01/03/2024
کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک کتاب 100+1 Pakistani Architects and their Own Houses کے بارے میں، WhatsApp پہ ایک جذباتی سی پوسٹ بنام "ایک کتاب کی کہانی" ڈالی تھی اور اسے پڑھ کر اس کتاب کے مصنف جناب مختار حسن نے اپنے FB Page پہ اس پوسٹ کو دوبارہ نشر کیا ان الفاظ میں👇🏻
Received this heartfelt message from Architect Syed Kalimuddin’s son:
“Assalamalaikum Mukhtar Uncle. Hope you must be doing great. I have written the Story of your book and felt like sharing it with you as well. Hope you're going to enjoy it as well.
Wassalam,
Syed Ahmed Zafar”
ایک کتاب کی کہانی
ہم سب نے بچپن میں کہانیوں کی بہت سی کتابیں پڑھی تھیں۔ بڑے ہوئے تو موضوعات میں تنوع آتا رہا۔۔۔ افسانہ، کہانی، ڈرامہ، سفر نامہ، تاریخ، فلسفہ، سیاسیات، معاشیات وغیرہ وغیرہ۔ غرضیکہ ہر کتاب اپنے مصنف کی ذہنی اپچ، اس کے مطالعےاور تخلیق و تحقیق کی گہرائی اور وہ کیا پیغام دینا چاہ رہا ہے، اس کی ترجمانی کرتی ہے۔ لیکن آج ہم یہاں مصنف کے تذکرہ کے علاوہ اس کی لکھی ہوئی کتاب کی کہانی کا بھی ذکر کریں گے کیونکہ اس کتاب کا میرے اور میرے بھائی بہنوں کے لئے ایک ذاتی اور جذباتی حوالہ بھی ہے۔ تو جناب کتاب کا نام ہے 100+1Pakistani Architects and their Own Houses اور یہ آرکیٹیکٹ مختار حسین صاحب کی بڑی محنت اور محبت سے لکھی ہوئی کاوش ہے اور اس کتاب کی تصنیف کے دوران انہوں نے پاکستان کے چاروں صوبوں کا دورہ کیا اور بڑی محنت سے اس کتاب کا مواد اکٹھا کیا اور اس کونہایت خوبصورت انداز میں چھپوایا۔
اس کتاب سے منسلک کہانی یہ ہے کہ کئی سال پہلے (بقول مشتاق یوسفی مرحوم کہ مجھے پچھلے سال کی عید اور بقرعید کی تاریخیں، اپنی شادی اور بیوی کی سالگرہ کا دن کبھی یاد نہیں رہتا) تو صاحبوں مجھے بھی یاد نہیں کہ کس سال کا یہ واقعہ ہے کہ جب میرا اپنے طبی معائنہ ے سلسلہ میں آغا خان ہسپتال جانا ہوا اور واپسی میں حسب عادت میں وہاں موجود Liberty Book Shop میں گھس گیا۔ مختلف کتابوں کی ورق گردانی کے دوران میری نظر اس کتاب پہ پڑی اور میں نے فورا" اور نہایت شوق سے اس کتاب کے صفحات پلٹنے شروع کر دئیے۔ اصل جستجو یہ تھی کہ کیا ہمارے ابو، آرکیٹیکٹ سید کلیم الدین کا اس میں تذکرہ ہے کہ نہیں؟ الحمدللہ بالکل مایوسی نہیں ہوئی کہ صفحہ نمبر 146 پہ ہمارے ابو (اور اپنے انتقال تک PCATPکے چئیر پرسن) کی تصویر اور ان کے بنائے ہوئے مکان یعنی C-26, Block B, KDA Officers' Housing Society کا تذکرہ اور تصاویر موجود تھیں۔ یقینا" میرے لئے وہ ایک بہت جذباتی لمحہ تھا کیونکہ ابو کا انتقال 2002 میں ہو چکا تھا لہذا اس طرح سے ان کا اچانک سے حوالہ سامنے آجانا وہ بھی کسی عمدہ کتاب کے ایک باب کے طور پر، یقینا" ایک ناقابل
بیان احساس سے آپ کو سرشار کر جاتا ہے۔
میں نے اسی وقت وہ کتاب خریدی اور غالبا" ہماری امی مرحومہ کی اگلی سالگرہ پہ انہیں تحفہ میں پیش کر دی۔ امی کی خوشی اس دن دیدنی تھی اور ڈھیروں دعائیں انہوں نے مجھے دے ڈالیں۔۔۔ رب ارحمھما کما ربیانی صغیرا!
پھر وقت گزرتا چلا گیا اور ایک دن وہ آیا جب ہم سب بہن بھائی اس بات پہ متفق ہوگئے کہ اب ہم سب کو اپنے ذاتی گھروں کی ضرورت ہے اور چونکہ ان اس گھر کو maintain کرنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے لہذا اب اسے بیچ دینا چاہئیے۔
ایک دن وہ گھر بک گیا اور اس دوران ہم سب اپنا اپنا سامان سنبھالنے میں یوں مصروف ہوئے کہ بہت سی دوسری چیزوں کے ہمراہ یہ کتاب کہیں کھوگئی۔۔۔ آسمان کھا گیا یا زمین نکل گئی بہر حال ہماری اجتماعی نالائقی تھی کہ پھر وہ کتاب نا ملی۔ ہماری والدہ مرحومہ کیلئے یہ ایک بہت تکلیف دہ بات تھی اور اپنے انتقال تک وہ اس پہ دکھی رہیں۔
کئی سال گزرے کہ ابھی کوئی ڈیڑھ ہفتہ پہلے میری، اسلام آباد میں مقیم، سب سے چھوٹی بہن منیبہ نے ہم بہن بھائیوں کے WhatsApp گروپ پہ اسی کتاب کے انہی، ابو کے تذکرہ والے، صفحات کی تصاویر بھیجیں جو اسے ہماری چھوٹی خالہ کی بیٹی، فرح، نے بھیجی تھیں۔ وہ تصویریں یقینا" ہم سب کو ایکبار پھر سے جذباتی کر گئیں۔ میں نے خود ان تصاویر کو بار بار دیکھا تو احساس ہوا کہ یہ کسی page سے لی ہوئی ہیں۔ اب مجھے جستجو شروع ہوئی اور میں نے سب سے پہلے مختار حسین صاحب کو Google کیا، پھر ان کی کمپنی کی Website تلاش کی، پھر اس Website کے Contact Us والے حصہ میں گیا تو وہاں کوئی فون نمبروں درج نہیں تھا البتہ Email بھیجنے کا option ضرور موجود تھا۔ میں نے اللہ کا نام لے کر اور مختار حسین صاحب کو مخاطب کر کے اپنا تعارف کروایا اور Email بھیج دی۔ اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ 15-10 منٹ میں ہی مختار صاحب کا جواب آگیا جس میں انہوں نے میرے والد کے ساتھ اپنے تعلقات اور ان کیلئے نہایت عزت کا اظہار کیا تھا۔
قصہ مختصر، میں نے مختار صاحب سے پوچھا کہ کیا اس کتاب کی کوئی کاپی موجود ہے جس پہ ان کا جواب سن کے میری خوشی کی انتہا نا رہی کہ "جی چند کاپیاں موجود ہیں"۔ میں نے مختار صاحب سے اجازت لی اور کل بروز 5 دسمبر میں ان کے گھر پہنچ گیا۔ ان کا آفس بھی اسی گھر کے بیسمنٹ میں ہے۔ بہت شفقت سے ملے، پرانے واقعات بتائے، اپنے آٹو گراف کے ساتھ کتاب میرے حوالے کی اور میری درخواست پہ ایک سیلفی بھی بنوائی۔
تو صاحبوں یہ تھی اس کتاب کی کہانی اور اللہ پاک کے فضل اور مختار حسین صاحب کی مہربانی سے اب ہم بھائی بہن دوبارہ سے اس کتاب کے مالک ہیں جو یقینا ہمارے لئے ایک جذباتی ورثہ ہے اور ہم چاروں مختارحسین صاحب کے بار بار مشکور ہیں اور دعا گو ہین کہ اللہ پاک انہیں خوش اور سلامت رکھیں، آمین۔