A Dot Natural Food

A Dot Natural Food ھمارے ہاں دیسی گھی چھوٹی مکھی بڑی مکھی جنگلی شہد � دیسی اچار زیتون سلاجیت اور زعفران دستیاب ہے۔

12/08/2026

دیسی گھی سینکڑوں سالوں سے کھانے پکانے اور صحت کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، لیکن آج کل دیسی گھی کا استعمال بہت کم ہو گیا ہے، کیوں کہ زیادہ تر کھانے کوکنگ آئلز اور بازاری گھی میں پکائے جاتے ہیں۔

دیسی گھی کا شمار سپر فوڈز میں کیا جاتا ہے، کیوں کہ یہ جادوئی فوائد کا حامل ہے، اس سے نہ صرف نزلہ و زکام کی علامات میں کمی آتی ہے بلکہ خشک کھانسی کا بھی خاتمہ ہوتا ہے۔

دیسی گھی گاے قیمت 3500 روپے فی کلو
آرڈر وٹس ایپ: 03005139711

دیسی (قدرتی) شہد اور فارمی شہد دونوں گرمیوں میں استعمال کیے جا سکتے ہیں، لیکن مقدار اور معیار اہم ہیں۔🍯 دیسی اور فارمی ش...
05/08/2026

دیسی (قدرتی) شہد اور فارمی شہد دونوں گرمیوں میں استعمال کیے جا سکتے ہیں، لیکن مقدار اور معیار اہم ہیں۔
🍯 دیسی اور فارمی شہد میں فرق
چیز
دیسی/قدرتی شہد
فارمی شہد
ذریعہ
عموماً جنگلی یا قدرتی پھولوں سے
شہد کی مکھیوں کے باقاعدہ فارم/چھتے
ذائقہ
پھولوں اور علاقے کے لحاظ سے مختلف
نسبتاً یکساں
رنگ
ہلکا یا گہرا ہو سکتا ہے
عموماً یکساں اور متوقع
معیار
اگر خالص ہو تو بہت اچھا
خالص ہو تو یہ بھی اچھا ہے
قیمت
عموماً مہنگا
نسبتاً کم
اصل مسئلہ
ملاوٹ کا امکان
ملاوٹ یا اضافی شکر کا امکان
اہم بات: صرف "دیسی" یا "فارمی" لکھا ہونا خالص ہونے کی ضمانت نہیں۔ اصل فرق زیادہ تر شہد کی خالصت اور پروسیسنگ سے پڑتا ہے۔
☀️ گرمیوں میں شہد لینا درست ہے؟
بالکل، گرمیوں میں شہد استعمال کرنا عام طور پر درست ہے۔ البتہ شہد کو بہت زیادہ مقدار میں لینے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اس میں قدرتی شکر اور کیلوریز کافی ہوتی ہیں۔
روزانہ 1–2 چائے کے چمچ کافی ہیں۔
پانی میں ملا کر پینا چاہیں تو نارمل یا نیم گرم پانی بہتر ہے۔
بہت گرم پانی میں شہد ڈالنے سے اس کے ذائقے اور بعض حساس اجزا متاثر ہو سکتے ہیں۔
اگر شوگر/ذیابیطس ہے تو شہد کو بھی شکر ہی کی طرح محدود رکھنا چاہیے۔

خلاصہ: خالص فارمی شہد بھی اچھا ہو سکتا ہے؛ صرف "دیسی" ہونے کی وجہ سے وہ لازماً بہتر نہیں۔ گرمیوں میں دونوں کا اعتدال سے استعمال ٹھیک ہے۔

گرمیوں میں دیسی گھی کا استعمال سائنسی لحاظ سے مکمل طور پر منع نہیں ہے، لیکن اس کی مقدار، فرد کی صحت، طرزِ زندگی اور مجمو...
27/06/2026

گرمیوں میں دیسی گھی کا استعمال سائنسی لحاظ سے مکمل طور پر منع نہیں ہے، لیکن اس کی مقدار، فرد کی صحت، طرزِ زندگی اور مجموعی خوراک کو مدِنظر رکھنا ضروری ہے۔
دیسی گھی کیا ہے؟
دیسی گھی بنیادی طور پر چکنائی (Fat) پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس میں درج ذیل اجزاء پائے جاتے ہیں:
سیر شدہ چکنائی (Saturated Fat) تقریباً 60–65%
غیر سیر شدہ چکنائی (Unsaturated Fat)
وٹامن A، D، E اور K (خاص طور پر اگر گھی خالص ہو)
قلیل مقدار میں اینٹی آکسیڈنٹس
کیا گرمیوں میں دیسی گھی جسم میں "گرمی" پیدا کرتا ہے؟
سائنسی طور پر "گرم" اور "ٹھنڈی" غذا کا تصور روایتی طب میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ جدید سائنس کے مطابق:
دیسی گھی میں کیلوریز بہت زیادہ ہوتی ہیں (تقریباً 120 کیلوریز فی کھانے کا چمچ)۔
اس کے ہاضمے کے دوران جسم میں حرارت (Thermic Effect) پیدا ہوتی ہے، لیکن یہ اتنی زیادہ نہیں ہوتی کہ صحت مند انسان میں گرمی کی بیماری کا سبب بنے۔
شدید گرمی میں اگر کوئی شخص بہت زیادہ گھی کھائے اور جسمانی سرگرمی کم ہو تو سستی، بھاری پن اور ہاضمے کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
گرمیوں میں دیسی گھی کے ممکنہ فوائد
1. توانائی کا اچھا ذریعہ
گھی جسم کو مرتکز توانائی فراہم کرتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو:
جسمانی مشقت کرتے ہیں۔
ورزش یا کھیتی باڑی کرتے ہیں۔
کم وزن کے شکار ہیں۔
2. چربی میں حل ہونے والے وٹامنز کا جذب
وٹامن A، D، E اور K کے جذب میں مدد دیتا ہے۔
3. آنتوں کی صحت
گھی میں کم مقدار میں Butyric Acid پایا جاتا ہے، جو آنتوں کی صحت کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔
4. بلند درجہ حرارت پر پکانے کے لیے مناسب
گھی کا Smoke Point تقریباً 230–250°C ہوتا ہے، اس لیے یہ زیادہ درجہ حرارت پر پکانے کے لیے نسبتاً مستحکم ہے۔
ممکنہ نقصانات
1. کولیسٹرول اور دل کی بیماری
زیادہ مقدار میں گھی کھانے سے:
LDL ("خراب") کولیسٹرول بڑھ سکتا ہے۔
دل کی بیماری کے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر پہلے سے بیماری موجود ہو۔
2. وزن میں اضافہ
چونکہ گھی بہت زیادہ کیلوریز رکھتا ہے، اس لیے ضرورت سے زیادہ استعمال موٹاپے کا باعث بن سکتا ہے۔
3. ہاضمے کے مسائل
شدید گرمی میں زیادہ گھی:
بدہضمی
پیٹ بھاری رہنا
تیزابیت
کا سبب بن سکتا ہے۔
گرمیوں میں کتنی مقدار مناسب ہے؟
عام صحت مند بالغ افراد کے لیے:
روزانہ 1 سے 2 کھانے کے چمچ (15–30 گرام) تک دیسی گھی عموماً مناسب سمجھا جا سکتا ہے، بشرطیکہ مجموعی خوراک متوازن ہو۔
اگر آپ کو موٹاپا، بلند کولیسٹرول، دل کی بیماری یا ذیابیطس ہو تو مقدار اس سے کم رکھنی چاہیے اور ڈاکٹر یا ماہرِ غذائیت سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔
کن لوگوں کو احتیاط کرنی چاہیے؟
اگر آپ کو درج ذیل مسائل ہیں تو گھی محدود مقدار میں استعمال کریں:
Heart Disease
High Cholesterol
Type 2 Diabetes
موٹاپا
جگر کی بعض بیماریاں
خلاصہ
گرمیوں میں دیسی گھی کا معتدل استعمال صحت مند افراد کے لیے عموماً محفوظ ہے۔ سائنسی شواہد یہ نہیں بتاتے کہ صرف گرمی کا موسم ہونے کی وجہ سے گھی نقصان دہ ہو جاتا ہے۔ اصل مسئلہ زیادتی، کم جسمانی سرگرمی اور مجموعی غیر متوازن غذا ہے۔ اگر آپ جسمانی مشقت کرتے ہیں تو معتدل مقدار میں دیسی گھی فائدہ مند بھی ہو سکتا ہے۔

ٹاپ کوالٹی دیسی چھلکا اسپغول جو عرصہ آٹھ سال سے ہماری خاص پہچان ہے ۔ ایسا شاندار چھلکا اسپغول آپکو کہیں اور سے نہیں ملے ...
14/06/2026

ٹاپ کوالٹی دیسی چھلکا اسپغول جو عرصہ آٹھ سال سے ہماری خاص پہچان ہے ۔ ایسا شاندار چھلکا اسپغول آپکو کہیں اور سے نہیں ملے گا۔

ایک کلو رعایتی قیمت 4800 اور ایک پاؤ 1400 بشمول ڈلیوری چارجز

گرمیوں میں پسینہ اور گھبراہٹ جس سے کافی انرجی ضائع ہوتی ہے ۔ طبیعت میں سُستی اور بے چینی آجاتی ہے ۔ دل چاہتا ہے بار بار ...
01/06/2026

گرمیوں میں پسینہ اور گھبراہٹ جس سے کافی انرجی ضائع ہوتی ہے ۔ طبیعت میں سُستی اور بے چینی آجاتی ہے ۔ دل چاہتا ہے بار بار ٹھنڈا پانی یا پھر مشروب پیئیں جس سے وقتی تسکین تو مل جاتی ہے لیکن یہ اشیاء صحت بخش نہیں ہیں

آج کا فالسہ کا سیزن ہے ۔ اس کا پانی بنا کر پیئیں یاد رہے زیادہ نمک اور میٹھا نہیں ڈالنا ورنہ فائدہ ختم ہوجائے گا دوسرا وزن تیزی سے بڑھے گا البتہ میٹھا کرنے کے لیئے تھوڑا شہد شامل کرسکتے ہیں جو انتہائی طاقت دینے کے ساتھ جسم میں موجود وٹامنز کو بھی پورا کرتا ہے۔

اسی طرح گھر میں بننے والے دیگر مشروبات میں بھی شہد کا استعمال کریں ۔ مثلاً مِلک شیک ۔ دودھ شربت وغیرہ میں چینی کی جگہ شہد ڈال لیا کریں ۔ ضروری نہیں کہ شہد مہنگا ہی خریدا جائے ۔ اس کے لیئے عام کوالٹی کا شہد بھی لیا جاسکتا ہے۔

نیچرل فوڈ کا تیار کردہ خالص دیسی گھیروایتی کھانوں کی شان بڑھانے کا بہترین ذریعہ03005139711 ابھی واٹس ایپ نمبر پر رابطہ ک...
10/05/2026

نیچرل فوڈ کا تیار کردہ
خالص دیسی گھی
روایتی کھانوں کی شان بڑھانے کا بہترین ذریعہ

03005139711 ابھی واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں۔

10/05/2026

السلام و علیکم

آئیے آج آنلائن خریدوفروخت اور کاروبار سے متلعق کچھ بات چیت ھوجاے۔

بطور کسٹمر

کیا اپ نے کبھی کوئی پروڈکٹ آرڈر کی یا نہیں اگر کی تو وجہ اعتماد تھا یا سیلر اور اگر نہیں کی تو وجہ دھوکے کا ڈر تھا یا سیلر دھوکہ باز محسوس ھوا۔

پروڈکٹ وصول کرنے کے بعد ویسا ہی پایا جو بتایا گیا تھا یا جو دیکھایا گیا وہ نہیں بیجھا گیا، اور کوالٹی کیسی تھی۔

ڈلیوری دئیے گئے ٹائم پیریڈ میں ھوئی یا دیر سویر ھوئی،پیکنگ کیسی تھی۔

پیمنٹ موڈ کیا تھا مطلب آپ نے ایڈوانس ادائیگی کی، کیش ان ڈلیوری تھا یا پروڈکٹ استعمال کرکے تسلی ھونے پر پیمنٹ کی۔

شکایت کی صورت میں کیا ازالہ کیا گیا شکایت سنی گئی پروڈکٹ تبدیل کی گئی، پوری پیمنٹ واپس کی گئی یا کچھ کٹوتی کی گئی۔

بطور سیلر و ریسلر

کسٹمر نے کس بات پر اپکو زیادہ پریشان کیا۔ ڈلیوری کے ٹائم موبائل آف تھا یا پیمنٹ کے وقت مزید رعایت کا مطالبہ کیا ، رقم کم بھیجی گئی یا پیمنٹ لیٹ کی گئی۔

آپکے کسٹمر میں اضافہ ھورہا ہے یا کمی ہورہی ہے، پروڈکٹ کی قیمت مناسب ہے یا مہنگا ھونے کی شکایت اکثر کی جاتی ہے۔ اگر کسٹمر میں کمی ہورہی ہے تو آپکے نزدیک کیا وجہ ہے کوالٹی مارکیٹینگ کی کمی ہوسکتی ہے۔

مندرجہ بالا کچھ سوالات ہیں آپ تمام احباب اپنے اپنے تجربات شئیر کریں۔

خیر اندیش
شکیل احمد

‏چھوٹی مکھی بیری جنگلی شہدبچپن کی یادوں کا امین۔۔۔ طاقت کا گاما پہلوانچستی میں ہرن کی روح ڈال دے۔اے ڈاٹ نیچرل فوڈوٹس ایپ...
29/04/2026

‏چھوٹی مکھی بیری جنگلی شہد
بچپن کی یادوں کا امین۔۔۔ طاقت کا گاما پہلوان
چستی میں ہرن کی روح ڈال دے۔
اے ڈاٹ نیچرل فوڈ
وٹس ایپ۔ 03005139711

جرمنی کا Langnese شہد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان میں اونچے گھرانوں کے لوگ Langnese شہد خریدنے کو...
09/04/2026

جرمنی کا Langnese شہد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان میں اونچے گھرانوں کے لوگ Langnese شہد خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اکثر لوگوں کو فخر سے یہ کہتے بھی سنا ہے کہ میں تو بس Langnese شہد ہی استعمال کرتا ہوں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ امپورٹڈ ہے اور اس کی قیمت پاکستان میں شاید سب سے زیادہ ہے۔ یہاں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جس کی قیمت زیادہ ہو گی وہی سب سے اچھا ہوگا۔
مزید یہ کہتے ہیں کہ اس کی کوالٹی اور ذائقہ ہمیشہ ایک جیسا رہتا ہے ۔ کچھ یہ بھی کہتے کہ پاکستان میں اس کے ساتھ کا کوئی ہے ہی نہیں۔ باری باری سب کا جواب دونگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1) ایسے لوگوں کے لیے سب سے پہلے تو یہ عرض کرتا چلوں کہ جرمنی میں Langnese شہد کی قیمتیں تقریباً دوسروں تمام اقسام کے شہد سے کم ہیں اور وہاں ان کی کوالٹی سب سے کم تر سمجھی جاتی ہے۔ جس چیز کو آپ status symbol سمجھ کے استعمال کر رہے ہیں یہ بھی دیکھ لیں کہ اس کمپنی کے اپنے ملک میں اس کی کیا حیثیت ہے۔ یہاں یہ بھی بتا دوں کہ اسی کمپنی کی شہد کی قیمتیں جرمنی کی نسبت پاکستان میں تقریباً چار سے پانچ گنا زیادہ ہیں۔
2) دوسری بات یہ کہ پاکستان میں ہر شخص یہ کہتا ہے کہ اسے جنگلی شہد چاہیے لیکن باہر سے جو بھی شہد آتے ہیں سارے ہی فارمی ہوتے ہیں۔یہاں کے لوکل شہد کو یہ کہہ کر دھتکار دیا جاتا ہے کہ یہ فارمی ہے مگر امپورٹڈ فارمی شہد کو خوش ہو کر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں کے فارمی شہد کو اگر Taste کریں تو وہی کوالٹی اور ذائقہ یہاں سے بھی مل سکتا ہے۔
یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ جنگلی شہد کا ذائقہ اور کوالٹی کبھی بھی ایک جیسی نہیں ہو سکتی ہے۔ ایک درخت کی دو شاخوں پر لگے چھتوں کی کوالٹی اور ذائقہ بھی مختلف ہوگا۔ فارمی شہد کا ذائقہ البتہ ایک جیسا ہوگا کیونکہ وہ ایک ہی جگہ پر ایک ہی موسم میں رکھے جاتے ہیں جہاں ایک خاص قسم کے درخت یا پھول ہوتے ہیں۔ (یہاں یہ بحث کرنا مقصود نہیں ہے کہ فارمی بہتر ہے یا جنگلی، بس یہ بتانا مقصود ہے کہ ذائقہ اور کوالٹی صرف اور صرف فارمی کی ہی ایک ہی جیسی ہو سکتی ہے سالہا سال تک)۔
3) جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ امپورٹڈ شہد جیسا ذائقہ انھیں یہاں نہیں ملتا تو ان کے لیے عرض کروں گا کہ یہاں کے فارمی شہد ٹرائی کریں، ویسا ہی ذائقہ آپ کو ملے گا۔ البتہ فلورا(پودے اور پھول) مختلف ہونے کی وجہ سے یہاں کا ذائقہ تھوڑا بہت فرق ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ ہر جگہ شہد کی مکھیاں مختلف ہوتی ہیں اس لیے بھی ذائقہ مختلف ہوسکتا ہے۔ مختلف لوکل اقسام کا شہد ٹرائی کریں کوئی نہ کوئی لازمی آپ کو پسند آجائے گا۔
4) امپورٹڈ بہتر ہے یا لوکل؟ اس کا جواب بہت سے سائنسی مقالہ جات میں آپ کو بآسانی مل جائے گا۔ کسی علاقے میں پائی جانے والے بیماریوں کا علاج اللہ نے اسی علاقے میں پائی جانے والی جڑی بوٹیوں میں رکھا ہوتا ہے۔ شہد میں شفاء کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس کی مکھی مقامی پودوں سے رس چوستی ہے جن میں اس علاقے میں پائی جانے والی بیماریوں کے خلاف تریاق موجود ہوتا ہے۔ اس لیے اگر امپورٹڈ لیں گے تو یہ فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔شہد ہمیشہ اپنے قریب ترین علاقے کا لیں تاکہ زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہو۔
5) ملکی معیشت کے لیے کیا بہتر ہے؟ جو چیز ہمارے اپنے ملک میں وافر مقدار میں اور اچھی کوالٹی میں موجود ہو اس کے لیے ہم اپنا قیمتی زر مبادلہ کیوں خرچ کریں۔ پھر چیز بھی وہ جسے اس کے اپنے ملک میں سب سے کمتر سمجھا جاتا ہو یہاں اسے سب سے اعلیٰ سمجھا جائے۔حالانکہ پاکستان سے بیری والا شہد بہت زیادہ مقدار میں دوسرے ممالک کو ایکسپورٹ کیا جاتا ہے اور بیری کے خاص ذائقے کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر عدنان نیازی

Address

پکی چوک میانوالی
Mianwali

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when A Dot Natural Food posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share