20/07/2026
جیل اچھی کس سیاسی نے کاٹی آگے کیا ہونے جارہا خان اور نواز شریف کے بارے بڑے انکشافات
ویڈیو پوڈ کاسٹ کی مکمل تحریر
ارشاد بھٹی:
جیل میں عمران خان ہیں، آج کل۔ کیا آپ کو یقین تھا کہ عمران خان اتنی بہادری اور ہمت سے جیل کاٹ لے گا؟
حامد میر:
نہیں، مجھے یقین نہیں تھا کہ عمران خان اتنی بہادری سے جیل کاٹے گا۔
تو اس کی وجہ یہ تھی کہ جب پہلے وہ مشرف دور میں گرفتار ہوئے تھے اور ڈی جی خان جیل میں گئے تھے، تو مجھے بہت سے لوگوں نے بہت سی کہانیاں سنائیں کہ یہ ہو گیا، وہ ہو گیا۔ اس کے بعد جس طرح عمران خان بطور وزیراعظم انٹیلی جنس ایجنسیوں کے بہت قریب تھے، حتیٰ کہ وہ اپنے ایم این ایز کو بھی آئی ایس آئی کے ذریعے کنٹرول کرتے تھے، تو مجھے لگتا تھا کہ یہ ان کی وقتی لڑائی ہے، بہت جلد ان کی صلح ہو جائے گی۔
جس طرح نواز شریف نے کمپرومائز کر لیا اور باہر چلے گئے، ویسے ہی عمران خان کا بھی کوئی نہ کوئی کمپرومائز ہو جائے گا۔ لیکن میری توقع کے برعکس عمران خان کو بار بار پیشکش کی گئی، مگر انہوں نے کوئی کمپرومائز نہیں کیا۔ یہ بات آپ کو ماننا پڑے گی، بھٹی صاحب، کہ انہوں نے جیل بڑی بہادری سے کاٹی ہے۔
ارشاد بھٹی:
آپ کا ویسے کیا خیال ہے؟
حامد میر:
نہیں، اس میں کوئی شک نہیں، عمران خان نے واقعی کمال ہمت سے جیل کاٹی ہے۔
ارشاد بھٹی:
ویسے جیل میں آپ کو بہت سارے لوگ ملے، اور جیل میں جا کر آپ کو... حامد میر، ضرور یاد آتا ہو گا۔ دو ایک دوسرے سیاستدان ایسے بھی تھے جو ٹوٹ گئے، رو پڑے؟
حامد میر:
دیکھیں، میں آپ کو بتا دیتا ہوں۔ کوٹ لکھپت جیل لاہور، اڈیالہ جیل راولپنڈی اور اٹک جیل میں بہت سے سیاست دانوں سے جا کر ملا ہوں۔ جن سیاست دانوں نے بڑے حوصلے کے ساتھ جیل کاٹی، ان میں سب سے آگے آصف زرداری، پھر شہباز شریف، پھر جاوید ہاشمی اور یوسف رضا گیلانی ہیں۔
نواز شریف صاحب کو میں جیل میں مل نہیں سکا۔ میں نے کوشش کی، لیکن میری کوشش کامیاب نہیں ہوئی، اس لیے میں ان کے بارے میں کچھ نہیں کہتا۔ البتہ مریم نواز نے بھی بڑی ہمت کے ساتھ جیل کاٹی، اور حنیف عباسی صاحب... آپ کو یاد ہو گا، رات کو پونے بارہ بجے میرا اور آپ کا اسی موضوع پر پروگرام بھی ہوا تھا۔
حامد میر:
ہاں، پھر کیمپ جیل لاہور میں میں جا کر سعد رفیق صاحب، خواجہ سلمان رفیق اور دوسرے لوگوں سے بھی ملتا رہا۔ میں بہت سے سیاست دانوں سے جیل میں ملا ہوں۔
دو سیاست دان ایسے تھے، ایک بہت بڑا نام تھا، جو اب اس دنیا میں نہیں رہے، اور ایک ابھی تک اس دنیا میں موجود ہیں۔ انہوں نے جیل اتنی ہمت سے نہیں کاٹی۔ وہ مسلسل ڈیل کرنے کی کوشش کرتے رہے، اور آخرکار ڈیل کر کے باہر آ گئے۔ میں ان کا نام نہیں لیتا، چھوڑ دیں۔
ارشاد بھٹی:
ہاں، مجھے پتا ہے، لیکن آپ نہیں لیتے تو ٹھیک ہے۔ اچھا، عمران خان واپس اقتدار میں آتے دکھائی دے رہے ہیں۔
حامد میر:
اگر عمران خان دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں، تو آپ بھی دعا کریں اور میں بھی دعا کرتا ہوں کہ دوبارہ ان سے میرا میچ نہ پڑے۔
کیونکہ پہلے جب وہ اقتدار میں آئے تھے تو ان کے ساتھ ہمارا میچ پڑ گیا تھا، اور ہم ان کے خلاف سڑکوں پر آ گئے تھے، ہم پر پابندیاں بھی لگ گئیں۔
اب اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو اللہ کرے ہمارا ان کے ساتھ دوبارہ میچ نہ پڑے۔ لیکن جو کچھ آج کل ہو رہا ہے، اگر انہوں نے بھی یہی کچھ کیا تو پھر میچ تو پڑے گا۔
ارشاد بھٹی:
سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کیوں نہیں پنپ سکی؟ کیوں نہیں آگے بڑھ سکی؟
حامد میر:
اس لیے کہ فوجی ڈکٹیٹر اور اس ملک کی خودسر انٹیلی جنس ایجنسیاں بڑی مکاری اور عیاری کے ساتھ سیاسی جماعتوں کو اندر سے توڑتی ہیں، ان میں فارورڈ بلاک بنواتی ہیں۔
جن سیاسی جماعتوں میں جمہوریت ہوتی ہے، انہیں بھی نہیں بخشا جاتا، اور جن میں جمہوریت نہیں ہوتی، انہیں بھی نہیں بخشا جاتا۔
اگر آپ نے ساری کہانی پڑھنی ہے تو اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھیں۔ اس سے آپ کو معلوم ہوگا کہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں نیشنل انٹرسٹ کے نام پر کس طرح آئین توڑتی رہی ہیں، سیاست دانوں میں پیسے تقسیم کرتی رہی ہیں، انہیں ایک دوسرے سے لڑاتی رہی ہیں، اور پھر جب وہ آپس میں لڑتے ہیں تو میڈیا میں اپنے خاص لوگوں کے ذریعے ان کا تماشا بھی لگواتی ہیں۔
ارشاد بھٹی:
کئی دفعہ میں نے آپ سے سوال پوچھا کہ عہدوں کی بھی آفر ہوئی، پلاٹ کی بھی آفر ہوئی، آپ نے نہ عہدہ لیا نہ پلاٹ۔
تو یہ دودھ پیتے بچے ہیں، چوسنی منہ میں ڈالی ہوئی ہے کہ ان کو کوئی آتا ہے، ہاتھ پکڑ کر بھٹکا کے لے جاتا ہے، پھر واپس آ جاتے ہیں؟ ان کا قصور نہیں ہے؟
حامد میر:
اچھا، طعن ہمارا ہے؟ آپ نے سوال بھی اچھا کیا ہے۔ میں آپ کی ساری باتوں سے اتفاق کرتا ہوں، لیکن یہ جو آپ نے دودھ پیتے بچے سمجھے ہوئے ہیں، تو ایک مثال ابھی پیدا ہو گئی ہے جسے میں پیش کر سکتا ہوں۔
ارشاد بھٹی:
کر دیں۔
حامد میر:
عمران خان کے پاس بھی بار بار گئے نا، ڈیل لے کر گئے نا؟
ارشاد بھٹی:
ہاں۔
حامد میر:
تو انہوں نے ڈیل نہیں کی، انکار کر دیا نا؟
ارشاد بھٹی:
ہاں۔
حامد میر:
تو کم از کم آج کے دن ہمارے پاس ایک مثال تو موجود ہے کہ جس سے آپ لاکھ اختلاف کریں، لیکن اس نے ڈیل نہیں کی۔ یہ ایک اچھی مثال ہے۔
ارشاد بھٹی:
کل کا مجھے نہیں پتا، میں آج کی بات کر رہا ہوں۔ کم از کم آج تو ایک مثال بن گئی ہے۔
اچھا، آپ نے اصغر خان کیس کا حوالہ دیا۔ اس میں پیسے لینے والوں میں نواز شریف صاحب کا بھی نام ہے، جاوید ہاشمی صاحب کا بھی نام ہے، شہباز شریف کا بھی نام ہے؟
حامد میر:
نہیں، شہباز شریف کا نام نہیں ہے۔ اس وقت کے تقریباً تمام بڑے سیاست دانوں کے نام آئے تھے، جن میں جتوئی صاحب، الطاف حسین صاحب اور دوسرے لوگ بھی شامل تھے۔
ارشاد بھٹی:
تو بچے تو نہیں تھے نا، پھر قصور تو ان کا ہی تھا؟
حامد میر:
ہاں، قصور ان کا بھی تھا۔
ارشاد بھٹی:
اچھا، چھوٹے چھوٹے سوال...
قاضی فائز عیسیٰ کا خیال آتے ہی پہلا فقرہ یا پہلا خیال کیا آتا ہے؟
حامد میر:
کوئی تبصرہ نہیں۔
ارشاد بھٹی:
آصف زرداری؟
حامد میر:
اللہ ان کو صحت دے۔
ارشاد بھٹی:
بلاول بھٹو؟
حامد میر:
ہوپ فار دی بیسٹ۔
ارشاد بھٹی:
مریم نواز؟
حامد میر:
ڈس اپائنٹمنٹ۔
ارشاد بھٹی:
نواز شریف؟
حامد میر:
ڈس اپائنٹمنٹ۔
ارشاد بھٹی:
شہباز شریف؟
حامد میر:
بِگ ڈس اپائنٹمنٹ۔
ارشاد بھٹی:
مولانا فضل الرحمان؟
حامد میر:
مولانا جو بھی ہیں، اللہ تعالیٰ ان پر کرم کرے۔
ارشاد بھٹی:
عمران خان؟
حامد میر:
اَن ایکسپیکٹڈ۔
ارشاد بھٹی:
سکندر سلطان راجہ؟
حامد میر:
یار، کسی اور بندے کا نام لے یار، کیا کرنا ہے۔
ارشاد بھٹی:
تھینک یو۔
حامد میر:
نہیں، نہیں، بس ادھر ہی انٹرویو ختم۔
ارشاد بھٹی:
نہیں، نہیں، یہ آپ نے کہاں کی بات کہاں...
حامد میر:
میں معذرت چاہتا ہوں، اس پر انٹرویو ختم۔
ارشاد بھٹی:
نہیں، پلیز سر، پلیز۔
حامد میر:
نہیں، نہیں، پلیز، میرے لیے اس سوال کو چھوڑ دیں۔
ارشاد بھٹی:
اچھا، زندگی کا کوئی مایوس کن لمحہ؟ کوئی ایسا لمحہ جسے آپ ڈپریشن، فرسٹریشن یا شدید مایوسی کا لمحہ سمجھتے ہوں؟
حامد میر:
ماضی قریب میں کافی ایسے واقعات ہوئے جن میں مجھے بہت مایوسی ہوئی۔ جب پاکستان کے خلاف سازشوں میں اپنے ہی لوگ ملوث نظر آتے ہیں تو بہت مایوسی ہوتی ہے۔
ارشاد بھٹی:
زندگی کا سب سے بڑا دکھ؟
حامد میر:
والدہ کی وفات۔
ارشاد بھٹی:
زندگی کا سب سے فخر کا لمحہ؟
حامد میر:
جب پرویز مشرف نے مجھے آرمی ہاؤس میں طلب کیا...