MTanveerBarvi

MTanveerBarvi Alhamdolillah

Follow my page
15/07/2025

Follow my page

*پنجاب میں نئے ادارے کا افتتاح کر دیا گیا جس کے پاس فل احتیارات ہوں گے۔*مہنگائی کو کنٹرول کرنا، ذخیرہ اندوزی کے خلاف فور...
15/07/2025

*پنجاب میں نئے ادارے کا افتتاح کر دیا گیا جس کے پاس فل احتیارات ہوں گے۔*

مہنگائی کو کنٹرول کرنا، ذخیرہ اندوزی کے خلاف فوری ایکشن لینا یہ کسی وقت کہیں بھی کاروائی کر سکتے ہیں۔ لوکل عدالتوں ولا کیس حتم

`پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا)`
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں قائم کیا گیا ایک نیا قانونی ادارہ ہے، جسے پنجاب حکومت نے مہنگائی، تجاوزات، ذخیرہ اندوزی اور دیگر ضابطہ جاتی امور کی نگرانی کے لیے بنایا ہے۔

اس اتھارٹی کے پاس اپنی فورس، انفورسمنٹ اسٹیشنز، اور پراسیکیوٹرز ہوں گے، جو پولیس اور دیگر اداروں کے متوازی کام کریں گے۔ اسے چھاپوں، تلاشی اورگرفتاریوں کے وسیع اختیارات حاصل ہیں۔

14/07/2025

کنوارے حضرات اپنے میٹر پر نظر رکھیں کہیں 200 یونٹ کراس نہ ہو جائے باقی چاچے دے اپنڑے نصیب 😜🤣🤣🤣

13/07/2025

عربی داستان " الف لیلہ و لیلہ " کا ترجمہ
یعنی "ایک ہزار ایک راتوں کی داستان"

خاندان سامان کے شہنشاہوں میں سے ایک ممتاز بادشاہ تھا جسکی حدود سلطنت دور دور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اسکے دولڑ کے تھے ایک کا نام شہریار اور دوسرے کا نام شاہ زمان تھا دونوں شہزادے اپنی بہادری اور عقلمندی میں بہت مشہور تھے۔ باپ کے انتقال کے بعد بڑا بھائی شہر یار تخت نشین ہوا اور چھوٹے بھائی شاہ زمان کو سمرقند کے صوبہ کا حاکم مقرر کر دیا۔ بیس سال تک دونوں عیش و راحت کیساتھ حکومت کرتے رہے۔ ایک مرتبہ شہر یار نے اپنے چھوٹے بھائی شاہ زمان حاکم سمرقند کو ملاقات کیلئے بلایا شاہ زماں نے انتظام سلطنت وزیر اعظم کے سپرد کیا اور خود بھائی سے ملنے کیلئے روانہ ہو گیا۔ شب کو جب منزل پر قیام کیا تو اسکو خیال آیا کہ جو تحفے میں نے بھائی کو پیش کرنے کیلئے نکالے تھے وہ محل ہی میں رہ گئے ہیں چنانچہ اسی وقت دو غلامان خاص کو ساتھ لیکہ پھر شہر میں واپس آیا اور داخل ہوا۔ اندر پہونچا تو یہ سوچ کر کہ میری واپسی سے لوگوں کو پریشانی نہ ہو خاموشی سے محل میں داخل ہوا. اندر پہنچا تو یہ دیکھ کر ششدر رہ گیا کہ اس کی بیوی حبشی غلام کیساتھ سو رہی ہے۔ شدت رنج و غضب کانپتا ہوا تلوار ہاتھ میں لیکر آگے بڑھا اور دونوں کو حالت خواب میں قتل کر دیا اسکے بعد خاموشی سے اپنے سفر پر
روانہ ہو گیا لیکن ملکہ کی بےوفائی اور عصمت فروشی کا اتنا زبردست صدمہ ہوا کہ ہر وقت طبیعت معموم رہنے لگی سفر کے دوران ہر چند کوشش کی کہ کسی طرح یہ خیال دل سے نکل جائے لیکن کامیاب نہیں ہو سکا آخر سفر ختم ہوا.

اور شاہ زماں اپنے بھائی کے پاس پہونچ گیا شہر یار نے بڑی گرمجوشی سے استقبال کیا اور اپنے خاص محل میں لاکر ٹھہرایا جہاں شاہی پائی شاہی نظارہ ہو سکتا تھا ۔ عام حالات میں شاید شاہ زماں بہت مسرور ہوتا لیکن اس صدمے کیوجہ سے جو اس کو پہونچ چکا تھا زندگی کی ہر لذت بے کیف نظر آتی تھی۔ ہر قسم کے سامان راحت اور بھائی کی بے پایاں محبت کے باوجود شاہ زماں ہر وقت آفسردہ و دل شکستہ رہتا تھا۔ شہر یار اس کی یہ حالت دیکھتا تو خود بھی رنجیدہ ہوتا لیکن اسکا خیال تھا کہ بھائی دوری اور اہل خانہ کی یاد سے پریشان رہتا ہے چند روز میں طبیعت سنبھل جائے گی۔

ایک روز سلطان شہر یار نے بھائی سے کہا کہ سیر و شکار کیلئے چلو لیکن شاہ زماں نے علالت طبیت کا عذر کر کے جانے سے انکار کر دیا مجبورا شہر یار تنہا ہی شکار کھیلنے چلا گیا۔ شاہ زماں اپنے کمرے میں بیٹھا ہوا باغ کی سیر کر رہا تھا لیکن دل پچھلے واقعات کی وجہ سے پریشان تھا کہ سامنے سے زنانہ محل کا دروازہ کھلا جو باغ کی جانب تھا اور ملکہ شہر یار اپنی بیس ہم جولیوں کے ساتھ اندر آئیں اور باغ کے اس حصہ میں چلی گئیں جو عام نظروں سے محفوظ تھا۔ یہاں پہنچ کر ان خواصوں نے اپنے لباس اتار دیئے تو شاہ زماں نے دیکھا کہ وہ عورتیں نہیں بالکہ تنومند حبشی جوان ہیں۔ پھر ہر حبشی نے ایک ایک خواص کو اپنے پہلو میں لے لیا خود ملکہ شہر یا تنہا رہ گئیں۔ اب ملکہ نے مسعود مسعود کہہ کر آواز دی تھوڑی دیر بعد ایک اور حبشی غلام آیا اور ملکہ سے اختلاط کرنے لگا یہ سب کچھ دیر عیش و عشرت میں مشغول رہے اس کے بعد سب نے غسل کیا اور جس طرح آئے تھے اسی طرح واپس چلے گئے۔

یہ واقعہ دیکھ کر شاہ زماں کو یقین ہو گیا کہ عورت کی فطرت ہی بیوفائی ہے اور غالبا ہر عورت اسی طرح اپنے شوہر سے خیانت کرتی ہے اور دل کو سمجھایا کہ تو اپنی بیوی کی عصمت باختگی سے فضول رنجیدہ ہوتا ہے۔

دنیا میں سب ہی مرد اس مصیبت میں مبتلا ہیں۔ چنانچہ وہ کوفت جو ہر وقت اسکے دل کو لگی رہتی تھی جاتی رہی اور وہ خوش بخوش رہنے لگا۔ چند روز کے بعد شہر یار شکار سے واپس آیا اور بھائی کو مسرور دیکھ کر خوش ہو گیا اسکے بعد شاہ زماں سے دریافت کرنے لگا کہ غالبا تمہاری طبیعت بہل گئی اور تمہاری اب وہ کیفیت نہیں رہی مجھے بتاؤ کہ کس طرح تمہیں سکون ہوا۔ شاہ زماں نے بہت چاہا کہ اصل بات نہ بتاؤں لیکن بھائی کے اصرار سے مجبور ہو کر مکمل واقعہ اس کو سنا دیا۔

شہر یار یہ سن کر بہت پریشان ہوا اور کہنے لگا کہ جب تک میں اپنی آنکہوں سے دیکھ نہ لوں یقین نہیں آسکتا۔ شاہ زماں نے کہا کہ اگر آپ دیکھنا ہی چاہتے ہیں تو چند روز کیلئے پھر باہر جانے کا ارادہ مشہور کیجئے اور یہاں سے روانہ بھی ہو جائے لیکن شب کو خاموشی سے آکر چھپ جائیے اور پھر سب کچھ اپنی آنکہوں سے دیکھ لیجئے چنانچہ شہر یار نے بھائی کی صحت کی خوشی کے بہانے پر شکار کا ارادہ ظاہر کیا اور دوسرے روز دونوں بھائی شہر سے رخصت ہو گئے لیکن رات کو پوشیدہ طور پر محل میں آکر چھپ گئے اور باغ میں کھلنے والی کھڑکی کے قریب بیٹھ کر پیش آنیوالے موقعہ کا انتظار کرنے لگے تھوڑی دیر کے بعد ملکہ شہر یار بدستور بیس خواصوں کے ساتھ باغ میں آئی، دس عورتوں نے لباس اتارا تو وہ حیشی غلام تھے ایک ایک غلام ایک ایک خواص کو ساتھ لیکر خلوت میں چلا گیا اور ملکہ نے مسعود کو پہلے کی طرح آواز دے کر بلایا اور اس کے پہلو میں بیٹھ کر پیار کرنے لگی صبح تک یہ جلسہ جاری رہا اسکے بعد سب نے غسل کیا اور بدستور سابق زنانہ لباس پہین کر واپس چلے گئے یہ واقعہ دیکھ کر شہر یار کی نظروں میں دنیا تیر و تار ہوگئی بھائی سے کہنے لگا کہ اب دنیا میں رہنے کو جی نہیں چاہتا ہم دونوں بہت ہی بدنصیب ہیں۔ چلو آبادی چھوڑ کر جنگلوں میں فقیروں کیساتھ رہیں گے۔ شاہ زمان نے بھائی کو سمجھایا لیکن شہریار نہ مانا مجبوراً شاہ زمان نے کہا اچھا میں بھی چلتا ہوں لیکن شرط ہے کہ اگر دنیا میں ہمیں کوئی اپنے سے بھی زیادہ بد نصیب ملا تو پھر واپس اگر بدستور سابق اپنے فرض ادا کریں گے۔ شہریار نے یہ شرط منظور کر لی اور شب کی تاریکی میں دونوں بھائی جنگل کی طرف روانہ ہو گئے۔ چند روز میں سفر کرتے ہوئے اتفاقا ساحل بحر عمان پر جا نکلے بہت تھکے ہوئے تھے کچھ دیر آرام کرنے کو ایک سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھ گئے ابھی انکو آئے ہوئے کچھ زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ سمندر کے پانی میں زبر دست تلاطم ہوا اور ایک جگہ سے پانی پھٹ گیا اور اس میں سے ایک دیو سر پر صندوق رکھے ہوئے نکلا۔ دونوں بھائی خوف کی وجہ سے درخت پر چڑھ گئے دیو نے صندوق کو درخت کے نیچے رکھ کر کھولا اور ایک نہایت حسین عورت کو اس میں سے نکالا اور اس کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا پھر کہنے لگا کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ دوسری کوئی آنکھ تمہیں نہ دیکھ سکے اس لئے میں نے تمہیں مندی ق میں رکھا ہے اور اس صندوق کو ہر وقت اپنے ساتھ ہی دریاؤں میں رکھتا ہوں ۔ دیو کچھ دیر اس ۔ عورت سے باتیں کرتا رہا۔ اس کے بعد اس کے زانوں پر سر رکھ کر سو گیا.

قسط #1 ختم, کہانی جاری ہے
کیا آپ اگلا قسط پڑھنا چاہتے ہیں ؟

13/07/2025

" زنا سب سے پہلے آپ کی عقل کو ماؤف کردیتی ہے ، پھر شکل بگاڑ دیتی ہے اور آخر میں نسل بگاڑ دیتی ہے " اور اس کے ساتھ ہی میں نے کہا تھا کہ موجودہ سائنس اس بات کی تائید کررہا ہے تو چلیں اسی تناظر میں جنسی تعلقات سے پھیلنے والی ایک خطرناک بیماری کے بارے میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جس کا نام آتشک (Syphilis) ہے ۔

آتشک کے لفظی معنی " آگ " ہے اور آگ کا کام کسی چیز کو جل کر راکھ کردینا آپ اگر اسی لفظی معنی کو ہی سمجھ لیں تو آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ یہ کس قدر خطرناک بیماری ہے ۔

آتشک (Syphilis) اس وقت پوری دنیا میں بہت تیزی سے پھیل رہی ہے مسلسل اس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے حتٰی کہ اب پاکستان جیسے اسلامی ممالک کے اندر بھی یہ بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔

تو چلیں اب اس بیماری کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو دیکھیں ایک جراثیم جس کا نام ٹریپونیما پیلیدیم (Treponema pallidum) ہے یہ اس بیماری کو پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے اور جب کسی ایک انسان کو یہ بیماری لاحق ہوجاتی ہے یعنی کہ آتشک (Syphilis) تو دوسرے انسان تک جنسی تعلق قائم کرنے کی وجہ سے منتقل ہوجاتی ہے جو کہ عموماً بازاری عورتوں یا خاص کر ایسے پارٹنر (Partner) کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کی وجہ سے جو کہ پہلے سے مختلف لوگوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کئے ہوئے ہوں یعنی کہ جو لوگ چاہے وہ مرد ہوں یا عورت لیکن وہ ایک سے زیادہ لوگوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کئے ہوئے ہوں تو ان کے اندر یہ بیماری پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے یا ان لوگوں سے یہ بیماری پھیل سکتی ہے حتٰی کہ اگر کسی مرد کو یہ بیماری ہے تو اس کی وجہ سے اس کی بیوی کو بھی یہ بیماری لاحق ہوجاتی ہے بلکہ اگر بیوی حاملہ ہوتی ہے تو بچے کو بھی یہ بیماری منتقل ہوجاتی ہے جیسے (Congenital Syphilis) کہتے ہیں ۔ اس لیے اگر میاں بیوی میں کسی ایک کو یہ بیماری ہوجائے تو علاج دونوں کو کرنا چاہیے کیونکہ مرد اگر آتشک (Syphilis) ذدہ ہوگا تو وہ اپنی بیوی کو بھی منتقل کردیتا ہے اور اکثر بیرون ممالک رہنے والے مرد نا سمجھی میں ایسا کرجاتے ہیں۔۔

اچھا اب آتے ہیں کہ زنا سب سے پہلے آپ کی عقل کو کیسے ماؤف کردیتی ہے تو دیکھیں یہ انسان کی عقل ہی ہے جو آپ کو اچھے برے میں تمیز سکھاتی ہے آپ عقل مند ہوتے ہیں تبھی اچھے فیصلے کرتے ہیں جب کوئی شخص زنا کی طرف بڑھتا ہے تو ظاہری بات ہے کہ اس کی عقل ماؤف ہوچکی ہے ورنہ وہ جانتے بوجھتے کیوں خطرے میں کھودتا۔۔۔

اس کے بعد میں نے لکھا تھا کہ " پھر شکل بگاڑ دیتی ہے " تو دیکھیں ویسے تو جنسی تعلقات سے پھیلنے والی بیماریاں بہت ساری ہیں لیکن اگر ہم آتشک (Syphilis) کو ہی دیکھیں تو اس میں دیگر علامات کے ساتھ ساتھ چہرے ، منہ اور ہونٹوں پر بدنما قسم کے دانے نکلنا شروع ہوجاتے ہیں جو کہ بعد میں زخم بن جاتے ہیں تو ہوئی نا شکل کی بگاڑ ۔۔۔۔

اور سب سے ضروری بات " کہ آخر میں زنا نسل کو بگاڑ دیتی ہے " تو دیکھیں اگر ہم صرف اسی آتشک (Syphilis) کی بات کریں تو مردوں میں اس بیماری کے نتیجے میں جرثومے (Sperms) کی بہت ساری خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں جس کی وجہ سے اول تو وہ ٹھیک نہیں ہوتے یعنی کہ ان کے جرثومے (Sperms) مکمل طور پر ناقص ہوجاتے ہیں اور اگر وہ ٹھیک ہوجاتے ہیں اور بچے پیدا کرنے کے قابل ہو بھی جائیں تو بچوں میں موروثی طور پر آتشک (Syphilis) کو منتقل کرسکتے ہیں جس کی وجہ سے بچے کے اندر بہت سارے نقص پیدا ہو سکتے ہیں اول تو بچے پیدا ہونے سے پہلے ہی مرجاتے ہیں یا اگر پیدا ہو بھی جائیں تو بہت سارے مسائل کے ساتھ یعنی کہ موروثی خرابیوں کے ساتھ جس میں عجیب الخلقت بچے ہوسکتے ہیں کسی کا کان نہیں ہوتا تو کوئی معذوری کا شکار ، کسی کی آنکھ میں بینائی نہیں تو کہیں بہرہ پن، ہڈیوں کے نقص تو کہیں پر خون کے امراض/بلڈ کینسر کسی میں دماغی مسائل ڈپریشن ، سائیکوسس جیسی بیماریاں جنم لے لیتی ہیں اور اکثر خودکشی کرنے والے لوگ بھی اسی ذہنیت کا شکار ہوتے ہیں کہنے کا مطلب یہ کہ آتشک (Syphilis) آپ کے جین (Gene) میں جاکر ان کو بگاڑنا شروع کردیتا ہے اور یہی بگڑے ہوئے جین (Gene) آپ کی اگلی نسل میں منتقل ہوکر آپ کی نسل کو ہی بگاڑ دیتے ہیں۔
"""""اللہ زنا کرنے والے کو عنقریب تنگدست کر دیتا ہے اور شکل بگاڑ دیتا ہے""""""

خدارہ ! ابھی بھی وقت ہے بروقت نکاح کو عام کیجئے اور زنا کے دروازے بند کردیجئے ، دوسری تیسری شادی عام کردیجئے تا کہ معاشرے کے اندر سے زنا جیسے ناسور کو ختم کیا جاسکے ورنہ دوسرے ممالک کی طرح پچھتائیں گے ۔۔۔

ضرور شیئر کریں تا کہ نوجوان نسل آگاہ ہوسکے ۔۔۔

#کشف
ڈاکٹر وقارربانی

#کیاآپجانتےہیں


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔ انتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ ہمارے محترم پروفیسر جناب سید عبد ال...
13/07/2025

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔ انتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ ہمارے محترم پروفیسر جناب سید عبد الرؤف شاہ کاظمی صاحب کا انتقال ہوگیا ہے انا للّٰہ وانا الیہ راجعون نمازِ جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا.
اللہ پاک میرے استاد کی مغفرت فرمائے اور جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے امین

*تھوڑا ہنس بھی لیں😀**حکیم صاحب کے مطب پر ایک شخص آیا اور کہا پیٹ میں بہت درد ھو رہا ھے۔**حکیم صاحب سمجھ گئے کہ قبض ھے۔**...
12/07/2025

*تھوڑا ہنس بھی لیں😀*

*حکیم صاحب کے مطب پر ایک شخص آیا اور کہا پیٹ میں بہت درد ھو رہا ھے۔*
*حکیم صاحب سمجھ گئے کہ قبض ھے۔*
*پھر اس سے پوچھا: گھر کتنی دور ھے تمھارا؟*
*مریض ۔ دو کلومیٹر*
*حکیم صاحب نے کیلکولیٹر پر کچھ حساب کیا اور ایک بوتل میں سے چار چمچے دوائی نکال کر ایک کٹوری میں ڈالی۔*
*حکیم صاحب۔ گاڑی سے آئے ہو یا چل کر ؟*
*مریض ۔ چل کر*
*حکیم صاحب نے پھر سے کیلکولیٹر پر کچھ حساب کیا اور تھوڑی سی دوائی کٹوری سے واپس نکال لی ۔*
*حکیم صاحب - گھر کون سی منزل پر ھے؟*
*مریض - تیسری منزل پر*
*حکیم صاحب نے دوبارہ کیلکولیٹر پر کچھ حساب کیا اور کٹوری سے تھوڑی سی مزید دوا نکال لی۔*
*حکیم صاحب اب آخری سوال کا جواب دو- گھر کے مین گیٹ سے ٹائلٹ کتنی دور ھے؟*
*مریض - 20 فٹ*
*حکیم صاحب نے آخری بار کیلکولیٹر پر کچھ حساب کیا اور کٹوری سے تھوڑی دوا اور نکال لی۔*

*حکیم - اب میری دوا کے پیسے دے دو پہلے، پھر یہ دوا پیو، اور فٹا فٹ گھر کی طرف نکل لو۔ کہیں رکنا مت۔ پھر مجھے فون کرنا۔*

*مریض نے ویسا ھی کیا*
*آدھے گھنٹے بعد مریض کا فون آیا اور ایکدم ڈھیلی آواز میں بولا :*

*حکیم صاحب دوا تو بہت اچھی تھی آپکی،*
*مگر آپ نے ناڑا کھولنے کا ٹائم کیلکولیٹ نہیں کیا تھا.*

*ھم دس سیکنڈ سے ہار گئے۔۔!*
😜😜😜🤣🤣🤣😍

کینیڈا ایک مہنگا ملک ہے، لیکن اس کی شہری خدمات اعلیٰ ترین معیار کی ہیں۔ کرسمس کے دوران کراچی سے ایک فیملی چھٹیاں منانے ک...
12/07/2025

کینیڈا ایک مہنگا ملک ہے، لیکن اس کی شہری خدمات اعلیٰ ترین معیار کی ہیں۔ کرسمس کے دوران کراچی سے ایک فیملی چھٹیاں منانے کینیڈا گئی ہوئی تھی،جس نے ٹورنٹو میں تین دن قیام کے بعد، مونٹریال جانے کے لیے ایک کار کرائے پر لی۔
ہائی وے 401 دنیا کی سب سے چوڑی 18 لین والی شاہراہ ہے، اور اس کے ساتھ موجود فری وے بھی نہایت شاندار ہے۔ کار میں بیٹھے بچے بار بار پچھلی سیٹ سے پیچھے دیکھ کر ہاتھ ہلا رہے تھے، اور پیچھے سے آنے والی کار میں ایک کینیڈین خاتون بھی مسکرا کر ہاتھ کے اشارے سے جواب دے رہی تھیں۔
اچانک، ان کینیڈین خاتون نے دیکھا کہ اگلی گاڑی میں بیٹھے بوڑھے شخص کا سر کھڑکی سے باہر نکلا ہوا ہے اور وہ خون تھوک رہا ہے۔ یہ منظر دیکھتے ہی اس خاتون نے فوری طور پر 911 پر کال کردی۔
چند منٹوں میں ایک ہیلی کاپٹر ایمبولینس نمودار ہوا، اور متاثرہ پاکستانی خاندان کی گاڑی روکنے کا اشارہ دیا گیا۔۔
اور کچھ ہی دیر میں تربیت یافتہ طبی عملہ بوڑھے شخص کو اسٹریچر پر ڈال کر ہیلی کاپٹر کی طرف لے گیا، جو کہ ایک مکمل ICU سے کم نہ تھا۔ آکسیجن کی سپلائی شروع ہو گئی، دل کی دھڑکن اور دیگر پیرامیٹرز کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی، اور ایک ماہر MD ٹورنٹو سے ویڈیو کال پر موجود تھا جو مسلسل ہدایات دے رہا تھا۔
آدھے گھنٹے کے اندر اندر اس بزرگ کو محفوظ اور دوبارہ سفر کے لیے فِٹ قرار دے دیا گیا۔ اس دوران وہ کینیڈین خاتون بھی وہیں موجود تھیں، جن کی بروقت مدد اور حاضر دماغی سے بوڑھے شخص کو بروقت طبی امداد میسر ائی۔۔
لیکن…
میڈیکل ایمرجنسی سروسز کے چارجز کے طور پر، بوڑھے کے بیٹے کو 2,500 کینیڈین ڈالر کا بل تھما دیا گیا، جو شہر پہنچ کر جمع کروانا تھا۔ ایک متوسط پاکستانی خاندان کے لیے یہ ایک بھاری رقم تھی۔
صدمے کی حالت میں،بیٹے نے افسردگی سے اپنے والد سے کہا:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ابّا جی… پان کھا کے باہر تھوکنے کی کیا ضرورت تھی؟




Address

Chah Laly Wala P/O Pahar Pur Thal Tehsil & Dist Layyah
Layyah
31200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MTanveerBarvi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category