09/10/2024
تین ماہ بعد ریٹائرمنٹ تھی...
یکمشت پچیس تیس لاکھ روپے ملنے تھے شائد سوچا ہو کہ واپس ایبٹ آباد چلا جاؤں گا آبائی علاقے میں چھوٹی سی دکان ڈال کر باقی حیاتی دکان کے باہر اسٹول پر گوانڈیوں کو پولیس سروس کے قصے کہانیاں سنا کر گزاروں گا یا شائد اسکی ترجیح بیٹی کے ہاتھ پیلے کرنا ہوں، بیٹیاں دل کا ٹکڑا سہی پر یہ ٹکڑا اپنے ہاتھ سے کسی کے ہاتھ پر رکھنا ہوتا ہے...
شاید سوچا ہو.... کہ کچھ رقم بیٹے کے ہاتھ پر رکھوں گا کہ اب کوئی کام دھندے کی فکر کرے، باپ کی وردی اتر گئی ہے پکی نوکری پکے ہوئے پھل کی طرح پکنے کے بعد بالآخر شاخ سے گر گئی ہے...
شائد سوچا ہو...... کہ آقائے دو جہاں کے دربار میں حاضری دے دوں روزے کی جالیاں چوم لوں، پھر کہاں یہ پیسے جڑیں گے ...
اسلام آباد پولیس کا سپاہی عبدالحمید ان خوابوں کے ساتھ 26 نمبر چورنگی پر مارچ میں شامل کچھ وحشیوں جنونیوں بلوائیوں کے ہاتھ لگا ...
مارنے والے یقیننا جی دار نوجوان تھے جنہوں نے چار چوٹیں ماریں اور زمین پر نیم مردہ حالت میں پھینک کر زندہ باد مردہ باد، آگ لگا دو خاک اڑا دو کے نعرے لگاتے ہوئے بے سمت خونیں سفر کی طرف بڑھ گئے،
سپاہی عبدالحمید کو شور مچاتی ایمبولینس کے ذریعے پمز اسپتال لایا گیا، ڈاکٹر رات بھر کوششیں کرتے رہے، غریب سپاہی کے دوست، عزیز و اقارب آئی سی یو کے باہر ٹہلتے رہے لیکن عبدالحمید کی روح سارے پہرے توڑ کر نکل گئی.
مارنے والوں کو عبدالحمید سے کیا عداوت تھی وہ جانتے تھے نہ عبدالحمید جانتا تھا وہ تو بس اک بات جانتا تھا تین مہینے جنوری میں پورے ہوں گے لیکن اس کی سانسیں پہلے ہی پوری ہوگئیں وہ انصاف کے طلبگاروں کے ہاتھوں قتل ہوگیا..