JK EDITS

JK EDITS FOLLOW ME MY PAGE JK EDITS PLEASE

FREE PALSTINE

مسلمان نہیں ایک کافر ملک کی وزیراعظم غزہ کی آواز بن گئ، اور ہم انھیں اسرائیل کا حامی سمجھتے تھے جبکہ حال مسلمانوں کا وہی...
02/06/2026

مسلمان نہیں ایک کافر ملک کی وزیراعظم غزہ کی آواز بن گئ، اور ہم انھیں اسرائیل کا حامی سمجھتے تھے جبکہ حال مسلمانوں کا وہی ہے۔۔۔۔۔

وہ لمحہ جب ایک دائیں بازو کی رہنما نے دنیا کو چونکا دیا
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اٹلی کی وزیر اعظم جیورجیا میلونی نے اعلان کیا کہ اٹلی غزہ کی جنگ پر اسرائیل کے خلاف یورپی یونین کی پابندیوں کی حمایت کرے گا، اور کہا کہ اسرائیل کے اقدامات نے انسانی اصولوں کی خلاف ورزی کی حد پار کر لی ہے اور عام شہریوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔ یہ بیان اس لیے زلزلہ بن گیا کیونکہ میلونی کو ہمیشہ اسرائیل کی سخت حامی سمجھا جاتا تھا۔ اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے فوراً بعد میلونی نے اسرائیل کا سفر کیا تھا اور غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا تھا — لیکن اگست 2025 تک انہوں نے کہا کہ اسرائیلی آپریشن تناسب کی حد سے تجاوز کر چکے ہیں اور بہت زیادہ بے گناہ جانیں لے چکے ہیں۔ ایک مضبوط یورپی رہنما کا یہ یوٹرن — یہ محض سیاست نہیں، یہ غزہ کے 40 ہزار سے زائد شہداء کے خون کی آواز ہے جو آخرکار یورپ کے ایوانوں تک پہنچ گئی۔

اقوام متحدہ میں میلونی نے کہا کہ "اسرائیل نے حد پار کر لی" اور ان اقدامات کو "ناقابل قبول" قرار دیا۔ انہوں نے غیر رسمی طور پر تسلیم کیا کہ غزہ میں نسل کشی ہو رہی ہے، یہاں تک کہ کہا "میں ہر روز فلسطینی نسل کشی پر کام کرتی ہوں۔" میلونی نے یہ بھی کہا کہ اٹلی اسرائیلی بستیوں کی توسیع کی مذمت کرتا ہے اور کچھ اسرائیلی حکام کے پرتشدد بیانات کو ناقابل قبول سمجھتا ہے، اس لیے وہ ان کے خلاف یورپی پابندیوں کی حمایت کے لیے تیار ہے۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھنا ضروری ہے — جون 2025 میں میلونی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون کا معاہدہ پانچ سال کے لیے مزید تجدید کیا — اس کے باوجود کہ قانونی ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ یہ تعاون جنگی جرائم میں شراکت داری بن سکتا ہے۔ یعنی زبان پر مذمت، دستخط پر تعاون — یہی دوہرا معیار میلونی کی اصل سیاست کا آئینہ ہے۔

میلونی کی پالیسی میں یہ تبدیلی آسمان سے نہیں اتری — اس کی واضح وجہ یہ ہے کہ جیسا کہ یورپ کے کئی دیگر ممالک میں ہوا، سڑکوں کے دباؤ نے یہ تبدیلی لائی۔ ستمبر سے نومبر 2025 تک اٹلی کے 75 سے زائد شہروں میں احتجاج ہوئے — روم، میلان، تورین، بولونیا، نیپلز اور پالرمو میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکلے اور "قتل عام بند کرو" اور "اسرائیل کو ہتھیار نہیں" کے نعرے لگائے۔ اکتوبر 2025 میں بین الاقوامی فوجداری عدالت ICC میں میلونی، وزیر خارجہ تاجانی اور دیگر اہلکاروں کے خلاف غزہ نسل کشی میں شراکت داری کی شکایت بھی درج کرائی گئی۔ یہ وہ سیاق و سباق ہے جس میں میلونی کی "آواز" سمجھنی چاہیے — یہ ضمیر کی جاگ نہیں، عوامی طوفان کا سامنا تھا
اقوام متحدہ میں میلونی کے بیانات نے اسرائیل کے لیے بین الاقوامی حمایت کے مزید کٹاؤ کی علامت ظاہر کی، کیونکہ یہ بیان ایک ایسی یورپی رہنما کی طرف سے آیا جسے اسرائیل کا مضبوط حامی سمجھا جاتا تھا۔ اپریل 2026 میں میلونی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون کے معاہدے کی معطلی کا اعلان کیا اور کہا کہ "موجودہ صورتحال کے پیش نظر حکومت نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدے کی خودکار تجدید معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔" یہ قدم صرف اٹلی کا نہیں — برطانیہ، فرانس، کینیڈا سمیت درجنوں ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں، یورپی یونین پابندیوں پر غور کر رہی ہے، اور ICC نے اسرائیلی قیادت کے خلاف وارنٹ جاری کیے ہیں۔ دنیا بدل رہی ہے — لیکن غزہ کے بچے ابھی بھی انتظار میں ہیں

میلونی کا موقف اہم ہے، لیکن کافی نہیں۔ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر امریکی فوجی آپریشن میں اٹلی کے Sigonella اڈے کو استعمال کرنے کی اجازت مانگی اور میلونی نے انکار کیا، تو ٹرمپ نے کہا "مجھے ان سے بہت حیرت ہوئی — میں نے سوچا تھا انہیں ہمت ہے، لیکن میں غلط تھا۔" یعنی میلونی کو اپنے اتحادیوں کے غصے کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ یہی اصل امتحان ہے — غزہ کی آواز بننا آسان ہے، اس پر قائم رہنا مشکل۔ مسلم دنیا، پاکستان سمیت، کو سمجھنا ہوگا کہ صرف جذباتی بیانات سے کچھ نہیں ہوگا — اقتصادی بائیکاٹ، سفارتی دباؤ، ICJ اور ICC میں قانونی جنگ، اور اپنے ملکوں میں اسلحہ ساز ممالک کی مصنوعات کا بائیکاٹ — یہی وہ زبان ہے جو طاقتور سمجھتے ہیں۔ غزہ کے 40 ہزار شہداء کا خون مانگتا ہے کہ دنیا صرف بولے نہیں — کھڑی ہو۔

Mashallah 🥰🥰
26/05/2026

Mashallah 🥰🥰

24/05/2026

11/05/2026

25/04/2026

ناظرین 25 سے 30 منٹ میں اسرائیل تل ابیب کی حالت بالکل غزہ جیسی ہونے والی ہے ۔۔۔ جڑے رہئیے اور اللہ سے کامیابی کی دعا کرت...
04/03/2026

ناظرین 25 سے 30 منٹ میں اسرائیل تل ابیب کی حالت بالکل غزہ جیسی ہونے والی ہے ۔۔۔ جڑے رہئیے اور اللہ سے کامیابی کی دعا کرتے رہیں ۔

کیا یہ شرمناک نہیں عربوں؟ یہ سب کچھ غزہ کے بچوں کے ساتھ ہو رہا ہے جب کہ ہم بیٹھے بیٹھے دیکھتے ہیں۔ عرب کی عزت کہاں ہے؟ ک...
06/02/2026

کیا یہ شرمناک نہیں عربوں؟ یہ سب کچھ غزہ کے بچوں کے ساتھ ہو رہا ہے جب کہ ہم بیٹھے بیٹھے دیکھتے ہیں۔ عرب کی عزت کہاں ہے؟ کہاں ہے عربوں کی غیرت؟ کہاں ہے عرب کی ہمت؟ ! اردن میں فلسطینی کہاں ہیں؟ سینا کے قبائل کہاں ہیں؟ آپ اور فلسطینی ایک خون، ایک خاندان، ایک نسب ہیں۔ اے مصر کے لوگو تم خاموش کیوں ہو؟ لاٹھیاں اور پتھر لے کر سڑکوں پر کیوں نہیں آ جاتے؟ Molotov کاک کے ساتھ سڑکوں پر لے لو! باہر جاؤ اور اس ذلت آمیز حقیقت کو بدلو! اے عربو، فلسطین کے بچوں کے لیے اٹھو! اٹھو، خدا تم پر رحم کرے! فلسطین، دریا سے سمندر تک، ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔

غزہ میں جسے دنیا نے “جنگ بندی” کا نام دیا، وہ فلسطینیوں کے لیے کبھی امن نہ بن سکی۔ گولیوں کی آواز کم ضرور ہوئی، مگر موت ...
03/02/2026

غزہ میں جسے دنیا نے “جنگ بندی” کا نام دیا، وہ فلسطینیوں کے لیے کبھی امن نہ بن سکی۔ گولیوں کی آواز کم ضرور ہوئی، مگر موت کا سلسلہ رکا نہیں۔ ان دنوں میں بھی، جب عالمی کیمروں کے سامنے خاموشی کا تاثر دیا جا رہا تھا، اسرائیلی حملوں نے فلسطینی جانیں لینا جاری رکھا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنگ کے دوران نہیں، بلکہ جنگ بندی کے سائے میں مارے گئے۔
جنگ بندی کا لفظ عام طور پر تحفظ، وقفے اور سانس لینے کی مہلت کی علامت سمجھا جاتا ہے، مگر غزہ میں یہ لفظ ایک اور دھوکہ ثابت ہوا۔ گھروں کے اندر، سڑکوں پر، امداد کے انتظار میں کھڑے لوگ—سب نشانے پر رہے۔ کسی کو اس لیے مارا گیا کہ وہ غلط وقت پر باہر نکلا، کسی کو اس لیے کہ وہ ملبے کے نیچے دبے اپنے پیاروں کو ڈھونڈ رہا تھا۔
عینی شاہدین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، جنگ بندی کے دوران بھی ڈرون حملے، سنائپر فائرنگ اور محدود بمباری جاری رہی۔ ان ہلاکتوں کو اکثر خبروں میں جگہ نہیں ملی، کیونکہ وہ “جنگ” کے بڑے عنوان میں فٹ نہیں بیٹھتی تھیں۔ یوں یہ اموات خاموشی سے فہرستوں میں شامل ہوتی گئیں، بغیر کسی شور کے، بغیر کسی عالمی ردِعمل کے۔
ان میں بچے بھی تھے، عورتیں بھی، اور وہ مرد بھی جو جنگ سے بچ جانے کے بعد زندگی کی طرف لوٹنے کی کوشش کر رہے تھے۔ کچھ امدادی کارکن تھے، کچھ بے گھر خاندانوں کے سربراہ، اور کچھ وہ جن کا واحد جرم یہ تھا کہ وہ فلسطینی تھے۔ جنگ بندی نے انہیں تحفظ نہیں دیا، بلکہ ان کی موت کو کم دکھائی دینے والا بنا دیا۔
یہ حقیقت آج سوال بن کر کھڑی ہے کہ اگر جنگ بندی کے دوران بھی فلسطینی مارے جا رہے تھے، تو پھر امن کا دعویٰ کس کے لیے تھا؟ کیا جنگ بندی صرف طاقتور کے لیے ہوتی ہے، اور کمزور کے لیے محض ایک اصطلاح؟ غزہ کے یہ مقتولین اس بات کی گواہی ہیں کہ الفاظ اور زمینی حقیقت کے درمیان کتنا گہرا فرق ہو سکتا ہے۔
تاریخ ان نامعلوم لاشوں کو بھی یاد رکھے گی جو جنگ کے شور میں نہیں، بلکہ جنگ بندی کی خاموشی میں گریں۔ کیونکہ انصاف صرف بمباری کے دنوں میں نہیں، بلکہ خاموش دنوں میں ہونے والے ظلم کا حساب بھی مانگتا ہے۔












نام نہاد سیز فائر کے باوجود غزہ سے ایک ہی دن میں 33 جنازوں کا اٹھنا اس تلخ حقیقت کی گواہی ہے کہ امن معاہدہ ایک بوگس  کاغ...
02/02/2026

نام نہاد سیز فائر کے باوجود غزہ سے ایک ہی دن میں 33 جنازوں کا اٹھنا اس تلخ حقیقت کی گواہی ہے کہ امن معاہدہ ایک بوگس کاغذی کاروائی ہے اسرائیل اب بھی ظلم اور بربریت کررہا ہے اس ظلم میں کون کون شریک سب جانتے ہیں

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when JK EDITS posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category