Qari Tahir Ali

Qari Tahir Ali *📖 Learn Quran Online with Al-Mustafa*
Nazra • Hifz • Tajweed
✔️ One-on-one classes
✔️ Flexible timing
✔️ Experienced Quran teacher

15/08/2026
05/08/2026

خیبرپختونخوا میں کل سات صوبے ہونگے۔

04/08/2026

بچوں سے مطالعہ سنتے ہوئے

03/08/2026

Rat kakhana

02/08/2026

رات کا کھانا

قدیم و جدید مذاہب اور انسانی افکار کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات بڑی وضاحت سے سامنے آتی ہے کہ سلبِ حیات، زُہدِ شدید اور غ...
31/07/2026

قدیم و جدید مذاہب اور انسانی افکار کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات بڑی وضاحت سے سامنے آتی ہے کہ سلبِ حیات، زُہدِ شدید اور غیر فطری ریاضتوں اور مشقتوں کا تصور تقریباً ہر مذہب کے اندر باطنی تحریک کا ایک مشترکہ دھاگہ رہا ہے۔ جب بھی انسان خالق و مخلوق اور اپنی تخلیق کے مقصد کو سمجھنے میں کنفیوز ہوا تو اس نے اکثر مادی وجود اور فطری ضروریات کو ہی روحانی ترقی کی راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھا۔ اسی بنیادی مغالطے سے وہ افراط و تفریط جنم لیتی ہے جس نے آگے چل کر راہبانہ مشقتوں، خانقاہی نظام اور بعد میں شخصیات کی اندھی عقیدت یعنی پیر پرستی کو جنم دے دیا۔

اس سوچ کی آبیاری فلسفیانہ اور مذہبی تاریخ میں قدیم یونانی مفکرین کے افکار سے ہوئی۔ فیثاغورث نے روح اور مادے کی ثنویت کا تصور پیش کیا، جس کا مقصد روح کو مادی کثافتوں سے آزاد کر کے روحِ کل میں ضم کرنا تھا۔ افلاطون نے عالمِ امثال کا نظریہ دے کر اس مادی دنیا کو محض فریبِ نظر قرار دے دیا۔ ان ہی فلسفیانہ مفروضات نے ہندو ویدانت، بھگتی تحریکوں اور سنیاس آشرم پر گہرا اثر ڈالا۔

ہندو ویدانت کی رو سے جب دنیا اور مادی وجود کو مایا یعنی فریب مان لیا گیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ انسان دنیاوی تعلقات اور فطری ضروریات کو یکسر ترک کر کے جنگلوں، غاروں اور بیابانوں کا رخ کرے۔ یہی سوچ یوگ کی شدید ترین شکلوں میں سامنے آئی، جہاں جسم کو ناقابلِ برداشت اذیتیں دے کر، سالہا سال ایک ہی حالت میں کھڑے رہنے کی منتیں مان کر، یا بازو کو لکڑی پر رکھ کر سکھا دینے جیسے غیر انسانی افعال کے ذریعے روحانی برتری ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اس غیر فطری تپسیا اور توہم پرستی کی ایک نمایاں مثال محترم یاسر جواد نے گزشتہ روز اپنے ایک مضمون میں دی ہے، جہاں انہوں نے ”کھڑے شری“ کہلانے والے ایک سادھو کا ذکر کیا جس نے بارہ سال تک مسلسل کھڑے رہنے کی منت مان کر اپنے جسم کو مسلسل اذیت میں مبتلا کر رکھا۔

دنیاوی تعلیم اور آسائشوں کو اچانک چھوڑ کر خدا یا شیو کے درشن کے نام پر ایسی شدید بھگتی اختیار کی جاتی ہے کہ انسان خود کو نڈھال کرتے کرتے حالتِ وجد یا ذہنی اختلال تک پہنچ جاتا ہے۔ اس غیر فطری مشقت کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ سادھو یا سنت کے پاؤں سوج کر بری طرح زخمی ہو جاتے ہیں اور وہ سوتے وقت بھی جھولے کا سہارا لے کر اپنا بالائی دھڑ ٹکانے پر مجبور ہوتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اسی بدحال اور سوجے ہوئے پاؤں کو لوگ عقیدت سے چھوتے ہیں، مرہم لگاتے ہیں اور پوجتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ توہم پرستی اور ضعیف الاعتقادی جب منظم شکل اختیار کر لیتی ہے تو ایک مذہبی کلٹ کی صورت دھار لیتی ہے۔

یہ طرزِ فکر صرف مشرکانہ یا فلسفیانہ مذاہب تک محدود نہیں رہا۔ جب عیسائیت اور یہودیت میں تحریف اور زوال کا دور آیا تو وہاں بھی خانقاہیت اور راہبانہ زہد و ریاضت نے اپنے قدم جما لیے۔

چوتھی صدی عیسوی کے بعد عیسائیت میں دنیا کو ترک کرنے اور غاروں و خانقاہوں میں الگ تھلگ رہنے کا جو رجحان اٹھا، اس میں عبادت کے نام پر شدید جسمانی اذیتوں کو قربِ الٰہی کا ذریعہ سمجھا جانے لگا۔ لوہے کی میخوں پر لیٹنا، جسم کو آگ پر تپانا، مہینوں غیر فطری نشستوں میں پڑے رہنا اور ظاہری حواس کو یکسر معطل کر دینا روحانیت کی معراج شمار ہونے لگا۔

تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ جو نظام بھی انسانی فطرت سے تصادم اختیار کرتا ہے، وہ بالآخر شدید انحطاط اور بگاڑ کا شکار ہو جاتا ہے۔ جسم کو اذیت دینے اور دنیا کو ناپاک سمجھنے کے اس غیر فطری رویے نے آگے چل کر خود خانقاہوں کو اخلاقی زوال اور شہوت پرستی کے مراکز میں بدل دیا۔ جب فطری ضروریات کو دبانے کی کوشش کی گئی تو وہی دباؤ چھپے ہوئے اخلاقی انحطاط کی شکل اختیار کر گیا۔

اس تمام مشقت اور ریاضت کا ایک اور اندوہناک پہلو یہ ہے کہ خدا سے براہِ راست اور فطری تعلق قائم کرنے کے بجائے انسانی وساطتوں، تبرکات کی تجارتی خریدو فروخت، اور شخصیت پرستی یعنی پیر پرستی کو فروغ ملا۔ چھٹی صدی عیسوی اور اس کے بعد عیسائی اور دیگر مذہبی طبقوں میں بزرگوں کی ہڈیوں، مٹی اور قبروں کو بابرکت سمجھنے کی تجارتی دکانداری شروع ہو گئی۔ ہر بیماری، حاجت اور مصیبت کے لیے الگ الگ اولیاء اور راہبوں کو پکارا جانے لگا، جس کے نتیجے میں عوام میں توہم پرستی، کہانت اور جعلی روحانیت کا بازار گرم ہو گیا۔

بدقسمتی سے اسلام کے نام لیوا صوفیاء اور باطنی مفکرین نے بھی قرآن کے واضح تعلیمات کے برعکس ان ہی غیر اسلامی تصورات اور قدیم افکار کو اپنے ہاں ڈھال لیا۔ مادی دنیا کو بیمارستان، مذبح یا نجس مردار قرار دینا، اور نفس کو مار ڈالنے کے نعرے لگانا دراصل ویدانت اور مسیحی خانقاہیت ہی کا مستعار لیا ہوا عکس ہے۔

قرآنِ کریم نے انسانی جسم اور مادی دنیا کی آرائش و آسائش کو حدِ اعتدال اور شرعی قوانین کے اندر رہتے ہوئے پاکیزہ نعمت قرار دیا تھا، لیکن ان ہی باطنی اثرات کے تحت ترکِ دنیا اور شدید ریاضتوں کو ہی اصل دین سمجھ لیا گیا۔

حقیقت یہ ہے کہ سالہا سال آرام نہ کرنے اور کھڑے رہنے کی قسمیں کھانا، جسم کو زخمی کرنا، اور خانقاہوں یا غاروں میں بیٹھ کر خود کو اذیتیں دے دینا کسی طور پر بھی الٰہی نظام کا حصہ نہیں۔ قانونِ فطرت توازن، اعتدال اور زندگی کے عملی میدان میں الٰہی حدود کی پاسداری کا تقاضا کرتا ہے۔ شدید جسمانی مشقتیں، پیر پرستی اور توہم پرستی کے یہ تمام سلسلے ایک دوسرے سے متاثر ہو کر اور مختلف تہذیبوں کے جنگلات سے افکار مستعار لے کر ہی وجود میں آئے ہیں، اور یہ تمام راستے انسان کو حقیقی ربانی ہدایت سے دور کر کے غیر فطری قید میں دھکیل دیتے ہیں۔

ویسے عجیب لگتا ہے مجھے بھی کہ کل ہی مجھے سرٹیفکیٹ ملا ہے قادری سلسلے کا اور میں آج یہ سب لکھنے لگا ہوں۔ مضمون آج نہیں پہلے کی لکھی ہوئی ہے۔

تحریر از : اسماعیل حسنی عطاری قادری رضوی وغیرہ وغیرہ

30/07/2026

I got over 1,000 reactions on my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qari Tahir Ali posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Qari Tahir Ali:

Shortcuts

Share