Bachu ki kahaniya

Bachu ki kahaniya Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Bachu ki kahaniya, Grocers, Lahore.

گرمیاں اب ویسی نہیں رہیں جیسے پہلے ہوا کرتی تھیں۔ایک وقت تھا جب گرمی کی شدت محسوس ہی نہیں ہوتی تھی۔دن میں اسکول جاتے تھے...
08/10/2025

گرمیاں اب ویسی نہیں رہیں جیسے پہلے ہوا کرتی تھیں۔
ایک وقت تھا جب گرمی کی شدت محسوس ہی نہیں ہوتی تھی۔
دن میں اسکول جاتے تھے، وہاں صرف پنکھے ہوتے تھے،لیکن کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ یہاں اے سی بھی ہونا چاہیے۔
گھر آ کر ٹیوشن جانا ہوتا۔
وہاں گرم زمین پر پانی ڈالا جاتا،
چٹائی بچھائی جاتی اور ہم وہیں بیٹھ جاتے۔
سامنے ایک پیڈسٹل فین چل رہا ہوتا،
جب کبھی روٹیشن پہ سامنے آتا تو ہوا لگ جاتی.

پھر گھر آکر رات کو صبح سے تپے ہوئے فرش پر پانی ڈال کر کولر لگا لیتے،
سامنے قطار میں سب کی چارپائیاں لگی ہوتیں۔
پہلی چارپائی پر سونے کے لیے بہن بھائیوں میں لڑائی ہوتی۔
رات کو آسمان کے تارے دیکھتے دیکھتے نیند آ جاتی۔
کبھی آنکھ کھلتی تو آسمان پر جہاز کی روشنی نظر آتی،
یا کسی ٹوٹتے ہوئے ستارے کی چمک —
اور پھر صبح ہو جاتی۔
تب کبھی محسوس نہیں ہوتا تھا کہ شور ہے تو سائلنٹ روم ہونا چاہیے،
گرمی ہے تو اے سی چاہیے،
صبح روشنی ہوتی ہے تو بلائنڈرز چاہئیں۔
وقت بدل گیا ہے۔
اب نہ روزانہ فرش ٹھنڈا کرنا پڑتا ہے،
نہ چارپائی نکالنی، نہ بستر بچھانا،
نہ کولر میں پانی ڈالنا، نہ رات میں پینے کے لیے ٹھنڈا پانی بھر کے رکھنے کی ضرورت رہی۔
ہر صبح ان سب چیزوں کو سمیٹنے کا تکلف بھی نہیں رہا۔

اب سونے کے لیے ٹھنڈا کمرہ ہے،
بلائنڈرز ہیں،
خاموشی ہے،
اب اے سی کے سامنے سونے کے لیے لڑنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔

مگر اب نہ وہ نیند ہے،
نہ وہ بےفکری،
نہ وہ گھر ہے،
اور نہ وہ لوگ۔
اب گرمی میں وہ ٹھنڈک نہیں، جو پہلے دل کو محسوس ہوتی تھی۔"

کہنے کو تو ہم بہت کچھ حاصل کر چکے ہیں،
ہمارا لائف اسٹائل کمفرٹیبل ہو گیا ہے۔
لیکن کیا واقعی ہم نے کچھ پایا ہے؟

ہمارے بچپن کی حسین یادیں!!

08/10/2025

چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک۔ ویڈیو دیکھیں... See more

08/10/2025

زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کی طالبہ کنزی ، راولپنڈی سے جھنگ گھر چھٹیوں پر آرہی تھی راستے میں ملزم نے بہانے سے بس سے اتروایا اور پھر سنسان جگہ See More

کوے اور خرگوش کی دوستی کہانیجنگل میں ایک درخت پر کوے کا گھونسلا تھا ۔ کوے بہت ہنسی خوشی  رہتے تھے اسی درخت کے نیچے ایک د...
08/04/2025

کوے اور خرگوش کی دوستی کہانی

جنگل میں ایک درخت پر کوے کا گھونسلا تھا ۔ کوے بہت ہنسی خوشی رہتے تھے اسی درخت کے نیچے ایک درخت کے تنے میں خرگوش بھی رہتا تھا ۔ جب بھی بارش اور سردی ہوتی خرگوش اس درخت چھپ جاتا اور شکاری جانوروں سے بھی محفوظ رہتا۔ کوے اور خرگوش آپس میں بہت اچھے دوست تھے دونوں مشکل وقت میں ایک دوسرے مدد کرتے تھے ۔ ایک دن خرگوش جنگل میں کھانے تلاش میں نکلا تو ایک سانپ اس درخت کے تنے آکر رہنے لگا خرگوش جب واپس اپنے گھر لوٹا اس نے دیکھا کہ درخت کے تنے میں سانپ ہے تو وہ بہت پریشان ہوا کہ اب کیے اس سانپ سے چھٹکارا حاصل کرے سانپ کو بہت بھوک لگی سانپ نے دیکھا درخت پر کووں کا گھونسلا ہے اس درخت پر چڑھا اور گھونسلے سے کووں کے انڈے کھا گیا اور درخت سے نیچے آکر درخت کے تنے میں چھپ گیا کوے جب اپنے گھونسے میں واپس لوٹے تو انھوں نے دیکھا کہ ان کے گھونسلے میں انڈے کس نے چراے خرگوش نے کووں کو بتایا کہ ان کے گھونسلے میں سانپ نے انڈے کھاے کووں کو بہت غصہ آیا اور انھوں نے سانپ سے بدلہ لینے کی ٹھان لی ایک دن خرگوش کھانے کی تلاش میں ایک سیب کے درخت کے پاس پہنچا جہاں بہت سے سیب لگے ہوے تھے لیکن خرگوش درخت سے سیب نہیں توڑ سکتا تھا ۔ اس نے کووں سے کہا کوے اڑ کر اس درخت کے اوپر سے سیب توڑ کر نیچے پھینکے تو خرگوش سیب اٹھا کر اپنے گھر کی طرف جانے لگا تو جنگل میں ایک لومڑی کھانے کی تلاش میں گھومتی پھر رہی تھی اس کی نظر اس خرگوش پر پڑی تو لومڑی خرگوش کو پکڑنے کے لیے اس کے پیچھے بھاگی خرگوش بھاگ کر گھنی جھاڑیوں میں چھپ گیا ۔ لومڑی خرگوش کو تلاش کر تے ہوے اس جگہ پہنچی جہاں خرگوش رہت تھا ۔ کووں نے سانپ بدلہ لینے کی ترکیب سوچی اور لومڑی سے کہا تمھیں کس کی تلاش ہے ہم تمھاری مدد کرے گے کوؤں کی بات سن کر لومڑی بہت خوش لومڑی نے کوؤن سے کہا کہ ایک خرگوش میرے سیب درخت سے سیب چوری کرکے لایا ہے ۔ کؤوں نے کہا کیوں نہیں خرگوش کی اس کی سزا ملنی چاہیے لومڑی بہت خوش ہوی کوؤں نے لومڑی سے چلاکی کی اور لومڑی سے کہا خرگوش اس درخت کے تنے میں چھپا بیٹھا ہے اس کے پاس سیب بھی ہے لومڑی نے درخت کے تنے میں منہ ڈالا تو دیکھا اندر سانپ نے لومڑی پر حملہ کر دیا اور لومڑی کو ڈس لیا لومڑی نے غصے سے سانپ کو اپنے تیز دانتوں اور پنجوں سے چیر پھاڑ دیا سانپ مر گیا لومڑی کو بہت بھوک لگی تھی اس نے سانپ کو کھا لیازہریل

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bachu ki kahaniya posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category