07/10/2025
ہمارا منفی رویّہ نوجوانوں کی مذہب بیزاری کا سبب ہے
حال ہی میں حماد صافی کی دو تصویریں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں
ایک میں وہ داڑھی اور پگڑی کے ساتھ، دوسری میں بغیر داڑھی کے۔
جس پر بعض علماء اور سوشل ایکٹیویٹسٹ نے طعنہ زنی کی اور انتہائی نامناسب رویہ اختیار کیا۔
حماد صافی نے مذہب کو استعمال کرتے ہوئے شہرت حاصل نہیں کی بلکہ انکی شہرت پگڑی باندھنے سے پہلے کی ہے اور اس شہرت کی وجہ کم عمری ہی میں انکی قابلیت ہے۔
اس شہرت یافتہ نوجوان پر مولانا عبداللہ احمد صاحب نے محنت کی جس کے نتیجے میں حماد کے سر عمامہ اور چہرے پر خوبصورت داڑھی دیکھنے کو ملی ۔
لیکن ماحول کا انسان کی زندگی پر گہرا اثر ہوا کرتا، جب ان پر دوبارہ ماحول اثر انداز ہوا تو بیرون ملک جانے کیلئے انہوں نے داڑھی کاٹی اور عمامہ اتارا، یقینا ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا، چلو کر ہی لیا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرنا کفر ہے؟
کیا ایسے ہمیں اسلام کی تعلیمات یہ ہیکہ کسی پر طرح طرح کے بہتان لگائے جائیں، طعنہ زنی اور طنز کیا جائے؟
جس محنت سے انکے چہرے پر داڑھی اور سر پر عمامہ دیکھنے کو ملا تھا، کیا دوبارہ محنت سے ایسا ممکن نہیں بنایا جا سکتا؟
اگر ہمارے اس رویے کے نتیجے میں یہ نوجوان بددل ہو جائے اور مذہب بیزار ہو جائے تو کون ذمہ دار ہوگا!؟
اے دانش و عقل کے دعویداروں! آپ سے کہہ رہا ہوں 🙂
میرا مشاہدہ ہے اور متعدد ملحدین نے اسلام قبول کرنے کے بعد بتایا کہ میں علماء کے منفی رویے اور بے جا فتویٰ بازی کی وجہ سے مذہب بیزار ہوا اور الحاد اختیار کیا۔
کیا اب بھی آپ نہیں سمجھ رہے؟ ہوش کے ناخن لیجیے
خدارا مزید نوجوانوں کے مذہب بیزار ہونے کا ذریعہ مت بنیں! اپنے رویوں پر نظر ثانی کیجیے، کہیں رب کی بارگاہ میں اس رویے کی وجہ سے اپکی پکڑ نہ ہو۔
آپ کو تو قرآن نے حکم دیا
ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنہ
لیکن آپ نے کیا کیا❓
آپ کے اور قران کے فلسفہ دعوت میں زمین و اسمان کا فرق ہے۔
اللہ کا واسطہ یہ روایتی لہجہ، فتویٰ بازی، طعنہ زنی، طنز و تشنیع ترک کیجیے مزید
اپنی دعوت میں منہج نبوی اور منہج قران کو معیار بنائیے تاکہ آپ نوجوان کے مذہبی بننے کا ذریعہ بنیں نہ کہ مذہب بیزاری کا۔
🖋لقمان اختر