتے ہیں جب کہ یہ وہی شخص ہے جس نے مساجد کے اندر گھوڑے بندے قرآن مجید کی بےحرمتی کی۔ اسکے دربار میں 150 سے زیادہ چھوٹی لڑکیاں جس کی عمر 13 سے 14 سال کے درمیان تھی سے روزانہ نہ صرف ڈانس کر وتے بلکہ یہ اور اس کے درباری اپنے جنسی خواہشات کے لئے بھی استعمال کرتے .
جس وقت ہندوستان میں مغلوں کی حکومت تیزی سے سمٹ رہی تھی افغانستان اوریران سے حملہ آور بڑی تیزی سے ہندوستان پر حملے کر رہے تھے۔تو پنجاب میں سکھوں نے بھی بڑی تیزی سے سر اُٹھانا شروع کر دیا اور سکھوں نے پنجاب کے 12علاقوں پر قبضہ کر لیا ان میں سے 5علاقوں میں زیادہ طاقتور تھے۔جہاں پر سکھوں کازیادہ زور تھا جوزیادہ تر سکر چکیاں،مثل راوی،اور دریائے چناب کے درمیانی علاقوں پر مشتمل تھے۔گوجرانوالہ اس کا صدر مقام تھا۔اور اسی علاقے پر بہت سارے افغان حملہ آور ہوئے۔ پھر لاہور اور امرتسرکو سکھوں نے اپنی طاقت کا محور بنایا۔
رنجیت سنگھ سکر چکیاں،مثل کے سربراہ مہان سنگھ اور اس کی بیوی راج کول کے ہاں 1780میں ایک بیٹا پیدا ہوا اُس کا نام بدھ سنگھ رکھ دیا گیا۔بچپن میں اس کو چیچک کی بیماری لگ گئی اور اس کی بائیں آنکھ چھن گئی اور چہرے پر بد نما گڑے پڑ گئے۔اس کا قد بھی چھوٹا تھا۔حروف تہجی کے علاوہ آگے کچھ نہ پڑھ سکا یہ نہ کچھ پڑھ سکتا تھا نہ کچھ لکھ سکتا تھا۔لیکن اس نے گھوڑ سواری اور تلوار چلانے کا ہنر 10سال میں ہی سیکھ لیا تھا۔اس نے اپنے والد کے ساتھ اپنے دشمنوں کے ساتھ پہلی لڑائی لڑی تو اُس وقت اُس کی عمر 10سال کی تھی اور اس کی بہادری کو دیکھتے ہوئے اس کا نام بدھ سنگھ سے رنجیت سنگھ رکھ دیا۔رنجیت سنگھ جب 12سال کا تھاتو اس کا والد وفات پا گیا۔تو اُس کے خاندان والوں نے رنجیت سنگھ کواپنا سردار مان لیا۔اور سرداری کی پگھ رنجیت سنگھ کے سر پہ رکھ دی اور 16 سال کی عمر میں اس کی جے سنگھ کی پوتی مہتاب کور سے شادی کر دی۔مہتاب کور اور رنجیت سنگھ کی شادی ناکام رہی۔
کیونکہ رنجیت سنگھ کے والد نے مہتاب کور کے والد کو قتل کیا تھا اور وہ اپنے باپ کے قاتل کے بیٹے کے ساتھ رہنا پسند نہیں کرتی تھی۔وہ اکثر اپنے ماں باپ کے گھر ہی رہتی تھی جب رنجیت کی عمر 18سال کی ہوئی تو رنجیت سنگھ کی ماں فوت ہوگئی۔ابھی ماں کو فو ت ہوئے چند دن ہی ہوئے تھے تو افغان حکمران شاہ زمان 30ہزار سپاہیوں کے ساتھ پنجاب پر حملہ آور ہواتو تمام سکھ سردار اور بہت سارے مسلم بھی خوفزدہ تھے کہ اس کا مقابلہ کیسے کیا جائے تو وہاں پر رنجیت سنگھ نے ایک فوج تیار کی اور امرتسر کے مقام پر مقابلہ ہوا، رنجیت سنگھ نے شاہ زمان کو بھاگنے پر مجبور کر دیا یہاں پر رنجیت سنگھ کی بہادری اور اُس کا خوف پورے پنجاب پر چھا گیا۔اس کے بعدرنجیت سنگھ مشرق میں فتح گڑھ،کوریا،بٹالہ،اور گرداس پور کو بھی مضبوط کرنے میں مصروف ہو گیا۔پھر اُنہوں نے قصور،اور رام گڑھ اور دریائے راوی اور دریائے چناب کے درمیانی علاقے جن میں ساہیوال اور اس کے گردونواح کے فتح کرنے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی خون کی ندیاں بہا دیں۔ اس کے بعد رنجیت سنگھ نے ساہیوال سے ہوتے ہوئے ملتان اور اس سے آگے تک تباہی مچاتے ہوئے اپنی حکومت کو وسیع کرلیا۔
پھر اس نے ایک ایک کرکے پنجاب کے علاقوں کو اپنے زیر اثر کر لیا اور 1799میں وہ یعنی صرف 19سال کی عمر میں پنجاب کا حکمران کہہ لیں یا گورنر کہہ لیں بن گیا۔اس نے کسرمیر سے لے کر ڈیرہ غازی خان تک اور ڈیرہ غازی سے لے کر خیبر پختونخوا تک اپنی سلطنت کو وسیع کر لیا۔ رنجیت سنگھ اور اُس کے ساتھیوں نے مسلمانوں کی زندگی اجیرن کرنا شروع کر دی۔ایک سکھ نے کتاب لکھی جس کا نام ترلوک سنگھ ہے اس نے اپنی کتاب میں یہاں تک لکھاکہ مسلمانوں کی عبادت گاہوں تک کو نہ چھوڑا جیسے یہاں تک کہ بادشاہی مسجد لاہور کے صحن میں گھوڑے اور خچر باندھے اور اس کے فوجی مسجد کی مسلسل بے حرمتی کرتے رہے۔اس نے مزید ایک جگہ لکھا کہ ایک عورت مہتاب بی بی زوجہ چراغ دین میرے پاس آئی اور کہا کہ میں ایک سکھ کے پاس گروی رکھی ہوئی ہوں کیونکہ ہمارے تمام گھروں اور زمینوں پر سکھوں کے قبضہ کر لیا ہے۔اور مجھے گروی رکھوا کر کھانے پینے کی اشیاء لی گئی ہیں۔اور گروی ہونے کی وجہ سے وہ جب چاہتا ہے میرے ساتھ آکر وقت گزرتا ہے۔1800کے بعد رنجیت سنگھ نے دوسرے سکھ سرداروں کی مدد سے مسلمان ریاستوں کو فتح کرنے کی ٹھان لی۔جو مسلمان ریاست اُسے نذرانہ دینے سے انکار کرتے تھے تو اُنہیں بے ترتیب،وحشی،اور فتح،کے نشے میں سرشار فوجیوں کے ہاتھوں سخت ذلت کا سامنا کرنا پڑتا۔مسلمان جو کئی سو سال اس خطے پر حکومت کر رہے تھے اُن کو اب ان کے ظلم کا سامنا کرنا پڑا۔
احمد خان رئیس جس کا تعلق جھنگ سے تھا رنجیت سنگھ نے اُسے شکست دی اور تمام شہر کو لُوٹ لیا۔اور وہاں کے لوگوں کو روٹی کے ٹکڑوں تک کا محتاج کر دیا۔ملتان میں نواب مظفر خان اور اُس کے بیٹوں نے ملتان میں اس کا بہادری سے مقابلہ کیا مگر وہ بھی اس کے آگے بے بس ہو گئے تھے۔500گھروں کو زمین بوس کر دیا گیا باقی گھروں کو آگ لگا دی۔شریف عورتوں نے اپنی عزت بچانے کے لیے کنوؤں میں چھلانگ لگا کر اپنی جان دے دی۔قصور میں جب حملہ کیا تو قصور کی خواتین کو ننگے سر ننگے بدن لائنوں میں کھڑا کیا وہ حیا دار عورتیں جن کو کبھی کسی مر د نے نہیں دیکھا تھا۔رنجیت سنگھ کے سپاہیوں کو جو لڑکیاں پسند آئیں اُن کو ساتھ لے گئے اور باقی جو رہ گئیں اُنہوں نے پھانسی لے لی۔
بہادر کنہیا لال نے اپنی کتاب تاریخ لاہور میں لکھا جب رنجیت سنگھ نے لاہور پر قضہ کیا تو بادشا ہی مسجد سے قیمتی سازو سامان،فانوس، او ر عمارتوں سے قیمتی پتھر چُرائے اُس نے لاہور مستی دروازے کی مسجد کو باروت(بارود) سے بھر دیا جو بعد میں بارود والی مسجد کے نام سے مشہور ہو گئی۔پھر اس نے اپنی کتاب کے صفحہ نمبر150 سے 156 تک میں لکھا ہے کہ مسجدوں کو گرانا سکھوں کے نزدیک کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ اس نے تمام کی تفصیل بھی لکھی ہے مساجد کو شہید کر کے عام عمارتوں کی شکل دے دی۔ وہ مسلمانوں کو حقیر نظر سے دیکھتا تھا۔مزید وہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ اس نے لاہور میں مسلم نوجوانوں کا قتل عام کیا اور جو بچ گئے ان کو اپنا غلام بنا لیا۔جو مساجد بچ گئی تھیں ان میں مسلمانوں کو اکٹھے ہو کر نماز پڑھنے کی اجازت نہ تھی۔نہ وہ مسجد میں اذان دے سکتے تھے۔اس نے مغل شہزادیوں کی قبروں کی بے حرمتی کی۔
ایک اور مصنف پتونت سنگھ نے اپنی کتاب رنجیت سنگھ میں لکھا ہے کہ رنجیت سنگھ اپنی زندگی بھر پور طریقے سے لطف اندوز ہوتا تھا۔اس کے دربار کی شان ہی نرالی تھی اس کی 20بیویاں تھیں۔رنجیت سنگھ کے دربار میں فرصت کے اوقات میں رقص و سرور کی محفلیں سجتی تھیں۔رنجیت سنگھ جب ایسی محفلوں میں آتا تو پسے ہوئے سُچے موتی اور کشمش سے کشیدہ کی گئی شراب پیتا 100سے125کے درمیان نوجوان لڑکیاں اس کے سامنے رقص کرتی تھیں ان کی عمر 18سے 25سال سے زیادہ نہ ہوتی تھی اور جو لڑکی رنجیت سنگھ کو پسند آجاتی تھی وہ اُس کو وہاں روک لیتا۔پتونت سنگھ مزید لکھتا ہے کہ رنجیت سنگھ کو اچھے نسلی گھوڑوں کے ساتھ ساتھ شراب اور خوبصورت عورتوں کی ہمیشہ چاہت رہتی تھی۔وہ لوگ جو رنجیت سنگھ کو شیر پنجاب کہتے ہیں وہ سکھوں کا تو شیر ہوسکتا ہے مگر مسلمانوں کا نہیں اُن کو شرم آنی چاہیے جو رنجیت سنگھ کی تعریف میں لکھتے ہیں اُنہیں پہلے تاریخ کا مطالعہ کر لینا چاہیے۔ اور اس کے مجسمے کو شاہی قلعہ سے ننکانہ صاحب کے گردوارے میں شفٹ کر دیا جائے تو بہتر ہوگا۔
Ranjit Singh
Ranjit Singh converted badshahi mosque in to horse stable.
moti masjid was converted into Moti mandir.
And sonehri mosque were converted into Sikh gurdwara
Begum shahi mosque was also used as gunpowder factory
Ranjit Singh introduce feudalist system by this the life of ordinary peasant and poor people become more miserable.
He was more friend toward British. British give him add and guns against those who fight against British.
whole of his regime was in war people used to rebel against him a lot.
He raised tax on everyone whether Hindu Muslim or Sikh.
he brutally killed all of those who stand against his cruelty or Briths.
instead of fighting with British he was more friend to them and do what they tell or ask him. he gave them full freedom of trade without tax and he also killed with the help of British those who stand against British.
Sikh occupation of Samana in 1709, the Sikh army participated in a massacre of the city's residents. Ten thousand unarmed Muslim men and women were slain. Following the Siege of Sirhind, Banda Singh Bahadur ordered that all men, women and children be executed. All residents of Sirhind, whether they were men, women or children were all burned alive or slain. In December 1757, Sikhs pillaged the Doab and the city of Jullunder. During this pillaging, "Children were put to the sword, women were dragged out and forcibly converted to Sikhism" and Mosques were defiled by pigs blood.The body of Nassir Ali was dug out by Sikhs and flesh was thrust into it.
Ranjit Singh went to Peshawar and pillaged the city, cut down trees for which the city was famous, burnt the palace of Bala Hissar and its mosque was defiled.
He raised the tax on Muslims, demolished the Jama Masjid of Srinagar and prohibited the cow slaughter. The punishment for cow slaughter was the death penalty without any exception. He abducted all the Pashtun and Uzbek women and infamously sold them into Hira Mandi, a very popular market in Lahore(Sikh Empire Capital).
Ranjit Singh, being fond of dance and music, kept 150 dancing girls, mostly from Kashmir and the Punjab hills. The girls were in the age group of 12 to 18. Alot of them committed sati with him they were forced.
General Ventura, one of the foreign commanders of Ranjit Singh’s army, too kept 50 dancing girls!. (a lot of them were abducted)
Ranjit Singh’s quest for the best went beyond acquiring women. His desire for owning the best drove him to unacceptable behaviour with the once deposed, and soon to be Saddozai Amir of Afghanistan, Shah Shuja-ul-Mulk, for example. He first invited the amir to Lahore in 1813 as his guest, then kept him and his family and entourage under house arrest, and released him only after he had been forced to give up what Ranjit Singh wanted, the famous Kohinoor diamond — a flawless egg-shaped diamond, an inch and a half long, an inch wide with a half-inch depth, valued… in 1838 at Rs 4.5 crore.
He attacked his own Barakzai governor at Peshawar, Yar Mohammad, in 1829 when he refused to sell him a beautiful Persian horse, Liali..
After his defeat and death, the horse, hidden elsewhere, was not found. He then made Sultan Mohammad Khan, the younger brother of the deposed governor, the ruler of Peshawar and demanded that Liali be found and given to him. After much hesitation Liali was finally “presented” to Ranjit Singh and carried in triumph to Lahore by Sher Singh and General Allard. Baron Von Hugel says that ‘He (Ranjit Singh) spent Rs 60 lakh and the lives of 12,000 soldiers to get this horse’. This was the cost of the campaign.
He killed 12000 soldiers just for horse.
in 1835 the time when poverty was very high people were die for hunger he donated 1 tone of gold for plating the Kashi vishwanat temple dome..
References.
1.Extracted from The Last Sunset: The Rise & Fall of the Lahore Durbar, by Amarinder Singh
2.Referncs Sunit Singh (2014). Pashaura Singh and Louis E. Fenech (ed.). The Oxford Handbook of Sikh Studies. Oxford University Press. pp. 62–65. ISBN 978-0-19-100411-7.
3.Latif, Syad Muhammad (1892). Lahore: Its History, Architectural Remains and Antiquities. Printed at the New Imperial Press. pp. 221–223, 339..
4. Amin, Mohamed; Willetts, Duncan; Farrow, Brendan (1988). Lahore. Ferozsons. p. 95. ISBN 9789690006943.
5.Latif, Syad Muhammad (1892). Lahore: Its History, Architectural Remains and Antiquities. Printed at the New Imperial Press. p. 125.
6.Sidhwa, Bapsi (2005). City of Sin and Splendour: Writings on Lahore. Penguin Books. ISBN 9780143031666. Retrieved 7 January 2017., Quote: In Lahore, just as he had grasped its historic citadel and put it to his own hardy use or desecrated the Badshahi Mosque and converted it into a functional ammuniation store.
7.Sir Walter Roper (1895). The Valley of Kashmir. ISBN 978-8120616301..
8.Joshi-Ford, Sunita (11 July 2008). ISBN 978-1606931615.
9.Full text of "Gulab Singh 1792 1858". [Archive.org.](http://archive.org/?fbclid=IwAR2efo7E4WzyD35tqbTkW-1aG170FIG69JrgHsfrUWndICg_uJQQN49Y908) Martin