03/05/2026
قربانی کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا اور تقویٰ کا حصول ہے، اور اس کے لیے شرط اخلاص اور للٰہیت ہے، جب کہ ریاکاری ، دکھلاوااور نام ونمود اس کی ضد ہے اور یہ نیک عمل کے ثواب کو ختم کردیتی ہے بلکہ گناہ اور وبال کا ذریعہ بن جاتی ہے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی عمل مقبول ہے جو خالص اللہ کی رضا وخوشنودی کے لیے کیا جائے، ریا کاری ودکھلاوے کا جانور کتنا ہی قیمتی ہو اللہ کی نظر میں اُس کی کوئی قیمت نہیں۔
لہذا اگر کوئی شخص ریا اور نام نمود سے بچتے ہوئے محض اللہ کی رضا کے لیے مہنگا ، خوبصورت اور عمدہ جانور خریدتا ہے ، اور اس کی باقاعدہ نمائش وغیرہ نہیں کرتا اور اس کو اللہ کی رضا کے لیے قربان کرتا ہے تو یہ جائز ہے، اس کا اجر وثواب اس کو ملے گا ، وگرنہ ثواب سے محرومی ہوگی۔
اگر دکھلاوے کے طور پر یا فیشن کی پیروی میں مہنگا ترین جانور خرید کر اس کی باقاعدہ نمائش کی جائے، اور اس نمائش میں مرد وزن کا اختلاط یا دیگر طرح طرح کے مفاسد بھی ہوں تو یہ قربانی کے مقصد اور اخلاص کی روح کے منافی ہے، اس لیے اس سے اجتناب ضروری ہے۔
باقی قربانی کے دنوں میں اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عبادت قربانی کے جانوروں کا خون بہانا ہے؛ جتنے زیادہ جانوروں کی قربانی ہوگی، اتنا اللہ کا قرب نصیب ہوگا ، لہذا اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو استطاعت دی ہو اور وہ قربانی کی عبادت پر زیادہ رقم خرچ کرنا چاہتا ہو تو اگر ایک بہت زیادہ مہنگے جانور کی قیمت میں اس کو چند عمدہ اور فربہ مناسب جانور مل جائیں تو اس کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ ایک جانور کے بجائے زیادہ جانور قربان کرے، اس میں زیادہ سے زیادہ جانور کی قربانی ہوگی اور عید الاضحی ٰ میں اس سے زیادہ پسندیدہ عمل کوئی نہیں، اور ان جانوروں کے گوشت اور کھال سے زیادہ سے زیادہ مخلوق کا فائدہ ہوگا، اور اس سب کا ثواب قربانی کرنے والے کو ملے گا، نیز ہر جانور کے بالوں کے برابر نیکیاں ملیں گی، بالخصوص اگر کسی علاقے میں فقراء اور غرباء زیادہ ہوں تو وہاں زیادہ جانور ذبح کرنا افضل ہوگا۔
باقی اگر کوئی شخص مثلاً اللہ کی رضا کے لیے بیس لاکھ روپے کی قربانی کرنا چاہ رہا ہے تو اس کے لیے یہ تو بہتر ہے کہ وہ اس رقم میں زیادہ جانور ذبح کرلے لیکن ایک جانور ذبح کرکے باقی رقم فلاحی کاموں میں خرچ کرنے کا مشورہ دینا مناسب نہیں ہے ؛ اس لیے عیدالاضحیٰ جانور کی قربانی ہی سب سے زیادہ افضل عبادت ہے ،جانور ذبح کرنے میں اللہ کی رضا کی خاطر اپنا پیسہ خرچ کرنے کے ساتھ ساتھ ’’إراقة الدم‘‘(جانور کے خون بہانے) کا اجر بھی شامل ہوتا ہے، جب کہ نفلی صدقہ کرنے میں رقم خرچ کرنے کا ثواب تو ملتا ہے لیکن ’’إراقة الدم‘‘ کا ثواب حاصل نہیں ہوتا، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں سو اونٹ نحر کیے تھے جن میں سے 63 اپنے دست ِ مبارک سے نحر کیے تھے اور باقی حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے آپ کے حکم سے کیے تھے، اور واجب قربانی کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا زائد قربانی کرنا بھی قربانی کے افضل ہونے کی دلیل ہے۔