24/06/2026
حضرت حبیب بن مظاہرؒ اور ان کا قبیلہ بنو اسد نے 9 ہجری میں اسلام قبول کیا۔ یہ وہ عظیم صحابیٔ رسول ﷺ تھے جنہوں نے نہ صرف رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہمیشہ وفاداری اور جانثاری کا ثبوت دیا بلکہ حضرت علیؑ، امام حسنؑ اور امام حسینؑ کے بھی سچے جاں نثار رہے۔
وہ ان چند صحابہ میں سے تھے جنہوں نے یزید کی بیعت قبول نہ کی اور کوفہ میں سختیوں اور آزمائشوں کے باوجود اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہے۔ ان کی شان یہ ہے کہ امام حسینؑ نے خود انہیں خط لکھ کر کربلا آنے کی دعوت دی، اور حضرت حبیبؒ تمام مشکلات کے باوجود کربلا پہنچے اور دینِ محمدی ﷺ پر اپنی جان قربان کر دی۔ 💔
امام حسینؑ نے ان کے قبیلے بنو اسد سے ہی کربلا کی زمین خریدی، جہاں آج ان کی مبارک قبریں موجود ہیں۔ شہادت کے بعد بھی امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں کو دفن کرنے کی سعادت بنو اسد کے لوگوں کو ہی نصیب ہوئی، اور آج تک ان کے روضوں کی نگرانی بھی بنو اسد ہی کرتے ہیں۔
حضرت حبیبؒ کی عظمت کے لیے یہی ایک جملہ کافی ہے کہ وہ امام حسینؑ کے سب سے قابلِ اعتماد ساتھیوں میں سے تھے۔ 💔