𝕃𝕒𝕗𝕫𝕠𝕟 𝕂𝕒 𝕀𝕙𝕥𝕒𝕛𝕒𝕛

𝕃𝕒𝕗𝕫𝕠𝕟 𝕂𝕒 𝕀𝕙𝕥𝕒𝕛𝕒𝕛 Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from 𝕃𝕒𝕗𝕫𝕠𝕟 𝕂𝕒 𝕀𝕙𝕥𝕒𝕛𝕒𝕛, Grocers, Lahore.

26/01/2026

With Imran Ashraf – I just got recognized as one of their top fans!

21/01/2026

وہ ایک آئینہ ہے جس میں زمانہ دکھائی دے
کبھی مجرمِ حالات، کبھی معصوم ٹھہرے ہوئے

کہیں اس کی آنکھوں میں خاموشی بولتی ہے
کہیں لفظ لفظ میں زخم گہرے ہوئے

وہ جب بکھرتا ہے تو صرف کردار نہیں
پورا سماج اس کے ساتھ ٹوٹتا نظر آئے ہوئے

کبھی محبت کا بوجھ، کبھی نفرت کی آگ
ہر روپ میں وہ خود کو جلاتے ہوئے

نہ ہیرو نہ ولن، بس انسان ہے وہ
کمزوریوں سمیت، حقیقت میں آئے ہوئے

وہ ادا نہیں کرتا، وہ جیتا ہے منظر
اسی لیے تو سب دل اس کے نام ٹھہرے ہوئے

یہ کمال ہے اس فن کا، اس آنچ کا
جو پردۂ اسکرین سے دل تک اترے ہوئے




21/01/2026

وہ ایک مرحلہ تھا جو گزر تو گیا مگر
دل پر ابھی تک اس کے نشاں ٹھہرے ہوئے ہیں

کچھ رشتے نام کے بغیر بھی بوجھ بن جاتے ہیں
ہم نے بھی ایسے رشتوں کا بوجھ ڈھوتے دیکھا ہے

نہ شکوہ کیا، نہ سوال کی جرات ہوئی
خاموشیوں میں ہی جواب ملتے دیکھا ہے

قریب آ کے جو فاصلوں میں بدل جائے
ایسے لمحوں کو ہم نے بکھرتے دیکھا ہے

یہ درد کسی ایک کا نہیں، سب کا ہے
جو ٹوٹا ہو، اس نے خود کو یوں ہی سمیٹتے دیکھا ہے

اب دل نے یہ سیکھ لیا ہے آہستہ آہستہ
ہر چاہت کا انجام مکمل نہیں ہوتا

19/01/2026

خاموشی نے جب سر پر سایہ ڈالا
تو دل نے خود سے ہی وفا چھنالی

اس کی باتیں تھیں مگر لمس نہیں رہا
آج یادیں بھی کچھ شرمائی سی

رات نے جب بھی چپ کا لباس پہنا
تو ہر خواب نے آواز دی خاموشی میں

جس نے ہاتھ تھاما تھا سچ سمجھ کر
وہ لمحہ بھی اب درد کی گواہی ہے

آنکھیں دیکھتی رہیں لیکن منزل نہ ملی
خاموشیوں نے سب سنا، کس نے سمجھا؟

ہر لفظ جو ٹوٹا ہوا دل نے کہا
وہ بس خاموش ہوا اور سنبھل گیا

08/01/2026

یہ جو لفظوں کا احتجاج ہے، خاموش نہیں
سچ اگر قید میں ہو، تو یہ بغاوت کم نہیں

ہم نے کاغذ پہ لہو اپنے ارادوں کا لکھا
یوں ہی ہر شعر، محض خواب کی صورت کم نہیں

جن کی آنکھوں میں اندھیرا ہی مقدر ٹھہرا
ان کے سورج بھی کبھی اہلِ اجازت کم نہیں

بولنے پر جو لگے پہرے تو سمجھو یہ سماج
صرف زنجیر نہیں، سوچ کی عادت کم نہیں

ہم نے حرفوں سے جلائے ہیں کئی بت جھوٹ کے
اس لیے لفظ ابھی شہر کی زینت کم نہیں

جو دبائے گئے صدیاں، وہی آواز بنے
یہ جو کل شور ہے، صدیوں کی امانت کم نہیں

07/01/2026

ہم نے لفظوں سے بغاوت بھی لکھی، محبت بھی
دل کے زخموں کی حکایت بھی لکھی، محبت بھی

جو حکمران تھے وہ سچ سے ہی ڈرتے رہے عمر بھر
ہم نے دیوار پہ سچائی بھی لکھی، محبت بھی

وہ جو ٹوٹا تو فقط دل ہی نہیں ٹوٹا تھا
ہم نے آنکھوں میں قیامت بھی لکھی، محبت بھی

کوئی کہتا ہے یہ اشعار فقط درد کے ہیں
میں نے ہر درد میں چاہت بھی لکھی، محبت بھی

جو جھکا ظلم کے آگے وہ قلم میرا نہیں
میں نے سر اٹھا کے شرافت بھی لکھی، محبت بھی

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when 𝕃𝕒𝕗𝕫𝕠𝕟 𝕂𝕒 𝕀𝕙𝕥𝕒𝕛𝕒𝕛 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category