22/05/2026
غزل
بھلے زمانہ ہوا وہ نظر نہیں آیا
خیالِ ترکِ تعلق مگر نہیں آیا
میں آ گیا ہوں تِرے پاس بے خیالی میں
کسی خیال کے زیرِ اثر نہیں آیا
چلائے رکھتا ہے ان بے مہار ہاتھوں کو
وہ کام جو ابھی پیشِ ہُنر نہیں آیا !
تو پھر بتائیں جہاں سے چلی تھی آپکی سمت
میں ساری بات وہیں جا کے دھر نہیں آیا ؟!
نئے سِرے سے بناوٹ کا خوف ہے مجھکو
میں چاک پر ہوں مِرا کوزہ گر نہیں آیا
اسی جگہ پہ دوبارہ یہ گھر بنے گا، اگر
ہمارا سایہ تہہِ بام و در نہیں آیا
Nadeem shah