pyaar ki azam

pyaar ki azam My name alisher

29/06/2026

...

جڏهن انسان پاڻ کان وڇڙي وڃي،
تڏهن هر ميڙ ۾ به اڪيلو رهجي وڃي ٿو. 🖤

🌿 شايد هر مسڪرائيندڙ چهري جي پٺيان هڪ خاموش ڪهاڻي لڪل هوندي آهي.

💭 هاڻي هڪ سوال توهان لاءِ...

ڇا توهان ڪڏهن ماڻهن جي وچ ۾ هوندي به پاڻ کي اڪيلو محسوس ڪيو آهي؟

يا...

ڇا توهان کي لڳي ٿو ته زندگي ۾ سڀ کان ڏکيو ڪم، پاڻ کي سنڀالڻ آهي؟

💙 پنهنجي راءِ صرف هڪ لفظ يا هڪ جُملي ۾ لکو...

"خاموشي"
"سڪون"
"ياد"
يا جيڪو لفظ توهان جي دل ۾ هجي.

🌹 الله پاڪ سڀني جي دلين کي سڪون، صبر ۽ آساني عطا فرمائي. آمين.

جيڪڏهن هي احساس توهان جي دل تائين پهتو آهي، ته هن پوسٽ کي اُن ماڻهو تائين ضرور پهچايو، جنهن کي شايد اڄ ڪنهن لفظ جي ضرورت هجي. 🤍 #خاموشي 💙













29/06/2026

خاموشي... 💙

ڪڏهن ڪڏهن آءٌ ماڻهن کان پري ٿي،
پنهنجي ئي اندر جي هڪ خاموش ڪنڊ ۾ لڪي ويندو آهيان.

اتي نه ڪو شور هوندو آهي،
نه ڪو سوال،
نه ڪا وضاحت ڏيڻ جي ضرورت.

بس...
آءٌ هوندو آهيان،
۽ منهنجي ساهن جو آواز.

ماڻهو پڇندا آهن:

"ڇا ٿيو اٿئي؟ ايترو خاموش ڇو آهين؟"

پر کين ڪيئن ٻڌايان...

جيڪو وڃايو اٿم،
اهو لفظن ۾ بيان نٿو ٿي سگهي.

اهو هڪ خواب هو...

جنهن کي قسمت نه،
پر مون پاڻ پنهنجي هٿن سان ٽوڙي ڇڏيو.

هاڻي جڏهن رات جي خاموشي ۾ اکيون بند ڪندو آهيان،
ته اهو ئي خواب وري سامهون اچي بيهندو آهي.

فرق رڳو ايترو آهي...

اڳي اهو منهنجو هو،
هاڻي رڳو منهنجي ياد آهي.

زندگي جو سڀ کان وڏو درد شايد اهو ناهي
ته ماڻهو توکان پري ٿي وڃن...

پر اهو آهي،
جڏهن تون پاڻ کان ئي پري ٿي وڃين.

۽ پوءِ هڪ ڏينهن
آئيني ۾ چهرو ته پنهنجو نظر اچي ٿو...

پر سڃاڻپ نه ٿي ٿئي. 💔

---

ڪڏهن ڪڏهن سڀ کان وڏي خاموشي،
انسان جي اندر هوندي آهي...

جيڪڏهن هي لفظ توهان جي دل تائين پهتا هجن،
ته صرف هڪ لفظ لکو:

"خاموشي..." 💙 #خاموشي 💙













محبت کا سجدہ وہ دونوں اکثر شام کے وقت اسی ساحل پر ملا کرتے تھے جہاں ڈھلتا ہوا سورج آسمان کو نارنجی رنگ سے بھر دیتا تھا۔ ...
04/06/2026

محبت کا سجدہ
وہ دونوں اکثر شام کے وقت اسی ساحل پر ملا کرتے تھے جہاں ڈھلتا ہوا سورج آسمان کو نارنجی رنگ سے بھر دیتا تھا۔ آج کی شام کچھ خاص تھی۔ ہوا میں ایک عجیب سا سکون تھا اور لہروں کا شور جیسے کوئی مدہم سا گیت گا رہا تھا۔
​اس نے دھیرے سے اس کا ہاتھ تھاما، اسے ایک ہلکا سا موڑ دیا جیسے وہ کوئی رقص کر رہے ہوں، اور پھر اچانک گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ اس کے ہاتھ پر اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے اس نے کہا:
​"میں اپنی زندگی کی ہر شام تمہارے نام کرنا چاہتا ہوں، کیا تم میرا ساتھ دو گی؟"
​سورج گواہ تھا کہ اس پل دو دل ہمیشہ کے لیے ایک ہو گئے۔ ✨
​ #محبت

03/06/2026

🌙✨
​"وہ میرے پاس ہی ہوتی ہے ہر گھڑی لیکن،
وہ ایک سایہ ہے جس کو میں چھو نہیں سکتا!"
​کچھ لوگ زندگی سے چلے جاتے ہیں، لیکن ان کی یادیں اور ان کا عکس کسی سائے کی طرح ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتا ہے۔ انسان کتنا ہی اکیلا کیوں نہ بیٹھ جائے، ماضی کی وہ محبت، وہ باتیں اور وہ چہرہ روح کے آس پاس ہی بھٹکتا رہتا ہے۔ رات کے اس سناٹے میں، جھیل کے کنارے، دل آج پھر اسی ماضی کے سائے سے محوِ گفتگو ہے۔
​کیا آپ کی زندگی میں بھی کوئی ایسا انسان ہے جس کی یادیں آج بھی آپ کے ساتھ ایک سائے کی طرح رہتی ہیں؟ کمنٹس میں اپنے دل کا حال ضرور شیئر کریں۔ 💔✍️
​ #شاعری #یادیں #ماضی

یادوں کا سایہ اور ادھوری محبت۔۔۔ 🌙✨​"وہ میرے پاس ہی ہوتی ہے ہر گھڑی لیکن،وہ ایک سایہ ہے جس کو میں چھو نہیں سکتا!"​کچھ لو...
03/06/2026

یادوں کا سایہ اور ادھوری محبت۔۔۔ 🌙✨
​"وہ میرے پاس ہی ہوتی ہے ہر گھڑی لیکن،
وہ ایک سایہ ہے جس کو میں چھو نہیں سکتا!"
​کچھ لوگ زندگی سے چلے جاتے ہیں، لیکن ان کی یادیں اور ان کا عکس کسی سائے کی طرح ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتا ہے۔ انسان کتنا ہی اکیلا کیوں نہ بیٹھ جائے، ماضی کی وہ محبت، وہ باتیں اور وہ چہرہ روح کے آس پاس ہی بھٹکتا رہتا ہے۔ رات کے اس سناٹے میں، جھیل کے کنارے، دل آج پھر اسی ماضی کے سائے سے محوِ گفتگو ہے۔
​کیا آپ کی زندگی میں بھی کوئی ایسا انسان ہے جس کی یادیں آج بھی آپ کے ساتھ ایک سائے کی طرح رہتی ہیں؟ کمنٹس میں اپنے دل کا حال ضرور شیئر کریں۔ 💔✍️
​ #شاعری #یادیں #ماضی

12/04/2026

"آخری چراغ"
​ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک نوجوان اپنی زندگی کی رفتار سے بہت پریشان تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ سب کچھ جلدی حاصل ہو جائے—کامیابی بھی، پیسہ بھی اور شہرت بھی۔ وہ اکثر سمندر کے کنارے بیٹھ کر سوچتا کہ کاش وقت اس کے ہاتھ میں ہوتا۔
​ایک شام وہاں سے ایک بوڑھا ملاح گزرا۔ اس نے نوجوان کی پریشانی بھانپ لی اور کہا: "بیٹا، دریا کی لہریں کبھی ایک ساتھ نہیں چلتیں، کوئی لہر پہلے آتی ہے اور کوئی بعد میں۔ لیکن ہر لہر کا اپنا وقت اور اپنا مقام ہوتا ہے۔"
​نوجوان نے پوچھا: "بابا، پھر میں اپنی منزل تک کیسے پہنچوں گا؟"
​بوڑھے ملاح نے مسکرا کر ایک چھوٹا سا چراغ اسے دیا اور کہا: "اس چراغ کی روشنی صرف دو قدم تک جائے گی۔ تم بس وہی دو قدم چلو، جیسے ہی تم آگے بڑھو گے، اگلے دو قدم خود بخود روشن ہو جائیں گے۔ اگر تم ایک ہی جگہ کھڑے رہ کر پوری منزل دیکھنا چاہو گے، تو اندھیرے کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔"
​نوجوان کو سمجھ آ گئی کہ زندگی میں صبر اور مستقل مزاجی ہی اصل کامیابی ہے۔ منزل ایک دم نہیں ملتی، بلکہ ہر روز چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانے سے ملتی ہے۔

07/04/2026

محبت مونکي ماريو آ، پر جيئڻ جو ڏانءُ به سيکاريو آ،
تنهنجي يادن جي خوشبوءِ سان، مون پنهنجو روح سنواريو آ۔

تنهنجي نالن جي سرگوشين ۾، راتين جا راز لڪايا آ،
هر اداس پل جي اوٽ ۾، مون تنهنجا خواب سجایا آ۔

تنهنجي مرڪ جي روشنيءَ سان، منهنجا اندھيرا هاريا آ،
تنهنجي وڇوڙي جي دردن ۾، مون پاڻ کي سڃاڻيا آ۔

محبت صرف ساڙيو ناهي، پر مونکي ٺاهيو به آهي،
تنهنجي وڃڻ کان پوءِ ئي، مون جيئڻ کي سمجهيو آهي۔ 🌹

07/04/2026

ناول ڈیش بورڈ (تعارف)
​نامِ ناول: لفظوں کی لکیر
صنف: رومانوی / ادبی
مرکزی کردار: زریاب (اردو شاعر) اور ماروی (سندھی ادیبہ)
مختصر خلاصہ: یہ کہانی دو ایسے لوگوں کی ہے جو الگ الگ زبانیں بولتے ہیں، لیکن ان کے دلوں کی دھڑکن ایک ہی نظم پر دھڑکتی ہے۔ کیا محبت کی کوئی اپنی زبان ہوتی ہے یا یہ صرف احساس کا نام ہے؟ اس کا جواب آپ کو اس سفر میں ملے گا۔
​پہلی قسط (Episode 1)
​کراچی کی تپتی دوپہر میں آرٹس کونسل کی لائبریری ہمیشہ کی طرح خاموش اور پرسکون تھی۔ زریاب اپنی پرانی ڈائری سامنے رکھے کسی الجھن میں گرفتار تھا۔ وہ ایک ایسی نظم لکھنا چاہتا تھا جو ہجوم سے ہٹ کر ہو، مگر لفظ تھے کہ جیسے اس سے روٹھ گئے تھے۔
​"اگر لفظ نہیں مل رہے، تو خاموشی کو لکھ لیں زریاب صاحب!"
​ایک کھنکتی ہوئی آواز نے سکوت توڑ دیا۔ زریاب نے چونک کر اوپر دیکھا۔ سامنے ایک لڑکی کھڑی تھی جس نے اجرک کا دوپٹہ بڑے سلیقے سے اوڑھ رکھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک اور لہجے میں سندھ کی مٹی جیسی مٹھاس تھی۔
​"آپ۔۔۔؟" زریاب کے لبوں سے بس اتنا ہی نکل سکا۔
​"میں ماروی ہوں۔ لاڑکانہ سے آئی ہوں، صرف یہ دیکھنے کہ شہر کے بڑے شاعر اپنی ڈائری میں کیا چھپاتے ہیں،" وہ مسکرا کر بولی۔
​زریاب نے اپنی ڈائری بند کر دی، لیکن اسے محسوس ہوا کہ اس لڑکی کی آمد نے اس کے بنجر کاغذوں پر ایک نئی نظم کی بنیاد رکھ دی ہے۔ ماروی نے اس کی ڈائری پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، "سائیں! محبت صرف اردو کی نزاقت میں نہیں ہوتی، کبھی سندھ کی لہروں میں اتر کر دیکھیں، وہاں عشق سچل اور لطیف کی صورت میں بولتا ہے۔"
​زریاب کو لگا جیسے آج اسے پہلی بار کوئی چیلنج ملا ہو۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ ماروی کے ساتھ یہ پہلی ملاقات اسے ایک ایسے راستے پر لے جائے گی جہاں اردو اور سندھی کے لفظ مل کر ایک انوکھی 'پیار کی نظم' بن جائیں گے۔

اگر آپ کو اس کہانی کی قسط نمبر 2 چاہیے، تو کمنٹ میں ضرور بتائیں! 👇


پیار_کی_نظم #محبت #شاعری #داستانِ_عشق #ادب

Address

Village Muhammad Yousif Nangor, MeharHaji, Taluka Mahrabpur District Naushahro Feroze
Karachi
75750

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when pyaar ki azam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category