19/05/2025
گرمیوں کے موسم میں پرندوں کی حفاظت
جیسا کہ آپ کو علم ہے اج کل گرم اور خشک موسم ہے نمی کی کمی بھی چل رہی ہے اور درجہ حرارت قدرے زیادہ ہو رہا ہے اور اکثر مرغیاں وغیرہ اور دیگر پرندے منہ کھلا رکھتے ہیں اور گرمی کے باعث سٹریس میں رہتے ہیں
یاد رکھیں پرندوں کے سیٹ اپ میں درجہ حرارت 25 ڈگری سے کم اور 35 ڈگری سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے ہے یہ وہ درجہ حرارت ہے جس میں پرندے خوش رہتے ہیں اس سے کم یا زیادہ درجہ حرارت پرندوں کو پریشانی میں مبتلا کرتا ہے جس کے باعث خوراک کھانے میں کمی نظر آتی ہے
کوشش کیجیئے سیٹ اپ 12 واٹ کے چھوٹے پنکھے انسٹال کریں اس سے درجہ حرارت کسی حد کنٹرول رھے گا
اگر آپ نے زیادہ تعداد میں پرندے رکھے ہیں تو کم از کم فرش سے 3 فٹ کی اونچائی پر 1 ایئر کولر 12 واٹ والا لازمی انسٹال کیجیئے جو کہ دِن کے وقت چلایا جائے اس سے نمی میں کمی کا مسئلہ بھی حل ہوگا اور دِن کا درجہ حرارت بھی کنٹرول رھے گا اور رات کے وقت چھوٹے 12 واٹ والے پنکھے بھی کافی ہیں
یاد رکھیں پرندوں کو ڈائریکٹ کولر کی ہوا نہیں دینی ہے بلکہ سیٹ اپ میں درجہ حرارت کنٹرول رکھنا ہے اس لیے ایئر کولر کو 3 فٹ اونچائی پر انسٹال کرنا ہے
ڈائریکٹ دھوپ سیٹ اپ میں داخل نہ ہو اس کے لیے مناسب اقدامات کریں جالیوں کے آگے ترپال لگا یا اس طرح کی ملتی جلتی اشیاء استمعال کی جائیں اور اور تازہ ہوا کی آمد و رفت کا بھی خیال رکھا جائے
خوراک :
گرمیوں میں پرندے دِن کے وقت بہت کم خوراک کھاتے ہیں
اس لیے کوشش کریں کہ صبح اور شام کے ٹھنڈے ٹائم پر خوراک دیا کریں اور تازہ پانی بھر کر دیں صبح و شام
دوپہر کے وقت ہلکا ٹھنڈا پانی بھی استمعال کروایا جا سکتا ہے جس میں آپ نمکول تیار کر کے اپنے فلاک اور پرندوں کی صحت کو اچھا رکھ سکتے ہیں نمکول کی تیاری پیکنگ پر لکھی ہوتی ہے اس حساب سے ہی نمکول تیار کیجیئے اور ٹھنڈا کر کے پرندوں کو استمعال کروائیں دوپہر کے وقت
اس کے ساتھ ساتھ دوپہر کے اوقات میں پرندے دانہ باجرا اور فیڈ کھانا پسند نہیں کرتے ہیں اس لیے ان کو سبزہ اور پھلوں کے چھلکے وغیرہ دیجیئے باریک کاٹ کر سبزہ سے مراد پیاز پالک کے کچھ پتے اور گھر پر جو سبزی استمعال ہوتی ہے جیسا گوبھی کے فالتو چھلکے وغیرہ آلو کے چھلکے وغیرہ اور اس سے ملتی جلتی اشیاء بچے ہوۓ چاول
اگر گیلی روٹی استمعال کروانی ہے تو اس میں سالن لازمی شامل کیجیئے اگر سالن دستیاب نہ ہو تو تھوڑی سی اجوائن اور کٹی ہوئی سرخ مرچ(یعنی دادڑ مرچ) اور ادرک لہسن کا پیسٹ شامل کر کے استمعال کروائیں ۔ خالی گیلی روٹی استمعال کروانے سے ریشہ وغیرہ کے مسائل ہونے کا امکان رہتا ہے
گرمیوں میں اپ مرغیوں کو تربوز کے چھلکے بھی کھانے میں دے سکتے ہیں لیکن اس دوران کوشش کریں کہ ایک ڈیڑھ گھنٹے کے لیے پانی اٹھا لیں کیونکہ تربوز میں پانی کی کافی ساری مقدار شامل ہوتی ہے
سیٹ اپ میں ایک جگہ مختص کریں اس کی درجہ بندی کریں اور اس میں تھوڑی سی ریت ڈال لیں اور روزآنہ کی بنیاد پر اس کو تھوڑا سا نم کر دیں پانی سے۔ مرغیاں وغیرہ اس میں خوش رہیں گی اور پنجوں سے ٹھنڈک مِلے گی ۔
گرمیوں میں ہیٹ سٹریس میں مرغیاں منہ کو ہر وقت کھلا رکھتی ہیں اور پروں کو بھی کھولا ہوتا ہے اور باقی ایکٹو ہُوں گی
جب کہ رانی کھیت میں کبھی منہ کھولتی ہیں کبھی بند کرتی ہیں اور گردن کو بھی آگے پیچھے کرتی ہیں اس کے علاوہ سانس لینے میں دشواری محسوس کرتی ہیں اور دم کو بھی سانس کے ساتھ ساتھ اوپر نیچے کرتے ہیں یہ واضع علامت رانی کھیت کی ہوگی اور مُرغی سست بھی ہوگی اس فرق کو لازمی سمجھیں ۔
اُمید کرتا ہوں یہ معلومات اپ نے بغور پڑھی ہوں گی اور اس سے اپ کو فائدہ بھی حاصل ہوگا۔ اس تحریر سے آپ اپنے مطلب کی اور ضروری معلومات حاصل کر کے اپنے پرندوں کے لیے آسانی پیدا کر سکتے ہیں جو چیز زیادہ مُشکِل لگ رہی ہو اس کے متبادل بھی پیج پر موجود ہیں مطالعہ آپ نے کرنا ہے ۔
مزید بہتر معلومات کے لئے پیج پر سردی گرمی اور دیگر بیماریوں کے حوالے سے پہلے سے ہی آگاہی دی گئی ہے اس سے بھی آپ استفادہ حاصل کر سکتے ہیں شکریہ
@