03/02/2026
یہ واقعہ ہمارے بچپن کے ایک قریبی گاؤں کا ہے جہاں ایک صاحب تھے جنہیں ہر وقت بھوک لگی رہتی تھی۔ ان کی بھوک کا یہ عالم تھا کہ محلے میں کسی کے ہاں بھی دیگ چڑھتی تو وہ سب سے پہلے وہاں پہنچ جاتے۔ لوگ انہیں پیار سے پیٹو خان کہتے تھے۔
ایک بار گاؤں میں افواہ اڑ گئی کہ پیٹو خان کا انتقال ہو گیا ہے۔ اصل میں ہوا یہ تھا کہ وہ بہت زیادہ کھانا کھا کر گہری نیند سو گئے تھے اور گھر والوں کو لگا کہ ان کی سانس رک گئی ہے۔ خیر، گاؤں میں صفِ ماتم بچھ گئی، نہلانے دھلانے کا انتظام ہونے لگا۔
اتفاق سے اس دن گاؤں کے نمبردار کے ہاں ایک بڑی دعوت تھی جہاں کڑاہی گوشت اور دیسی گھی کا حلوہ تیار ہو رہا تھا۔ پیٹو خان کو جب تختے پر لٹایا گیا تو ٹھنڈے پانی کی بالٹی ان پر پڑتے ہی ان کی آنکھ کھل گئی۔ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ چاروں طرف لوگ رو رہے ہیں اور مولوی صاحب دعا کروا رہے ہیں، تو وہ ڈر کے مارے خاموش لیٹے رہے کہ اگر اب اٹھا تو لوگ جن سمجھ کر مار ڈالیں گے۔
نمازِ جنازہ کے بعد انہیں قبرستان لے جایا گیا۔ تدفین میں تھوڑی دیر تھی کیونکہ قبر کھودی جا رہی تھی۔ اتنے میں نمبردار کا ملازم وہاں پہنچا اور دوسرے ملازم سے کہنے لگا کہ یار جلدی کرو، وہاں حلوہ ٹھنڈا ہو رہا ہے اور بوٹیاں بھی ختم ہو رہی ہیں، تدفین کے بعد سب نے وہیں جانا ہے۔
حلوے کا نام سنتے ہی پیٹو خان کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگے۔ انہوں نے سوچا کہ قبر میں جا کر مٹی کھانے سے بہتر ہے کہ ایک بار ذلیل ہو لوں لیکن حلوہ ہاتھ سے نہ جانے دوں۔
ابھی لوگ قبر تیار کر کے میت اٹھانے ہی والے تھے کہ اچانک پیٹو خان کفن سمیت اٹھ کر بیٹھ گئے اور غصے سے بولے:
اوئے نمبردار کے نوکر! حلوے میں میوہ ڈالا ہے یا صرف چینی سے ہی کام چلایا ہے؟
بس یہ سننا تھا کہ قبرستان میں ایک قیامت برپا ہو گئی۔ مولوی صاحب کا مصلہ وہیں رہ گیا اور وہ اپنی پگڑی سنبھالتے ہوئے ایسی چھلانگ ماری کہ سیدھا نالے کے پار جا گرے۔ جنازہ اٹھانے والے کندھے چھوڑ کر بھاگے تو میت (یعنی پیٹو خان) دھڑام سے نیچے گرے۔
لوگوں کو لگا کہ مردہ بھوت بن کر حساب مانگنے اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ کوئی قبر میں گر رہا تھا تو کوئی جھاڑیوں میں پھنس کر چیخ رہا تھا۔ پیٹو خان اسی حال میں کفن لپیٹے ان کے پیچھے بھاگے اور چلاتے رہے:
اوئے رکو تو سہی! میں تو صرف حلوے کا پوچھ رہا ہوں، مجھے بھی ساتھ لے چلو!
وہ جتنا تیز بھاگتے، لوگ اتنی ہی لمبی چھلانگیں ما