30/09/2026
شوٹنگ والی بال کا سابق ہیرو
خان رفیع اللہ خان رفیع آف بیگو خیل ضلع لکی مروت
شوٹنگ والی بال کے سابق ہیرو خان رفیع اللہ خان
4 اکتوبر 1974ء کو اسوقت کے صوبہ سرحد اور آج
کے صوبہ خیبر پختون خواہ کے ضلع لکی مروت کے
قصبے میں پیدا ہوئے, صوبہ خیبر پختون خواہ میں
شوٹنگ والی بال انتہائ شوق سے کھیلی جاتی ہے
اورشوٹنگ والی بال میں آج بھی صوبہ خیبرپختون
خواہ کے کافی نامور کھلاڑی موجود ہیں,آصف خان
حاجی باری جان پٹھان, درویش بخاری, عثمان خان
لیکن شوٹنگ والی بال میں جو شہرت اور مقام
خان رفیع اللہ خان کو حاصل ہوا تھا,وہ شہرت اور
مقام صوبہ خیبر پختون خواہ میں ابھی تک کسی
کو نہیں ملا, خان رفیع اللہ خان نے گیم کی ابتداء
اپنے مقامی لکی مروت کلب سے کی لیکن بہت جلد
ماسٹر الطاف حسین ملاح کلب میں شمولیت کرلی
اور پھر ریٹائرمنٹ تک الطاف حسین ملاح کلب کے فرنٹ مین ہی طور پر کھیلتے رہے, خان رفیع اللہ
خان کو شائقین والی بال شوٹنگ والی بال کا برائن
لارا کہتے تھے , الطاف حسین ملاح اور رفیع اللہ
خان کامِزاج بھی بالکل ایک جیساتھا انتہائ شریف
ملنسار طبیعت کے مالک تھے, لیکن والی بال کیلیئے
انتہائ تیز اور خطرناک کھلاڑی تھے, مخالف ٹیم
کیلیئے نیٹ کے نزدیک سے تو بال کراس کرنا بہت
ہی مشکل بلکہ ناممکن کے برابر ہوتا تھا,چاہے جتنا
ہی تیز بال ہوتا تھا,رفیع اللہ خان اسکو واپس اتنا
تیز بال مارتے تھے کہ شائقین والی بال اور مخالف ٹیم کے کھلاڑی حیران رہ جاتے تھے, خان رفیع اللہ خان نیٹ کےایک سِرے سےدوسرے سِرے تک چھائے
رہتے تھے,اور بہت ہی اعلٰی درجےکے بہادر ڈیفینسر
تھے,خطرناک ترین بال کا ڈیفینس کرنے سے بھی
نہیں گھبراتےتھے,اسی بہادری اور دلیری کی بدولت
اکثر مخالف ٹیم کی ایسی سُمائش کا ڈیفینس کر
لیتے تھے جو کھلاڑیوں اور شائقین کی نظروں میں
مخالف ٹیم کا یقینی پُؤائنٹ ہوتا تھا,رفیع اللہ خان
لیفٹ ہینڈ پلیئر تھے اور شوٹنگ والی بال میں ایک
اور لیفٹ ہینڈ پلیئر تھا ملک محمد خان اعوان آف
اوچھالی ضلع خوشاب تقریباً ان دونوں کھلاڑیوں
کے کھیل کا موازنہ کیا جا سکتا تھا,
اللہ پاک شوٹنگ والی بال کےدونوں سابق ہیروز کو
صحت سلامتی اور اپنی حفظ و امان میں رکھے,
آمین