20/06/2026
قومیں اپنی شناخت، تہذیب، زبان، روایات اور کردار کے حوالے سے پہچانی جاتی ہیں، اور دنیا کی تمام اقوام اپنی اپنی جگہ قابلِ احترام ہیں۔ اسلام بھی انسانوں کے باہمی تعارف، پہچان اور سماجی نظم کو تسلیم کرتا ہے، مگر ساتھ ہی یہ عظیم اصول عطا کرتا ہے کہ فضیلت قوم، رنگ، نسل، زبان یا علاقے کی بنیاد پر نہیں بلکہ تقویٰ، اخلاق اور کردار کی بنیاد پر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مختلف قبائل، برادریوں اور قوموں میں اس لیے پیدا فرمایا تاکہ وہ ایک دوسرے کو پہچانیں، سمجھیں اور خیر کے ساتھ تعلق قائم کریں، نہ کہ ایک دوسرے پر فخر، نفرت یا تحقیر کریں۔اسلامی تعلیمات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ اپنی قوم، برادری یا خاندان سے محبت ایک فطری عمل ہے، مگر اس محبت کو تکبر، تعصب، نفرت اور دوسروں کی تذلیل میں بدل دینا اسلام کی روح کے خلاف ہے۔
ایک مسلمان کی اصل شان یہ ہے کہ وہ اپنی شناخت پر شکر گزار ہو، اپنی قوم کی بھلائی چاہے، اپنے لوگوں کے لیے خیر کا ذریعہ بنے، مگر ساتھ ہی دوسری اقوام، برادریوں اور انسانوں کے احترام کو بھی اپنا دینی اور اخلاقی فرض سمجھے۔یاد رکھیں! قومیت اگر خدمت، اخوت، خیر خواہی اور باہمی عزت کا ذریعہ بنے تو باعثِ خیر ہے، لیکن اگر وہ نفرت، برتری کے زعم اور تقسیم کا سبب بن جائے تو یہی چیز معاشروں کو کمزور کر دیتی ہے۔
اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اپنی قوم سے محبت کرو،مگر انصاف کے ساتھ اپنی شناخت پر قائم رہو، مگر عاجزی کے ساتھ اپنے لوگوں کا ساتھ دو، مگر حق و سچائی کے ساتھ اور دوسری اقوام کا احترام کرو، کیونکہ عزت دینا بھی ایمان دارانہ اخلاق کا حصہ ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قوم، برادری اور نسب کو نفرت کا نہیں بلکہ تعارف، محبت، خدمت اور خیر کے راستے میں استعمال کریں۔ کیونکہ حقیقی عظمت اسی میں ہے کہ انسان اپنے کردار سے پہچانا جائے، اپنے اخلاق سے دل جیتے اور اپنے عمل سے انسانیت کے لیے آسانی پیدا کریں۔گجر اتحاد فورم جابہ کے پلیٹ فارم کیلئے تمام اقوام قابلِ احترام ہیں،ہمارے گاؤں جابہ کا حسین گلدستہ اور ہمارے سروں کا تاج ہیں۔۔مگر سب سے بڑی پہچان انسان کے کردار، تقویٰ اور اخلاق کی ہے۔
Media cell...
✨گجر اتحاد فورم جابہ✨