13/07/2025
عربی داستان " الف لیلہ و لیلہ " کا ترجمہ
یعنی "ایک ہزار ایک راتوں کی داستان"
خاندان سامان کے شہنشاہوں میں سے ایک ممتاز بادشاہ تھا جسکی حدود سلطنت دور دور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اسکے دولڑ کے تھے ایک کا نام شہریار اور دوسرے کا نام شاہ زمان تھا دونوں شہزادے اپنی بہادری اور عقلمندی میں بہت مشہور تھے۔ باپ کے انتقال کے بعد بڑا بھائی شہر یار تخت نشین ہوا اور چھوٹے بھائی شاہ زمان کو سمرقند کے صوبہ کا حاکم مقرر کر دیا۔ بیس سال تک دونوں عیش و راحت کیساتھ حکومت کرتے رہے۔ ایک مرتبہ شہر یار نے اپنے چھوٹے بھائی شاہ زمان حاکم سمرقند کو ملاقات کیلئے بلایا شاہ زماں نے انتظام سلطنت وزیر اعظم کے سپرد کیا اور خود بھائی سے ملنے کیلئے روانہ ہو گیا۔ شب کو جب منزل پر قیام کیا تو اسکو خیال آیا کہ جو تحفے میں نے بھائی کو پیش کرنے کیلئے نکالے تھے وہ محل ہی میں رہ گئے ہیں چنانچہ اسی وقت دو غلامان خاص کو ساتھ لیکہ پھر شہر میں واپس آیا اور داخل ہوا۔ اندر پہونچا تو یہ سوچ کر کہ میری واپسی سے لوگوں کو پریشانی نہ ہو خاموشی سے محل میں داخل ہوا. اندر پہنچا تو یہ دیکھ کر ششدر رہ گیا کہ اس کی بیوی حبشی غلام کیساتھ سو رہی ہے۔ شدت رنج و غضب کانپتا ہوا تلوار ہاتھ میں لیکر آگے بڑھا اور دونوں کو حالت خواب میں قتل کر دیا اسکے بعد خاموشی سے اپنے سفر پر
روانہ ہو گیا لیکن ملکہ کی بےوفائی اور عصمت فروشی کا اتنا زبردست صدمہ ہوا کہ ہر وقت طبیعت معموم رہنے لگی سفر کے دوران ہر چند کوشش کی کہ کسی طرح یہ خیال دل سے نکل جائے لیکن کامیاب نہیں ہو سکا آخر سفر ختم ہوا.
اور شاہ زماں اپنے بھائی کے پاس پہونچ گیا شہر یار نے بڑی گرمجوشی سے استقبال کیا اور اپنے خاص محل میں لاکر ٹھہرایا جہاں شاہی پائی شاہی نظارہ ہو سکتا تھا ۔ عام حالات میں شاید شاہ زماں بہت مسرور ہوتا لیکن اس صدمے کیوجہ سے جو اس کو پہونچ چکا تھا زندگی کی ہر لذت بے کیف نظر آتی تھی۔ ہر قسم کے سامان راحت اور بھائی کی بے پایاں محبت کے باوجود شاہ زماں ہر وقت آفسردہ و دل شکستہ رہتا تھا۔ شہر یار اس کی یہ حالت دیکھتا تو خود بھی رنجیدہ ہوتا لیکن اسکا خیال تھا کہ بھائی دوری اور اہل خانہ کی یاد سے پریشان رہتا ہے چند روز میں طبیعت سنبھل جائے گی۔
ایک روز سلطان شہر یار نے بھائی سے کہا کہ سیر و شکار کیلئے چلو لیکن شاہ زماں نے علالت طبیت کا عذر کر کے جانے سے انکار کر دیا مجبورا شہر یار تنہا ہی شکار کھیلنے چلا گیا۔ شاہ زماں اپنے کمرے میں بیٹھا ہوا باغ کی سیر کر رہا تھا لیکن دل پچھلے واقعات کی وجہ سے پریشان تھا کہ سامنے سے زنانہ محل کا دروازہ کھلا جو باغ کی جانب تھا اور ملکہ شہر یار اپنی بیس ہم جولیوں کے ساتھ اندر آئیں اور باغ کے اس حصہ میں چلی گئیں جو عام نظروں سے محفوظ تھا۔ یہاں پہنچ کر ان خواصوں نے اپنے لباس اتار دیئے تو شاہ زماں نے دیکھا کہ وہ عورتیں نہیں بالکہ تنومند حبشی جوان ہیں۔ پھر ہر حبشی نے ایک ایک خواص کو اپنے پہلو میں لے لیا خود ملکہ شہر یا تنہا رہ گئیں۔ اب ملکہ نے مسعود مسعود کہہ کر آواز دی تھوڑی دیر بعد ایک اور حبشی غلام آیا اور ملکہ سے اختلاط کرنے لگا یہ سب کچھ دیر عیش و عشرت میں مشغول رہے اس کے بعد سب نے غسل کیا اور جس طرح آئے تھے اسی طرح واپس چلے گئے۔
یہ واقعہ دیکھ کر شاہ زماں کو یقین ہو گیا کہ عورت کی فطرت ہی بیوفائی ہے اور غالبا ہر عورت اسی طرح اپنے شوہر سے خیانت کرتی ہے اور دل کو سمجھایا کہ تو اپنی بیوی کی عصمت باختگی سے فضول رنجیدہ ہوتا ہے۔
دنیا میں سب ہی مرد اس مصیبت میں مبتلا ہیں۔ چنانچہ وہ کوفت جو ہر وقت اسکے دل کو لگی رہتی تھی جاتی رہی اور وہ خوش بخوش رہنے لگا۔ چند روز کے بعد شہر یار شکار سے واپس آیا اور بھائی کو مسرور دیکھ کر خوش ہو گیا اسکے بعد شاہ زماں سے دریافت کرنے لگا کہ غالبا تمہاری طبیعت بہل گئی اور تمہاری اب وہ کیفیت نہیں رہی مجھے بتاؤ کہ کس طرح تمہیں سکون ہوا۔ شاہ زماں نے بہت چاہا کہ اصل بات نہ بتاؤں لیکن بھائی کے اصرار سے مجبور ہو کر مکمل واقعہ اس کو سنا دیا۔
شہر یار یہ سن کر بہت پریشان ہوا اور کہنے لگا کہ جب تک میں اپنی آنکہوں سے دیکھ نہ لوں یقین نہیں آسکتا۔ شاہ زماں نے کہا کہ اگر آپ دیکھنا ہی چاہتے ہیں تو چند روز کیلئے پھر باہر جانے کا ارادہ مشہور کیجئے اور یہاں سے روانہ بھی ہو جائے لیکن شب کو خاموشی سے آکر چھپ جائیے اور پھر سب کچھ اپنی آنکہوں سے دیکھ لیجئے چنانچہ شہر یار نے بھائی کی صحت کی خوشی کے بہانے پر شکار کا ارادہ ظاہر کیا اور دوسرے روز دونوں بھائی شہر سے رخصت ہو گئے لیکن رات کو پوشیدہ طور پر محل میں آکر چھپ گئے اور باغ میں کھلنے والی کھڑکی کے قریب بیٹھ کر پیش آنیوالے موقعہ کا انتظار کرنے لگے تھوڑی دیر کے بعد ملکہ شہر یار بدستور بیس خواصوں کے ساتھ باغ میں آئی، دس عورتوں نے لباس اتارا تو وہ حیشی غلام تھے ایک ایک غلام ایک ایک خواص کو ساتھ لیکر خلوت میں چلا گیا اور ملکہ نے مسعود کو پہلے کی طرح آواز دے کر بلایا اور اس کے پہلو میں بیٹھ کر پیار کرنے لگی صبح تک یہ جلسہ جاری رہا اسکے بعد سب نے غسل کیا اور بدستور سابق زنانہ لباس پہین کر واپس چلے گئے یہ واقعہ دیکھ کر شہر یار کی نظروں میں دنیا تیر و تار ہوگئی بھائی سے کہنے لگا کہ اب دنیا میں رہنے کو جی نہیں چاہتا ہم دونوں بہت ہی بدنصیب ہیں۔ چلو آبادی چھوڑ کر جنگلوں میں فقیروں کیساتھ رہیں گے۔ شاہ زمان نے بھائی کو سمجھایا لیکن شہریار نہ مانا مجبوراً شاہ زمان نے کہا اچھا میں بھی چلتا ہوں لیکن شرط ہے کہ اگر دنیا میں ہمیں کوئی اپنے سے بھی زیادہ بد نصیب ملا تو پھر واپس اگر بدستور سابق اپنے فرض ادا کریں گے۔ شہریار نے یہ شرط منظور کر لی اور شب کی تاریکی میں دونوں بھائی جنگل کی طرف روانہ ہو گئے۔ چند روز میں سفر کرتے ہوئے اتفاقا ساحل بحر عمان پر جا نکلے بہت تھکے ہوئے تھے کچھ دیر آرام کرنے کو ایک سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھ گئے ابھی انکو آئے ہوئے کچھ زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ سمندر کے پانی میں زبر دست تلاطم ہوا اور ایک جگہ سے پانی پھٹ گیا اور اس میں سے ایک دیو سر پر صندوق رکھے ہوئے نکلا۔ دونوں بھائی خوف کی وجہ سے درخت پر چڑھ گئے دیو نے صندوق کو درخت کے نیچے رکھ کر کھولا اور ایک نہایت حسین عورت کو اس میں سے نکالا اور اس کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا پھر کہنے لگا کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ دوسری کوئی آنکھ تمہیں نہ دیکھ سکے اس لئے میں نے تمہیں مندی ق میں رکھا ہے اور اس صندوق کو ہر وقت اپنے ساتھ ہی دریاؤں میں رکھتا ہوں ۔ دیو کچھ دیر اس ۔ عورت سے باتیں کرتا رہا۔ اس کے بعد اس کے زانوں پر سر رکھ کر سو گیا.
قسط #1 ختم, کہانی جاری ہے
کیا آپ اگلا قسط پڑھنا چاہتے ہیں ؟