17/07/2026
اسلام علیکم
کیسے ہیں آپ سب
اج موبائل استعمال کرتے کرتے بہت ساری پوسٹ نگاہوں سے گزریں ہمارے معاشرے کا وہ سچ جو نہ ہم سننا چاہنے ہیں اور نہ سمجھنا چاہتے ہیں ہم بڑی بڑی باتیں بھی کرتے ہیں اچھی اچھی پوست بھی شئر کرتے ہیں اپنے خاندانی نظام پر بہویں اپنے مطلب کی پوسٹ شئر کرتی ہیں ساسیں اپنے مطلب کی شوہر اپنے حساب سے بیویاں اپنے ھساب سے جبکہ جس مذہب سے ہمارا تعلق ہے وہاں ہر ایک کے حقوق و فرائض کے مکلمل اھکامات درج ہیں کس کا کیا مقام ہے بلکل واضح ہے لیکن ہماری بد نصیبی ہے ہم نے اپنی زندگیوں کو دین کے اھکامات کے تحت نہیں بلکہ ہندوستان معاشرے کے تحت گزارنا ہے جو ہمارے بڑے کرتے اے اور جو ہندو معاشرے کی معراج ہے اب اگر ہم کئ بھی بات کرتے ہیں تو ہم کو باغی اور بہت کچھ سننا پڑے گا لیکن بات سب رشتوں کی ہو رہی ہے سوہر کو بیوی کے ساتھ کیسا رویہ رکھنا ہے اور بیوی کو شوہر کی کتنی عڑت کر نی ہے اللہ نے مرد کو قوی بنایا ہے اس کو حکنرانی دی ہے تو اس پر بہت بڑی ذمہ داری اگئ کہ اس کو اپنی بیوی سے کتنا صلہ رحمی دکھانی ہے اس کی کتنی عزت کرنی ہے ہر مرد کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ہر عورت کی اپنی عزت ہوتی ہے وہ ایک پڑھی لکھی اپنے ماں باپ کی لاڈلی اور بے انتہا عزتوں کے ساتھ رہنے والی لڑکی کو کس طرح ہر جگہ سب کمے سامنے اس کے اپنے بچوں کے سامنے کس طرح ذلیل کر دیتے ہیں اللہ نے قران میں میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے ایک دوسرے کی عزت کر نے کو کہا اور بیوی کو حکم دیا اگر اللہ کے بعد کسی کو سجدے کا ھکم ہوتا تو وہ اس کا شوہر ہوتا مرد حضرات یہ کیوں نہیں سمجھتے اور سوچتے غلطیاں تو ان سے بھی ہوتی ہونگی بہت سے فیصلہ وہ بھی غلط کر جا تے ہونگے لیک ن وہ کسی کے جواب دہ نہیں مجھے سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ کوئی انسان اتنی بڑی عورت جو اللہ نے اپ کے نکاح میں دی اب کو اس کا سر پرست بنایا کیسے اس کو ذلیل کر سکتے ہیں کیا مرد خود غلطیوں سے پاک ہے اگر اپ سے غلطی ہوتی ہے تو اپ دل برا کرکے اپنے شریک سفر سے معذرت کرتے ہو ہم اگر اپنے بیٹوں کو عورت کی عزت کرنا سکھا یئں گے تو وہ اپنی ماں کی عزت بھی کرے گا اپنی بہن کی بھی اپنی بیٹی کی بھی اور میرے نبی نے تو ہر رشتے کو کر کے دکھایا مرد عورت جس سے بھ غلطیاں ہو اختلاف ہو تحمل سے ملکر۔ تنہائی میں اس مسئلے کا حل نکالیں نہ کہبیچ میں عورت کو کمتر دکھا کر اپنے ھاکم ہونے کا اعلان کریں
یاد رکھیں ہمارے بچے ہمارے عکاس ہوتے ہیں ان کی شخصیت پر گہرے اثرات ان کے ماں باپ کا اپس میں تعلق اور اپس کا روی ہوتا ہےاگر بچوں نے اپنے ماں باپ کے درمیاں محبت اور سمجھداری دیکھی ہوتی ہے تو وہ بھی ایک بہترین بیتا بہترین شوہر اور بہترین بھائ بنتا ہے ورنہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی رہتی ہے اور یہ سلسلہ کبھی نہیں رکتا
یہ تحریر میری اپنی زاتی راے اور سوچ ہے اس سے کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں اور نہ ہی میں عورتوں کے حقوق کی علمبردار ہوں کیونکہ چودہ سو سال پہلے عورتوں کے حقوق تو میرے نبی بتا کر اور اپنے عمل سے دکھا کر چلے گئے