12/11/2025
اچھی گائے کی پہچان....
سب سے پہلے جانور کے نسل ہوتی ہے۔ گائے کے دو نسلیں ہیں۔
1) دیسی نسل
2) ولاتی نسل
1) دیسی نسل کے گائے کے مزید 10, 12 نسل ہیں
جن میں کچھ مشہور نسلیں یہ ہیں۔
سہوال, چولستانی, دہھنی, سندھی , اچی وغیرہ وغیرہ.
یاد رکھو کہ پاکستان میں بہت سے گائیوں کا کوئی نسل معلوم نہیں جن کو نان ڈسکرپٹو بریڈ کہتے ہیں۔
2) ولائتی نسل کے گائے یا ایگزارٹک گائے
ان میں جرسی, ہوسٹن یوفریڑین, ایشائر, براون سوئیز گائے مشہور ہیں۔
فریژین نسل میں مزید نسلیں اور کراس ہیں اور یہ دنیا کا سب سے مشہور گائے ہے۔
یہ سارے گائے یورپ, آسٹریلیا, نیوزی لینڈ, امریکہ اور کینیڈا کے ممالک کے ہیں۔ گو کہ ان کی اوسط دودھ کی مقدار دیسی گائیوں کے تین گنا زیادہ ہے لیکن یہ گائے پاکستان, افریقہ, انڈیا اور عرب کے ممالک کے گرم مرطوب موسم کو سہہ نہیں پاتے اور یہاں مر جاتے ہیں, دوسرا ان گائیوں میں بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت نہ ہونے کے برابر ہے۔
کچھ بیماریاں جو ان کی جان تک لے سکتی ہے یہ ہے
گل گھوٹو, سٹ, تھلیریا, اینا پلازما, بی بیزیا, جگر کے کیڑے اور چیچڑ۔ ( ان گائے کو اگر رکھنا ہو تو پولٹری فارم کی طرح کنٹرول شیڈ میں رکھا جا سکتا ہے۔ ان سارے بیماریوں کی ویکیسن ضروری ہے خوراک بھی مناسب اور زیادہ مقدار میں ہو, اگر اپ ان سے 365 دن کے بعد بچہ لیں تو ولائتی گائے کا فارم سب سے منافع بخش فارمنگ ہے)
اب آتے ہیں دودھ دینے والی گائے کے پہچان کی طرف زیادہ دودھ دینی والی گائے کا حیوانہ زیادہ بڑا اور دور سے واضح نظر آئے گی جس طرح تصویر میں دیکھا یا گیا ہے۔
اس کا حیوانہ گوندے ہوئے آٹے کی طرح نرم ہوگا۔
سخت پتھر والا بیمار حیوانہ ہے جبکہ نرم میں پانی والا سوجن ہوتا ہے کچھ حیوانے زمین کو چھوتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں پس دودھ والے جانور کا حیوانہ متوازن تھن ایک لیول پر ایک دوسرے سے ایک جتنا لمبی کی دوری پر ہوتے ہیں جو زمین سے مناسب اونچائی پر ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ گائے کی کمر کا (سینے) پیچھے حصے اور دم کے قریب اوپر والا حصہ جس کو پوٹا کہتے ہیں جتنا چوڑا ہوگا اتنا ہی حیوانے کے لیے جگہ زیادہ ملے گا۔ الغرض کہ حیوانا جتنا بڑا ہوگا اتنا ہی دودھ زیادہ ہوگا۔ اچھے دودھ والے گائے کا حیوانہ اور تھن دودھ نکالنے کے بعد ایسا ہوجاتا ہے جیسے ہوا سے بھرے ہوئے ٹائر سے ہوا نکل جائے یا پاو¿ں سے جرابے کو نکلنے کے بعد جس طرح جرابہ سکڑ کر چھوٹا ہو