Sindh supern ews

16/05/2026
14/05/2026

زندگی کا سفر بھی عجب راہوں میں بٹ جاتا ہے
کوئی خوابوں کی بلندیوں کو چھو لیتا ہے
اور کوئی انہی بلندیوں میں خود کو کھو دیتا ہے
قدیرؔ سوچتا ہے یہ کیسی ترقی کی راہیں ہیں
جہاں انسان اوپر تو جاتا ہے مگر اندر سے کہیں دور ہوتا چلا جاتا ہے
شہر کی مصروفیات کچھ اس طرح گھیر لیتی ہیں
کہ چاہ کر بھی انسان اپنے ہی قدم پیچھے نہیں موڑ پاتا
گبولؔ کہتا ہے وقت کی یہ گرفت بھی عجیب ہے
کہ بندہ آزاد دکھتا ہے مگر حقیقت میں بندھا ہوتا ہے
جو لوگ کل تک سادگی کے ساتھ جیا کرتے تھے
آج وہی لوگ ذمہ داریوں کے ہجوم میں الجھ جاتے ہیں
عبدالقدیرؔ کے لفظوں میں یہی سچ چھپا ہے
کہ ترقی صرف آگے بڑھنا نہیں ہوتی
کبھی کبھی یہ اپنے آپ سے دور ہو جانا بھی ہوتی ہے
لوگ سمجھتے ہیں وہ بدل گیا، بڑا ہو گیا
مگر وہ تو بس وقت کی دوڑ میں خاموش ہو گیا ہوتا ہے
قدیرؔ جانتا ہے کہ دل اب بھی کہیں وہیں ٹھہرا ہوتا ہے
مگر واپسی کے راستے مصروفیات کے درمیان گم ہو چکے ہوتے ہیں
گبولؔ یہ بھی مانتا ہے کہ چاہ کر بھی لوٹنا آسان نہیں ہوتا
کیونکہ وقت اجازت نہیں دیتا، حالات ساتھ نہیں دیتے
اور عبدالقدیرؔ آخر میں بس اتنا کہتا ہے
کہ بلندیوں تک پہنچنا آسان ہوتا ہے
مگر وہاں سے واپس اپنی اصل طرف آنا اکثر ممکن نہیں رہتا

14/05/2026

آنکھیں تکتی رہتی ہیں تمہاری راہیں
منزل بھی تم ہو، تمہاری راہیں بھی تمہاری
ہر آہٹ پر دل چونک اٹھتا ہے
شاید ہو یہ آمد اب کی تمہاری
رات جب خاموشی کی چادر اوڑھ لیتی ہے
تیری یاد دل میں چراغ جلا دیتی ہے
ہوا بھی تیرے ذکر میں بھیگ جاتی ہے
اور روح تیری خوشبو سے مہک جاتی ہے
کاش تم آ جاؤ کسی شام اچانک
اور یہ اداس لمحے سنور جائیں
جو خواب برسوں سے سوئے پڑے ہیں
وہ تیرے لمس سے بکھر جائیں
میں نے وقت کی ریت پر
اک نام لکھا تھا چاہت سے
بارش آئی، موسم بدلے
دل نہ بدلا محبت سے
ہر راستہ تیری طرف مڑتا دکھائی دیتا ہے
ہر چہرہ تیرا عکس لگتا ہے
قدیرؔ اب بھی اسی آس میں زندہ ہے
کہ اک دن یہ انتظار ختم ہوتا ہے
انتظار مجھ سے روز یہ پوچھتا ہے
آخر تم کب آؤ گے؟
کب اس سنسان دل کی دنیا میں
محبت کے دیپ جلاؤ گے؟
گبولؔ کی شامیں آج بھی
تیری یادوں سے سجتی ہیں
اک تیرے خیال کی خوشبو سے
یہ سانسیں چلتی رہتی ہیں
آنکھیں اب بھی در پہ ٹھہری ہیں
راہیں آج بھی کنواری ہیں
چاند بھی تنہا لگتا ہے
راتیں درد کی ماری ہیں
دل اب بھی یہی کہتا ہے
کاش تم لوٹ آؤ کسی دن
اور یہ اداس زندگی پھر سے
محبت کی روشنی سے بھر جائے۔

14/05/2026

یہ کیسی تڑپ ہے، کیسا اثر ہے تیری یادوں کا
جو روح تک اتر کر بھی سکون نہیں دیتی
نہ ہنسنے دیتی، نہ رونے دیتی
نہ جینے دیتی، نہ مرنے دیتی
اک خاموش آگ ہے جو دل میں جلتی رہتی ہے
اک بےنام سی کسک ہے جو سانسوں میں پلتی رہتی ہے
ہر لمحہ تیرا خیال دستک دیتا ہے
اور تنہائی میری قسمت پہ بس ہنستی رہتی ہے
راتیں اب چراغوں سے نہیں جلتی
صرف تیری یاد سے روشن رہتی ہیں
آنکھیں ہر آہٹ پہ چونک اٹھتی ہیں
جیسے اب بھی تیری آمد کی منتظر رہتی ہیں
قدیرؔ نے چاہا تھا خود کو سنبھال لے
مگر عشق نے پھر بکھرنے نہ دیا
وقت گزرتا رہا خاموشی کے ساتھ
پر دل نے تجھے کبھی بھلانے نہ دیا
نہ زندگی میں آگے بڑھنے دیتی ہے
نہ ماضی سے دامن چھڑانے دیتی ہے
تیری محبت اک ایسی زنجیر بنی
جو ٹوٹنے بھی نہیں دیتی، سنورنے بھی نہیں دیتی
ہوا جب خاموش راتوں میں چلتی ہے
تیرا نام ساتھ میرے چلتا ہے
اور دل کے ویران دریچوں میں
اک اداس سا چراغ جلتا ہے
عبدالقدیرؔ اب بھی اسی امید میں زندہ ہے
کہ کبھی تو یہ فاصلے مٹ جائیں گے
اور جو خواب برسوں سے ادھورے ہیں
وہ تیری ایک مسکراہٹ سے مکمل ہو جائیں گے۔

سندھ سپر نیوز
01/02/2026

سندھ سپر نیوز

Abdul qadeer gabol ceo sindh super news
01/02/2026

Abdul qadeer gabol ceo sindh super news

سندھ سلامت ساتھ سلامت
01/02/2026

سندھ سلامت ساتھ سلامت

Address

Karachi
OFFICESL

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sindh supern ews posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category