18/08/2026
جلتے ہوئے کلاس رومز میں بچوں کی محافظ
یکم جولائی 2025 کو بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں فضائیہ کا F-7 BGI لڑاکا طیارہ معمول کی تربیتی پرواز کے دوران فنی خرابی کے باعث مائل اسٹون اسکول اینڈ کالج کے کیمپس پر جا گرا۔ حادثے کے بعد عمارت آگ اور دھویں میں گھر گئی اور کئی بچے جلتے ہوئے کلاس رومز اور ملبے میں پھنس گئے۔
اس ہولناک منظر میں جب ہر شخص اپنی جان بچانے کے لیے باہر نکل رہا تھا، 46 سالہ انگلش ٹیچر محرین چودھری بچوں کو بچانے کے لیے بار بار جلتے ہوئے کلاس رومز میں داخل ہوتی رہیں۔
ان کے بھائی کے مطابق محرین کے اپنے کپڑوں نے بھی آگ پکڑ لی تھی، لیکن وہ رُکیں نہیں۔ وہ بچوں کو اپنی بانہوں میں اٹھا کر ایک ایک کرکے باہر نکالتی رہیں۔ درست تعداد معلوم نہ ہوسکی، تاہم بتایا گیا کہ انہوں نے کم از کم 20 بچوں کی جان بچائی۔
جب ان کے شوہر نے فون کرکے کہا کہ وہ فوراً وہاں سے نکل آئیں اور اپنے بچوں کا خیال کریں تو محرین نے جواب دیا:
"یہ بھی میرے بچے ہیں، وہ جل رہے ہیں، میں انہیں کیسے چھوڑ دوں؟"
مگر دوسروں کے بچوں کو زندگی دینے والی یہ بہادر ماں جیسی استاد خود شدید جھلسنے کے باعث اسی روز جان کی بازی ہار گئیں۔ وہ اپنے پیچھے شوہر اور دو نوعمر بیٹے چھوڑ گئیں۔
محرین چودھری نے اپنی جان قربان کرکے یہ ثابت کردیا کہ ایک حقیقی استاد کے لیے کلاس روم میں بیٹھا ہر بچہ صرف طالب علم نہیں، اپنی اولاد کی طرح ہوتا ہے۔
سلام ہے ایسی بہادر استاد کو، جس نے اپنی زندگی دے کر کئی گھروں کے چراغ بجھنے سے بچا لیے۔ 🖤