Family Entertainment Center

Family Entertainment Center Complete Family channel
(2)

آپ سب دوستوں کا بہت شکریہ جو پوسٹس کو لائک اور کمنٹ کر کے حوصلہ بڑھاتے ہیں - آپ سب دوستوں کو بھی ضرور اس پیج پہ انوائٹ کریں یا کم سے کم ایک بار اپنی وال پہ پیج کو ضرور شئیر کر دیں -
بہت شکریہ آپ سب دوستوں کا - سلامت رہیں ، مسکراتے رہیں اور مسکراہٹیں بانٹتے رہیں
Thank you very much
ایڈمن :

جلتے ہوئے کلاس رومز میں بچوں کی محافظیکم جولائی 2025 کو بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں فضائیہ کا F-7 BGI لڑاکا طیارہ ...
18/08/2026

جلتے ہوئے کلاس رومز میں بچوں کی محافظ

یکم جولائی 2025 کو بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں فضائیہ کا F-7 BGI لڑاکا طیارہ معمول کی تربیتی پرواز کے دوران فنی خرابی کے باعث مائل اسٹون اسکول اینڈ کالج کے کیمپس پر جا گرا۔ حادثے کے بعد عمارت آگ اور دھویں میں گھر گئی اور کئی بچے جلتے ہوئے کلاس رومز اور ملبے میں پھنس گئے۔

اس ہولناک منظر میں جب ہر شخص اپنی جان بچانے کے لیے باہر نکل رہا تھا، 46 سالہ انگلش ٹیچر محرین چودھری بچوں کو بچانے کے لیے بار بار جلتے ہوئے کلاس رومز میں داخل ہوتی رہیں۔

ان کے بھائی کے مطابق محرین کے اپنے کپڑوں نے بھی آگ پکڑ لی تھی، لیکن وہ رُکیں نہیں۔ وہ بچوں کو اپنی بانہوں میں اٹھا کر ایک ایک کرکے باہر نکالتی رہیں۔ درست تعداد معلوم نہ ہوسکی، تاہم بتایا گیا کہ انہوں نے کم از کم 20 بچوں کی جان بچائی۔

جب ان کے شوہر نے فون کرکے کہا کہ وہ فوراً وہاں سے نکل آئیں اور اپنے بچوں کا خیال کریں تو محرین نے جواب دیا:

"یہ بھی میرے بچے ہیں، وہ جل رہے ہیں، میں انہیں کیسے چھوڑ دوں؟"

مگر دوسروں کے بچوں کو زندگی دینے والی یہ بہادر ماں جیسی استاد خود شدید جھلسنے کے باعث اسی روز جان کی بازی ہار گئیں۔ وہ اپنے پیچھے شوہر اور دو نوعمر بیٹے چھوڑ گئیں۔

محرین چودھری نے اپنی جان قربان کرکے یہ ثابت کردیا کہ ایک حقیقی استاد کے لیے کلاس روم میں بیٹھا ہر بچہ صرف طالب علم نہیں، اپنی اولاد کی طرح ہوتا ہے۔

سلام ہے ایسی بہادر استاد کو، جس نے اپنی زندگی دے کر کئی گھروں کے چراغ بجھنے سے بچا لیے۔ 🖤

اس نے گھر سے بھاگنے کا بڑا فیصلہ کر لیا تھا فیصلے سے اپنے بوائے فرینڈ کو آگاہ کیا وہ خوشی سے چلایا یہ ہوئی نہ محبتگھر سے...
18/08/2026

اس نے گھر سے بھاگنے کا بڑا فیصلہ کر لیا تھا فیصلے سے اپنے بوائے فرینڈ کو آگاہ کیا وہ خوشی سے چلایا یہ ہوئی نہ محبت

گھر سے بھاگنے کے لیے پچھلی رات کا وقت طے پا گیا وہ چوری چھپے اپنے چند ضروری کپڑے اور چھوٹی موٹی چیزیں بیگ میں پیک کر کے مقررہ وقت کا بے چینی سے انتظار کرنے لگی اس دوران بوائے فرینڈ کی کال آگئ کہنے لگا ماں نے کوئی زیور شیور بھی بنایا ہو گا وہ بھی ہاتھ میں کر لو مشکل وقت میں کام آۓ گا

اچھا کچھ کرتی ہوں اسے پتہ تھا کے ماں نے اسکے ؟ لیے سونے کے زیورات بنا رکھے ہیں وہ ماں کے کمرے سے زیورات نکالنے کی ترکیب سوچنے لگی وقت بہت کم تھا وہ جیسے ہی ماں کے کمرے کیطرف بڑھی ماں کمرے کا دروازہ کھول کر باہر آگئی ایک لمحے کے لیے وہ ماں کو سامنے دیکھ کر سکتے میں چلی گئی

میری شہزادی اتنی رات گئے تم جاگتی پھرتی ہو اور یہ

تیار ہو کر کہاں جا رہی ہو وہ ہی تو بتانے آ رہی تھی رات

لیٹ فون آیا تھا یونیورسٹی والوں نے ایمر جنسی کچھ

کام سے بلایا ھے میری کچھ دوست بھی جا رہی ہیں آپ سو رہی تھیں ڈسٹرب نہ ہوں اس لیے آپکو اس وقتنہیں بتایا اس نے خود کو سنبھالتے ہوے جھوٹ گھڑ دیا تھا اچھا تم میرے کمرے میں ہی بیٹھو میں تمہارے لیے کچھ .... بنا کر لاتی ہوں

ماں کچن میں چلی گئی وہ ماں کے کمرے میں داخل ہوئی بہت اچھا موقع مل گیا ھے اس نے یہ سوچتے ہوے جلدی سے پیٹی کا دروازہ کھولا تو سب سے پہلے اسکی نظر اپنے لیے بنے لال رنگ کے بہت پیارے لہنگے پر پڑی جو اسکی ماں نے خاص طور پر شادی والے دن کے لیے اسکی پسند سے بنوایا تھا ماں اکثر کہتی رہتی تھی جب میری بیٹی اسے پہن کر دلہن بنے گی شہزادی لگے گی شہزادی ایک سے بڑھ کر ایک اچھا سوٹ بہترین بستر ڈنر سیٹ ٹی سیٹ اور نہ جانے کیا کیا سامنے آ رہا تھا بہت سی قیمتی اور خوبصورت چیزیں تو ایسی تھیں جو ماں نے چوری چوری بنا رکھیں تھیں جنکا علم اُسے آج ہو رہا تھا

چیزیں الٹ پلٹ کرتے کرتے آخر زیورات اس نے ڈھونڈ

ہی نکالی لیکن اسکا دل و دماغ چکرا کر رہ گیا تھا زیورات

اس سے اٹھاۓ نہیں جا رھے تھے

اس نے کمرے میں نظریں دوڑائی تو دیکھا فریج 5

مشینیں برتن سب کچھ اسکے لیے رکھا پڑا تھا ایک ماں کے کمرے میں ایک دلہن کے کمرے میں ایک دلہن کا مکملسامان پڑا تھا

ضمیر نے اسے جھنجوڑا وہ سوچوں میں گم گئی ماں کی کوکھ سے جنم لینے سے لیکر اب تک ماں باپ نے میرے لیے کیا نہیں کیا کھانا پینا پہناوا پڑھائی لکھائی چھوٹی بڑی سب خواہشات اپنا خون پسینہ ایک کر کے سب ادھورا پورا .... کیا میرے اگلے گھر کا سامان تک بنا دیا

اور میں بے فیض بے وفا کیا کرنے جا رہی ہوں مار کر اپنے ماں باپ کو خود مرنے جا رہی ہوں محبت کا سمندر گھر میں ھے اور میں محبت کا دریا سر ... کرنے جا رہی ہوں

اسکی آنکھیں بھیگ گئی تھیں اسے اپنی اعلی تعلیم اپنی حماقتوں پر خوب رونا آ رہا تھا اس دوران ماں آگئی

یہ لو میری شہزادی اپنا پسندیدہ پراٹھا کھاؤ اتنا سفر ھے یونیورسٹی کا میری شہزادی کو بھوک لگ جاتی ویسی بھی آخری دفعہ یونیورسٹی جا رہی ہو سکول سے لیکر کالج یونیورسٹی تک تیری ماں نے آجتک تجھے بغیر ناشتے کے نہیں بھیجا آج اگر تو بغیر ناشتے کے چلی جاتی تو تیری ماں کو مرتے دم تک اس بات کا دکھ رہتا

ماں کی بات سن کر بے اختیار وہ ماں کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ماں نے ماتھا چوم کر آنسو صاف کرتے ہوے پوچھا میری شہزادی کیوں رو رہی ھے وہ نظریں چراتے ہوے کہنے لگی ماں مجھ سے کتنی محبتکرتی ہو ناں؟ یہ بھی کوئی بات ہوئی اب ماں سے بڑھکر بھی بھلا کوئی محبت کر سکتا ہے ؟ اس دوران اسکے موبائل کی گھنٹی بار بار بجنے لگی اس ... نے کال کاٹتے ہوے میسج لکھا

سوری میں نہیں آ سکتی اور کبھی نہیں آ سکتی ۔ کیونکہ مجھے میری محبت میرے گھر سے ہی مل گئی ھے یہ جو ماں باپ کی محبت ہوتی ہے نہ یہ محبتوں کی ماں ہوتی ھے۔

18/08/2026

*ہم کرائے کے مکان میں رہتے ہیں تو اوپر کے پورشن میں ایک اور فیملی رہتی ہے۔۔*

پتا چلا کہ وہ دوسری کالونی میں شفٹ ہو رہے ہیں اور یہ مکان چھوڑ دیں گے۔۔
کافی اچھے اور معقول لوگ ہیں۔۔ لیکن کچھ دنوں سے میں دیکھ رہا تھا کہ بندے کا انداز کافی سیریس سیریس سا تھا۔۔ آج اتوار ہونے کی وجہ سے میں دن میں کپڑے دھو کر تار پر ڈال رہا تھا تو وہ بندہ اوپر سے سیڑھیاں اترتا نظر آیا۔۔۔
میں نے سلام کیا تو وہ رک گیا اور روکھے سے انداز میں جواب دیا۔۔
میں نے مکان کی شفٹنگ کا پوچھا تو بولا۔۔ "ہاں جا رہے ہیں ایک آدھ دن میں"۔۔
میں نے اس کے خشک لہجے کو محسوس کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ کچھ ناراض ناراض سے لگتے ہیں، کوئی ایشو ہے کیا۔۔؟
کہنے لگا۔۔"ہاں جی ایشو ہے"۔۔
میں نے کہا۔۔ "آپ مجھے بتانا پسند کریں گے"..
بولا ۔۔"جی ضرور پسند کروں گا، آپ ہر اتوار کو کپڑے دھوتے ہیں نا"؟..
میں نے کہا۔۔"جی دھوتا ہوں"..
بولا ۔۔ "وائپر بھی لگاتے ہیں اور کوکنگ بھی کرتے ہیں"؟..
میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔ "جی وہ بھی کرتا ہوں"..
کہنے لگا۔۔ "بس اسی وجہ سے ہم لوگ یہاں سے شفٹ ہو رہے ہیں، میری بیوی کہتی ہے کہ نیچے والے بھائی اگر یہ سارے کام کر سکتے ہیں تو تم کیوں نہیں کرتے"..
میں نے کھسیانے لہجے میں کہا۔۔ "مکان شفٹ کرنے سے یہ مسئلہ حل ہو جائے گا"۔۔
بولا۔۔ "بالکل ہو جائے گا۔۔ سنگل سٹوری مکان لیا ہے۔۔ دوسری کسی فیملی والا جھنجھٹ ہی نہیں ہو گا"...
وہ تو اپنی بات کر کے چلا گیا لیکن میں سوچ میں پڑ گیا کہ یار مکان تو میں نے بھی پانچ چھ تبدیل کئے ہیں لیکن کام سے تو کبھی جان نہیں چھوٹی، اس کا مطلب ہے کہ میں ہی بہت کام کا بندہ ہوں۔۔

Just for fun 🤭

شفا ہسپتال سے اگر یہ رپورٹ آ جائے کہ اس بیماری کا مؤثر علاج پاکستان میں ممکن نہیں، تو کیا پھر عمران نیازی کو علاج کے بہا...
18/08/2026

شفا ہسپتال سے اگر یہ رپورٹ آ جائے کہ اس بیماری کا مؤثر علاج پاکستان میں ممکن نہیں، تو کیا پھر عمران نیازی کو علاج کے بہانے بیرونِ ملک، بھیجنے کی راہ ہموار کی جائے گی؟

مجھے تو حالات دیکھ کر ایسا ہی لگتا ہے۔ تاہم یہ صرف میرا خدشہ اور رائے ہے، حتمی حقیقت نہیں۔ عوام کو اصل میڈیکل رپورٹ اور تمام حقائق سامنے آنے کا انتظار ہیں ۔

بہو اور نوکر میں فرق ہوتا ہےزیبا شہزادمیں صبح سے کام پہ لگی تھی ، مہمان بس آنے ہی والے تھے ۔ بیس پچیس لوگوں کا اکیلے کھا...
18/08/2026

بہو اور نوکر میں فرق ہوتا ہے
زیبا شہزاد

میں صبح سے کام پہ لگی تھی ، مہمان بس آنے ہی والے تھے ۔ بیس پچیس لوگوں کا اکیلے کھانا بنانا آسان تو نہیں لیکن بن ہی جاتا ہے ۔ کہ یہ تو تقریباً روز ہی کا کام ہے۔ چاروں نندیں اپنے میاؤں اور بچوں کے ساتھ ہر اتوار کو آتیں ۔ ساس کا فرمان ہے کہ دامادوں کو ہاتھ میں رکھنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ انھیں کھلا کھلا کر مارو ۔ اتوار کی چھٹی پہ وہ اپنے ماں باپ سے ملنے نہ چلے جائیں یا انکا کوئ بھائ بہن نہ ملنے آجائے اس کے لیئے بہتر ہے کہ انھیں ہفتہ کی رات ہی صبح ناشتے پہ مدعو کر دیا جائے کہ صبح کا ناشتہ ہمارے ساتھ کرنا ۔

مہنگائ کے اس دور میں اتنا خرچہ آسان تو نہیں لیکن ساس کا کہنا ہے کہ یہ میری بیٹیوں کا نصیب ہے جو وہ کھا کے جاتیں ہیں ۔ حلوہ پوری لینے بیٹے کو صبح ہی صبح بازار کو دوڑاتیں ۔ داماد اتنی آؤ بھگت دیکھتے تو اور پھیل جاتے ۔ کبھی پائے کھانے کی فرمائش آتی ، کبھی نہاری تو کبھی مچھلی کی ۔ کوئ آسان ڈش تو انھیں پسند ہی نہیں ۔ ایسی فرمائشیں کرتے کہ پکاتے ہوئے کھڑے کھڑے ٹانگیں اکڑ جائیں۔ اوپر سے ہر اتوار ماسی بھی چھٹی کر لیتی ہے ۔ آنے والیاں تو مہمان ہیں وہ کیسے کچھ کر سکتیں ۔ ساس جوڑوں کی مریض ، لے دے کے ایک میں ہی رہ جاتی ہوں ، اکلوتے بیٹے کی بیوی ۔

ان کے کون سے چار بھائ ہیں جو وہ باری باری سب سے لاڈ اٹھوائیں ۔ خیر سے ایک ہی تو بھائ ہے ان کا ، وہ کیوں نہ اس سے فرمائشیں کریں ۔ بہو کی تو ذمہ داری ہے گھر سنبھالنا ۔ آخر سب کچھ اسی کا ہی تو ہے ان کے بھائ سمیت ۔ بہنیں تو ہفتے میں ایک دن آتیں ہیں روز تو میں ہی ہوتی ہوں میاں کے ساتھ ۔ اب بھائ میرے حوالے کر کے اتنا تو بہنوں کا حق بنتا ہے ۔ یہ فرمان میری ساس کے ہیں ۔
ہفتے کے چھ دن بھابھی کے ایک اتوار تو ہمارا حق بنتا ہے بھائ جان پر ۔ سب سے چھوٹی لاڈ سے بانہیں بھائ کے گلے میں ڈالتے ہوئے کہتی ۔ کیوں نہیں میرا تو ہر دن میری ماں اور بہنوں کا ہے ۔

چھ ماہ کی روتی ابیہا کو سلانا مشکل ہو رہا تھا ، باہر اتنا سارا کام تھا اور یہ روئے جارہی تھی ۔ میں روہانسی ہوگئ ۔ کسی نے اسے نہیں پکڑنا تھا ۔ سو میں اسے کچن ہی میں لے آئ ۔ بھابھی کھانا کب تک تیار ہوگا ۔ نند نے ٹی وی لاونج سے آواز لگائ ۔ بچی کے رونے کی آواز سے پورا گھر گونج رہا تھا لیکن انھیں اس کی آواز نہیں آرہی تھی ، اپنے کھانے کی پڑی تھی ۔

رات گیارہ بجے سب نندیں اپنے اپنے گھروں کو رخصت ہوئیں تو میں بھی تھکن سے چور سونے کے لیئے لیٹی ہی تھی کہ چھوٹی ابیہا نے پھر رونا شروع کر دیا ۔ پتہ نہیں کیوں یہ آج چپ ہی نہیں ہو رہی تھی ۔ اسے باہر لے جاؤ شاہ میر کو غصہ آنے لگا ۔

شاہ میر مجھ سے بیٹھا نہیں جارہا باہر کیسے جاؤں ۔ چلو جی کمرے میں آیا نہیں اور تمھاری بیماری کے ڈرامے شروع ۔ مجھے بھی سکون چاہیئے ، کما کما کر تھک جاتا ہوں ۔ یہ نہیں کہ دو گھڑی خوشی کے دے دو ۔ کمرے میں آتے ہی رونا دھونا شروع کر دیتی ہو ماں بیٹیاں ۔ دو دو کام والیاں رکھ کے دی ہوئیں ہیں ، ہر سہولت میسر ہے اور پھر بھی تم ہر وقت بیزار رہتی ہو ۔ تم جیسی ناشکری عورت آج تک نہیں دیکھی ۔ جیسی تم ویسی تمھاری بیٹیاں حرام ہے جو کبھی تم لوگوں کے چہروں پہ مسکراہٹ آ جائے ، ہونہہ ۔ جاؤ اسے باہر لے جاؤ پلیز۔ ۔ ہنستے مسکراتے شاہ میر کا لہجہ کمرے میں آتے ہی بدل چکا تھا ۔ ایک ہی سانس میں وہ جانے کیا کیا کچھ کہہ گیا ۔ میں آنکھوں میں امڈتے آنسوؤں کو روکنے کی ناکام کوشش کرتے ابیہا کو لیکر کمرے سے باہر آگئ ۔

صبح کام والی آئ تو اس کے ساتھ مل کر ساراگھر صاف کیا ۔ اتنے لوگ جمع ہوں تو پھیلاوا سمیٹنے میں نہیں آتا ۔ کام والی نے بول بول کر سر درد لگا دیا تھا ۔ حالانکہ اس کا آدھے سے سے زیادہ کام تو میں کرتی ہوں ۔ بی بی اتنے سارے پیسوں میں اتنا کام میں نہیں کر سکتی ۔ آپ لوگ تو پاگل کر دیں گے کام کروا کروا کے ۔ کام والی مسلسل بول رہی تھی ۔

میں بھی تو تمھارے ساتھ لگتی ہوں مجھے بھی آدھے دیا کرو ۔ تمھیں تو کام کا معاوضہ مل جاتا ہے مجھے تو وہ بھی نہیں ملتا ، میں نے ہنس کر کہا ۔ جسے بد قسمتی سے ساس نے سن لیا ۔ اور بس پھر ۔۔۔۔۔۔۔

لوجی اب بہو اور کام والی میں کوئ فرق نہیں رہا ، جسے گھر کی مالکن کا درجہ دیا ہے وہ کمیوں جیسی باتیں کررہی ، ہے ہی چھوٹے خاندان کی ۔ ارے بی بی کام والی اور گھر کی بہو میں فرق ہوتا ہے ۔ اگر بہو نے پیسے لیکر ہی کام کرنا ہے تو بہو لانے کا فائدہ ۔ بندہ کام والیاں ہی رکھ لے ۔ لیکن یہ بات تم جیسیوں کو کون سمجھائے
۔ ساس نے اب سارا دن بولنا تھا ، جسے خاموشی سے سننے ہی میں عافیت تھی ۔

ضیاالحق کا یوم وفات: ’سی 130 کریش ہو چکا تھا۔۔۔ امریکی سفیر سمیت 30 افراد اس حادثے کا شکار ہوے آج تک سمجھ نہیں آ سکی یہ ...
18/08/2026

ضیاالحق کا یوم وفات: ’سی 130 کریش ہو چکا تھا۔۔۔
امریکی سفیر سمیت 30 افراد اس حادثے کا شکار ہوے آج تک سمجھ نہیں آ سکی یہ ایک حادثہ تھا سازش تھی یا کیا تھا . . .
کیا کہتے آپ ؟؟🤔

یہ مسلسل چوتھی بار ہے کہ سنی دیول لاہــــور آتا ہے اور وہاں مار پیٹ کر واپس بھارت چلے جاتے ہیں۔ سنی دیول کی نئی فلم ریلی...
18/08/2026

یہ مسلسل چوتھی بار ہے کہ سنی دیول لاہــــور آتا ہے اور وہاں مار پیٹ کر واپس بھارت چلے جاتے ہیں۔ سنی دیول کی نئی فلم ریلیز ہوئی ہے جس میں وہ لاہـــور کے موتی بازار میں پندرہ پاکستانیوں کو مارتا ہے، ایک ایک کو ادھر ادھر پھینکتے ہیں، جب لاہور پولیس آتی ہے تو انہیں بھی معاف نہیں کرتی، ان میں سے ایک کو الٹا لٹکا دیتا ہے وہ بے بسی سے پکارتا ہے کہ مجھے معاف کر دو،میں دوبارہ ایسا نہیں کروں گا لیکن سنی دیول نے ان کی ایک بھی نہیں سنی۔ جب سب کو مار دیتے ہیں۔۔۔ تو سنی دیول کا بیٹا سنی کو کہتا ہے کہ بابا ان کےلیے آج یہی کافی ہے اگر اسے یاد آئے تو یہ لوگ دوبارہ ایسا نہیں کریں گے اور پھر دونوں مـــیانوالی کے راستے سے بھارت واپس چلے جاتے ہیں۔۔ یہ تو شکر ہے کہ سنیل شیٹی اس بار ان کے ساتھ نہیں آئے ورنہ پتہ نہیں کیا ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔!
😔🙂🫴

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔۔کیا چھوٹے قد کے لڑکے کو قبول کرنا چاہیے تھا؟ میرا نام عالیہ ہے اور میں گوجرانوالہ سے ...
18/08/2026

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔۔
کیا چھوٹے قد کے لڑکے کو قبول کرنا چاہیے تھا؟ میرا نام عالیہ ہے اور میں گوجرانوالہ سے ہوں۔ میری شادی2025 میں ہوئی۔ یہ رشتہ میری خالہ کے بیٹے سے کیا گیا۔ یہ میری مرضی کی شادی نہیں تھی .امی نے مجھ پر بہت دباؤ ڈالا۔ مار پیٹ کی، کھانا پینا بند کر دیا۔ میں 2 بار گھر سے بھاگ کر اپنی دوست کے گھر چھپی۔ لیکن انہوں نے مجھے ڈھونڈ کر بہت مارا۔ آخر میں نے اپنے ابو کی خاطر مجبوراً ہاں کر دی۔ ابو کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔ وہ بیماری کی حالت میں تھے اور انہوں نے ہاتھ جوڑ کر کہا "بیٹا مان جاؤ"۔ میں انکار نہ کر سکی۔ امی کو صرف لالچ تھا۔ انہیں لالچ تھا کہ لڑکے کے نام *پلازہ ہے اور کرایہ آتا ہے۔ وہ کہتی تھیں "تم امیروں میں جاؤ گی، تمہاری زندگی بن جائے گی. لیکن شادی کے بعد سب کچھ بدل گیا۔

میرا قد 5.9 ہے اور میرے شوہر کا قد 4.3 ہے۔ گھر والے اور رشتہ دار انہیں پیٹھ پیچھے "چھوٹو یا کوڈو کہتے ہیں۔ یہ باتیں سن کر میرے لیے جینا بہت مشکل ہو گیا ہے۔
میں اب مارکیٹ بھی نہیں جا سکتی۔ لوگ ہمیں عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں اور باتیں کرتے ہیں۔ مجھے بہت شرمندگی ہوتی ہے۔ میرے شوہر کا مزاج بہت غصے والا ہے۔ ہر چھوٹی بات پر مجھے ٹوکتے ہیں۔ روز کہتے ہیں "تم بچہ نہیں دے سکتی، میں دوسری شادی کر لوں گا". وہ دھمکی دیتے ہیں تجھے زہر دے دوں گا، مار دوں گا"۔ اور الزام لگاتے ہیں "تو کام نہیں کرتی، موبائل چلا کر گھر کی باتیں باہر بتاتی ہے" میں سچ میں بہت تھک گئی ہوں۔ اب تو سانس لینا بھی مشکل لگتا ہے۔
اکثر کہتے ہیں . تجھ سے اچھا تو کسی جانور سے شادی کر لیتا، کسی کتی سے کر لیتا، وفادار تو ہوتی . تو بچہ صرف اس لیے نہیں کر رہی کہ یہ چھوڑ دے گی۔ لیکن میں بھی تجھے طلاق نہیں دوں گا۔ جو مرضی کر، یہیں سڑتی رہ مر۔ پیچھے نہ تیری ماں آئے گی نہ باپ۔

آپ سب بتائیں، مجھے کیا کرنا چاہیے؟
#آج کا سوال ۔۔۔

بآثر زمیندار کا استاد پر تشدد، مار مار کر سر پھاڑ دیا.عید کی چھٹیوں میں سکول بند ہوا تو زمیندار نے اپنے مویشی سکول میں ب...
17/08/2026

بآثر زمیندار کا استاد پر تشدد، مار مار کر سر پھاڑ دیا.
عید کی چھٹیوں میں سکول بند ہوا تو زمیندار نے اپنے مویشی سکول میں باندھ دئیے، آج جب سکول کھلا تو ٹیچر محمد ریاض نے سکول خالی کرنے کا کہا جس پر زمیندار نے جھگڑا کیا اور اپنے پالے ہوئے بدمعاشوں کے ساتھ مل کر سکول ٹیچر پر تشدد کیا. واقعہ گورنمنٹ پرائمری ماڈل سکول ٹھٹہ پیرا، کالیکی منڈی، ضلع حافظ آباد میں پیش آیا.
استاد محترم جناب محمد ریاض نے پولیس کو درخواست دی تو پولیس نے کہا پہلے میڈیکل کرواؤ، میڈیکل کے لیے آر ایچ سی کالیکی سے ایکسرے کیے گئے تو ڈاکٹروں نے کہا کہ صرف سر پھٹا ہے کوئی ہڈی نہیں ٹوٹی اور جب تک کوئی ہڈی نہ ٹوٹے تب تک میڈیکل رپورٹ نہیں دی جا سکتی. سٹوڈنٹس اور اساتذہ نے ہسپتال میں احتجاج کیا اور ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے نوٹس لینے کی اپیل کی.
زمیندار کے خلاف ابھی تک کارروائی نہیں کی جا سکی، اس محترم استاد کو انصاف دلانے کے کے لیے ہمیں سوشل میڈیا دوستوں کی ضرورت ہے. آپ سب اس بھائی کے لیئے آواز اٹھائیں.

17/08/2026

*ایک عجیب و غریب تاریخی واقعہ*

نیشاپور میں جب امیر ناصر الدین سبکتگین ملازمت کے زمانے میں تھے، اُس وقت ان کے پاس صرف ایک گھوڑا تھا۔ وہ اکثر اسی گھوڑے پر سوار ہو کر جنگل کی طرف جاتے اور شکار کیا کرتے تھے۔

ایک دن جنگل میں اُن کی نظر ایک ہرنی اور اُس کے ننھے بچے پر پڑی۔ سبکتگین نے گھوڑا دوڑایا اور ہرنی کے بچے کو پکڑ لیا۔ اُس کے ہاتھ پاؤں باندھے اور اپنی زین سے باندھ کر شہر کی طرف روانہ ہوگئے۔

ابھی کچھ ہی دور گئے تھے کہ پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ ہرنی بھی اُن کے پیچھے پیچھے چلی آ رہی تھی۔ اُس کے انداز اور حرکات سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ اپنے بچے کی جدائی میں بے حد پریشان اور غمگین ہے۔

یہ منظر دیکھ کر سبکتگین کا دل پسیج گیا۔ اُنہیں اُس بے زبان جانور پر رحم آگیا اور انہوں نے فوراً ہرنی کے بچے کو آزاد کر دیا۔

بچے کو آزاد دیکھ کر ہرنی بے حد خوش ہوئی۔ وہ اپنے بچے کو ساتھ لے کر جنگل کی طرف چل پڑی، مگر کچھ دور جا کر بار بار مڑ کر سبکتگین کی طرف دیکھتی، گویا اپنی خوشی اور شکرگزاری کا اظہار کر رہی ہو۔

اسی رات سبکتگین نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت کی۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

“اے ناصر الدین! تم نے ایک بے زبان جانور پر جو رحم کیا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بہت مقبول ہوا ہے۔ اس لیے تمہیں چاہیے کہ ہمیشہ رحم و شفقت کا یہی طریقہ اختیار کرو اور کبھی رحم کو اپنے ہاتھ سے نہ جانے دو، کیونکہ یہی دین و دنیا کا سرمایہ ہے۔”

سبق:
رحم و شفقت صرف انسانوں کے ساتھ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی ہر مخلوق کے ساتھ بھلائی کا نام ہے۔ کبھی کبھی ایک بے زبان مخلوق پر کیا گیا معمولی سا رحم بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہماری بڑی نیکی بن جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی تمام مخلوقات کے ساتھ رحم و شفقت کا معاملہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

*آپــــــ کا ایک ریئکٹ❤️‍🩹ہمارے لیے حوصلہ افزائی ہے*

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Family Entertainment Center posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category