Syco Ali

Syco Ali Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Syco Ali, Grocers, Khushab, Jauharabad.

یہ واقعہ ہمارے بچپن کے ایک قریبی گاؤں کا ہے جہاں ایک صاحب تھے جنہیں ہر وقت بھوک لگی رہتی تھی۔ ان کی بھوک کا یہ عالم تھا ...
03/02/2026

یہ واقعہ ہمارے بچپن کے ایک قریبی گاؤں کا ہے جہاں ایک صاحب تھے جنہیں ہر وقت بھوک لگی رہتی تھی۔ ان کی بھوک کا یہ عالم تھا کہ محلے میں کسی کے ہاں بھی دیگ چڑھتی تو وہ سب سے پہلے وہاں پہنچ جاتے۔ لوگ انہیں پیار سے پیٹو خان کہتے تھے۔
ایک بار گاؤں میں افواہ اڑ گئی کہ پیٹو خان کا انتقال ہو گیا ہے۔ اصل میں ہوا یہ تھا کہ وہ بہت زیادہ کھانا کھا کر گہری نیند سو گئے تھے اور گھر والوں کو لگا کہ ان کی سانس رک گئی ہے۔ خیر، گاؤں میں صفِ ماتم بچھ گئی، نہلانے دھلانے کا انتظام ہونے لگا۔
اتفاق سے اس دن گاؤں کے نمبردار کے ہاں ایک بڑی دعوت تھی جہاں کڑاہی گوشت اور دیسی گھی کا حلوہ تیار ہو رہا تھا۔ پیٹو خان کو جب تختے پر لٹایا گیا تو ٹھنڈے پانی کی بالٹی ان پر پڑتے ہی ان کی آنکھ کھل گئی۔ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ چاروں طرف لوگ رو رہے ہیں اور مولوی صاحب دعا کروا رہے ہیں، تو وہ ڈر کے مارے خاموش لیٹے رہے کہ اگر اب اٹھا تو لوگ جن سمجھ کر مار ڈالیں گے۔
نمازِ جنازہ کے بعد انہیں قبرستان لے جایا گیا۔ تدفین میں تھوڑی دیر تھی کیونکہ قبر کھودی جا رہی تھی۔ اتنے میں نمبردار کا ملازم وہاں پہنچا اور دوسرے ملازم سے کہنے لگا کہ یار جلدی کرو، وہاں حلوہ ٹھنڈا ہو رہا ہے اور بوٹیاں بھی ختم ہو رہی ہیں، تدفین کے بعد سب نے وہیں جانا ہے۔
حلوے کا نام سنتے ہی پیٹو خان کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگے۔ انہوں نے سوچا کہ قبر میں جا کر مٹی کھانے سے بہتر ہے کہ ایک بار ذلیل ہو لوں لیکن حلوہ ہاتھ سے نہ جانے دوں۔
ابھی لوگ قبر تیار کر کے میت اٹھانے ہی والے تھے کہ اچانک پیٹو خان کفن سمیت اٹھ کر بیٹھ گئے اور غصے سے بولے:
اوئے نمبردار کے نوکر! حلوے میں میوہ ڈالا ہے یا صرف چینی سے ہی کام چلایا ہے؟
بس یہ سننا تھا کہ قبرستان میں ایک قیامت برپا ہو گئی۔ مولوی صاحب کا مصلہ وہیں رہ گیا اور وہ اپنی پگڑی سنبھالتے ہوئے ایسی چھلانگ ماری کہ سیدھا نالے کے پار جا گرے۔ جنازہ اٹھانے والے کندھے چھوڑ کر بھاگے تو میت (یعنی پیٹو خان) دھڑام سے نیچے گرے۔
لوگوں کو لگا کہ مردہ بھوت بن کر حساب مانگنے اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ کوئی قبر میں گر رہا تھا تو کوئی جھاڑیوں میں پھنس کر چیخ رہا تھا۔ پیٹو خان اسی حال میں کفن لپیٹے ان کے پیچھے بھاگے اور چلاتے رہے:
اوئے رکو تو سہی! میں تو صرف حلوے کا پوچھ رہا ہوں، مجھے بھی ساتھ لے چلو!
وہ جتنا تیز بھاگتے، لوگ اتنی ہی لمبی چھلانگیں ما

*حرام کھانے والے کا ایک عبرت ناک انجام*علامہ ابنِ حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:میں نے ایک شخص کو دیکھا جس کا ہاتھ کندھے...
03/02/2026

*حرام کھانے والے کا ایک عبرت ناک انجام*

علامہ ابنِ حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

میں نے ایک شخص کو دیکھا جس کا ہاتھ کندھے سے کٹا ہوا تھا۔ وہ لوگوں کے درمیان کھڑا چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا:

“مجھے دیکھ کر عبرت حاصل کرو، اور کسی پر کبھی ظلم نہ کرو!”

میں نے آگے بڑھ کر اس سے پوچھا: بھائی! تمہارے ساتھ یہ کیا ہوا؟

وہ بولا: میرا قصہ بڑا عجیب اور سبق آموز ہے۔ میں ظالم لوگوں کا ساتھ دیا کرتا تھا۔

ایک دن میں نے ایک مچھیرے کو دیکھا جس نے ایک بڑی مچھلی پکڑی ہوئی تھی۔ مچھلی مجھے بہت پسند آئی۔ میں نے اس سے کہا: یہ مچھلی مجھے دے دو۔

اس نے کہا: میں یہ مچھلی نہیں دے سکتا، اسے بیچ کر ہی میں اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہوں۔

میں نے اسے مارا پیٹا اور زبردستی مچھلی چھین لی۔

جب میں مچھلی لے کر جا رہا تھا تو اچانک اس مچھلی نے میرے انگوٹھے پر زور سے کاٹ لیا۔ میں نے پرواہ نہ کی اور مچھلی گھر لے آیا۔

کچھ ہی دیر میں میرے انگوٹھے میں شدید درد شروع ہو گیا۔ رات بھر تڑپتا رہا۔ صبح طبیب کے پاس گیا تو اس نے کہا: یہ انگوٹھا سڑ چکا ہے، اگر نہ کاٹا گیا تو پورا ہاتھ خراب ہو جائے گا۔

میں نے انگوٹھا کٹوا دیا…
مگر بیماری پھیلتی گئی۔

پہلے ہتھیلی، پھر کہنی، پھر پورا بازو کاٹنا پڑا۔
درد ناقابلِ برداشت ہو چکا تھا۔

لوگوں نے پوچھا: یہ مصیبت کیوں آئی؟

میں نے مچھلی والا قصہ سنا دیا۔

لوگوں نے کہا: اگر ابتدا میں ہی اس مچھیرے سے معافی مانگ لیتے اور اس کا حق واپس کر دیتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔

میں فوراً شہر بھر میں اسے ڈھونڈنے نکل پڑا۔ آخرکار وہ مل گیا۔ میں اس کے قدموں میں گر گیا، رو رو کر معافی مانگی اور اپنا کٹا ہوا ہاتھ دکھایا۔

وہ منظر دیکھ کر رو پڑا اور بولا: بھائی! میں نے وہ مچھلی تمہارے لیے حلال کر دی تھی، کیونکہ میں نے تمہارا انجام دیکھ لیا تھا۔

میں نے اس سے پوچھا: کیا تم نے میرے خلاف بددعا کی تھی؟

وہ بولا: ہاں، میں نے صرف یہ دعا کی تھی: “اے اللہ! یہ اپنی طاقت کے غرور میں مجھ پر ظلم کر رہا ہے، تو اپنی طاقت کا کرشمہ اسے دکھا دے۔”

اللہ نے اپنی قدرت دکھا دی۔

اب میں اللہ کے حضور سچی توبہ کرتا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ: نہ کبھی ظلم کروں گا، نہ کسی ظالم کا ساتھ دوں گا۔

📖 منقول از: الزواجر — علامہ ابنِ حجر رحمۃ اللہ علیہ

✨ سبق:
حرام کا ایک نوالہ، ظلم کا ایک لمحہ…
انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتاہے

اتفاق سے ایک دن کنیز کو اس کے مالک نے دوسرے گاؤں کسی کام سے بھیجا۔ قصاب کو موقع مل گیا اور وہ بھی اس کنیز کے پیچھے ہولیا...
03/02/2026

اتفاق سے ایک دن کنیز کو اس کے مالک نے دوسرے گاؤں کسی کام سے بھیجا۔ قصاب کو موقع مل گیا اور وہ بھی اس کنیز کے پیچھے ہولیا۔
جب وہ جنگل سے گزری تو اچانک قصاب نے سامنے آکر اسے پکڑ لیا اور اسے گناہ پر آمادہ کرنے لگا۔ ‏جب اس کنیز نے دیکھا کہ اس قصاب کی نیت خراب ہے تو اس نے کہا:
''اے نوجوان تُو اس گناہ میں نہ پڑ حقیقت یہ ہے کہ جتنا تُو مجھ سے محبت کرتا ہے اس سے کہیں زیادہ میں تیری محبت میں گرفتار ہوں لیکن مجھے اپنے مالک حقیقی عزوجل کا خوف اس گناہ کے اِرتکاب سے روک رہا ہے' ‏اس نیک سیرت اور خوفِ خدا عزوجل رکھنے والی کنیز کی زبان سے نکلے ہوئے یہ الفاظ تاثیر کا تیر بن کر اس قصاب کے دل میں پیوست ہوگئے اور اس نے کہا:
'' جب تُو اللّٰہ عزوجل سے اِس قدر ڈر رہی ہے تو مَیں اپنے پاک پروردگار عزوجل سے کیوں نہ ڈروں ؟ مَیں بھی تو اسی مالک عزوجل کا ‏بندہ ہوں ، جا....تو بے خوف ہو کر چلی جا۔''
اتنا کہنے کے بعد اس قصاب نے اپنے گناہوں سے سچی توبہ کی اور واپس پلٹ گیا ۔
راستے میں اسے شدید پیاس محسوس ہوئی لیکن اس ویران جنگل میں کہیں پانی کا دور دور تک کوئی نام ونشان نہ تھا۔ قریب تھا کہ گرمی اور پیاس کی ‏شدت سے اس کا دم نکل جائے۔ اتنے میں اسے اس زمانے کے نبی کا ایک قاصد ملا۔ جب اس نے قصاب کی یہ حالت دیکھی تو پوچھا:
''تجھے کیا پریشانی ہے؟
قصاب نے کہا:'' مجھے سخت پیاس لگی ہے
یہ سن کر قاصدنے کہا: ہم دونوں مل کر دعا کرتے ہیں کہ اللّٰہ عزوجل ہم پر اپنی رحمت کے بادل ‏بھیجے اور ہمیں سیراب کرے یہاں تک کہ ہم اپنی بستی میں داخل ہوجائیں۔
'قصاب نے جب یہ سنا تو کہنے لگا:
''میرے پاس تو کوئی ایسا نیک عمل نہیں جس کا وسیلہ دے کر دعا کروں، آپ نیک شخص ہیں آپ ہی دعا فرمائیں ۔
اس قاصد نے کہا:
’ٹھیک ھے مَیں دعا کرتا ‏ہوں، تم آمین کہنا
پھر قاصد نے دعا کرنا شروع کی اور وہ قصاب آمین کہتا رہا،تھوڑی ہی دیر میں بادل کے ایک ٹکڑے نے ان دونوں کو ڈھانپ لیا اور وہ بادل کا ٹکڑا ان پر سایہ فگن ہوکر ان کے ساتھ ساتھ چلتا رہا
جب وہ دونوں بستی میں پہنچے تو قصاب اپنے گھر کی جانب روانہ ہوا اور وہ قاصد ‏اپنی منزل کی طرف جانے لگا۔
بادل بھی قصاب کے ساتھ ساتھ رہا جب اس قاصد نے یہ ماجرا دیکھا توقصاب کو بلایا اور کہنے لگا:
تم نے تو کہا تھا کہ میرے پاس کوئی نیکی نہیں اور تم نے دعا کرنے سے اِنکار کردیا تھا۔ پھر میں نے دعا کی اورتم آمین کہتے

*لکھنؤ کے ٹھگ*لکھنؤ میں ایک زمانے میں ٹھگوں کا بڑا چرچا تھا۔ یہ لوگ نہ زور زبردستی کرتے تھے اور نہ تلوار اٹھاتے تھے بلکہ...
03/02/2026

*لکھنؤ کے ٹھگ*

لکھنؤ میں ایک زمانے میں ٹھگوں کا بڑا چرچا تھا۔ یہ لوگ نہ زور زبردستی کرتے تھے اور نہ تلوار اٹھاتے تھے بلکہ اپنی باتوں، چالاکی اور ذہنی کھیل سے لوگوں کو لوٹ لیتے تھے۔
ایک دن ایک شخص بکری کا ننھا سا بچہ (میمنا) خرید کر اسے کندھے پر اٹھائے شہر سے باہر جا رہا تھا۔ راستے میں ٹھگوں کے ایک گروہ نے اسے دیکھ لیا۔ سب نے مل کر طے کیا کہ اس بکری کے بچے کو اس شخص سے ٹھگ لیا جائے ۔
انہوں نے ایک پلان بنایا اور اس پر عمل کرنے کے لیے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کھڑے ہوگئے ۔
پہلا ٹھگ آگے بڑھا اور تعجب سے کہنے لگا
بھائی! تم کندھے پر کتا کیوں اٹھائے جا رہے ہو؟
وہ شخص ہنسا اور بولا
ارے بھائی! یہ کتا نہیں بکری کا بچہ ہے۔
وہ ٹھگ مسکرا کر آگے بڑھ گیا۔
تھوڑی دور دوسرا ٹھگ ملا
اس نے ناک سکوڑ کر کہا
اللہ خیر کرے! لوگ آج کل کتے کو کندھے پر کیوں اٹھائے پھرتے ہیں ۔
اب اس شخص کے دل میں ہلکی سی الجھن پیدا ہوئی مگر اس نے خود کو سنبھالا اور سوچا لگتا ہے لوگ میرے ساتھ مذاق کررہے ہیں ۔
کچھ فاصلے پر تیسرا ٹھگ ملا
اس نے ہمدردی جتاتے ہوئے کہا
بھائی اگرچہ یہ کتا تمہارا پالتو ہوگا لیکن پھر بھی اسے ایسے کندھے پر اٹھانا مناسب نہیں ۔
اب اس شخص کے قدم رک گئے۔
اس نے بکری کے بچے کو غور سے دیکھا دل میں وسوسہ پیدا ہوا کہیں یہ واقعی میں غلط تو نہیں دیکھ رہا؟
چوتھا اور پانچواں ٹھگ بھی یہی بات دہراتے گئے۔ آخرکار وہ شخص پوری طرح شش و پنج میں مبتلا ہو گیا۔ اس نے سوچا اتنے لوگ ایک ہی بات کہہ رہے ۔ لازمی مجھ سے غلطی ہوگئی ہے میں نے بکری 🐐 کا بچہ سمجھ کر کتا خرید لیا ہے ۔
اب اسے یہ بھی ڈر کہ جب میں گاؤں پہنچوں گا اور لوگوں کو بتاؤں گا کہ میں یہ بکری کا بچہ خرید کر لایا ہوں
اور یہ حقیقت میں کتا ہوا تو مجھے بڑی شرمندگی اٹھانی پڑے گی ۔
اسی سوچ کے تحت اس نے بکری کے بچے کو کندھے سے اتار کر سڑک پر رکھ دیا اور یہ کہہ کر چل دیا
کہ لوگ کتنے بے ایمان ہوگئے ہیں بکری کہہ کر کتے فروخت کررہے ہیں
جیسے ہی وہ شخص آگے بڑھا ٹھگوں نے فوراً بکری کے بچے کو اٹھایا اور خوشی خوشی غائب ہو گئے۔
سبق
ایک جھوٹ کو اگر بار بار کئی زبانوں سے دہرایا جائے تو بہت سے لوگ اسے سچ سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ اسی لیے سننے والے کی ذمہ داری بھی ہوتی ہے کہ وہ تحقیق کرے۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو
شئیر کریں

*کہتے ہیں ایک کسان کے کھیت میں ایک سخت پتھر نکل آیا۔ جس کی وجہ سے اس کے کام کاج میں دقتیں شروع ہوگئیں۔* کبھی وہ اس پتھر ...
03/02/2026

*کہتے ہیں ایک کسان کے کھیت میں ایک سخت پتھر نکل آیا۔ جس کی وجہ سے اس کے کام کاج میں دقتیں شروع ہوگئیں۔*

کبھی وہ اس پتھر سے ٹھوکر کھا کر گرتا، کبھی ہل چلاتے ہوئے ہل پھنس جاتا، کبھی ہل ٹوٹ جاتا اور کبھی جانور زخمی ہو جاتے۔
اس نے کئی بار اس پتھر کو نکالنے کا سوچا، مگر پھر یہ سوچ کر پیچھے ہٹ جاتا کہ پتہ نہیں یہ آئس برگ کی طرح بڑا تو نہیں؟ کیا میں اکیلا نکال سکوں گا؟ کہیں اور بڑا نقصان نہ ہو جائے؟ وغیرہ وغیرہ۔
وہ سوچتا رہا کہ بعد میں دوستوں کی مدد لے کر نکال لوں گا، ابھی رہنے دو۔ مختلف وسوسے اور واہمے اسے کم ہمت بنا دیتے۔
بقول شاعر:
’’ارادے باندھتا ہوں، سوچتا ہوں، توڑ دیتا ہوں۔ کہیں ایسا نہ ہو جائے، کہیں ویسا نہ ہو جائے۔‘‘
کئی ٹھوکروں اور مشقت کے بعد آخر ایک دن اس نے فیصلہ کر لیا کہ اب یہ چٹان رہنے نہیں دی جائے گی۔
اس نے سب دوستوں اور کسانوں کو پیغام بھیجا کہ پھاوڑے، بیلچے، کلہاڑے، گینتیاں اور کدالیں لے کر کھیت میں فلاں وقت تک پہنچ جائیں۔ آج یا ہم رہیں گے یا یہ چٹان!
دوست وقت پر پہنچ گئے، مگر کسان نے سب سے پہلے کدال اپنے ہاتھ میں لی اور پتھر کے آس پاس کھودائی شروع کی۔
پانچ چھ ضربیں لگیں، اور پتھر اڑتا ہوا باہر آگیا۔
پتہ چلا کہ جسے وہ چٹان سمجھ رہا تھا، وہ تو بس ایک معمولی سا پتھر تھا۔
سب دوست کسان کی سادگی پر ہنس پڑے اور اپنے اوزار اٹھا کر واپس چلے گئے۔
یہ صرف ایک کسان کی کہانی نہیں۔
زندگی کے کھیت کھلیان میں ہم سب ایسے ہی کسان ہیں۔
ہم اپنی چھوٹی چھوٹی پریشانیوں کو بڑا بنا دیتے ہیں۔ معمولی رنجشیں وبال جان بن جاتی ہیں، چھوٹے جھگڑے سوہان روح، چند پیسوں کی ٹھیکریاں شاہراہ حیات میں رکاوٹیں، اور کاروباری نقصان، ملازمتی تنزلی یا رشتوں کی بے وقعتی ہمیں بڑے مسائل لگنے لگتے ہیں۔
کبھی سیاسی یا سماجی اختلافات بھی چٹان کی طرح محسوس ہوتے ہیں۔
لیکن یاد رکھیں! یہ چٹان نما مسائل آپ کے حوصلے، ہمت، اور یقین کی دو چار ضربیں بھی نہیں سہہ سکتے۔
جس دن آپ کو اپنے شعور اور یقین کی طاقت کا احساس ہوگا،
وہ دن آپ کے لیے انقلاب ہوگا۔
کوئی چٹان چٹان نہیں رہے گی، کوئی مسئلہ مسئلہ نہیں، کوئی مشکل مشکل نہیں۔
سب چٹانیں، سب پہاڑ، سب مسائل آپ کے قدموں کے نیچے ہوں گے، اور آپ نے سب کو فتح کر لیا ہوگا۔
بات صرف شعور، یقین اور حوصلے کی ہے۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو
شئیر کریں

*✍🏻 ایک انتہائی خوبصورت کہانی....!**ایک گاؤں میں غریب نائی رہا کرتا تھا جو ایک درخت کے نیچے کرسی لگا کے لوگوں کی حجامت ک...
03/02/2026

*✍🏻 ایک انتہائی خوبصورت کہانی....!*
*ایک گاؤں میں غریب نائی رہا کرتا تھا جو ایک درخت کے نیچے کرسی لگا کے لوگوں کی حجامت کرتا۔*

مشکل سے گزر بسر ہورہی تھی۔ اس کے پاس رہنے کو نہ گھر تھا۔ نہ بیوی تھی نہ بچے تھے۔ صرف ایک چادر اور ایک تکیہ اس کی ملکیت تھی ۔ جب رات ہوتی تو وہ ایک بند سکول کے باہر چادر بچھاتا، تکیہ رکھتا اور سو جاتا.

ایک دن صبح کے وقت گاوں میں سیلاب آ گیا۔

اس کی آنکھ کھلی تو ہر طرف شور و غل تھا۔
وہ اٹھا اور سکول کے ساتھ بنی ٹینکی پر چڑھ گیا. چادر بچھائی، دیوار کے ساتھ تکیہ لگایا اور لیٹ کر لوگوں کو دیکھنے لگا۔

لوگ اپنا سامان، گھر کی قیمتی اشیا لے کر بھاگ رہے تھے. کوئی نقدی لے ‏کر بھاگ رہا ہے، کوئی زیور کوئی بکریاں تو کوئی کچھ قیمتی اشیا لے کر بھاگ رہا ہے۔

اسی دوران ایک شخص بھاگتا آ رہا تھا اس نے سونے کے زیور پیسے اور کپڑے اٹھا رکھے تھے۔ جب وہ شخص اس نائی کے پاس سے گزرا اوراسے سکون سے لیٹے ہوئے دیکھا توغصے سے بولا !

"اوئے ساڈی ہر چیز اجڑ گئی اے۔ ‏ساڈی جان تے بنی اے، تے تو ایتھے سکون نال لما پیا ہویا ایں"۔۔

یہ سن کرنائی بولا !
لالے اج ای تے غربت دی چس آئی اے"

جب میں نے یہ کہانی سنی تو ہنس پڑا مگر پھر ایک خیال آیا کہ شاید روز محشر کا منظر بھی کچھ ایسا ہی ہوگا۔

جب تمام انسانوں سے حساب لیا جائے گا۔
ایک طرف غریبوں کا حساب ہو رہا ہو گا ۔
دو وقت کی روٹی، کپڑا ۔حقوق اللہ اور حقوق العباد ۔

ایک طرف امیروں کا حساب ہو رہا ہو گا ۔
پلازے، دکانیں، فیکٹریاں، گاڑیاں، بنگلے، سونا اور زیورات، ملازم ۔ پیسہ ۔ حلال حرام ۔ عیش و آرام ۔ زکوۃ ۔ حقوق اللہ۔ حقوق العباد۔۔۔۔

اتنی چیزوں کا حساب کتاب دیتے ہوئے پسینے سے شرابور اور خوف سے تھر تھر کانپ رہے ہوں گے۔

تب شاید اسی نائی کی طرح غریب ان امیروں کو دیکھ رہے ہوں گے۔
چہرے پر ایک عجیب سا سکون اور شاید دل ہی دل میں کہہ رہے ہوں گے۔۔۔۔!

"اج ای تے غربت دی چس آئی اے ۔۔۔۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو
شئیر کریں

*چور اور بادشاہ کا خواب*ایک چور محل میں چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ بادشاہ نے اسے سزائے موت سنانے کا فیصلہ کیا۔ چور بہت چال...
03/02/2026

*چور اور بادشاہ کا خواب
*
ایک چور محل میں چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ بادشاہ نے اسے سزائے موت سنانے کا فیصلہ کیا۔ چور بہت چالاک تھا، اس نے کہا کہ بادشاہ سلامت مجھے مارنے سے پہلے ایک بار میری بات سن لیں، میں ایک ایسا ہنر جانتا ہوں جس سے مٹی کو سونا بنایا جا سکتا ہے، اگر میں مر گیا تو یہ ہنر ختم ہو جائے گا۔
بادشاہ لالچ میں آ گیا اور اسے ایک موقع دیا۔ چور نے ایک مٹی کی ڈلی اٹھائی اور کہا کہ اسے سونا بنانے کے لیے شرط یہ ہے کہ اسے وہ آدمی ہاتھ لگائے جس نے زندگی میں کبھی جھوٹ نہ بولا ہو اور کبھی چوری نہ کی ہو۔
پہلے وزیر کی باری آئی، وہ پیچھے ہٹ گیا کہ بچپن میں ایک بار جھوٹ بولا تھا۔ پھر بادشاہ کی باری آئی، وہ بھی ہچکچایا۔
چور مسکرایا اور بولا کہ عجیب بات ہے، ہم سب گناہ گار ہیں، میں نے چوری کی تو پھانسی، اور آپ سب جو بڑے عہدوں پر ہیں وہ بھی پاک نہیں، تو پھر سزا صرف مجھے ہی کیوں؟
بادشاہ اس کی بات سے اتنا متاثر ہوا کہ اسے رہا کر دیا۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو
شئیر کریں

─────••●◎●••─────

والسلام آپ کا بھائی
*پروفیسر شعیب ہاشمی*

03/02/2026
*بادشاہ کے دربار میں روز ایک ہی آواز گونجتی تھی۔*“حضور! رعایا خوش ہے۔سلطنت مثالی ہے۔آپ جیسا عادل بادشاہ دنیا میں کوئی نہ...
03/02/2026

*بادشاہ کے دربار میں روز ایک ہی آواز گونجتی تھی۔*

“حضور! رعایا خوش ہے۔
سلطنت مثالی ہے۔
آپ جیسا عادل بادشاہ دنیا میں کوئی نہیں!”
یہ آواز وزیرِ خاص کی تھی—
وہی وزیر جو سچ سے زیادہ
بادشاہ کے موڈ کا خیال رکھتا تھا۔
بادشاہ مسکراتا، سر ہلاتا
اور سمجھ لیتا کہ سب ٹھیک ہے۔
مگر شہر کے کوچوں میں کہانی اور تھی۔
ماں اپنے بچے کو خاموش کراتی تھی
کیونکہ فریاد کرنے پر سزا ملتی تھی۔
کسان کی فصل آدھی رہ جاتی،
اور ٹیکس پورا لیا جاتا۔
مزدور دن بھر کام کرتا
مگر رات کو خالی ہاتھ لوٹتا۔
ایک دن دربار کے دروازے پر
ایک کمزور سی عورت آئی۔
اس کے ہاتھ میں کاغذ نہیں تھا،
بس بیٹے کی تصویر تھی—
جو ظلم کے بوجھ تلے مر گیا تھا۔
سپاہی نے روکا،
وزیر نے آنکھوں ہی آنکھوں میں منع کیا۔
مگر بادشاہ نے وہ منظر دیکھ لیا۔
“اسے آنے دو…”
یہ جملہ برسوں بعد
کسی سچ کی طرح بولا گیا۔
عورت بولی نہیں،
بس تصویر زمین پر رکھی
اور کہا:
“حضور! اگر رعایا خوش ہوتی
تو میرا بیٹا زندہ ہوتا…”
دربار میں خاموشی چھا گئی۔
وزیر کی زبان رک گئی۔
بادشاہ کے ہاتھ کانپنے لگے۔
اسی دن بادشاہ نے تخت سے اتر کر کہا:
“مجھے وہ وزیر نہیں چاہیے
جو مجھے خوش رکھے،
مجھے وہ سچ چاہیے
جو مجھے شرمندہ کر دے۔”
وزیر ہٹا دیا گیا۔
انصاف لوٹ آیا۔
اور رعایا نے پہلی بار
دل سے دعا دی۔
کیونکہ بادشاہ وہ نہیں ہوتا
جسے خوش خبری سنائی جائے،
بادشاہ وہ ہوتا ہے
جو تلخ سچ سننے کی ہمت رکھے۔
چاپلوسی حکمران کو اندھا کر دیتی ہے،
اور سچ اکثر دربار کے دروازے سے باہر کھڑا رہتا ہے۔
قوم اس وقت تباہ ہوتی ہے
جب بادشاہ خوش خبریوں پر یقین
اور تلخ حقیقت سے منہ موڑ لے۔
اصل حکمرانی وہی ہے
جو سچ سن کر شرمندہ ہو
اور ظلم دیکھ کر تخت سے اترنے کی ہمت رکھے۔
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو
شئیر کریں

*آدمی کی اصل پہچان** خلیفۂ دوم، امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص گواہی دینے کے لیے حاضر ہوا۔آپؓ ...
03/02/2026

*آدمی کی اصل پہچان*
*
خلیفۂ دوم، امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص گواہی دینے کے لیے حاضر ہوا۔
آپؓ نے فرمایا:
“کوئی ایسا آدمی لاؤ جو تمہیں اچھی طرح جانتا ہو۔”
وہ ایک شخص کو لے آیا۔ حضرت عمرؓ نے اس سے سوال کیا:
“کیا تم اس کے قریبی پڑوسی ہو، جو اس کے اٹھنے بیٹھنے اور لین دین سے واقف ہو؟”
اس نے عرض کیا: “نہیں۔”
پھر فرمایا:
“کیا تم نے اس کے ساتھ سفر کیا ہے؟ کیونکہ سفر میں انسان کا اصل اخلاق سامنے آ جاتا ہے۔”
اس نے کہا: “نہیں۔”
پھر پوچھا:
“کیا تم نے اس کے ساتھ دینار و درہم کا معاملہ کیا ہے، جس سے اس کی دیانت اور تقویٰ ظاہر ہو؟”
اس نے جواب دیا: “نہیں۔”
حضرت عمرؓ نے فرمایا:
“میرا گمان ہے کہ تم نے اسے صرف مسجد میں دیکھا ہے، نماز پڑھتے اور قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے، کبھی سر جھکاتے اور کبھی اٹھاتے ہوئے؟”
اس نے کہا: “جی ہاں، یہی بات ہے۔”
حضرت عمرؓ نے فرمایا:
“تو پھر واپس جاؤ، تم اسے نہیں جانتے۔”
کیونکہ اس نے اسے صرف اللہ کے سامنے کھڑے ہوتے دیکھا تھا، مگر انسانوں کے معاملات میں پرکھا نہیں تھا۔
اسی لیے حضرت عمرؓ نے اس کی گواہی قبول نہ کی۔
حقیقت یہ ہے کہ جب تک انسان معاشرتی معاملات میں نیک ثابت نہ ہو، صرف عبادت کی بنیاد پر اس کی نیکی معتبر نہیں ہوتی۔

Address

Khushab
Jauharabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Syco Ali posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category