Cancer Info Hub

Cancer Info Hub Cancer Awareness
Shifa Allah ke haath mein hai
Hum sirf maloomat aur umeed phailatay hain
Early detection zindagi bachati hai.

کینسر کے مریضوں کے نام ایک اہم پیغامکیموتھراپی کے دوران یا اس کے بعد آنے والی تکالیف واقعی بہت مشکل ہوتی ہیں۔ سخت قبض، پ...
12/06/2026

کینسر کے مریضوں کے نام ایک اہم پیغام

کیموتھراپی کے دوران یا اس کے بعد آنے والی تکالیف واقعی بہت مشکل ہوتی ہیں۔ سخت قبض، پیٹ کا درد، متلی، الٹیاں، کمزوری، منہ کا خراب ذائقہ اور کھانے پینے سے نفرت جیسی کیفیت بہت سے مریضوں کو برداشت کرنا پڑتی ہے۔

میری اپنی حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ جب کیمو لگتی تھی تو پیٹ میں شدید درد ہوتا تھا، متلی اور الٹیاں آتی تھیں، اور منہ میں ایسا عجیب ذائقہ محسوس ہوتا تھا کہ پانی پیتے وقت بھی لگتا تھا جیسے زہر پی رہا ہوں۔ صبح کے وقت تو یہ ذائقہ اتنا خراب ہوتا تھا کہ سمجھ نہیں آتی تھی اسے کیسے ختم کیا جائے۔ بعض اوقات دوائیاں نگلنا بھی مشکل ہو جاتا تھا۔

لیکن میں اپنے تمام کینسر کے ساتھیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ یہ مشکلات وقتی ہیں۔ ان حالات میں انسان اپنی نارمل کیفیت میں نہیں ہوتا، لیکن ہمت نہیں ہارنی۔ علاج کے اس سفر میں صبر، حوصلہ اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ سب سے بڑی طاقت ہیں۔

یاد رکھیں، آج اگر مشکل وقت ہے تو ان شاء اللہ کل آسانی بھی آئے گی۔ جس طرح پہلے ہماری زندگی میں اچھے دن آئے تھے، اسی طرح اللہ تعالیٰ دوبارہ خوشیاں اور آسانیاں عطا فرمائے گا۔ بس علاج جاری رکھیں، احتیاط کریں اور اللہ کی رحمت سے امید کبھی نہ چھوڑیں۔

اللہ تعالیٰ تمام کینسر مریضوں کو صحتِ کاملہ، صبر اور 📢 اگر یہ پیغام آپ کے لیے مفید ہے تو اسے زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ دوسرے کینسر مریض اور ان کے اہلِ خانہ بھی اس سے حوصلہ حاصل کر سکیں۔

💬 کمنٹس میں ضرور بتائیں کہ آپ یا آپ کے کسی عزیز نے کیموتھراپی کے دوران کن مشکلات کا سامنا کیا اور آپ نے ان کا مقابلہ کیسے کیا۔ آپ کا تجربہ کسی دوسرے مریض کے لیے امید اور رہنمائی بن سکتا ہے۔

🤝 ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھائیں، دعا کریں اور امید کا دامن کبھی نہ چھوڑیں۔















علاج عطا فرمائے۔ آمین۔

بون میرو ٹرانسپلانٹ کے کینسر مریضوں کے لیے ایک اہم پیغامبون میرو ٹرانسپلانٹ سے پہلے آپ کو بتایا جائے گا کہ ٹرانسپلانٹ کے...
12/06/2026

بون میرو ٹرانسپلانٹ کے کینسر مریضوں کے لیے ایک اہم پیغام

بون میرو ٹرانسپلانٹ سے پہلے آپ کو بتایا جائے گا کہ ٹرانسپلانٹ کے دوران پلیٹ لیٹس کی ضرورت پڑ سکتی ہے، اس لیے آپ کے بلڈ گروپ کے چند صحت مند افراد تیار ہونے چاہئیں جو ضرورت پڑنے پر پلیٹ لیٹس عطیہ کر سکیں۔

میرا مشورہ ہے کہ صرف تین افراد پر انحصار نہ کریں بلکہ پہلے سے چار، پانچ یا اس سے بھی زیادہ لوگوں کو تیار رکھیں۔ ان سب کو ٹرانسپلانٹ کی متوقع تاریخ بتا دیں اور یہ بھی کہیں کہ اپنا موبائل فون آن رکھیں، کیونکہ ہسپتال کی طرف سے کسی بھی وقت کال آ سکتی ہے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ یہ لوگ اسی شہر یا علاقے کے رہائشی ہوں جہاں آپ کا بون میرو ٹرانسپلانٹ ہونا ہے، کیونکہ ایمرجنسی میں آپ اپنے گاؤں یا دور دراز علاقوں سے لوگوں کو فوراً نہیں بلا سکتے۔ بعض اوقات کسی کا فون بند ہوتا ہے، کوئی ڈیوٹی پر ہوتا ہے یا کسی ضروری کام سے باہر گیا ہوتا ہے، اس لیے زیادہ لوگوں کو پہلے سے تیار رکھنا بہت ضروری ہے۔

ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ میرا بون میرو ٹرانسپلانٹ سی ایم ایچ راولپنڈی کے اے ایف بی ایم ٹی سی ادارے میں ہوا تھا۔ میں نے پہلے سے تین لوگوں کو تیار کیا ہوا تھا، لیکن جب ٹرانسپلانٹ شروع ہونے کے تقریباً پانچ یا چھ دن بعد ڈاکٹرز نے کہا کہ پلیٹ لیٹس کی فوری ضرورت ہے تو ہم نے ان لوگوں کو فون کیے۔ کسی نے کہا کہ وہ گاؤں چلا گیا ہے، کسی نے کہا کہ وہ کسی کام میں مصروف ہے اور کوئی ڈیوٹی نہیں چھوڑ سکتا۔

اس وقت ہمیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کریں۔ پھر میرے والد صاحب ہسپتال کے موبلائزیشن روم گئے، جہاں ایک رجسٹر موجود تھا جس میں مختلف بلڈ گروپس کے ڈونرز کے نام اور نمبر درج تھے۔ وہاں سے کئی لوگوں کو فون کیے گئے، لیکن کسی نے ڈیوٹی کا عذر کیا اور کسی نے مصروفیت کا۔

آخرکار ایک خدا ترس پولیس اہلکار نے کہا کہ میں اپنی ڈیوٹی مکمل کرکے آتا ہوں۔ جیسے ہی اس کی ڈیوٹی ختم ہوئی، وہ سیدھا ہسپتال آیا اور مجھے پلیٹ لیٹس عطیہ کیے۔ ایسے لوگ آج بھی دنیا میں موجود ہیں جو نہ نام کے لیے کام کرتے ہیں اور نہ کسی دنیاوی لالچ کے لیے، بلکہ صرف انسانیت کی خاطر دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔

میرا مقصد صرف یہ ہے کہ بون میرو ٹرانسپلانٹ کروانے والے مریض اور ان کے اہلِ خانہ پہلے سے زیادہ لوگوں کو تیار رکھیں تاکہ ایمرجنسی کی صورت میں کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ معلومات ہر بون میرو ٹرانسپلانٹ مریض اور اس کے خاندان تک پہنچ سکے۔

کینسر کے مریضوں کے لیے امید کی ایک نئی کرنالحمدللہ، حکومتِ پنجاب کی جانب سے کینسر کے مریضوں، خصوصاً بچوں کے لیے مفت علاج...
11/06/2026

کینسر کے مریضوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن

الحمدللہ، حکومتِ پنجاب کی جانب سے کینسر کے مریضوں، خصوصاً بچوں کے لیے مفت علاج کی سہولیات فراہم کرنے کا اعلان ایک خوش آئند قدم ہے۔ کینسر ایک ایسی بیماری ہے جو صرف مریض ہی نہیں بلکہ پورے خاندان کو جسمانی، ذہنی اور مالی آزمائش میں ڈال دیتی ہے۔ ایسے میں اگر غریب اور متوسط طبقے کے مریضوں کو مہنگے علاج، کیموتھراپی، ریڈیوتھراپی اور دیگر ضروری سہولیات مفت میسر آئیں تو یہ واقعی بہت بڑی مدد ہے۔

میری گزارش ہے کہ جن لوگوں تک یہ معلومات ابھی نہیں پہنچی، وہ اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ کوئی بھی مستحق مریض اس سہولت سے محروم نہ رہ جائے۔ بسا اوقات معلومات نہ ہونے کی وجہ سے مریض بروقت علاج سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔

اللہ تعالیٰ تمام مریضوں کو مکمل شفا عطا فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبر دے اور ہر اس شخص کو جزائے خیر دے جو بیماروں کی مدد کے لیے کوشش کر رہا ہے۔

اہم اپیل:
اگر آپ کے جاننے والوں میں کوئی کینسر کا مریض ہے تو براہِ کرم یہ پوسٹ اس تک ضرور پہنچائیں۔ ایک شیئر کسی مریض کے لیے امید اور علاج کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

Hashtags:















کینسر کے مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کے نام ایک اہم پیغامیہ تحریر میرے ذاتی تجربے پر مبنی ہے، خاص طور پر کینسر کی مہنگی د...
10/06/2026

کینسر کے مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کے نام ایک اہم پیغام

یہ تحریر میرے ذاتی تجربے پر مبنی ہے، خاص طور پر کینسر کی مہنگی دوائیوں کی خریداری کے حوالے سے۔

کینسر کی دوائیاں اور انجیکشنز اتنے مہنگے ہوتے ہیں کہ ایک عام یا مڈل کلاس خاندان کے لیے ان کا خرچ برداشت کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اکثر لوگ جلدی میں یا مجبوری کے تحت کسی ایک فارمیسی یا میڈیکل سٹور پر جاتے ہیں اور جو قیمت بتائی جاتی ہے، وہی ادا کر دیتے ہیں۔ ہم بھی شروع میں یہی کرتے تھے۔

جب ہم علاج کے لیے راولپنڈی گئے تو کسی ایک فارمیسی سے دوائی لے لیتے تھے اور یہ نہیں پوچھتے تھے کہ قیمت اتنی زیادہ کیوں ہے۔ اگر پوچھتے بھی تو جواب ملتا تھا کہ "دوائی باہر سے آتی ہے، اس لیے مہنگی ہے۔" اور ہم خاموش ہو جاتے تھے۔

پھر ہم نے ایک بہتر طریقہ اختیار کیا۔ ہم نے مختلف فارمیسیوں کے واٹس ایپ نمبر محفوظ کر لیے۔ ڈاکٹر جو دوائی یا انجیکشن پرچی پر لکھتا، ہم اس کی تصویر یا نام مختلف فارمیسیوں کو بھیج دیتے اور ان سے قیمت معلوم کرتے۔

حیران کن بات یہ تھی کہ ایک ہی دوائی کے مختلف ریٹ ملتے تھے۔ کوئی 70 ہزار بتاتا، کوئی ایک لاکھ، کوئی اس سے بھی زیادہ۔ پھر ہم تمام قیمتوں کا موازنہ کرتے اور جہاں مناسب اور کم قیمت ملتی، وہاں سے دوائی خرید لیتے۔

مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے کہ میرے موبلائزیشن کے دوران ایک انجیکشن درکار تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ اس کی قیمت تقریباً 70 ہزار روپے ہے۔ میں نے انجیکشن کا نام لکھوا لیا اور مختلف فارمیسیوں سے رابطہ کیا۔ کسی نے تین لاکھ روپے قیمت بتائی، کسی نے ایک لاکھ، جبکہ ایک فارمیسی نے وہی انجیکشن 52 ہزار روپے میں دینے کی پیشکش کی۔ آخرکار میں نے وہ انجیکشن 52 ہزار روپے میں خریدا۔

سوچیں! اگر میں بغیر تحقیق کیے پہلی جگہ سے خرید لیتا تو ہزاروں بلکہ لاکھوں روپے زیادہ ادا کر سکتا تھا۔

میری تمام کینسر کے مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ سے گزارش ہے کہ کسی ایک فارمیسی پر انحصار نہ کریں۔ دوائی یا انجیکشن خریدنے سے پہلے مختلف فارمیسیوں سے ریٹ ضرور معلوم کریں۔ چند منٹ کی محنت آپ کے ہزاروں روپے بچا سکتی ہے۔

اور میری فارمیسی مالکان سے بھی مؤدبانہ درخواست ہے کہ خدا کے لیے ان مریضوں پر رحم کریں۔ یہ لوگ پہلے ہی بیماری، تکلیف، ذہنی دباؤ اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں۔ ان کی مجبوری کو کاروبار کا ذریعہ نہ بنائیں۔ مناسب منافع کمائیں، لیکن انسانیت کو بھی یاد رکھیں۔ ہوسکتا ہے آپ کی دی گئی رعایت کسی مریض کے علاج کا سبب بن جائے اور کسی خاندان کی امید بچ جائے۔

اگر آپ کو یہ تحریر مفید لگے تو اسے زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ پیغام ہر کینسر مریض اور اس کے خاندان تک پہنچ سکے۔ شاید آپ کی ایک شیئر کسی ضرورت مند کے ہزاروں روپے بچا دے اور کسی کا بھلا ہو جائے۔

کمنٹ میں ضرور بتائیں کہ کیا آپ نے بھی دوائیوں کی قیمتوں میں اتنا فرق دیکھا ہے؟























تحریر برائے شوکت خانم ہسپتال (ایک مریض کی آواز)میں یہ تحریر کسی نفرت کے لیے نہیں لکھ رہا، بلکہ ایک ایسے انسان کے طور پر ...
09/06/2026

تحریر برائے شوکت خانم ہسپتال (ایک مریض کی آواز)
میں یہ تحریر کسی نفرت کے لیے نہیں لکھ رہا، بلکہ ایک ایسے انسان کے طور پر لکھ رہا ہوں جس نے خود یہ درد محسوس کیا ہے۔
میں خود بھی اسی نظام سے گزرا ہوں… میں بھی ریجیکٹ ہوا ہوں۔
اس وقت جو احساس ہوتا ہے وہ الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ دل ٹوٹ جاتا ہے، امیدیں کمزور ہو جاتی ہیں، اور انسان سوچتا ہے کہ اب کہاں جائے؟
میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے ایسے بہت سے مریض دیکھے ہیں جو ریجیکٹ ہو گئے۔
ان کے چہروں پر مایوسی تھی، کچھ لوگ مکمل طور پر ناامید ہو چکے تھے۔ ان کے ساتھ ان کے گھر والے بھی پریشان تھے کہ اب علاج کہاں ہوگا؟
میرا سوال یہ ہے کہ:
کیا یہ ہسپتال صرف مخصوص اسٹیج کے مریضوں کے لیے ہے؟
کیا سٹیج 1، سٹیج 2، یا سٹیج 4 کی بنیاد پر فیصلہ ہونا چاہیے؟
جب یہ ہسپتال بنا تھا تو اس کا مقصد تو یہی تھا کہ کینسر کے ہر مریض کا علاج کیا جائے—چاہے وہ کسی بھی اسٹیج پر ہو۔
ڈونیشن تو سب مریضوں کے لیے دیا جاتا ہے، نہ کہ صرف منتخب مریضوں کے لیے۔
اگر ڈونیشن کا مقصد انسانیت کی خدمت ہے تو پھر کسی بھی مریض کو امید سے محروم کیوں کیا جائے؟
میری گزارش ہے کہ علاج کریں… کوشش کریں… مریض کو ریجیکٹ نہ کریں۔
باقی شفا دینے والا صرف اللہ ہے۔
میڈیکل سائنس راستہ دکھا سکتی ہے، لیکن زندگی اور موت کا فیصلہ صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
علاج آپ کا فرض ہے، شفا اللہ کی طرف سے ہے۔

کچھ ہسپتالوں کے رولز بھی عجیب ہوتے ہیں۔جب ہم پہلی بار شوکت خانم گئے تو وہاں سے ریجیکٹ ہونے کے بعد ہم نے سوچنا شروع کیا ک...
08/06/2026

کچھ ہسپتالوں کے رولز بھی عجیب ہوتے ہیں۔

جب ہم پہلی بار شوکت خانم گئے تو وہاں سے ریجیکٹ ہونے کے بعد ہم نے سوچنا شروع کیا کہ اب کہاں جائیں گے۔ کسی نے کہا کہ ویسے بھی آپ لاہور آ گئے ہو تو انمول ہسپتال کا بھی چکر لگا لو۔

ہم رکشے میں بیٹھ کر انمول ہسپتال پہنچ گئے۔ وہاں جا کر پتہ لگا کہ صحت کارڈ پر بھی علاج ہو سکتا ہے، جو ہمارے لیے ایک اور فائدہ مند بات تھی۔ کیونکہ کینسر کے علاج کے لیے بہت زیادہ پیسے چاہیے ہوتے ہیں، جو مڈل کلاس طبقے کے لیے بہت مشکل بلکہ بعض اوقات ناممکن ہوتے ہیں۔

جب ہم نے اپوائنٹمنٹ کی بات کی تو اپوائنٹمنٹ دینے والے نے کہا کہ سب سے پہلے آپ کا پیٹ سکین ہوگا، اس کے بعد سی ٹی سکین ہوگا، اور پھر 15 دن بعد آپ کی ڈاکٹر کے ساتھ اپوائنٹمنٹ ہوگی۔

ہم حیران ہوئے کہ رپورٹ میں تو صاف لکھا ہوا ہے کہ فلاں فلاں کینسر ہے، پھر دوبارہ پیٹ سکین اور سی ٹی سکین کی کیا ضرورت پیش آ گئی؟ اور 15 دن بعد ڈاکٹر کی اپوائنٹمنٹ؟ یہ بھی ہماری سمجھ سے بالاتر تھا۔

اب میرا سوال یہ ہے کہ اگر ہم انتظار کرتے، جیسا کہ وہ بتا رہے تھے، تو کیا بیماری بھی انتظار کرتی کہ میں مزید نہیں پھیلوں گی؟ اور یہ 15 دن مجھ پر کیا گزرتے؟ یہ دن، یہ راتیں، یہ گھنٹے، یہ منٹ اور یہ سیکنڈ مجھ پر کیسے گزرتے؟

کینسر کا نام ہی ایسا ہے کہ انسان جب سنتا ہے تو اس پر خوف طاری ہو جاتا ہے، اور اوپر سے علاج کے لیے اتنا طویل انتظار۔ یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ کیا ان کو یہ بیماری نظر نہیں آتی تھی؟ کیا انہیں معلوم نہیں تھا کہ یہ بیماری اتنی خطرناک ہے کہ ایک دن کا انتظار بھی موت کو دعوت دینے کے برابر محسوس ہوتا ہے؟

ہم نے فیصلہ کیا کہ ایک دن بھی انتظار نہیں کریں گے اور سیدھا پشاور کے ارم ہسپتال چلے گئے۔ لیکن وہاں بھی ہمیں اس بنیاد پر ریجیکٹ کر دیا گیا کہ یہ سٹیج فور کا کیس ہے اور اس کا علاج یہاں نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بڑے ہسپتال میں علاج کروائیں، ہمارے ہاں یہ ممکن نہیں۔

بہرحال، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ رولز بیماری میں نہیں ہوتے، بس علاج ہونا چاہیے۔ کیونکہ بیماری آپ کے رولز نہیں دیکھتی۔ بیماری یہ نہیں سوچتی کہ چونکہ آپ کے رولز یہ ہیں، اس لیے میں مزید نہیں پھیلوں گی۔

اللہ تعالیٰ سب کو ایسی آزمائشوں اور مشکلات سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

مجھے وہ دن آج بھی اچھی طرح یاد ہے جب میرا کینسر ریلیپس ہوا، یعنی دوبارہ واپس آ گیا اور بیماری بون میرو میں پھیل گئی۔ اُس...
07/06/2026

مجھے وہ دن آج بھی اچھی طرح یاد ہے جب میرا کینسر ریلیپس ہوا، یعنی دوبارہ واپس آ گیا اور بیماری بون میرو میں پھیل گئی۔ اُس وقت ہم راولپنڈی کے منڈی موڑ میں ایک کمرہ کرائے پر لے کر رہ رہے تھے۔ میرے ساتھ میرے ابو بھی تھے۔

ان دنوں میری حالت بہت خراب تھی۔ پیٹ میں شدید درد، الٹیاں، کمزوری اور بخار رہتا تھا۔ درد اس قدر زیادہ ہوتا تھا کہ برداشت کرنا مشکل ہو جاتا تھا۔ میرے ابو نرسنگ سے ریٹائر تھے، اس لیے بخار اور درد کے لیے انجیکشن لگا دیتے تھے، جو ہمارے لیے ایک سہولت تھی۔ لیکن جب درد حد سے بڑھ جاتا تو ہمیں ہسپتال جانا پڑتا تھا۔

ایک دن درد اتنا شدید ہوا کہ برداشت سے باہر ہو گیا۔ ابو باہر گئے اور ٹیکسی بلائی۔ میری حالت ایسی تھی کہ میں خود ٹیکسی تک بھی نہیں جا سکتا تھا۔ وہاں ایک اور آدمی موجود تھا، اُس نے بھی میری مدد کی۔ وہ اور میرے ابو دونوں مل کر مجھے اٹھا کر ٹیکسی تک لے گئے۔

جب ٹیکسی والے نے میری حالت دیکھی تو وہ گھبرا گیا۔ اُس نے کہا کہ اگر خدانخواستہ مریض کو راستے میں کچھ ہو گیا تو سارا الزام مجھ پر آئے گا۔ یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ پھر ابو ایک دوسری ٹیکسی لے آئے اور ہم اُس میں سوار ہو گئے۔

قریب ہی ایک پرائیویٹ ہسپتال تھا، ہم وہاں پہنچے۔ بڑے ڈاکٹر نے میری رپورٹس دیکھیں اور فوراً کہہ دیا کہ "یہ کیس ہم ہینڈل نہیں کر سکتے۔" ہم نے بہت سمجھایا کہ ہم یہاں علاج کروانے نہیں آئے، صرف درد اور بخار کے لیے ڈرپ لگوا دیں۔ ہم PET Scan کے نتیجے کا انتظار کر رہے ہیں، اس کے بعد سیدھا CMH راولپنڈی میں علاج شروع کروائیں گے۔ لیکن انہوں نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ مریض کی حالت بہت خراب ہے، آپ فوراً بڑے ہسپتال جائیں۔

اس دوران مجھے شدید پیاس لگ رہی تھی۔ میرا گلا بار بار خشک ہو رہا تھا اور میں مسلسل پانی مانگ رہا تھا۔

پھر ہم نے دوبارہ ٹیکسی والے کو بلایا اور CMH راولپنڈی جانے کے لیے کہا۔ راستے میں ٹیکسی والا بار بار مجھے دیکھتا اور پھر سامنے سڑک کی طرف دیکھتا۔ میرے ابو نے اُس سے کہا: "آپ مریض کو مت دیکھیں، بس گاڑی چلائیں، جو ہوگا دیکھا جائے گا۔"

ٹیکسی والے نے کہا: "بات تو ٹھیک ہے، لیکن مریض کی حالت بہت خراب لگ رہی ہے۔ اللہ نہ کرے کہ اسے میری ٹیکسی میں کچھ ہو جائے۔"

ابو نے اُسے تسلی دی کہ اس کی فکر نہ کرے اور جلد از جلد ہسپتال پہنچائے۔

جب ہم CMH راولپنڈی پہنچے تو ایمرجنسی میں موجود ایک ہیلپر فوراً آیا، اُس نے مجھے وہیل چیئر پر بٹھایا اور اندر لے گیا۔ سب سے پہلے میرا بلڈ پریشر چیک کیا گیا، پھر میری ہسٹری لی گئی۔ وہاں موجود عملے نے مجھے تسلی دی کہ ان شاء اللہ آپ ٹھیک ہو جائیں گے، تھوڑا صبر کریں۔

انہوں نے میرے ٹیسٹ کے لیے سیمپل لیا، ڈرپ لگائی اور علاج شروع کیا۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد بخار کم ہونا شروع ہو گیا اور درد بھی آہستہ آہستہ کم ہونے لگا۔

لیکن مسئلہ یہ تھا کہ جب میں ہسپتال سے واپس اپنے کمرے میں پہنچتا تو چند گھنٹوں بعد پھر وہی حالت ہو جاتی۔ درد، بخار اور کمزوری دوبارہ شدت اختیار کر لیتے تھے اور حالات اکثر قابو سے باہر ہو جاتے تھے۔

یہ سب لکھنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ انسان کی زندگی میں مشکل حالات آتے ہیں، لیکن ہمیں ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ اچھے دنوں تک پہنچنے کے لیے برے دنوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اگر ہم صبر، حوصلے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں تو ایک دن مشکلات بھی آسان ہو جاتی ہیں۔

الحمدللہ، آج میں ان دنوں کو یاد کرتا ہوں تو اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر ادا کرتا ہوں کہ اُس نے مجھے یہ سب برداشت کرنے کی ہمت دی۔



اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئے تو کمنٹ میں اپنی دعا ضرور لکھیں، اور اس پوسٹ کو شیئر کریں تاکہ مشکل حالات سے گزرنے والے لوگوں کو حوصلہ مل سکے۔

جب کیموتھراپی میرے کینسر کو قابو کرنے میں ناکام ہو گئی اور ڈاکٹروں کو مزید کوئی مؤثر راستہ نظر نہ آیا، تو انہوں نے میرے ...
06/06/2026

جب کیموتھراپی میرے کینسر کو قابو کرنے میں ناکام ہو گئی اور ڈاکٹروں کو مزید کوئی مؤثر راستہ نظر نہ آیا، تو انہوں نے میرے علاج کے لیے امیونو تھراپی (Immunotherapy) شروع کی۔ یہ میرے علاج کا آخری بڑا آپشن تھا۔

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے امیونو تھراپی نے میرے جسم کے مدافعتی نظام (Immune System) کو متحرک کرنا شروع کر دیا۔ میرا جسم کینسر کے خلاف لڑنے لگا اور آہستہ آہستہ میری حالت بہتر ہوتی گئی۔ پھر وہ وقت آیا جب میں بون میرو ٹرانسپلانٹ کے لیے تیار ہو گیا۔

اللہ کے کرم سے میرا PET Scan بھی کلیئر آ گیا، جو میرے لیے ایک بہت بڑی خوشخبری تھی۔ آج جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ اللہ کی رحمت انسان کی امید سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔

امیونو تھراپی کیا ہے؟
امیونو تھراپی ایک جدید علاج ہے جس میں جسم کے اپنے مدافعتی نظام کو مضبوط بنایا جاتا ہے تاکہ وہ کینسر کے خلیات کو پہچان کر ان کے خلاف مؤثر طریقے سے لڑ سکے۔

اللہ تعالیٰ تمام کینسر کے مریضوں کو مکمل شفا عطا فرمائے، ان کی مشکلات آسان کرے اور انہیں صحت و تندرستی والی زندگی عطا فرمائے۔ آمین۔










اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں اور پوسٹ کو شیئر کریں تاکہ یہ پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔

📌 میرے علاج ابھی بھی جاری ہیںبعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بون میرو ٹرانسپلانٹ کے بعد علاج مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے، لیکن م...
05/06/2026

📌 میرے علاج ابھی بھی جاری ہیں

بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بون میرو ٹرانسپلانٹ کے بعد علاج مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے، لیکن میرے ساتھ ایسا نہیں ہے۔ الحمدللہ میرا بون میرو ٹرانسپلانٹ ہو چکا ہے، مگر میرا علاج ابھی بھی جاری ہے۔

ٹرانسپلانٹ کے بعد مجھے ہر دو ماہ بعد کیموتھراپی دی جا رہی ہے، اور ڈاکٹرز کے مطابق یہ علاج کم از کم دو سال تک جاری رہے گا، اگر اللہ نے چاہا اور حالات نارمل رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ احتیاط بھی بدستور ضروری ہے، کیونکہ ٹرانسپلانٹ کے بعد جسم کو مکمل بحالی کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔

میرا مقصد یہ بات شیئر کرنا ہے کہ بون میرو ٹرانسپلانٹ علاج کا ایک اہم مرحلہ ضرور ہے، لیکن اس کے بعد بھی ڈاکٹرز کی ہدایات پر عمل کرنا، دوائیں وقت پر لینا، خود کو زیادہ تھکنے سے بچانا اور اپنی صحت کا خاص خیال رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔

ہمیں اپنی صحت کی قدر کرنی چاہیے اور کسی بھی بیماری کے بعد احتیاط کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ تمام مریضوں کو مکمل شفا عطا فرمائے اور ان کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔ آمین۔

❤️ اگر آپ بھی کسی مریض کے لیے دعا کرتے ہیں تو کمنٹ میں "آمین" لکھیں۔
📢 پوسٹ کو شیئر کریں تاکہ لوگوں میں آگاہی پیدا ہو۔
👍 اپنی رائے ضرور دیں۔









04/06/2026

🌧️ بارش... اللہ کی رحمت 🌧️

آج بارش ہوئی تو دل کو ایک عجیب سا سکون ملا۔ بارش صرف پانی کے قطرے نہیں ہوتی بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے جو زمین کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ جب رحمتِ الٰہی برس رہی ہو تو ہمیں اپنے رب کے حضور جھک کر دعا کرنی چاہیے۔

آئیے آج بارش کے ان حسین لمحات میں دعا کریں:

🤲 اے اللہ! تمام بیماروں کو شفا عطا فرما، خصوصاً کینسر کے مریضوں کی تکالیف آسان فرما۔ اے اللہ! ہر بیمار، پریشان اور دکھی انسان کی مشکلات دور فرما اور انہیں صحت، سکون اور خوشیاں عطا فرما۔ آمین۔

بارش انسان کے دل کو تازگی، روح کو سکون اور امید کو نئی زندگی دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ہر نعمت کا شکر ادا کریں اور اس کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہوں۔

❤️ اگر آپ بھی بارش کو اللہ کی رحمت سمجھتے ہیں تو "الحمدللہ" لکھیں۔

🔄 اس پیغام کو شیئر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ دعا میں شامل ہو سکیں۔
💬 کمنٹس میں اپنے لیے اور تمام مریضوں کے لیے دعا ضرور لکھیں۔
👍 پیج کو فالو کریں مزید حوصلہ افزا اور امید بھری تحریروں کے لیے۔

#بارش

#دعا
#شفا

#امید
#صحت
ٰہی



Address

Village. Pahar Khel Thall. P/o Lakki Marwat Distt &Teh: Lakki Kpk
Lakki

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Cancer Info Hub posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Cancer Info Hub:

Share

Category