Hafiz Goats & Breaders

Hafiz Goats & Breaders بکری برکت والا جانور ہے

12/05/2026

شاہکوٹ منڈی

03/05/2026

قربانی کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا اور تقویٰ کا حصول ہے، اور اس کے لیے شرط اخلاص اور للٰہیت ہے، جب کہ ریاکاری ، دکھلاوااور نام ونمود اس کی ضد ہے اور یہ نیک عمل کے ثواب کو ختم کردیتی ہے بلکہ گناہ اور وبال کا ذریعہ بن جاتی ہے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی عمل مقبول ہے جو خالص اللہ کی رضا وخوشنودی کے لیے کیا جائے، ریا کاری ودکھلاوے کا جانور کتنا ہی قیمتی ہو اللہ کی نظر میں اُس کی کوئی قیمت نہیں۔

لہذا اگر کوئی شخص ریا اور نام نمود سے بچتے ہوئے محض اللہ کی رضا کے لیے مہنگا ، خوبصورت اور عمدہ جانور خریدتا ہے ، اور اس کی باقاعدہ نمائش وغیرہ نہیں کرتا اور اس کو اللہ کی رضا کے لیے قربان کرتا ہے تو یہ جائز ہے، اس کا اجر وثواب اس کو ملے گا ، وگرنہ ثواب سے محرومی ہوگی۔

اگر دکھلاوے کے طور پر یا فیشن کی پیروی میں مہنگا ترین جانور خرید کر اس کی باقاعدہ نمائش کی جائے، اور اس نمائش میں مرد وزن کا اختلاط یا دیگر طرح طرح کے مفاسد بھی ہوں تو یہ قربانی کے مقصد اور اخلاص کی روح کے منافی ہے، اس لیے اس سے اجتناب ضروری ہے۔

باقی قربانی کے دنوں میں اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عبادت قربانی کے جانوروں کا خون بہانا ہے؛ جتنے زیادہ جانوروں کی قربانی ہوگی، اتنا اللہ کا قرب نصیب ہوگا ، لہذا اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو استطاعت دی ہو اور وہ قربانی کی عبادت پر زیادہ رقم خرچ کرنا چاہتا ہو تو اگر ایک بہت زیادہ مہنگے جانور کی قیمت میں اس کو چند عمدہ اور فربہ مناسب جانور مل جائیں تو اس کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ ایک جانور کے بجائے زیادہ جانور قربان کرے، اس میں زیادہ سے زیادہ جانور کی قربانی ہوگی اور عید الاضحی ٰ میں اس سے زیادہ پسندیدہ عمل کوئی نہیں، اور ان جانوروں کے گوشت اور کھال سے زیادہ سے زیادہ مخلوق کا فائدہ ہوگا، اور اس سب کا ثواب قربانی کرنے والے کو ملے گا، نیز ہر جانور کے بالوں کے برابر نیکیاں ملیں گی، بالخصوص اگر کسی علاقے میں فقراء اور غرباء زیادہ ہوں تو وہاں زیادہ جانور ذبح کرنا افضل ہوگا۔

باقی اگر کوئی شخص مثلاً اللہ کی رضا کے لیے بیس لاکھ روپے کی قربانی کرنا چاہ رہا ہے تو اس کے لیے یہ تو بہتر ہے کہ وہ اس رقم میں زیادہ جانور ذبح کرلے لیکن ایک جانور ذبح کرکے باقی رقم فلاحی کاموں میں خرچ کرنے کا مشورہ دینا مناسب نہیں ہے ؛ اس لیے عیدالاضحیٰ جانور کی قربانی ہی سب سے زیادہ افضل عبادت ہے ،جانور ذبح کرنے میں اللہ کی رضا کی خاطر اپنا پیسہ خرچ کرنے کے ساتھ ساتھ ’’إراقة الدم‘‘(جانور کے خون بہانے) کا اجر بھی شامل ہوتا ہے، جب کہ نفلی صدقہ کرنے میں رقم خرچ کرنے کا ثواب تو ملتا ہے لیکن ’’إراقة الدم‘‘ کا ثواب حاصل نہیں ہوتا، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں سو اونٹ نحر کیے تھے جن میں سے 63 اپنے دست ِ مبارک سے نحر کیے تھے اور باقی حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے آپ کے حکم سے کیے تھے، اور واجب قربانی کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا زائد قربانی کرنا بھی قربانی کے افضل ہونے کی دلیل ہے۔

01/05/2026
01/05/2026

Qurbani 2026

29/04/2026

عیدالاضحٰی 2026

28/04/2026

یہ سب تمہارا کرم ہے آقا

3000 روپے کلو مٹن کھا کر اگر کوئی 1600–1700 روپے کلو زندہ بکرے کا حساب لگا رہا ہے، تو وہ سیدھی سی بات ہے کہ خود کو بھی د...
12/04/2026

3000 روپے کلو مٹن کھا کر اگر کوئی 1600–1700 روپے کلو زندہ بکرے کا حساب لگا رہا ہے، تو وہ سیدھی سی بات ہے کہ خود کو بھی دھوکہ دے رہا ہے اور دوسروں کو بھی۔

اس ریٹ پر ملنے والا گوشت یا تو دو چار ماہ کے بچے کا ہوتا ہے، یا پھر کسی کمزور، بیمار اور غیر معیاری جانور کا۔ جبکہ قربانی کا بکرا کم از کم ایک سال کا، مکمل صحت مند، بے عیب اور خوبصورت ہوتا ہے—اور یہی اصل معیار ہے، یہی اصل فرق ہے۔

قربانی کوئی عام سودا نہیں، یہ عبادت ہے۔ اور عبادت میں ہمیشہ بہترین چیز ہی پیش کی جاتی ہے، نہ کہ سستی اور کمزور۔

اوپر سے جو اچھے بکرے آج کل تیار ہو رہے ہیں وہ عام دیسی نہیں ہوتے، بلکہ نسلی ہوتے ہیں—جیسے مکھی چینا، راجن پوری اور امرتسری۔ ان کی باڈی، گروتھ، لک اور پریزنٹیشن ہی الگ لیول کی ہوتی ہے، اس لیے ان کا ریٹ بھی عام دوغلے جانور سے الگ ہی ہوگا—یہ کوئی بحث والی بات نہیں، سیدھا سا اصول ہے۔

اور یاد رکھیں، ایک اچھا بکرا ایک دن میں نہیں بنتا—پورا سال محنت، بہترین خوراک، دانہ، ونڈا اور دیکھ بھال لگتی ہے۔ جو لوگ اس سب کو نظر انداز کر کے صرف “فی کلو” کا حساب لگا رہے ہیں، وہ اصل تصویر دیکھ ہی نہیں رہے۔

سیدھی بات:
اس سال اچھا، تیار شدہ قربانی کا بکرا 2700 سے 2800 روپے فی کلو جائے گا—اور یہی حقیقت ہے۰

اگے تواڈی مرضی


28/08/2025

معلوم نہیں کس کی تحریر ہے اور ماڈرن لوگوں کے ہاں کہاں تک صحیح ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم لوگ ماڈرن کہلائے جانے کے چکر میں بہت قیمتی چیزیں چھوڑ بیٹھے ہیں۔ ہم نے آسانیاں ڈھونڈیں اور اپنے لیے مشکلیں کھڑی کر دیں۔
-
آج ہم دھوتی پہن کے باہر نہیں نکل سکتے لیکن صدیوں کی آزمائش کے بعد یہ واحد لباس تھا جو ہمارے موسم کا تھا۔ ہم نے خود اپنے اوپر جینز مسلط کی اور اس کو پہننے کے لیے کمروں میں اے سی لگوائے۔ شالیں ہم نے فینسی ڈریس شو کے لیے رکھ دیں اور کندھے جکڑنے والے کوٹ جیکٹ اپنا لیے۔ ہمیں داڑھی مونچھ اور لمبے بال کٹ جانے میں امپاورمنٹ ملی اور فیشن بدلا تو یہ سب رکھ کے بھی ہم امپاورڈ تھے!
-
ہم نے حقہ چھوڑ کے سگریٹ اٹھایا اور ولایت سے وہی چیز جب شیشے کی شکل میں آئی تو ہزار روپے فی چلم دے کر اسے پینا شروع کر دیا۔ ہے کوئی ہم جیسا خوش نصیب؟
-
ہم نے لسی چھوڑی، کولا بوتلیں تھام لیں، ہم نے ستو ترک کیا اور سلش کے جام انڈیلے، ہم نے املی آلو بخارے کو اَن ہائی جینک بنا دیا اور وہی چیز ایسنس کے ساتھ جوس کے مہر بند ڈبے خرید کے بچوں کو پلائی، وہ پیک جس کے آر پار نہیں دیکھا جا سکتا کہ گتے کا ہوتا ہے۔ ہم نے ہی اس اندھے پن پہ اعتبار کیا اور آنکھوں دیکھے کو غیر صحت بخش بنا دیا۔
-
ہم نے دودھ سے نکلا دیسی گھی چھوڑا اور بیجوں سے نکلے تیل کو خوش ہو کے پیا، ہم نے چٹا سفید مکھن چھوڑا اور زرد ممی ڈیڈی مارجرین کو چاٹنا شروع کر دیا، اس کے نقصان سٹیبلش ہو گئے تو پھر ڈگمگاتے ڈولتے پھرتے ہیں۔ گوالے کا پانی ہمیں برداشت نہیں لیکن یوریا سے بنا دودھ ہم گڑک جاتے ہیں، الحمدللہ!
-
اصلی دودھ سے ہمیں چائے میں بو آتی ہے اور ٹی واٹنر ہم نوش جان کرتے ہیں جس پہ خود لکھا ہے کہ وہ دودھ نہیں۔ گھر کے نیچے بھینس باندھ کر ہم نے سوکھا دودھ باہر ملک سے خریدنے کا سودا کیا اور کیا ہی خوب کیا!
ہم تو وہ ہیں جو آم کے موسم میں بھی اس کا جوس شیشے کی بوتلوں میں پیتے ہیں۔
-
ہم گڑ کو پینڈو کہتے تھے، سفید چینی ہمیں پیاری لگتی تھی، براؤن شوگر نے ہوٹلوں میں واپس آ کے ہمیں چماٹ مار دیا۔ اب ہم ادھر ادھر دیکھتے ہوئے گال سہلاتے ہیں لیکن گڑ بھی کھاتے ہیں تو پیلے والا کہ بھورا گڑ تو ابھی بھی ہمیں رنگ کی وجہ سے پسند نہیں۔
-
آئیں، ہم سے ملیں، ہم ایمرجنسی میں پیاسے مر جاتے ہیں، گھروں کی ٹونٹی کا پانی نہیں پی سکتے، نہ ابال کر نہ نتھار کے، ہم پانی بھی خرید کے پیتے ہیں۔ ہم ستلجوں، راویوں، چنابوں اور سندھوں کے زمین زاد، ہم ولایتی کمپنیوں کو پیسے دے کے پانی خریدتے ہیں۔
-
ہم تو پودینے کی چٹنی تک ڈبوں میں بند خریدتے ہیں۔ چھٹانک دہی اور مفت والے پودینے کی چٹنی ہم ڈیڑھ سو روپے دے کے اس ذائقے میں کھاتے ہیں جو ہمارے دادوں کو ملتی تو انہوں نے دسترخوان سے اٹھ جانا تھا۔
-
سوہانجنا ہمیں کڑوا لگتا تھا، جب سے وہ مورنگا بن کر کیپسولوں میں آیا ہے تو ہم دو ہزار میں پندرہ دن کی خوراک خریدتے ہیں۔ وہی سوکھے پسے ہوئے پتے جب حکیم پچاس روپے کے دیتا تھا تو ہمیں یقین نہیں تھا آتا۔
-
پانچ سو روپے کا شربت کھانسی کے لیے خریدیں گے لیکن پانچ روپے کی ملٹھی کا ٹکڑا دانتوں میں نہیں دبانا، ’عجیب سا ٹیسٹ آتا ہے۔‘
-
ہم پولیسٹر کے تکیوں پہ سوتے ہیں، نائلون ملا لباس پہنتے ہیں، سردی گرمی بند جوتا چڑھاتے ہیں، کپڑوں کے نیچے کچھ مزید کپڑے پہنتے ہیں اور زندگی کی سڑک پہ دوڑ پڑتے ہیں، رات ہوتی ہے تو اینٹی الرجی بہرحال ہمیں کھانی پڑتی ہے۔
-
ہم اپنی مادری زبان ماں باپ کے لہجے میں نہیں بول سکتے۔ ہم زبان کے لیے نعرے لگاتے ہیں لیکن گھروں میں بچوں سے اردو میں بات کرتے ہیں۔ ہم اردو یا انگریزی کے رعب میں آ کے اپنی جڑیں خود کاٹتے ہیں اور بعد میں وجہ ڈھونڈتے ہیں کہ ہم ’مس فٹ‘ کیوں ہیں۔
-
عربی فارسی کو ہم نے مدرسے والوں کی زبان قرار دیا اور ہاتھ جھاڑ کے سکون سے بیٹھ گئے۔ ’فورٹی رولز آف لَو‘ انگریزی میں آئی تو چومتے نہیں تھکتے۔ الف لیلیٰ، کلیلہ و دمنہ اور اپنے دیسی قصے کہانیوں کو ہم نے لات مار دی، جرمن سے گورے کے پاس آئی تو ہمیں یاد آ گیا کہ استاد مال تو اپنا تھا۔

جا کے دیکھیں تو سہی، عربی فارسی کی پرانی ہوں یا نئی، صرف وہ کتابیں ہمارے پاس اب باقی ہیں جو مدرسوں کے نصاب میں شامل ہیں۔ باقی ایک خزانہ ہے جسے ہم طلاق دیے بیٹھے ہیں۔ پاؤلو کوہلو اسی کا ٹنکچر بنا کے دے گا تو بگ واؤ کرتے ہوئے آنکھوں سے لگا لیں گے۔ متنبی کون تھا، آملی کیا کر گئے، شمس تبریز کا دیوان کیا کہتا ہے، اغانی میں کیا قصے ہیں، ہماری جانے بلا!
-
ہماری گلیوں میں اب کوئی چارپائی بُننے والا نہیں آتا، ہمیں نیم اور بکائن میں تمیز نہیں رہ گئی، ہمارے سورج سخت ہوگئے اور ہمارے سائے ہم سے بھاگ چکے، ہمارے چاند روشنیاں نگل گئیں اور مٹی کی خوشبو کو ہم نے عطر کی شکل میں خریدنا پسند کیا۔
-
وہ بابا جو نیم کی چھاؤں میں چارپائی لگائے ٹیوب ویل کے ساتھ دھوتی پہنے لیٹا ہوتا ہے، وہ حقے کا کش لگاتا ہے، ہمیں دیکھتا ہے اور ہنس کے آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ اسے کب کی سمجھ آ گئی ہے، ہمیں نہیں آئی۔________________

28/08/2025




Address

Nankana Sahib

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hafiz Goats & Breaders posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share