14/05/2026
زندگی کا سفر بھی عجب راہوں میں بٹ جاتا ہے
کوئی خوابوں کی بلندیوں کو چھو لیتا ہے
اور کوئی انہی بلندیوں میں خود کو کھو دیتا ہے
قدیرؔ سوچتا ہے یہ کیسی ترقی کی راہیں ہیں
جہاں انسان اوپر تو جاتا ہے مگر اندر سے کہیں دور ہوتا چلا جاتا ہے
شہر کی مصروفیات کچھ اس طرح گھیر لیتی ہیں
کہ چاہ کر بھی انسان اپنے ہی قدم پیچھے نہیں موڑ پاتا
گبولؔ کہتا ہے وقت کی یہ گرفت بھی عجیب ہے
کہ بندہ آزاد دکھتا ہے مگر حقیقت میں بندھا ہوتا ہے
جو لوگ کل تک سادگی کے ساتھ جیا کرتے تھے
آج وہی لوگ ذمہ داریوں کے ہجوم میں الجھ جاتے ہیں
عبدالقدیرؔ کے لفظوں میں یہی سچ چھپا ہے
کہ ترقی صرف آگے بڑھنا نہیں ہوتی
کبھی کبھی یہ اپنے آپ سے دور ہو جانا بھی ہوتی ہے
لوگ سمجھتے ہیں وہ بدل گیا، بڑا ہو گیا
مگر وہ تو بس وقت کی دوڑ میں خاموش ہو گیا ہوتا ہے
قدیرؔ جانتا ہے کہ دل اب بھی کہیں وہیں ٹھہرا ہوتا ہے
مگر واپسی کے راستے مصروفیات کے درمیان گم ہو چکے ہوتے ہیں
گبولؔ یہ بھی مانتا ہے کہ چاہ کر بھی لوٹنا آسان نہیں ہوتا
کیونکہ وقت اجازت نہیں دیتا، حالات ساتھ نہیں دیتے
اور عبدالقدیرؔ آخر میں بس اتنا کہتا ہے
کہ بلندیوں تک پہنچنا آسان ہوتا ہے
مگر وہاں سے واپس اپنی اصل طرف آنا اکثر ممکن نہیں رہتا