28/10/2025
سڑک کنارے سینکڑوں کنٹینروں کی قطاریں، ویران منڈیاں اور ’لاکھوں کا نقصان‘: بی بی سی نے طورخم سرحد کے نزدیک
ترکی کے شہر استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان جاری مذاکرات کا تیسرا روز بھی مکمل ہونے کے بعد فریقین کی جانب سے کوئی حوصلہ افزا بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے ’پاکستان ٹی وی‘ نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ افغان طالبان کا وفد پاکستان کے پیش کردہ مطالبات ماننے پر پوری طرح آمادہ نہیں اور یہ کہ استنبول میں موجود افغان وفد بار بار کابل انتظامیہ سے مشورہ کر رہا ہے اور اُن کی جانب سے دی جانے والی ہدایات پر عمل کر رہا ہے۔
سرکاری ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے الزام عائد کیا کہ ’یہ کہنا مناسب ہو گا کہ وفد کو کابل سے کنٹرول کیا جا رہا ہے۔‘
سرکاری ٹی وی کی اسی رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ کابل انتظامیہ کی جانب سے کوئی حوصلہ افزا جواب نہ ملنے کے باعث تعطل پیدا ہوا ہے اور یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ ’کابل میں بعض عناصر ایک مختلف ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔‘
خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوحہ میں جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی وجوہات کے باعث افغانستان کے ساتھ تجارت بدستور بند ہے۔ بی بی سی نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے حال ہی میں پشاور سے طورخم سرحد کے قریب علاقوں کا دورہ کیا کیا دیکھا؟