Syed Nisar Ahmed Haqyar

Syed Nisar Ahmed Haqyar روزانہ کی بنیاد پر حدیث مبارکہ اور شرعی مسائل دیکھنے کے لیے پیج فالو کریں

08/10/2026

*دعا کے بعد ہاتھوں کو چہرہ پر پھیرنا*

سوال
کیا دعا کے بعد ہاتھ منہ پر پھیرنا بدعت ہے یا نہیں ؟ ہاتھ پھیرنا درست ہے؟

جواب
دعا کے وقت ہاتھوں کو اٹھانا اور پھر دعا کے بعد ہاتھوں کو اپنے منہ پر پھیر لینا سنت ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم ﷺ جب دعا میں اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تو انہیں اس وقت تک نہ رکھتے جب تک کہ اپنے منہ پر نہ پھیر لیتے۔ (ترمذی)

ایک حدیث میں ہےحضرت مالک بن یسار رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: جس وقت تم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو تو اپنے ہاتھوں کے اندرونی رخ کے ذریعے مانگو، اس سے اپنے ہاتھوں کے اوپر کے رخ کے ذریعہ نہ مانگو۔ ایک اور روایت میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے ہاتھوں کے اندرونی رخ کے ذریعہ مانگو اور جب تم دعا سے فارغ ہو جاؤ تو اپنے ہاتھوں کو اپنے منہ پر پھیر لو (تاکہ وہ برکت جو ہاتھوں پر اترتی ہے منہ کو بھی پہنچ جائے)۔
ایک اور حدیثِ مبارک میں ہے سائب بن یزید رضی اللہ عنہما اپنے والدِ مکرم سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب دعا مانگتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تو اپنے منہ پر دونوں ہاتھوں کو پھیرتے۔

علامہ طیبی کہتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نبی کریم ﷺ دعا کے بعد ہاتھوں کو منہ پر اسی وقت پھیرتے جب کہ دعا کے وقت ہاتھوں کو اٹھاتے، اگر دعا کے وقت آپ ﷺ ہاتھوں کو نہ اٹھاتے تو انہیں منہ پر پھیرتے بھی نہیں تھے، لہٰذا نماز کی حالت میں، طواف میں، سونے کے وقت، کھانے کے بعد اور اسی طرح دیگر مواقع پر آپ ﷺ سے جو دعائیں اور دعاؤں کے وقت ہاتھوں کو اٹھانا منقول نہیں ہے تو آپ ﷺ ان مواقع پر ہاتھوں کو منہ پر پھیرتے بھی نہیں تھے۔

سنن الترمذي ت شاكر (5/ 464):
"عن عمر بن الخطاب، قال: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا رفع يديه في الدعاء، لم يحطهما حتى يمسح بهما وجهه» قال محمد بن المثنى في حديثه: لم يردهما حتى يمسح بهما وجهه: «هذا حديث غريب".

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (4/ 1536):
"وعن السائب بن يزيد عن أبيه أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا دعا فرفع يديه مسح وجهه بيديه. روى البيهقي الأحاديث الثلاثة في «الدعوات الكبير»".

(وعن السائب بن يزيد، عن أبيه «أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا دعا، فرفع يديه» ) : عطفاً على دعا (مسح وجهه بيديه) : قال ابن حجر: جواب إذا، والصواب أنه خبر كان، وإذا ظرف له. قال الطيبي رحمه الله: دل على أنه إذا لم يرفع يديه في الدعاء لم يمسح، وهو قيد حسن؛ لأنه صلى الله عليه وسلم كان يدعو كثيراً، كما في الصلاة والطواف وغيرهما من الدعوات المأثورة دبر الصلوات، وعند النوم، وبعد الأكل، وأمثال ذلك، ولم يرفع يديه، لم يمسح بهما وجهه".

مشكاة المصابيح (2/ 694):

"وَعَنْ مَالِكِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ وَلَا تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا».
وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «سَلُوا اللَّهَ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ وَلَا تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا فَإِذَا فَرَغْتُمْ فامسحوا بهَا وُجُوهكُم»". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر
144007200022
نقلہ ✍️ سیدنثاراحمدعفی عنہ
فاضل جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی
مدرس جامعہ دارالعلوم گلشن
وجامعہ مدنیہ اسلامیہ گلشن اقبال کراچی

08/10/2026
07/10/2026

بینک سے قرض لینے کا حکم
سوال
کیا بینک سے پرسنل لون یا ہاؤسنگ لون لینا جائز ہے؟

جواب
بینک مختلف کاموں کے لیے جو قرضہ دیتے ہیں وہ سودی قرضہ ہوتا ہے، یعنی اس قرض کے ذریعے نفع حاصل کرتا ہے، جس طرح سودی قرضہ دینا حرام ہے اسی طرح سودی قرضہ لینا بھی حرام ہے، اور حدیث شریف میں سود لینے اور دینے والے پر لعنت وارد ہوئی ہے،کسی بھی طرح کا سودی معاملہ کرنا اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺکے ساتھ اعلانِ جنگ ہے، لہٰذا بینک سے ذاتی خرچ کے لیے قرض لینا ہو یا مکان بنانے یا خریدنے کے لیے قرض لینا ہو، دونوں ناجائز اور حرام ہیں۔ نیز اگر کوئی شخص مکان یا کاروبار وغیرہ کے سلسلہ میں ضرورت مند ہو تو اسے چاہیے کہ کسی سے بلاسود قرض حاصل کرنے کی کوشش کرے، اور اگر بغیر سود کے قرض میسر نہ ہوتو اپنی ضروریات میں کفایت شعاری سے کام لے،اورپھر جب پیسے جمع ہو جائیں تو اُن پیسوں سے اپنی ضروریات کا بندوبست کرلے۔اس دوران جو تکالیف آئیں ان پر صبر کرنا چاہیے؛ کیوں کہ مؤمن کی نظر اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت پر ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ جس حال میں راضی ہوں اور جس عمل کے نتیجے میں آخرت کی لازوال نعمتوں کا وعدہ ہو اسے مدِ نظر رکھتے ہوئے ان شاء اللہ دنیا کے مصائب ہیچ معلوم ہوں گے۔

قرآنِ کریم میں ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ . فَإِن لَّمْ تفعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ . وَإِن كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍ ۚ وَأَن تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ .(سورة البقرة: ٢٧٨-٢٨٠)

ترجمہ: اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایاہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو، پھر اگرتم نہ کرو گے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طر ف سے اور اگر تم توبہ کرلوگےتو تم کو تمہارے اصل اموال مل جائیں گے، نہ تم کسی پر ظلم کرنے پاؤ گے اور نہ تم پر کوئی ظلم کرنے پائے گا، اور اگر تنگ دست ہو تو مہلت دینے کا حکم ہے آسودگی تک اور یہ کہ معاف ہی کردو اور زیادہ بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم کو خبر ہو۔

(بیان القرآن، ج:1، ص:200، ط: دارالاشاعت )

صحیح مسلم میں ہے:

"عن ‌جابر قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌آكل ‌الربا ومؤكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء."

(كتاب البيوع، ‌‌باب لعن آكل الربا ومؤكله، ج:٣، ص:١٢١٩، ط:دار إحياء التراث العربي)

ترجمہ:اللہ کے رسول ﷺ نے لعنت کی ہے سود کھانے والے پر، اس کے کھلانے والے پر، اس کے لکھنے والے پر اور اس کے گواہوں پر، اور فرمایا: یہ سب برابر ہیں۔

فقط واللہ اعلم

کتاب
معاملات
باب
سود / بینکاری / انشورنس / شیئرز
فصل
سودی قرضہ کی لین دین
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر
144504100598
تاریخ
22-10-2023

نقلہ ✍️ سیدنثاراحمدعفی عنہ
فاضل جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی
مدرس جامعہ دارالعلوم گلشن
وجامعہ مدنیہ اسلامیہ گلشن اقبال کراچی

07/10/2026

*مقتدی کا سجدہ سہو میں امام کے ساتھ سلام پھیرے بغیر سجدے کرنا*
(9898-No)
سوال:
اگر مقتدی امام کے ساتھ سجدہ سہو کا سلام نہ پھیر سکے اور بغیر سلام پھیرے ہی امام کے ساتھ سجدہ میں چلا جائے تو کیا اس مقتدی کا سجدہ سہو اور نماز درست ہوجائے گی؟

جواب: اگر سجدہ سہو کرتے ہوئے مقتدی نے امام کے ساتھ سلام نہیں پھیرا اور دو سجدے کرلیے تو اگرچہ ایسا کرنا مکروہ تنزیہی ہے البتہ نماز ادا ہوگئی، دوبارہ نماز دہرانے کی یا سجدہ سہو کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: (463/1، ط: دارالکتب العلمیة)
"فإن سجد قبل السلام كره تنزيها" ولايعيده لأنه مجتهد فيه فكان جائزاً‘‘.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی
نقلہ ✍️ سیدنثاراحمدعفی عنہ
فاضل جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی
مدرس جامعہ دارالعلوم گلشن
وجامعہ مدنیہ اسلامیہ گلشن اقبال کراچی

05/10/2026

مالدار والدین کے غیر صاحب نصاب بالغ لڑکے کا زکوٰۃ وصول کرنا
سوال
میں ایک طالب علم ہو ں ، میرے والد مال دار ہیں، میرا اور میرے بیوی بچوں کا خرچہ والدین برداشت کرتے ہیں، ہم ایک ہی گھر میں رہتے ہیں، میں خود صاحب نصاب نہیں ہو ں تو کیا میں زکات لے سکتا ہوں یا نہیں ؟

جواب
مال دار والدین کا بالغ بیٹا ا اگر صاحبِ نصاب نہ ہو اور ہاشمی اور سید بھی نہ ہو تو وہ زکات کا مستحق ہے ،اس کے لیے زکات لینا جائز ہے، والدین کے مال دار ہونے سے بالغ لڑکا مال دار شمار نہیں ہوتا۔ البتہ اگر والدین تمام اخراجات بسہولت اٹھاتے ہوں تو ایسے طالبِ علم کے لیے زکات نہ لینا بہتر ہے۔

الفتاوى الهندية (1/ 189):
"ولايجوز دفعها إلى ولد الغني الصغير، كذا في التبيين. ولو كان كبيراً فقيراً جاز، ويدفع إلى امرأة غني إذا كانت فقيرةً، وكذا إلى البنت الكبيرة إذا كان أبوها غنياً؛ لأن قدر النفقة لايغنيها، وبغنى الأب والزوج لاتعد غنية، كذا في الكافي". فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144007200227

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
نقلہ ✍️ سیدنثاراحمدعفی عنہ
فاضل جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی
مدرس جامعہ دارالعلوم گلشن
وجامعہ مدنیہ اسلامیہ گلشن اقبال کراچی

04/10/2026

*آب زمزم کے متعلق چند سوالات*

سوال

1۔ آبِ زم زم کو بیٹھ کر پینا چاہیے کہ کھڑے ہو کر؟

2۔ آبِ زم زم میں عام پانی زیادہ مقدار میں ملانے سے کیا اس کو آبِ زم زم کہا جا سکتا ہے ؟

3۔ آبِ زم زم کو کتنے سانس میں پینا چاہیے؟

جواب
1۔ آبِ زمزم کھڑے ہوکر پینا مستحب ہے، تاہم بیٹھ کر پینے میں کوئی گناہ نہیں۔(1)

2۔ آبِ زمزم میں عام پانی زیادہ مقدار میں ملانے سے اس پانی میں بھی زمزم کی برکت اور فضیلت منتقل ہوجاتی ہے؛ لہذا اسے آبِ زمزم کہاجاسکتا ہے۔(2)

3۔ آبِ زمزم کو بھی تین سانسوں میں پینا چاہیے، مستدرک حاکم میں ہے کہ : ایک شخص حضرت عبد اللہ بن عباس کے پاس آئے تو حضرت نے ان سےدریافت کیا کہ: کہاں سے آرہے ہو؟ ، انہوں نے جواب دیا کہ: میں زمزم پی کر آرہا ہوں، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا کہ: کیا تم نے اس طریقہ پر زمزم پیا ہے جیسا کہ پینا چاہیے تھا؟ انہوں نے سوال کیا کہ وہ طریقہ کیا ہے؟ تو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ :جب تم زمزم پیو تو قبلہ رخ ہو جاؤ، اللہ کا نام لو، اور تین سانسوں میں پانی پیو اور پیٹ بھر کر زمزم پیو، جب پانی پینے سے فارغ ہوجاؤ تو اللہ کی تعریف کرو ،اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : ہمارے اور منافقین کے درمیان فرق کرنے والی چیز یہ ہے کہ وہ زمزم سے پیٹ بھر کر پی نہیں سکتے۔(3)

حوالہ جات:

(1) کفایت المفتی :

(سوال ) آب زمزم کھڑے ہوکر لوگ پیتے ہیں اگر کوئی بیٹھ کر پیے تو کوئی گناہ ہے؟ نیز کون سا پانی کھڑے ہوکر پینا چاہیے؟

( جواب۱۱۰) آبِ زمزم کو کھڑے ہوکر پینا مستحب ہے، بیٹھ کر پینے میں کوئی گناہ نہیں ہے (۵) محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ‘ (کفایت المفتی ، کتاب الحظر و الاباحۃ 9 / 123 ط: دار الاشاعت)

المحيط البرهاني للإمام برهان الدين ابن مازة - (1 / 24):

"ومن الأدب: أن يشرب فضل وضوئه أو بعضه مستقبل القبلة إن شاء قائماً، وإن شاء قاعداً، هكذا ذكره شمس الأئمة الحلواني رحمه الله. وذكر شيخ الإسلام المعروف بخواهر زادة رحمه الله أنه يشرب ذلك قائماً قال: ولايشرب الماء قائماً، إلا في موضعين أحدهما: هذا، والثاني: عند زمزم".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (1 / 129):

"وأن يشرب بعده من فضل وضوئه) كماء زمزم (مستقبل القبلة قائما) أو قاعدا، وفيما عداهما يكره قائماً تنزيهاً".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (1 / 130):

"والحاصل: أن انتفاء الكراهة في الشرب قائماً في هذين الموضوعين محل كلام فضلاً عن استحباب القيام فيهما، ولعل الأوجه عدم الكراهة إن لم نقل بالاستحباب؛ لأن ماء زمزم شفاء وكذا فضل الوضوء".

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح - (7 / 2747):

" أو النهي عنده ليس على إطلاقه فإنه مخصص بماء زمزم، وشرب فضل الوضوء كما ذكره بعض علمائنا. وجعلوا القيام فيهما مستحباً وكرهوه في غيرهما، إلا إذا كان ضرورة، ولعل وجه تخصيصهما أن المطلوب في ماء زمزم التضلع ووصول بركته إلى جميع الأعضاء، وكذا فضل الوضوء مع إفادة الجمع بين طهارة الظاهر والباطن، وكلاهما حال القيام أعم، وبالنفع أتم، ففي شرح الهداية لابن الهمام: ومن الأدب أن يشرب فضل ماء وضوئه مستقبلاً قائماً وإن شاء قاعداً اهـ، وظاهر سياق كلام علي - رضي الله تعالى عنه - أن القيام مستحب في ذلك المقام لأنه رخصة".

(2) المحيط البرهاني للإمام برهان الدين ابن مازة - (5 / 43):

"وفي «القدوري»: إذا حلف على قدر من ماء زمزم لايشرب منه شيئاً وصبه في ماء آخر حتى صار مغلوباً وشرب منه يحنث عند محمد رحمه الله لما بيننا في «أصله»، أن الشي لايصير مستهلكاً بجنسه، ولو صبه في بئر أو حوض عظيم وشرب منه لايحنث لأنه لايدري لعل البئر تغور بما صب، والحوض إذا عظم ولعل ذلك القدر من الماء يختلط بالكل".

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع - (6 / 418):

"حلف على ماء من ماء زمزم لايشرب منه شيئاً فصب عليه ماء من غيره كثيراً حتى صار مغلوباً فشربه يحنث لما ذكرنا من أصله أن الشيء لايصير مستهلكا بجنسه ولو صبه في بئر أو حوض عظيم لم يحنث، قال: لأني لاأدري لعل عيون البئر تغور بما صب فيها ولاأدري لعل اليسير من الماء الذي صب في الحوض العظيم لم يختلط به كله".

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح - (2 / 602):

"وعن طلق بن علي رضي الله عنه، قال: خرجنا وفداً إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فبايعناه، وصلينا معه، وأخبرناه أن بأرضنا بيعة لنا، فاستوهبناه من فضل طهوره، فدعا بماء، فتوضأ وتمضمض، ثم صبه لنا في إداوة. وأمرنا، فقال: (اخرجوا فإذا أتيتم أرضكم، فاكسروا بيعتكم، وانضحوا مكانها بهذا الماء، واتخذوها مسجدا) ، قلنا: إن البلد بعيد، والحر شديد، والماء ينشف، فقال: (مدوه من الماء، فإنه لا يزيده إلا طيبا» ) ، رواه النسائي.

و في الشرح : (فقال: مدوه من الماء) ، أي: زيدوا فضل ماء الوضوء من الماء غيره، وحاصله ما قاله ابن حجر: أي صبوا عليه ماء آخر (فإنه لايزيده) ، قال الطيبي: الضمير في فإنه إما للماء الوارد أو المورود، أي: الوارد لا يزيد المورود الطيب ببركته (إلا طيباً) : أو المورود الطيب لايزيد بالوارد إلا طيباً اهـ.

ولايخفى أن الأول بالسياق أقرب، وبنسبة الزيادة أنسب، وإن قال ابن حجر: إن عكسه أولى إشارة إلى أن ما أصاب بدنه عليه السلام لايطرقه تغير، بل هو باق على غاية كماله الذي حصل له بواسطة ملامسته لتلك الأعضاء الشريفة، فكل ما مسه أكسبه طيباً اهـ".

(3) المستدرك على الصحيحين للحاكم (1 / 645):

"عن عثمان بن الأسود قال : جاء رجل إلى ابن عباس فقال : من أين جئت ؟ فقال : شربت من زمزم فقال له ابن عباس : أشربت منها كما ينبغي ؟ قال : و كيف ذاك يا أبا عباس ؟ قال : إذا شربت منها فاستقبل القبلة و اذكر اسم الله و تنفس ثلاثاً، و تضلع منها، فإذا فرغت منها فاحمد الله؛ فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : آية بيننا و بين المنافقين انهم لايتضلعون من زمزم.

هذا حديث صحيح على شرط الشيخين و لم يخرجاه إن كان عثمان بن الأسود سمع من ابن عباس".

الاختيار لتعليل المختار - (1 / 167):

"( ثم يأتي زمزم يستقي بنفسه ويشرب إن قدر ) فهو أفضل لما روي أنه عليه الصلاة والسلام أتى زمزم ونزع بنفسه دلوا فشرب ثم أفرغ ماء الدلو عليه ويستحب أن يتنفس في الشرب ثلاث مرات".

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ـ مشكول - (7 / 38):

" وكيفيته أن يأتي زمزم فيستقي بنفسه الماء ويشربه مستقبل القبلة ويتضلع منه ويتنفس مرات ويرفع بصره في كل مرة". فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144012201359

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
نقلہ ✍️ سیدنثاراحمدعفی عنہ
فاضل جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی
مدرس جامعہ دارالعلوم گلشن
وجامعہ مدنیہ اسلامیہ گلشن اقبال کراچی

Address

Gulshan
Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Syed Nisar Ahmed Haqyar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category