14/05/2026
دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی
کبھی کبھار سوچتا ہوں کہ پچھلے چند دہائیوں سے جو کچھ ہمارے ساتھ ہو رہا ہے،ہم صحیح معنوں میں اسی رویے کے حقدار ہیں۔میں جب بھی اپنے لوگوں سے تاریخ کے حوالے سے بات چیت کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو ایک ہی چیز سننے کو ملتی ہے کہ ہم جنگجو قوم ہیں،اسلحہ ہماری زینت ہے اور دشمنی ہماری پہچان۔بچوں سے لیکر بڑوں تک ہر بندہ ایک ہی رٹ لگائے بیٹھا ہے کہ ہم نے بڑی بڑی سلطنتوں کو مات دی ہے۔ہم ہر بار ہر وار اپنے سینوں پر کھاتے ہیں اور کبھی پیٹھ نہیں دکھاتے
اپنی تاریخ سے واقف ہونا بےشک ایک اچھی اور قابل ستائش بات ہے لیکن اس سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہم نے اپنی تاریخ سے کیا سیکھا؟کیا ہم نے وہ خامیاں دور کرنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے ہم نے مات کھائی؟کیا ہم اکیسویں صدی کی سیاست کیلئے تیار ہیں؟کیا ہم اپنے بچوں کو وہ چیزیں سکھا رہے ہیں جن کی آج ضرورت ہے؟یقینا ان سوالوں کے جوابات کسی کے پاس نہیں ہیں اور ہوںگے بھی کیسے ہم تو جنگجو ہیں بھئی
ہماری بدقسمتی کہہ لیجئے کہ دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں نے طاقت کے مظاہرے کیلئے جو میدان چنا وہ ہمارا وطن ہے اور اس کے مواقع ہم نے خود دیے ۔ اب آپ پوچھیں گے کہ بھلا کیسے؟اسی کام کیلئے تو میں بیٹھا ہوا ہوں ۔
بیت اللہ محسود سے لیکر ملا فضل اللہ تک سارے پشتون ہیں۔جن گروہوں سے میں واقف ہوں وہ بھی سارے کے سارے پشتون ہیں۔ہمارے علاقوں میں خودکش حملہ کرنے پنجابی نہیں اتے۔یہ مرنے مارنے کا کیڑا صرف ہمیں کاٹتا ہے۔ستم ظریفی تو یہ ہے کہ اپنے خیالات کا اظہار بھی نہیں کر سکتے ۔ بڑوں کے بارے میں سچ بولیں تو وہ ناراض ہو جاتے ہیں۔ چھوٹوں کے ساتھ چھیڑ خوانی کریں تو وہ ناراض ہو جاتے ہیں۔
میری لکھائی بے ترتیب ہے،میں اپنے خیالات کا اظہار نہیں کر پا رہا بس آپ سب سے التماس ہے کہ اپنے بچوں کو بندوق اور جنگ دونوں سے دور رکھیں۔تعلیم پہ توجہ دیں۔ہماری حالت بدلنے ریاست کبھی نہیں آئیگی ۔ہم نے اپنی حالت خود بدلنی ہے۔اپنی ناکامیوں کا محور کہیں اور ڈھونڈنے کی بجائے اپنے اوپر نظر ڈالنی ہوگی تب جاکہ بہتری آئیگی ۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا