20/09/2026
60 ایم بی خوشاب کے گاؤں کا سب سے پرانا کنواں ہے، جو صدیوں سے نسلوں کی پیاس بجھاتا آیا ہے، لیکن افسوس کہ وقت کی بے رحم موجوں نے اسے کہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ آج یہ تاریخی اثاثہ اپنی مخدوش حالت کو پہنچ چکا ہے اور یہ عظیم ورثہ اب اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔ اس کی ٹوٹی ہوئی منڈیر اور سوکھا ہوا اندرون دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔کبھی ایک دور تھا جب اس کنویں پر ہر وقت میلے کا سا سماں رہتا تھا۔ صبح سے لے کر شام تک یہاں بچوں اور بڑوں کا تانتا بندھا رہتا جو یہاں نہانے آتے تھے ۔ دوسری طرف گاؤں کی عورتیں یہاں آ کر کپڑے دھوتی تھیں، صابن کی جھاگ اور پانی کی چھپا چھپ کے درمیان زندگی کی رونقیں اپنے عروج پر ہوتی تھیں۔ پرندوں کی چہچہاہٹ کے ساتھ ہی خواتین اپنے سروں پر مٹی کے گھڑے اور تانبے کے برتن رکھے یہاں پہنچ جاتیں، اور کنویں سے پانی نکالنے کی وہ مخصوص آواز—جب رسی چرخڑی سے رگڑ کھاتی ہے—پورے ماحول میں ایک مسحور کن موسیقی گھول دیتی تھی۔یہ کنواں صرف پیاس بجھانے کی جگہ نہیں، بلکہ یہ گاؤں کا "سوشل میڈیا" بھی تھا۔ یہاں پانی بھرنے اور کپڑے دھونے کے لیے آنے والی خواتین ایک دوسرے کا حال احوال پوچھتیں، سکھ دکھ بانٹتیں اور گاؤں بھر کی خبروں کا تبادلہ ہوتا۔ کسان دن بھر کی سخت محنت کے بعد اپنے مویشیوں کو یہاں لا کر پانی پلاتے اور خود بھی ٹھنڈے پانی سے منہ ہاتھ دھو کر تروتازہ ہوتے۔آج کے جدید دور میں جہاں موٹریں، ہینڈ پمپ اور فلٹر پلانٹ آ گئے ہیں، وہاں گاؤں کا یہ سب سے قدیم روایتی کنواں اب بالکل خاموش اور ویران ہو چکا ہے۔ بہت سے کنویں وقت کی دھول میں کہیں کھو گئے ہیں، لیکن ان کی یادیں آج بھی ہمارے اور بزرگوں کے دلوں میں تازہ ہیں۔ یہ سسکتا ہوا کنواں ہمیں اس دور کی یاد دلاتا ہے جب زندگی پرسکون تھی، لوگوں کے دلوں میں خلوص تھا اور پورا گاؤں ایک خاندان کی طرح مل جل کر رہتا تھا۔ یہ کنواں سادگی، اخوت اور ہماری مٹی کی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جسے مٹنے سے بچانا ہم سب کا فرض ہے ۔