08/08/2026
🌾 پاکستان کے لیے گندم کی سستی ترین درآمد: ایک معاشی تجزیہ
اگر پاکستان اس وقت عالمی منڈی سے گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کرے، تو کس ملک سے گندم سب سے مناسب اور سستی پڑے گی؟ آئیے موجودہ عالمی اعداد و شمار کے مطابق اس کا ایک جائزہ لیتے ہیں۔
📊 بنیادی حساب کتاب اور تخمینہ:
عالمی مارکیٹ فیوچر ریٹ: ~ 652 سینٹ فی بشل
ڈالر کا تخمینی ریٹ: 280 روپے
شامل اخراجات: بنیادی قیمت، سمندری فریٹ (Landed Freight)، انشورنس اور پورٹ ہینڈلنگ
🌍 سپلائر ممالک کا موازنہ:
🇷🇺 روس (سب سے سستا انتخاب)
لینڈڈ لاگت (کراچی پورٹ): تقریباً 263 ڈالر فی میٹرک ٹن
پاکستانی روپوں میں قیمت: 73,500 تا 74,000 روپے فی میٹرک ٹن
40 کلو کی لاگت: تقریباً 2,900 تا 2,950 روپے
🇦🇺 آسٹریلیا اور یورپی ممالک (رومانیہ، بلغاریہ وغیرہ)
بنیادی قیمت زیادہ ہونے کے باعث یہ گندم نسبتاً مہنگی پڑتی ہے۔
40 کلو کی لاگت: کراچی پہنچنے تک تقریباً 3,200 تا 3,300 روپے
💡 نتیجہ:
موجودہ عالمی قیمتوں اور اخراجات کے مطابق اگر پاکستان گندم درآمد کرتا ہے، تو روس سے گندم منگوانا سب سے زیادہ معاشی اور فائدہ مند ثابت ہوگا، جس کی متوقع لاگت 2,900 سے 2,950 روپے فی 40 کلو رہے گی۔
(نوٹ: یہ ایک تخمینی حساب ہے۔ حقیقی درآمدی لاگت معاہدے کے وقت کے ریٹس، فریٹ چارجز اور سرکاری ڈیوٹی و ٹیکسز کے مطابق کچھ کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔)