25/05/2025
چین کا چاند پر مٹی سے اینٹیں 3D پرنٹ کرنے کا منصوبہ — 2028 تک ایک نیا سنگِ میل.....
چین نے چاند پر مستقل بیس بنانے کی جانب ایک انقلابی قدم اٹھانے کا اعلان کیا ہے:
چاند کی مٹی سے 3D پرنٹ شدہ اینٹوں کی تیاری۔ یہ منصوبہ چین کے خلائی مشن Chang'e 8 کا حصہ ہے، جو 2028 میں لانچ ہونے جا رہا ہے۔
اس کا مقصد بین الاقوامی چاند تحقیقی اسٹیشن (ILRS) کی راہ ہموار کرنا ہے، اور یہ منصوبہ چاند پر رہائش کے امکانات کو حقیقی شکل دے سکتا ہے۔
زمین سے تعمیراتی سامان لے جانا نہایت مہنگا اور مشکل ہے،
اسی لیے چین "مقامی وسائل کے استعمال" (In-situ Resource Utilization) کے اصول پر کام کر رہا ہے —
یعنی چاند پر موجود مٹی کو استعمال کر کے وہیں اینٹیں تیار کی جائیں۔
یہ ٹیکنالوجی کیسے کام کرے گی؟
1. Chang’e 8 مشن ایک جدید آلہ ساتھ لے جائے گا، جو چاند کی سطح سے مٹی جمع کرے گا۔
2. پھر سورج کی روشنی کو فائبر آپٹکس کے ذریعے چاند تک پہنچایا جائے گا،
3. اور ایک خاص نظام سے اس روشنی کو مرکوز (concentrate) کر کے مٹی کو پگھلایا جائے گا۔
4. یہ عمل 1400 سے 1500 ڈگری سیلسیس (تقریباً 2730 ڈگری فارنہائٹ) درجہ حرارت پر انجام پائے گا،
5. تاکہ مٹی کو 3D پرنٹنگ کے ذریعے اینٹوں میں بدلا جا سکے۔
اس منصوبے کی اہمیت کیا ہے؟
زمین سے سامان لے جانے کی لاگت میں نمایاں کمی
چاند پر تعمیراتی ڈھانچے بنانے کا آغاز مستقبل میں مستقل قمری بیس (Lunar Base) کی بنیاد انسان کی بین الکواکبی رہائش کی طرف عملی پیش قدمی اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا, تو یہ صرف چین ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک بڑا سنگِ میل ہو گا
چاند کو رہائش کے قابل بنانے کی طرف ایک عملی قدم۔
ایک دن چاند پر گھر بنانا شاید خواب نہ رہےa