روزمرہ کی بحث وتکرار

روزمرہ کی بحث وتکرار Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from روزمرہ کی بحث وتکرار, Grocers, پرانی انارکلی لاہور, Lahore.

چار عجیب باتیںحسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ مجھے چار واقعات زندگی میں بڑے عجیب لگے۔ آپ نے فرمایا۔1۔ ایک نوجوان ...
10/06/2026

چار عجیب باتیں
حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ مجھے چار واقعات زندگی میں بڑے عجیب لگے۔ آپ نے فرمایا۔

1۔ ایک نوجوان کے ہاتھ میں چراغ تھا تو میں نے نوجوان سے سوال کیا کہ بتاؤ یہ روشنی کہاں سے آئی تو جیسے ہی میں نے یہ پوچھا کہ یہ روشنی کہاں سے آئی اس نے پھونک مار کے چراغ بجھایا اور کہنے لگا حضرت جہاں چلی گئی وہاں سے ہی آئی تھی۔
آپ فرماتے ہیں کہ میں اس نوجوان کی حاضرجوابی پر آج تک حیران ہوں۔

2۔ ایک مرتبہ دس یا بارہ سال کی لڑکی آرہی تھی اس کی بات نے مجھے حیران کر دیا‘ کچھ دیر پہلے ہی بارش تھمی تھی‘ میں مسجد جا رہا تھا اور وہ بازار سے کوئی چیز لے کر آ رہی تھی جب ذرا میرے قریب آئی تو میں نے کہا کہ بچی ذرا سنبھل کر قدم اٹھانا‘ کہیں پھسل نہ جانا۔ تو جب میں نے یہ کہا تو اس نے آگے سے یہ جواب دیا‘ حضرت میں پھسل گئی تو مجھے نقصان ہو گا‘ آپ ذرا سنبھل کر قدم اٹھائیے گا اگر آپ پھسل گئے تو آپ کے ساتھ ایک پورا طبقہ بھی پھسل جائے گا۔آپ فرمانے لگے کہ اس لڑکی کی بات مجھے آج تک یاد ہے۔ اور میں اپنے دین پر ہمیشہ استقامت کی دعا مانگتا رہتا ہوں۔

3۔ ایک مرتبہ میں نے ایک مخنث کو دیکھا جب اسے پتہ چل گیا کہ اس نے مجھے پہچان لیا ہے تو مجھے کہنے لگا کہ میرا راز نہ کھولنا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمہارے رازوں پر پردہ ڈالیں گے۔ اس کی بات بھی مجھے آج تک یاد ہے اور میں لوگوں کے عیوب ہمیشہ چھپانے کی سعی میں ہی رہتا ہوں۔

4۔ ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا اس کے سامنے سے ایک عورت روتی ہوئی کھلے چہرے کھلے سر کے ساتھ گزری‘ اس نے سلام پھیرا تو اس عورت پر بڑا ناراض ہوا‘ کہنے لگا کہ تجھے شرم نہیں آئی‘ دھیان نہیں ‘ننگے سر کھلے چہرے کے ساتھ میرے آگے سے گزر گئی‘ میں نماز پڑھ رہا تھا۔
اس عورت نے پہلے معافی مانگی پھر کہنے لگی کہ دیکھو میرے خاوند نے مجھے طلاق دے دی اور میں اس وقت غمزدہ تھی مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ آپ نماز پڑھ رہے ہیں یا نہیں مگر حیران اس بات پر ہوں کہ میں خاوند کی محبت میں اتنی گرفتار تھی کہ مجھے سامنے سے گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا۔ جبکہ تم اللہ کی محبت میں کیسے گرفتار ہو کہ کھڑے پروردگار کے سامنے ہو اور دیکھ میراچہرہ رہے ہو۔ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس عورت کی بات مجھے آج تک یاد ہے اور واقعی ہماری نماز کا یہی حال ہے۔

10/05/2026
تحقیق کے مطابق مادہ مکڑی بچے دینے کے بعد نر مکڑی (اپنے بچوں کے باپ) کو قتل کر کے گھر سے باہر پھینک دیتی ہے۔ پھر جب اولاد...
03/05/2026

تحقیق کے مطابق مادہ مکڑی بچے دینے کے بعد نر مکڑی (اپنے بچوں کے باپ) کو قتل کر کے گھر سے باہر پھینک دیتی ہے۔ پھر جب اولاد بڑی ہو جاتی ہے، تو اپنی ماں کو قتل کر کے گھر سے باہر پھینک دیتی ہے۔ کتنا عجیب و غریب گھرانہ اوریقیناً بدترین گھرانہ ہے۔
قرآن مجید کی ایک سورت ہے” العنکبوت” ---- عنکبوت کو اردو میں “مکڑی ” کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے فرمایاہے کہ سب سے بودا یا، کمزور گھر مکڑی کا ہے - قرآن کا معجزہ دیکھیں، ایک جملے میں ہی اس گھرانے کی پوری کہانی بیان کر دی کہ “بے شک گھروں میں سے سب سے کمزور گھر عنکبوت کا ہے اگر یہ(انسان) علم رکھتے۔ ”
انسان مکڑی کے گھر کی ظاہری کمزوری کو تو جانتے تھے، مگر اس کے گھرکی معنوی کمزوری یعنی دشمنی اور خانہ جنگی سے بے خبر تھے۔ اب جدید سائنس کی وجہ سے اس کمزوری سے بھی واقف ہو گئے، اس لیے اللہ نے فرمایا اگر یہ علم رکھتے یعنی مکڑی کی گھریلو کمزوریوں اور دشمنی سے واقف ہو تے۔ اس سب کے باوجود اللہ تعالی نے ایک پوری سورت کانام اس بری خصلت والی کیڑے کے نام پر رکھا حالانکہ اس سورت کے شروع سے آخرتک گفتگو فتنوں کے بارے میں ہے۔

سورت کی ابتدا یوں ہے : ” کیا لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ اس بات پر چھوٹ جائیں گے کہ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایمان لایا ہے اور ان کو آزمایا نہیں جائے گا” اور فرمایا “لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو کہتے تو ہیں کہ ہم نے ایمان لایا ہے مگر جب ان کو اللہ کی راہ میں اذیت دی جاتی ہے، تو لوگوں کی آزمائش کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھتے ہیں۔”

ذہن میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ مکڑی کا فتنوں اور آزمائشوں سے کیا تعلق ہے؟ درحقیقت، فتنے، سازشیں اور آزمائشیں بھی مکڑی کی جال کی طرح پیچیدہ ہیں اور انسان کے لیے ان کے درمیان تمیز کرنا ان کو بے نقاب کرنا آسان نہیں ہوتا۔ مگر اللہ مدد کرے تو یہ کچھ بھی نہیں ہوتے۔ اس لیے سازشی کفار اور ان کے منافق ایجنٹوں کی تمام چالیں مکڑی کے جال سے بھی کمزور ہیں اور مسلمانوں کو اللہ کی مدد سے ان کا مقابلہ کر نے کے لیے کمر کس لینا چاہیے، یقینا بہترین انجام تو متقیوں کا ہی ہے !!

01/04/2026

غیر معمولی حسن و جمال کی مالک، انتقام کی آگ میں جلنے والی اور مضبوط مگر منفی ارادے کی حامل عرب خاتون تھی جس نے اپنی شادی کے مہر میں امیر المومنین کا سر مانگا۔ تاریخ میں بعض کردار ایسے بھی ملتے ہیں جو خود تو مرکزی حیثیت نہیں رکھتے مگر ان کے گرد بننے والے واقعات تاریخ کا دھارا بدل دیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک نام قطامہ بنتِ شجنہ (یا قطامہ بنتِ الاخضر) کا ہے، جس کا تذکرہ بالخصوص حضرت علی ابن ابی طالب کی شہادت کے ضمن میں کیا جاتا ہے۔

قطامہ کا تعلق خوارج کے ایک ایسے قبیلے سے بتایا جاتا ہے جو جنگِ نہروان میں بری طرح متاثر ہوا تھا۔ اس جنگ میں حضرت علیؓ نے خوارج کے خلاف کارروائی کی تھی، جس کے نتیجے میں قطامہ کے قریبی عزیز مارے گئے۔ یہی واقعہ اس کے دل میں انتقام کی آگ بن کر جلتا رہا۔

تاریخی روایات کے مطابق قطامہ غیر معمولی حسن و جمال کی مالک تھی۔ اسی دوران اس کی ملاقات عبدالرحمن ابن ملجم سے ہوئی، جو خود بھی خوارج کے نظریات کا حامل تھا۔ ابنِ ملجم اس کے حسن سے متاثر ہو کر اس سے نکاح کا خواہش مند ہوا۔ قطامہ نے اس رشتے کے لیے ایک غیر معمولی شرط رکھی:
مہر کے طور پر حضرت علیؓ کا قتل۔

یہ شرط بظاہر ایک ذاتی انتقام کی عکاسی کرتی تھی، مگر درحقیقت یہ اس دور کی سیاسی و مذہبی کشمکش کی علامت بھی تھی۔ ابنِ ملجم نے اس شرط کو قبول کیا اور اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ بنایا۔ بالآخر 19 رمضان 40 ہجری کو، جب حضرت علیؓ مسجدِ کوفہ میں فجر کی نماز کے لیے تشریف لائے، تو ابنِ ملجم نے زہر میں بجھی تلوار سے حملہ کیا، جو جان لیوا ثابت ہوا۔

قطامہ کا کردار یہاں ایک محرک (instigator) کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اگرچہ اصل قاتل ابنِ ملجم تھا، مگر اس کے اس اقدام کے پیچھے قطامہ کی شرط اور ترغیب کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بعض مورخین کے نزدیک وہ محض ایک ذاتی انتقام لینے والی عورت تھی، جبکہ دیگر اسے خوارج کی انتہا پسند سوچ کی نمائندہ قرار دیتے ہیں۔

یہ واقعہ ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ ذاتی رنجش، مذہبی شدت پسندی اور سیاسی اختلاف جب یکجا ہو جائیں تو نتائج کس قدر بھیانک ہو سکتے ہیں۔ حضرت علیؓ جیسی عظیم شخصیت، جو عدل، علم اور شجاعت کی علامت تھی، ایک ایسے منصوبے کا نشانہ بنی جس کی بنیاد نفرت اور انتقام پر رکھی گئی تھی۔

۔۔۔part.2 آج بھی وہ ان خرافات کے پیچھے چل رہی ہے۔۔ دنیا کے سارے نبی ایک ہی شریعت لائے تھے ایک ہی مذہب اسلام لائے تھے ۔۔۔...
01/04/2026

۔۔۔part.2
آج بھی وہ ان خرافات کے پیچھے چل رہی ہے۔۔
دنیا کے سارے نبی ایک ہی شریعت لائے تھے ایک ہی مذہب اسلام لائے تھے ۔۔۔
یہودیوں نے اسے بگاڑ کے کچھ سے کچھ کر دیا اور آج تک وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پہ اڑے ہوئے ہیں۔۔۔
آج بھی وہ سرخ گائے کی راکھ سے طہارت حاصل کریں گے اور ہیکل سلیمانی کی بنیادوں میں ڈالیں گے۔۔
اسرائیلی روایات میں اپنی جگہ جتنی بھی سچائی ہو مگر یہ تو ہمیں پتہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بشارتیں اپنی جگہ 100 فیصد صحیح ہیں کہ آخری زمانہ پھر مسلم امہ کے عروج کا زمانہ ہوگا۔۔۔
مسلم امہ سے مراد ہم خود کو نہ لیں ہم تو اپنی منافقتوں کے ساتھ اپنی تاریخ لکھ رہے ہیں ۔۔۔
اگر خدانخواستہ مسجد اقصی کو وہ مسمار کرتے ہیں جو یہودی پروٹوکول کا حصہ ہے تو پھر آپ کیا سمجھتے خود اہل عرب کے جوانوں کا ایمان جوش نہیں مارے گا؟؟
بہت ممکن ہے اہل عرب ہی ان کے لیے کافی ہو جائیں۔۔۔
اور دنیا بھر کے نو مسلم کھنچ کر ایک جگہ جمع ہو جائیں اور یہودی پروٹوکول کو دیوار سے دے ماریں۔۔۔
کیونکہ غلبہ دین اسلام کی بشارتیں تو سچی ہیں۔۔۔

اللہ کی مشیت کے تحت کیا ہونے جا رہا ہے؟؟
مستقبل کا احوال کوئی نہیں جانتا ۔۔
اہم ترین بات یہ ہے کہ ہم اس وقت شدید ترین آزمائش سے دوچار ہیں۔۔
کیونکہ ہمارا ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا اور ہمارے ہاں ان حالات میں بھی بیداری کی کوئی لہر نہیں۔۔
کم سے کم یہودی اپنی روایات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سرخ گائے کا پرچار تو کر رہے ہیں ہم تو یہ تحریک بھی نہیں اٹھا رہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آخری زمانہ اسلام کا ہوگا۔۔۔
اس غلبے کے لیے تو ہم خود کو تیار کریں۔۔
غلبہ دین ہمارے نوجوانوں کا کیریئر ہو۔۔۔
اس کے بجائے ہم بھی سرخ گائے کا پرچار کر رہے ہیں کہ کیا یہ حقیقت ہے ؟؟
ان کی حقیقتوں کا ہمارے دین و ایمان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔

01/04/2026

part.1
فرض کیجیے وہ پانچ لال بے داغ گائیں اپنے متعلقہ مقام تک پہنچ چکی ہیں ۔۔۔
پھر انہیں ذبح کر کے ان کی خاک بنا کر اس کو ہیکل سلیمانی کی دیواروں میں ڈالا جائے گا۔۔۔
اس خاک سے ہزاروں یہودی طہارت حاصل کریں گے۔۔۔
پھر تابوت سکینہ بھی ان کی مدد کو پہنچ جائے گا۔۔۔
دجال جس کے استقبال کو وہ بے چین ہیں دنیا پر حکومت کرے گا۔۔۔اور یوں دنیا پر ان کا غلبہ ہو جائے گا ۔۔۔یہ ان کی روایات ہیں۔۔۔سچی بھی اور ملاوٹ شدہ بھی۔۔۔
سوال یہ ہے کہ اس میں ہماری دل چسپی کی کیا بات ہے؟
اگر ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ گائیں مطلوبہ مقام تک پہنچنے کا مطلب ہے کہ قیامت آنے والی ہے۔۔۔
ہماری تو قیامت اسی وقت آ جائے گی جب روح جسم سے جدا ہو گی۔۔۔اس کا وقت کسی کو نہیں معلوم۔۔۔
مومن نہ قیامت سے ڈرتا ہے نہ موت سے۔۔۔
اصل خوف تو اپنے اعمال کا ہے۔۔۔

ہمیں تو اس ذہنیت کا ماتم کرنا چاہیے کہ تابوت سکینہ کو وہ ابھی تک اپنے معراج کی علامت سمجھتے ہیں۔۔۔۔
یہ تو بالکل ایسی بات ہوئی کہ ہم کہیں کہ غزوہ بدر کی فلاں تلوار فلاں عجائب گھر میں جب تک موجود ہے مسلمانوں کی شجاعت و غیرت پر آنچ نہیں آ سکتی۔۔

یہ جادو گنڈے ,یہ پسماندہ عقائد جس کا ذکر یہودی قوم کے لیے قرآن نے ان پر لعنت بھیجتے ہوئے کیا ہے۔۔۔
اور حضرت سلیمانؑ کی پاکیزہ شخصیت کو اس سے الگ کر دیا گیا۔۔۔
وہی ذہنیت آج تک اسی طرح ان جھوٹے پروپیگنڈوں کا شکار ہے۔۔۔
قرآن مجید کتنی ناراضگی کے ساتھ لال گائے کے قصے کے ساتھ ان کی ذھنیت پر افسوس کا اظہار کرتا ہے۔۔۔وہ بچھڑے آج بھی ان کے دلوں میں بسے ہوئے ہیں حالانکہ خود کو انبیاء کی اولاد سمجھنے کا زعم بھی رکھتے ہیں۔۔۔

جو اصل یہودی ہیں وہ تو دنیا میں منتشر ہیں۔۔
جو بنی اسرائیل ہیں وہ ایک جگہ جمع ہونے سے گھبراتے ہیں کیونکہ خود ان کی اپنی روایات میں ہے ک وقت آخر وہ ساری دنیا سے کھینچ کر ایک جگہ جمع کر دیے جائیں گے۔
یہ تو زیونسٹ ہیں جو یہ پروپیگنڈے کر رہے ہیں۔۔

سوال یہ ہے کہ بچھڑا ,گائے ان کے مذہب میں اس کی اہمیت ہے ہمارے مذہب میں الحمدللہ اس کی کوئی اہمیت نہیں۔۔۔
ایک امت جو اپنی ان خرافات کی وجہ سے تباہ برباد ہوئی اس کا ذکر قرآن میں محفوظ ہے۔۔۔
آج بھی وہ ان خرافات کے پیچھے چل رہی ہے۔۔
دنیا کے سارے نبی ایک ہی شریعت لائے تھے ایک ہی مذہب اسلام لائے تھے ۔۔۔
یہودیوں نے اسے بگاڑ کے کچھ سے کچھ کر دیا

29/03/2026

18+
عورت آپ سے صرف سیکس نہیں مانگتی
عموماً دیکھا گیا ہے دوستی کے کچھ عرصہ بعد ہی لڑکے و بابے اپنی دوست سے بہانوں بہانوں سے "یہ کس کلر کا ہے، پہنا ہے کہ نہیں، کیا سائز ہے" ہے جیسے چتیاپہ سوالات کررہے ہوتے ہیں
عورت نے اگر سیکس ہی کرنا ہوتا تو وہ آپ سے دوستی ہی نہ کرتی اس کے ایک اشارے پر بھنگی سے لیکر ڈپٹی کمشنر تک سب حاضر ہو سکتے ہیں
عورت پہلے وقت مانگتی ہےاس کی سنو ۔۔۔۔۔
اس کے بوائے فرینڈ کی بیوفائی کے قصے، اس کی ساس نندوں کی سازشیں، اس کی سہیلیوں کی منافقتیں۔۔۔۔۔ شوہر وقت نہیں دیتا اولاد کیا چاہ رہی ہے اور اس نے کیا سوچا تھا، اس کا آئیڈیل کیسا ہے اور اس کو منگیتر کیسا ملا۔۔۔۔۔۔ عورت یہ سب بھی ڈسکس کرنا چاہتی ہے
عورت سے رنگ و خوشبو کی بات کرو، عورت سے خوبصورت گیتوں کا ذکر کرو۔ سنو وہ کہنا کیا چاہتی ہے.

ہمارے معاشرے میں مرد و زن کی دوستی کو آگ و تیل کا تعلق سمجھا جاتا ہے ایسے میں اگر اس نے آپ کو دوست بنایا ہے تو سمجھنے کی کوشش کرو کہ وہ کیا چاہ رہی ہے شاید کچھ مشورے چاہتی ہو شاید کچھ سجیشنز چاہتی ہو یا شاید مرد کو مزید سمجھنے کے لیئے اس نے آپ سے دوستی کی ہے
خود کو مرد ثابت کرو اور مرد صرف وہی نہیں ہوتا جو دو چار یا دس منٹ میں ہانپنا شروع کردے مرد برداشت کا دوسرا نام ہے.
یاد رکھو جس طرح مرد کے دل تک پہونچنے کا رستہ اس کے معدے سے گزرتا ہے اسی طرح عورت کے دل تک پہونچنے کا راستہ آپ کی قوت سماعت و برداشت سے براہ راست متصل ہے۔

29/03/2026

ایک مراثیوں کے خاندان میں بڑے میراثی نے بھینس لے لی اور سارا خاندان بہت خوش ہوا اور اس رات ڈھلکی وجا وجا کے پنڈ اکھٹا کر لیا
اور کوئی یہ سوچ رہا تھا کہ میں دودھ پیوں گا کوئی دیسی گھی کھانے کا سوچ رہا تھا تو کوئی لسی پینے کا سوچ رہا تھا
خدا کی کرنی یہ ہوئی کہ وہ بھینس بیمار پڑگئی اور بیٹھ گئی مراثیوں نے اپنی ترکیبیں لگائیں پر بھینس کر کوئی فرق نہیں پڑا تو ایک بڑا خاندان میں سے بولا کہ چودھری کے پاس چلتے ہیں اسے پتا ہوگا کہ اس کا کیا علاج ہے
تو دو تین خاندان میں سے لوگ گئے تو چودھری نے بتایا کہ مرچوں کا پیاز کا اور لسن کا پیسٹ بنا کر اس کا گولا بنا لو اور اس کے ساتھ لسی ملا کر نال یعنی لوہے کی ہوتی ہے اگر آپ بوتل کو ترچھا کاٹیں تو ویسی شیپ ہوتی اس کی اس میں ڈال کر بھینس کے منہ میں رکھو وہ پی جائے گی اور ان شاءاللہ کھڑی ہو جائے گی
خیر وہ گئے پر اگلے دن واپس آگئے کہ چودھری صاحب مج نے دوا نئی کھادی باہر سٹھ دیتی اے
تو چودھری نے کہا کہ نال کے پیچھے سوراخ کر کے بھیس کے منہ وچ رکھو تے پھوک مار دیو کھا جائے گی تو وہ واپس چلے گئے پھر اگلے دن وہ واپس نہیں آئے دو تین دن یوں ہی گزر گئے پر میراثی واپس نہیں آئے تو چودھری کو فکر ہوئی کہ پتا نئی کی بنیا نمانیاں دا مج ٹھیک ہوئی وی یا نہیں تو اس نے ان کے گھر جانے کا فیصلہ کیا
اس نے دستک دی تو آگے سے میراثی بولا کہ کون اے..؟ تو چودھری بولا کہ میں واں چودھری خدادا تو میراثی کہتا کہ "لنگ آؤ چودھری صاب... تو چودھری اندر داخل ہوا تو بڑا میراثی چارپائی پر لیٹا ہوا تھا اور اسے تین چار ڈرپس لگی ہوئیں تھیں تو چودھری نے مج کا پوچھنے سے پہلے اس سے پوچھا کہ پھجیا کی ہویا اے تینوں۔۔۔؟
تو میراثی بولا چودھری صاحب کی دسا۔۔۔
"میں مرچاں لون گنڈے نال وچ پا کے مج دے منہ وچ رکھیا تے میرے پھوک مارن تو پہلے مج نے پھوک مار دیتی"
اووو ویکھو آپ کھلوتی اے تے مینوں منجی تے پا دیتا اے

29/03/2026

میں 27 سال کی ڈاکٹر ہوں — اور آج طلاق یافتہ ہوں۔

شادی سے پہلے میری ایک سرجری ہوئی تھی۔ ڈاکٹروں نے تسلی دی تھی کہ سب ٹھیک ہے، ماں بننے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ میں نے شادی کے بعد اپنے شوہر کو بتایا اور اس نے کہا کوئی بات نہیں۔

لیکن ڈیڑھ سال بعد پتہ چلا کہ سرجری کے بعد کچھ پیچیدگیاں آ گئی ہیں اور ماں بننے کے لیے IVF کرانی ہوگی۔

یہ خبر سنتے ہی اس کے منہ سے پہلا جملہ نکلا — مجھے دوسری شادی کی اجازت دو۔

میں نے کہا میں خود IVF کا خرچ اٹھاؤں گی۔ اس نے پھر وہی بات دہرائی۔ میں نے کہا ہم مل کر اس مشکل کا سامنا کریں گے۔ اس نے پھر وہی جواب دیا۔

اس نے میری بیماری کی تمام تفصیل اپنے گھر والوں کو بتا دی اور ساتھ یہ جھوٹ بھی کہ میں کبھی ماں نہیں بن سکتی۔ میرے گھر والوں نے بات کرنے کی کوشش کی، وہ نہیں مانا۔ مجھے میرے گھر چھوڑ دیا گیا۔

چھ مہینے تک کوئی رابطہ نہیں۔

پھر ایک دن فون آیا — چار سال انتظار کر سکتا ہوں لیکن تمہارے ماں باپ سے بات نہیں کروں گا اور لینے بھی نہیں آؤں گا، خود آنا ہو تو آؤ۔

میں نے کہا پہلے مجھے مالی تحفظ دو۔ اس نے پھر دوسری شادی کی اجازت مانگی۔

چار مہینے اور گزر گئے۔ کوئی کوشش نہیں، کوئی قدم نہیں۔

اور پھر گیارہ مہینے بعد طلاق نامہ آ گیا۔

شادی کے پہلے دن سے بچے کا دباؤ تھا۔ کبھی ایک نرم لفظ نہیں ملا، کبھی حوصلہ نہیں ملا۔ اتنی بڑی خبر کے بعد بھی کوئی ہاتھ تھامنے والا نہیں تھا۔

اور آخر میں اس نے کہا — تم خودغرض ہو، تم نے میرا حق نہیں مانا۔

آج بھی میں یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں کہ میرے ساتھ کیا ہوا۔ کیا میں واقعی غلط تھی؟ کیا یہ محبت تھی یا صرف ایک سودا جس میں میں ناکام ثابت ہوئی؟

29/03/2026

دنیا میں کچھ چیزیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو کسی منصوبہ بندی کے تحت نہیں بنتیں، بلکہ ایک چھوٹی سی غلطی، ایک لمحاتی غصہ، یا ایک غیر ارادی فیصلہ انہیں جنم دیتا ہے… اور پھر وہی چیزیں وقت کے ساتھ ایسی مقبول ہو جاتی ہیں کہ آج ان کے بغیر بہت سوں کا گزارا مشکل لگتا ہے۔

ایسی ہی ایک دلچسپ کہانی ان چپس کی ہے جو آج کل پیکٹس میں ملتی ہیں، باریک کٹے ہوئے آلو کے وہ کرکرے ٹکڑے جو ہم روزمرہ میں شوق سے کھاتے ہیں، جنہیں عام طور پر potato chips یا crisps کہا جاتا ہے۔

سن 1853 میں امریکہ کے ایک ریسٹورنٹ میں ایک شیف، George Crum کام کر رہا تھا۔ ایک گاہک بار بار شکایت کر رہا تھا کہ اس کے آلو کے فرائز بہت موٹے ہیں، کرکرے نہیں ہیں، اور بار بار پلیٹ واپس بھیج دیتا تھا۔ شروع میں شیف نے نظر انداز کیا، مگر جب یہی شکایت بار بار دہرائی گئی تو بات اس کی برداشت سے باہر ہو گئی۔

آخرکار اس نے غصے میں آلو کو اتنا باریک کاٹا کہ وہ تقریباً کاغذ جیسا ہو گیا، پھر اسے اچھی طرح تیل میں فرائی کیا اور اوپر سے نمک چھڑک کر گاہک کے سامنے رکھ دیا۔ اس کے ذہن میں شاید یہی تھا کہ اب یہ گاہک مزید شکایت کرے گا۔

مگر یہاں کہانی نے ایسا موڑ لیا جس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔

وہی گاہک جس نے بار بار اعتراض کیا تھا، اسی پلیٹ کو پسند کر بیٹھا۔ وہ باریک، کرکرے اور ہلکے نمکین ٹکڑے اسے اتنے اچھے لگے کہ یہی چیز آگے چل کر ایک نئی ڈش بن گئی، جسے آج ہم potato chips یا crisps کے نام سے جانتے ہیں۔

آج یہی crisps دنیا کے ہر کونے میں موجود ہیں۔ گلی کی چھوٹی سی دکان سے لے کر بڑے بڑے برانڈز تک، ہر جگہ یہی چپس کسی نہ کسی شکل میں فروخت ہو رہے ہیں۔ اربوں ڈالر کی انڈسٹری بن چکی یہ چیز دراصل ایک لمحاتی غصے کا نتیجہ تھی۔

کبھی کبھی ایک معمولی سا ردعمل، ایک چھوٹا سا تجربہ یا ایک غیر متوقع فیصلہ ایسی چیز کو جنم دے دیتا ہے جو وقت کے ساتھ دنیا بھر کی عادت بن جاتی ہے۔

چلیں ان کے بننے کی وجہ تو سامنے آ گئی، اب آپ یہ بھی بتا دیں کہ آپ کو کون سے crisps پسند ہیں؟

Address

پرانی انارکلی لاہور
Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when روزمرہ کی بحث وتکرار posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category