15/03/2026
دَرہ آدم خیل میں بدعنوانی اور جرگوں کی اخلاقی گراوٹ
دَرہ آدم خیل خیبر پختونخوا کا ایک تاریخی اور اہم علاقہ ہے، جو اپنی روایات، قبائلی نظام اور غیرت و وقار کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہاں صدیوں سے جرگہ نظام ایک باوقار اور معتبر ادارہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ جرگہ ہمیشہ سے انصاف، سچائی اور قبائلی اقدار کا محافظ رہا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے حالیہ برسوں میں اس نظام میں ایسی خرابیاں پیدا ہو گئی ہیں جنہوں نے اس کی اصل روح کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ خاص طور پر بعض مالکان اور جرگوں کے چند بااثر افراد پر یہ الزامات لگتے رہے ہیں کہ وہ ذاتی مفادات کے لیے انصاف کا سودا کرنے لگے ہیں۔
قبائلی معاشرے میں مالک اور مشران کو ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کا کردار نہ صرف فیصلے کرنے کا ہوتا ہے بلکہ وہ معاشرے کے اخلاقی رہنما بھی سمجھے جاتے ہیں۔ مگر جب یہی افراد ذاتی مفادات، دولت یا سیاسی فائدے کے لیے انصاف سے ہٹ کر فیصلے کرنے لگیں تو پورے نظام پر سوال اٹھ جاتے ہیں۔ دَرہ آدم خیل میں بعض لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ کوئلے کی کانوں سے متعلق تنازعات میں جرگوں کے فیصلے بعض اوقات غیر منصفانہ ہوتے ہیں، اور کچھ جرگے مبینہ طور پر مالی مفادات کے تحت فیصلے کرتے ہیں۔
کوئلہ دَرہ آدم خیل کی معیشت کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہاں کی کانوں سے ہزاروں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ لیکن جب کوئلے کے معاملات میں تنازعات پیدا ہوتے ہیں تو ان کے حل کے لیے جرگہ بلایا جاتا ہے۔ اگر جرگہ غیر جانبدار ہو تو یہ نظام بہترین انصاف فراہم کر سکتا ہے۔ مگر جب جرگے میں شامل چند افراد پر یہ تاثر پیدا ہو جائے کہ وہ پیسے یا اثر و رسوخ کے بدلے فیصلے کر رہے ہیں تو اس سے پورے معاشرے میں بداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ بعض جرگوں میں انصاف کی جگہ طاقت اور دولت کا اثر بڑھ گیا ہے۔ بعض اوقات کمزور فریق کی آواز دب جاتی ہے جبکہ طاقتور لوگ اپنی مرضی کے فیصلے کروانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں عام لوگ خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ ان کے مسائل کا منصفانہ حل نہیں ہو رہا۔
اس صورتحال کا سب سے بڑا نقصان قبائلی معاشرتی نظام کو ہوتا ہے۔ جرگہ نظام کی بنیاد ہی اعتماد، دیانت اور انصاف پر قائم ہے۔ جب یہ بنیادیں کمزور ہو جائیں تو معاشرے میں انتشار اور بے اعتمادی بڑھنے لگتی ہے۔ نوجوان نسل بھی پھر ان روایتی اداروں سے بدظن ہونے لگتی ہے اور انہیں لگتا ہے کہ انصاف حاصل کرنے کے لیے کوئی مضبوط اور شفاف نظام موجود نہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ دَرہ آدم خیل میں بہت سے ایسے معزز مشران اور مالکان بھی موجود ہیں جو آج بھی دیانت داری اور انصاف کے ساتھ فیصلے کرتے ہیں اور قبائلی روایات کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان لوگوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جرگہ نظام مکمل طور پر خراب نہیں ہوا بلکہ اسے اصلاح اور احتساب کی ضرورت ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ جرگوں کے فیصلوں میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور ایسے افراد کو آگے لایا جائے جو واقعی دیانت دار اور غیر جانبدار ہوں۔ معاشرے کے تعلیم یافتہ افراد اور نوجوانوں کو بھی اس عمل میں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ فیصلے زیادہ منصفانہ اور جدید تقاضوں کے مطابق ہو سکیں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ جرگہ نظام قبائلی معاشرے کی ایک قیمتی روایت ہے۔ اگر اس روایت کو بچانا ہے تو اس میں موجود بدعنوانی اور ذاتی مفادات کو ختم کرنا ہوگا۔ انصاف کا معیار بلند کرنا ہوگا اور ایسے فیصلے کرنے ہوں گے جو صرف سچ اور حق پر مبنی ہوں۔ جب تک دیانت، ایمان اور انصاف کو مقدم نہیں رکھا جائے گا تب تک معاشرے میں حقیقی امن اور اعتماد قائم نہیں ہو سکے