Zafar's Flair

Zafar's Flair My name is Syed Ahmed Zafar (SAZ). I am from Karachi, Pakistan. I love life, literature and food.

کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک کتاب 100+1 Pakistani Architects and their Own Houses کے بارے میں، WhatsApp پہ ایک جذباتی سی پوس...
01/03/2024

کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک کتاب 100+1 Pakistani Architects and their Own Houses کے بارے میں، WhatsApp پہ ایک جذباتی سی پوسٹ بنام "ایک کتاب کی کہانی" ڈالی تھی اور اسے پڑھ کر اس کتاب کے مصنف جناب مختار حسن نے اپنے FB Page پہ اس پوسٹ کو دوبارہ نشر کیا ان الفاظ میں👇🏻

Received this heartfelt message from Architect Syed Kalimuddin’s son:

“Assalamalaikum Mukhtar Uncle. Hope you must be doing great. I have written the Story of your book and felt like sharing it with you as well. Hope you're going to enjoy it as well.
Wassalam,
Syed Ahmed Zafar”

ایک کتاب کی کہانی

ہم سب نے بچپن میں کہانیوں کی بہت سی کتابیں پڑھی تھیں۔ بڑے ہوئے تو موضوعات میں تنوع آتا رہا۔۔۔ افسانہ، کہانی، ڈرامہ، سفر نامہ، تاریخ، فلسفہ، سیاسیات، معاشیات وغیرہ وغیرہ۔ غرضیکہ ہر کتاب اپنے مصنف کی ذہنی اپچ، اس کے مطالعےاور تخلیق و تحقیق کی گہرائی اور وہ کیا پیغام دینا چاہ رہا ہے، اس کی ترجمانی کرتی ہے۔ لیکن آج ہم یہاں مصنف کے تذکرہ کے علاوہ اس کی لکھی ہوئی کتاب کی کہانی کا بھی ذکر کریں گے کیونکہ اس کتاب کا میرے اور میرے بھائی بہنوں کے لئے ایک ذاتی اور جذباتی حوالہ بھی ہے۔ تو جناب کتاب کا نام ہے 100+1Pakistani Architects and their Own Houses اور یہ آرکیٹیکٹ مختار حسین صاحب کی بڑی محنت اور محبت سے لکھی ہوئی کاوش ہے اور اس کتاب کی تصنیف کے دوران انہوں نے پاکستان کے چاروں صوبوں کا دورہ کیا اور بڑی محنت سے اس کتاب کا مواد اکٹھا کیا اور اس کونہایت خوبصورت انداز میں چھپوایا۔

اس کتاب سے منسلک کہانی یہ ہے کہ کئی سال پہلے (بقول مشتاق یوسفی مرحوم کہ مجھے پچھلے سال کی عید اور بقرعید کی تاریخیں، اپنی شادی اور بیوی کی سالگرہ کا دن کبھی یاد نہیں رہتا) تو صاحبوں مجھے بھی یاد نہیں کہ کس سال کا یہ واقعہ ہے کہ جب میرا اپنے طبی معائنہ ے سلسلہ میں آغا خان ہسپتال جانا ہوا اور واپسی میں حسب عادت میں وہاں موجود Liberty Book Shop میں گھس گیا۔ مختلف کتابوں کی ورق گردانی کے دوران میری نظر اس کتاب پہ پڑی اور میں نے فورا" اور نہایت شوق سے اس کتاب کے صفحات پلٹنے شروع کر دئیے۔ اصل جستجو یہ تھی کہ کیا ہمارے ابو، آرکیٹیکٹ سید کلیم الدین کا اس میں تذکرہ ہے کہ نہیں؟ الحمدللہ بالکل مایوسی نہیں ہوئی کہ صفحہ نمبر 146 پہ ہمارے ابو (اور اپنے انتقال تک PCATPکے چئیر پرسن) کی تصویر اور ان کے بنائے ہوئے مکان یعنی C-26, Block B, KDA Officers' Housing Society کا تذکرہ اور تصاویر موجود تھیں۔ یقینا" میرے لئے وہ ایک بہت جذباتی لمحہ تھا کیونکہ ابو کا انتقال 2002 میں ہو چکا تھا لہذا اس طرح سے ان کا اچانک سے حوالہ سامنے آجانا وہ بھی کسی عمدہ کتاب کے ایک باب کے طور پر، یقینا" ایک ناقابل
بیان احساس سے آپ کو سرشار کر جاتا ہے۔

میں نے اسی وقت وہ کتاب خریدی اور غالبا" ہماری امی مرحومہ کی اگلی سالگرہ پہ انہیں تحفہ میں پیش کر دی۔ امی کی خوشی اس دن دیدنی تھی اور ڈھیروں دعائیں انہوں نے مجھے دے ڈالیں۔۔۔ رب ارحمھما کما ربیانی صغیرا!

پھر وقت گزرتا چلا گیا اور ایک دن وہ آیا جب ہم سب بہن بھائی اس بات پہ متفق ہوگئے کہ اب ہم سب کو اپنے ذاتی گھروں کی ضرورت ہے اور چونکہ ان اس گھر کو maintain کرنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے لہذا اب اسے بیچ دینا چاہئیے۔

ایک دن وہ گھر بک گیا اور اس دوران ہم سب اپنا اپنا سامان سنبھالنے میں یوں مصروف ہوئے کہ بہت سی دوسری چیزوں کے ہمراہ یہ کتاب کہیں کھوگئی۔۔۔ آسمان کھا گیا یا زمین نکل گئی بہر حال ہماری اجتماعی نالائقی تھی کہ پھر وہ کتاب نا ملی۔ ہماری والدہ مرحومہ کیلئے یہ ایک بہت تکلیف دہ بات تھی اور اپنے انتقال تک وہ اس پہ دکھی رہیں۔

کئی سال گزرے کہ ابھی کوئی ڈیڑھ ہفتہ پہلے میری، اسلام آباد میں مقیم، سب سے چھوٹی بہن منیبہ نے ہم بہن بھائیوں کے WhatsApp گروپ پہ اسی کتاب کے انہی، ابو کے تذکرہ والے، صفحات کی تصاویر بھیجیں جو اسے ہماری چھوٹی خالہ کی بیٹی، فرح، نے بھیجی تھیں۔ وہ تصویریں یقینا" ہم سب کو ایکبار پھر سے جذباتی کر گئیں۔ میں نے خود ان تصاویر کو بار بار دیکھا تو احساس ہوا کہ یہ کسی page سے لی ہوئی ہیں۔ اب مجھے جستجو شروع ہوئی اور میں نے سب سے پہلے مختار حسین صاحب کو Google کیا، پھر ان کی کمپنی کی Website تلاش کی، پھر اس Website کے Contact Us والے حصہ میں گیا تو وہاں کوئی فون نمبروں درج نہیں تھا البتہ Email بھیجنے کا option ضرور موجود تھا۔ میں نے اللہ کا نام لے کر اور مختار حسین صاحب کو مخاطب کر کے اپنا تعارف کروایا اور Email بھیج دی۔ اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ 15-10 منٹ میں ہی مختار صاحب کا جواب آگیا جس میں انہوں نے میرے والد کے ساتھ اپنے تعلقات اور ان کیلئے نہایت عزت کا اظہار کیا تھا۔

قصہ مختصر، میں نے مختار صاحب سے پوچھا کہ کیا اس کتاب کی کوئی کاپی موجود ہے جس پہ ان کا جواب سن کے میری خوشی کی انتہا نا رہی کہ "جی چند کاپیاں موجود ہیں"۔ میں نے مختار صاحب سے اجازت لی اور کل بروز 5 دسمبر میں ان کے گھر پہنچ گیا۔ ان کا آفس بھی اسی گھر کے بیسمنٹ میں ہے۔ بہت شفقت سے ملے، پرانے واقعات بتائے، اپنے آٹو گراف کے ساتھ کتاب میرے حوالے کی اور میری درخواست پہ ایک سیلفی بھی بنوائی۔

تو صاحبوں یہ تھی اس کتاب کی کہانی اور اللہ پاک کے فضل اور مختار حسین صاحب کی مہربانی سے اب ہم بھائی بہن دوبارہ سے اس کتاب کے مالک ہیں جو یقینا ہمارے لئے ایک جذباتی ورثہ ہے اور ہم چاروں مختارحسین صاحب کے بار بار مشکور ہیں اور دعا گو ہین کہ اللہ پاک انہیں خوش اور سلامت رکھیں، آمین۔

گلہری کہانی!!آج صبح بیٹی کو اس کے اسکول چھوڑ کر واپس آرہا تھا تو ایسے ہی خیال آیا کہ کراچی میں کیا کچھ بدل گیا ہے۔ یعنی ...
19/02/2024

گلہری کہانی!!
آج صبح بیٹی کو اس کے اسکول چھوڑ کر واپس آرہا تھا تو ایسے ہی خیال آیا کہ کراچی میں کیا کچھ بدل گیا ہے۔ یعنی تمیز تہذیب کا تو ذکر ہی کیا کیجئے اگر دوسری، شاید بہت سوں کیلئے بہت "غیر اہم"، چیزوں کا ذکر کریں تو صرف پرندوں کو ہی لے لیجئے تو کسی زمانہ میں کراچی کے ساحلوں پہ Flamingos نظر آتے تھے، اکثر طوطوں کی آوازیں بھی آتی تھیں اور ان کی کوئی ڈار بھی کبھی کبھی بھرا مار کر آپ کے اوپر سے بھی گذر جایا کرتی تھی۔ سردیوں کے زمانہ میں کبھی کبھی روس سے آنے والے migratory birds/پرندوں کی ڈاریں بھی آسمان پہ بہت اونچائی پہ نظر آتی تھیں۔ جب ہم اپنے KDA Officers' Society والے گھر میں رہتے تھے تو اس گھر کے لان میں اکثر چڑیا/common sparrowکی طرح لیکن اس سے کم از کم چار گنا بڑا اور مٹیالے رنگ کا ایک بد ہئیت سا پرندہ، ہدہد، wood pecker/کھٹ بڑھئی ایک لمبی کالی دم والی سفید چڑیا اور نہایت ش*ذ و نادر ایک عدد king fisher بھی نظر آتا تھا۔ تو ان سب پرندوں کے بارے سوچتے ہوئے اچانک مجھے خیال آیا کہ کراچی کو اس بدترین حالوں میں کرنے والوں نے ایک اور بہت خوبصورت چھوٹے سے جانور یعنی گلہری کو بھی اپنی زر پرستی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے اور ایک زمانہ ہوا کسی گلہری کو دیکھے ہوئے اور ساتھ ہی دل میں ایک افسوس کی لہر بھی اٹھی۔ مگر اللہ کا کرنا یہ ہواکہ آج دوپہر کو ہی مجھے کسی کام کے سلسلہ میں محمد علی سوسائٹی آنا پڑا اور میں گاڑی میں بیٹھا ایک صاحب کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک ایک بنگلہ کی دیوار پہ مجھے ایک گلہری بی دوڑتی نظر آئیں اور ان سطور کے لکھے جانے تک وہ اس بنگلہ کے ایک درخت کی ٹہنی پہ بیٹھ چکی تھیں۔ میں نے ایک دو تصویریں بنانے کی کوشش کی ہے مگر بہت صاف نہیں اسکیں کہ گلہری بی درخت کے ہم رنگ لباس میں ملبوس تھیں😊 بہر حال ڈھارس ہوئی کہ، الحمدللہ، سب کچھ ابھی برباد نہیں ہوا ہے۔

18/02/2024

بیاد سیدہ کلیم۔۔۔ میری امی!!

پیر 23 نومبر، 2020 کی صبح کے پونے تین ہونے والے ہیں۔ یہ لگ بھگ وہ وقت ہے کہ جب آج ہی کے روز 16 نومبر، 2020 کو ہماری اماں کو اللہ میاں کے ہاں گئے اور ہم بھائی بہنوں کی یتیمی کو مکمل ہوئے آٹھ روز ہو گئے۔

امی پچھلے سوا سال سے میری چھوٹی بہن منیبہ (مونا) کے ہاں اسلام آباد میں قیام پذیر تھیں اور 16 نومبر بروز پیر علی الصبح اپنے رب کے پاس کلمہء طیبہ اور درود شریف پڑھتی ہوئی حاضر ہو گئیں۔ ذیابیطس کی انسولین کی حد تک مریضہ ہونے کے باوجود میٹھا بہت پسند تھا اور اسی لئے اللہ میاں نے اپنی اس نیک روح کو اپنے پاس بلانے سے پہلے ان کے لئے دو چمچ خالص شہد کھانے کا انتظام بھی فرما دیا۔۔۔ بلا شبہ ایک نہایت با سعادت اور قابل رشک موت!

اسلام آباد اور پنڈی میں تحریک لبیک کے دھرنے اور جلسے کی وجہ سے جڑواں شہروں میں مکمل cordon کے باعث جس مشکل سے اور سوا تین گھنٹے میں بذریعہ ٹیکسی، پیدل چل کر، سوزوکی کیری ڈبہ اور پھر میری بہن کی گاڑی کے ذریعے اسلام آبادائیرپورٹ سے میں، میری بیوی (مشعل)، میرا بھائی (ڈاکٹر عمر) اور اس کی بیوی (ڈاکٹر حنا) میری بہن کے گھر پہنچے ہیں وہ اللہ پاک ہی جانتے ہیں مگر اس تمام زحمت کا صلہ یہ ملا کہ امی کی تدفین کے تمام امور، الحمدللہ، بہت بہترین طور پہ انجام پائے۔ نہ صرف یہ کہ اللہ پاک کے حکم سے امی کو ایک نہایت صاف ستھرے قبرستان میں بہت اچھی قبر نصیب ہوئی بلکہ میرے بہنوئی شکیب کے تمام محلہ دار آخر وقت تک موجود رہے۔ میرے بھائی اور میرے بھانجے (مجتبی) نے امی کو قبر میں اتارا اور میں نے قبر میں اتر کر کفن کے بند کھولے اور امی کا چہرہ قبیلہ رخ کیا اور اپنے ہاتھوں سے اپنی انتہائی شفیق، مہربان، محبتی، مہمانوں کا بے حد اکرام کرنے والی، انتہائی وضع دار، شاندار، جامہ زیب، نہایت خوبصورت، بے حد نیک سیرت، عزیز و اقارب اور رشتہ داروں کو جوڑ کر رکھنے والی،میکہ سے زیادہ سسرال کو regard دینے والی اور ہم چاروں بھائی بہنوں کیلئے ہردم دعا گو رہنے والی ماں کو قبر کے حوالے کر کے آگئے۔

"یآیتھا النفس المطمئنتہ ہ ارجعی الی ربک راضیتہ" مرضیتہ ہ فادخلی فی عبادی ہ وادخلی جنتی ہ (سورہ الفجر - آیات 30 - 28)"

"اے نفس مطمئن چل اپنے رب کے پاس اس حال میں کہ تو (اپنے انجام نیک سے) خوش (اور اپنےرب کے نزدیک) پسندیدہ ہے۔ شامل ہو جا میرے (نیک) بندوں میں اور داخل ہو جا میری جنت میں۔"

امی اکثر کہا کرتی تھیں اور آخری بار انتقال سے دو روز پہلے مجھ سے یہ کہا تھا کہ "ظفر میں اپنی تمام اولاد، بہووءں، دامادوں، نواسے، نواسیوں، پوتی، پوتوں کیلئے دعا کرتی ہوں مگر شاید سب سے زیادہ دعا میں تمھارے لئے کرتی ہوں" اور اسی بات کو میرے بھائی، بہن اور بہنوئی شکیب نے بھی دہرایا۔۔۔۔ تو بھائی میرا تو شدید ذاتی نقصان ہو گیا ہے۔۔۔ میری زندگی کے بیابان میں جو رحمت کا بادل اور کرم کی بارش تھی وہ یکلخت مجھ سے دور ہو گئے۔

دنیا کی کینسر کے نام سے روح فنا ہوتی ہے اور ہماری امی نے ایک کینسر (Parotid Gland) سے صحتیاب ہونے کے باوجود دو سال پہلے Breast Cancer کی خبر سنی اور اس کو کمال صبر اور شکر سے جھیلا۔ مجھے یاد ہے کہ میں، میری بہن مونا اور میری بھاوج ڈاکٹر حنا جب امی کو کراچی کے آغا خان ہسپتال ایک لیڈی سرجن جو کہ امی کو just another semi literate person سمجھ کر کافی دیر تک اپنی دانست میں اردو میں مرض سے آگاہی دیتی رہیں تو بالآخر میں نے ڈاکٹر صاحبہ سے کہا کہ آپ کھل کے ان کو انگریزی میں سمجھائیں۔۔۔ ہماری امی نے M. Sc. Microbioloy کیا ہوا ہے جس پہ امی تو کھلکھلائیں ہی تھیں؛ ڈاکٹر صاحبہ کو بھی سانس آئی اور کہنے لگیں کہ "آپ پہلے ہی مجھے بتا دیتیں تو مجھے آپ کو سمجھانے میں اتنی محنت نہ کرنی پڑتی"

امی نے پچھلے کئی سالوں سے، خصوصا"، ہمارے ابو کے انتقال (2002) کے بعد سے قرآن پاک، اس کا ترجمہ اور خصوصا" تفسیر پڑھنے کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا۔۔۔ ڈاکٹر اسرار احمد اور محترمہ فرحت ہاشمی کے لیکچرز بھی نہایت باقاعدگی اور توجہ سے سنا کرتی تھیں اور میرے خیال میں یہ ان کا اپنے رب کے ساتھ انتہائی مظبوط تعلق ہی تھا کہ جس نے انہیں نہ صرف اپنی زندگی میں مضبوطی عطا کی بلکہ روح اور جسم کا رشتہ ٹوٹتے وقت کلمہء طیبہ اور درود شریف کی سعادت بھی بخشی۔

ہماری امی کا تعلق ایک پشتو اسپیکنگ سید خاندان سے تھا اور امی کی پیدائش جے پور، ہندوستان کی تھی جہاں میرے نانا (سید ضیاء الحق) وکالت کیا کرتے تھے۔ میری نانی (انوری بیگم) کا تعلق موجودہ KPK میں اکوڑہ خٹک اور نوشہرہ کے بیچ میں واقع ایک قصبہ "شیدو" سے تھا مگر ہمارے نانا نانی نے کبھی بھی اپنی کسی بھی اولاد کو پشتو بولنے کی اجازت نہیں دی۔۔۔ ایسا کیوں کیا یہ تو وہ جانیں اور ان کا اللہ مگر ان کی اس restriction کے چکر میں ہم tri-lingual ہونے سے رہ گئے۔ کل گیارہ بہن بھائی تھے جن میں سے اب دو بھائی اور دو بہنیں حیات ہیں اور اللہ پاک سے دعا ہے کہ ان کا سایہ ہم خوردوں کے سروں پہ قائم رکھیں، آمین۔

امی کا پیار کا نام "گل" تھا اور وہ واقعتا" تھیں بھی ایسی ہی خوبصورت۔۔۔ صاف گورا رنگ، کھڑے نقوش، کتابی چہرہ۔۔۔ سچ پوچھئے تو ہمارے ابو (سید کلیم الدین) کی تو لاٹری ہی نکل آئی تھی۔ بات تو شاید پڑھنے والوں کو زیادتی کی لگے مگر امی بتاتی تھیں کہ ہماری نانی ہر نیا چاند دیکھنے سے پہلے ان کو چھت پہ لے جاتی تھیں اور آنکھیں بند کر کے دعا کرنے کے بعد امی کا چہرہ دیکھتے ہوئے آنکھیں کھولا کرتی تھیں۔

بڑی بھرپور بیوی تھیں!! روزانہ ابو کو آفس جانے سے پہلے صاف رومال استری کر کے دیتی تھیں اور بڑے دل سے ابو کے جوتے بھی پالش کر دیا کرتی تھیں۔۔۔ اتنے دل سے کہ اکثر اوقات ابو مذاق میں ان سے کہتے تھے " بس کرو گل خان"۔

ہمیشہ ایک مخصوص اور دلکش مسکراہٹ سے مہمانوں کا استقبال کرتیں اور جس کسی کہ جو کام آسکتیں تو ضرور اس بات کا اہتمام کرتیں کہ اپنی ذات سے جس کو جو بھی فلاح پہنچا سکیں ضرور پہنچائیں۔ ابو کے ترکہ سے ملنے والی رقم کا ⅓ شریعت کے مطابق وہ خرچ کرچکی تھیں اور اپنی باقی قابل ادائیگی زکواہ کے بارے میں بہت فکرمند رہا کرتی تھیں۔

2011 میں جب میں بسلسلئہ ملازمت جدہ، سعودی عرب گیا تو اس سال کے رمضان کے چاند کی پہلی تاریخ کو امی ہمارے گھر آئیں تھیں اور قریب کوئی پانچ ماہ ہمارے ساتھ قیام بھی کیا تھا۔ الحمدللہ کہ اس دوران کئی دفعہ عمرے طواف اور زیارت مدینہ منورہ کی سعادت نصیب ہوئی اور ہر طواف اور عمرہ جو کہ میری بیوی، مشعل، انہیں وہیل چیئر پہ کرواتی تھی، کہ بعد اسے ڈھیروں دعائیں دیا کرتی تھیں۔ اللہ پاک ان تمام دعاوءں کو ہم سب کیلئے دنیا اور آخری کی کامیابی کا سبب بنا دیں، آمین یا رب العالمین۔

آخری دنوں میں امی کافی کمزور ہو گئی تھیں اور خوراک بھی بہت ہی کم ہو گئی تھی۔ پچھلے رمضان میں حالت اسقدر خراب ہوئی تھی کہ ہم سب کے ہاتھ پاوءں پھول گئے تھے کہ شاید امی بیماری کا یہ اسپیل برداشت نہ کر پائیں مگر اللہ پاک کو ان کی زندگی منظور تھی سو ٹھیک ہو گئیں تھیں۔ میری بھاوج ڈاکٹر حنا (جو کہ ماشاءاللہ ایک بہت اچھی اور سمجھدار ڈاکٹر ہے) پہ اپنی بیماری کے معاملے میں بہت اعتماد کرتی تھیں۔

امی نہ صرف اپنے سسرالیوں کی شرافت کی دل سے معترف تھیں بلکہ انہوں نے بہت زبردست طریقہ سے اپنی سسرال کو نبھایا بھی اور ان کے سسرالیوں نے بھی انہیں وہ عزت اور مان دیا کہ جس کی وہ مستحق تھیں۔ بقول میرے کزن ریحان بھائی کہ "ممانی گل کو کبھی کسی کی برائی کرتے نہیں سنا بلکہ اگر ان کے سامنے کبھی کسی کی برائی کرو بھی تو بس زور سے اونہوں کر کے ٹوک دیا کرتی تھیں"۔ اکثر مجھ سے کہا کرتی تھیں کہ "انسان کو کم بولنا چاہئیے، فالتو بات کا فائدہ کوئی نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ زبان کا تھوڑی دیر کا چسکا ہوتا ہے"۔

امی کی میری تائی زبیدہ صلاح الدین مرحومہ سے کافی قربت تھی اور بقول ان کی بیٹی عظمی آپا کہ امی اکثر کہا کرتی تھیں کہ "گل مجھ سے اپنی زیادہ تر باتیں شئیر کر لیا کرتی تھیں"۔ میری سب سے چھوٹی پھپو، امتہ الحفیظ، جنہیں ہم پھپو باجی کہتے ہیں کہ بقول "ایک دفعہ مجھ میں اور بھابی میں، ہمارے ابو کے انتقال کے بعد، کسی بات پہ ناراضگی ہو گئی لیکن کچھ عرصہ بعد جب میں امریکہ سے آکر ان کے گھر رکی تو ایک دن بھابی خود سے میرے پاس آئیں اور مجھ سے معافی مانگی اور ہم دونوں نے ایک دوسرے سے اپنے دل صاف کرلئے"

سسرال نبھانے کی ایک مثال تو ہمارے ناظم آباد والے گھر میں ہمارے دادا ابا اور دادی اماں (سید عالم الدین اور امتہ الوھاب ) کی وفات تک ہونے والی عید اور بقرعید کی دو سالانہ دعوتوں (فی دعوت قریبا" ستر افراد) کا اہتمام اور تیاری تھی جس میں ہماری امی تن تنہا نہ صرف 4 - 3 کھانے بناتی تھیں بلکہ اکثر تمام مہمانوں کیلئے شامی کباب بھی تلا کرتی تھیں۔ ہمارے ابو دعوتیں کرنے کے کے نہ صرف بے حد شوقین تھے بلکہ ان کا ایک خاص اسٹائل تھا کہ دعوت کا مینیو سیٹ ہونے کے بعد اکثر دعوت والے روز تک کھانے کی کوئی نہ کوئی چیز بڑھوا رہے ہوتے تھے اور امی تھوڑی سی رد و کد کے بعد ان کی فرمائش پوری کر رہی ہوتی تھیں۔

سسرال نبھانے کی دوسری بڑی مثال ہمارے کزن فرجاد بھائی کی ملتان سے آنے والی (تقریبا" 40 افراد کی) بارات تھی کہ جس کا انتظام ہماری امی نے بطور "بڑی بہو" خود اکیلے کیا۔۔۔۔ مہمانوں کا تین وقت کا ناشتہ کھانا ہو، کچن اورگھر کی صفائی ہو، مہمانوں کے بستر، تکیوں اور چادروں کا انتظام ہو یا مہمانداری سے متعلق اور کوئی امور۔۔۔ ایک جن کی طرح امی نے سب کچھ سنبھالا اور کسی کو کوئی شکایت نہ ہونے دی۔ ہماری بڑی پھپو مرحومہ (امتہ المجیب جنہیں ہم پھپو صاحب کہتے تھے) کے بقول "سیدہ ایسی تگڑی تھیں اور ایسے بھاگ بھاگ کر اور فٹافٹ کام کیا کرتی تھیں کہ ہم تو دیکھتے ہی رہ جاتے تھے"۔

میری دادی اماں کے انتقال سے پہلے ان کی تمام دیکھ ریکھ (بیڈ پین بدلنے تک) امی ہی نے کی اور بڑی خوش دلی اور حوصلے سے کی۔

ہمیشہ کہتی تھیں کہ "مجھے نفرت ہے کہ مہمان گھر میں آئے اور اس کی خاطر کیلئے کوئی چیز نہ ہو" اکثر میری بڑی پھپو ( پھپو صاحب) کا ایک جملہ quote کیا کرتی تھیں کہ "اے ہے مہمان تو دو ہی چیزوں سے خوش ہوتا ہے، کھانے سے اور باتوں سے"۔ بقول میرے ایک کزن، محسن بھائی، کہ "میں ایک دفعہ دن کے وقت چچا (ہمارے ابو) کے گھر کسی کام سے گیا تو چچی گل نے زبردستی مجھے روک کر جلدی سے پراٹھے اور آملیٹ بنایا اور کہا کہ کھائے بغیر نہ جانا"

امی نے ہم چاروں بھائی بہنوں پر ہر لحاظ سے، خصوصا"، ہماری پڑھائی پہ بہت خصوصی توجہ دی۔ میرے انٹر کے امتحانات میں امی نے مجھے Direct In-Direct سمجھانے کیلئے ایک ایسا زبردست اور جامع document تیار کر کے دیا تھا کہ مجھ جیسا جاہل بھی کسی کو یہ topic بخوبی پڑھا سکتا تھا۔

ایک اور بہت ہی اچھوتی خصوصیت جو امی میں تھی وہ یہ کہ اگر کوئی چیز کھاتے ہوئے بلکہ اولاد کے سامنے رکھتے ہوئے بھی انہیں یہ اندازہ ہو جاتا کہ ان کے بچوں میں سے کسی کو وہ چیز زیادہ پسند آگئی ہے تو بس اللہ کا ایک نام اب آپ امی کو اس میں سےایک بھی نوالہ کھلا کر تو دکھا دیں۔۔ امی کی پوری کوشش ہوتی تھی کہ وہ چیز اولاد کے حلق سے پوری پوری اتر جائے۔ بقول میری کزن عظمی آپا کہ "یہ بات صرف چچی گل میں ہی دیکھی کہ اپنے حلق کا نوالہ اولاد کے منہ میں ڈال دیتی تھیں"

امی کے ہاتھ میں زبردست ذائقہ تھا اور وہ تمام ذائقہ ان کے شوہر کی خاص دلی کی seasoned زبان اور ان کے اندازے ک مرہون منت تھا (جی ہاں ہماری اماں نے کبھی بھی کلو، گرام، ماشہ، تولہ کا حساب کئیے بغیر کھانے بنائے)۔ ویسے تو امی کے تمام ہی کھانے بہت لذیذ ہوتے تھے مگر شامی کباب، پلاوء، نرگسی کوفتے، میدہ کی میٹھی ٹکیوں اور شاہی ٹکڑوں کا تو واللہ جواب نہیں تھا۔ ہماری ایک رشتہ دار خاتون نے ہمارے ہاں پہلی بار شاہی ٹکڑے کھا کر کیا لاجواب جملہ کہا تھا کہ " یہ ہوتے ہیں شاہی ٹکڑے اور ایک ہم بناتے ہیں شاہی چیتھڑے"۔ میرے سب سے بڑے ماموں، سراج الحق سید، کو امی کے ہاتھوں کے شاہی ٹکڑے بہت پسند تھے اور اکثر بڑے چٹخارے لینے والے لہجے میں کہا کرتے تھے کہ " سیدہ (بروزن میدہ) کے شاہی ٹکڑوں پہ جو کھویا آجاتا ہے، بہت ہی لاجواب ہوتا ہے" اور میرے دوسرے ماموں، رضا الحق سید، ایک بار ہمارے ہاں عشائیہ پہ مدعو تھے، کھانے کے بعد کہنے لگے کہ " سیدہ بہت عمدہ کھانا بناتی ہے، بس گھر واپسی پہ bypass کی ضرورت پڑ جاتی ہے"

پچھلے چند سالوں سے، خصوصا"، parotid gland cancer سے صحتیاب ہونے کے بعد امی کو بہت اونچا سنائی دینے لگا تھا اور میری ایک عادت تھی کہ میں روز صبح آفس نکلنے سے پہلے امی کو فون کیا کرتا تھا اور اکثر فون کی گھنٹی نہ سننے کے باعث امی میرا فون اٹینڈ نہیں کر پاتی تھیں جس پہ تقریبا" ہر روز میں ان سے جھگڑتا تھا کیونکہ امی سے بات کئے بغیر میری تسلی نہیں ہوتی تھی۔ آخری ایک دو مہینوں سے مس کال دیکھ کر امی نے خود ہی فون کرنا شروع کر دیا تھا۔

جس زمانے میں ہمارے ناظم آباد والے گھر میں گیزر نہیں ہوتا تھا مگر کیا مجال کہ سردیوں کے موسم میں گھڑیا میں چولہے پہ گرم کئے ہوئے پانی سے نہائے بغیر انہوں نے ہمیں اسکول جانے دیا ہو اور یہ دھیان رہے کہ ہم اسکول کیلئے صبح ساڑھے پانچ بجے اٹھتے تھے کیونکہ ہماری اسکول بس ساڑھے چھ بجے آجایا کرتی تھی۔۔۔۔ اس کا مطلب ہے کہ امی کا تمام شیڈول صبح ساڑھے پانچ بجے سے بھی پہلے شروع ہو جایا کرتا تھا۔

میں امی سے بہت close تھا اور تقریبا" ہر بات ان سے شئیر کر لیا کرتا تھا اور اکثر وہ میری حماقتوں پر کبھی ہنس دیتی تھیں تو کبھی صحیح سے tight بھی کر دیا کرتی تھیں اور دو روز قبل مجھ پہ یہ حقیقت ایک بم کی طرح وارد ہوئی کہ میں اب اپنے دل کا حال کس سے اور کیونکر کہہ پاوءں گا!!

پاکستان اور پاکستان سے باہر بے تحاشہ عزیز و اقارب اور دوست احباب نے ہمیں اس انتہائی تکلیف دہ نقصان پہ جس طرح یاد رکھا، ہماری والدہ کیلئے جس خلوص سے دعا فرمائی اور جس طرح ہمارے لئے اس معاملے میں صبر کیلئے دعا گو رہے اس سب کا شکریہ ادا کرنا کم سے کم میرے بس کی بات نہیں بس اتنا کہوں گا کہ اللہ پاک سب کو ان کی پر خلوص دعاوں کیلئے بہترین آخر سے نوازیں، آمین۔

خود تو میں امی کو اب تک اپنے کسی بھی خواب میں نہیں دیکھ سکا ہوں لیکن میری بھاوج، ڈاکٹر حنا اور میری خوشنودہ ممانی (ممی) نے الحمدللہ امی کو اپنے خوابوں میں بہت ہی صحتمند اور خوش باش دیکھا ہے اور اللہ پاک سے دعا ہے کہ ان کو برزخ میں ہی ان کا جنت میں مقام دکھا دیں، آمین یا رب العالمین۔

باتیں انگنت ہیں اور وقت اور تحریر ان سب باتوں کا احاطہ کرنے سے قاصر بس آخر میں یہ دعا کہ:

اللہ پاک ہمارے ابو امی اور کل مرحومین کی تمام تقصیرات معاف فرمائیں، آمین

اللہ پاک ہمارے ابو امی اور کل مرحومین کے درجات بلند فرمائیں، آمین

اللہ پاک ہمارے ابو امی کی اور کل مرحومین کی قبور کو اپنے نور اور رحمت سے ڈھانپ لیں، آمین

اللہ پاک ہماری ابو امی اور کل مرحومین کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دیں، آمین

اللہ پاک ہمارے ابو امی کی اور کل مرحومین کی قبر میں جنت کی ٹھنڈی ہوائیں چلا دیں، آمین

اللہ پاک ہمارے ابو امی اور کل مرحومین کی قبر سے آخرت تک کی تمام منزلیں آسان فرما، آمین

اللہ پاک ہمارے ابو امی اور کل مرحومینن کو روز محشر اپنی رحمت کا سایہ اور شفقت کی نگاہ عطا فرمائیں، آمین

اللہ پاک ہمارے ابو امی اور کل مرحومین کا نامئہ اعمال بغیر حساب کتاب کے داہنے ہاتھ میں نصیب فرمائیں، آمین

اللہ پاک ہمارے ابو امی اور کل مرحومین کو پل صراط پہ سے تیزی اور روشنی کے ساتھ سواری نصیب فرمائیں، آمین

اللہ پاک ہمارے ابو امی اور کل مرحومین کو حوض کوثر پہ نبی پاک حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے آب کوثر نصیب فرمائیں، آمین

اللہ پاک ہمارے ابو امی اور کل مرحومین کو جنت الفردوس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربت میں جگہ عطا فرمائیں، آمین

18/02/2024

Assalamalaikum, Marhaba, Hello, Hola, Namaste, Sat Sri Akal, Ni Hao, Kon'nichiwa, Annyeonghaseyo, Privet, Bonjour, Ciao, Salam, Ji Aya Noon, Pakher Raghlay, Drowt to all of my family, friends and the wonderful people who I will come across.

I have created this page to connect with everyone who love life, people, literature, nature, food and above all who wish to make difference to the world no matter how small or big.

Most of the contents of this page will be in two languages - Urdu and English. I will also be uploading videos every now and then and hope you all going to enjoy those.

I look forward to make lots of new friends and meaningful relationships along the way.

Love and Peace!!

Address

Karachi

Telephone

+923492031435

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zafar's Flair posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category