Latif ur Rahman official

Latif ur Rahman official میرا استاد وقت ہے۔ کیونکہ وقت کا سیکھایا ہوا کوئی بھول نہیں سکتا ۔۔۔۔۔۔

خیبر پختونخوا پولیس — حق بھی، سہولت بھیخیبر پختونخوا پولیس امن کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہی ہے، مگر آج بھی ہمارے جوان ...
15/08/2026

خیبر پختونخوا پولیس — حق بھی، سہولت بھی

خیبر پختونخوا پولیس امن کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہی ہے، مگر آج بھی ہمارے جوان مہنگائی، کم الاؤنسز، محدود وسائل اور غیر معیاری حفاظتی سامان جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

حکومت سے مطالبہ ہے کہ تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافہ، معیاری بلٹ پروف جیکٹس و ہیلمٹس، جدید اسلحہ و گاڑیاں، اور شہداء و زخمی اہلکاروں کے خاندانوں کے لیے بہتر مراعات یقینی بنائی جائیں۔

پولیس محفوظ ہوگی تو عوام محفوظ ہوں گے۔
پولیس کا جوان مضبوط ہوگا تو خیبر پختونخوا مضبوط ہوگا۔ 🇵🇰












#خیبرپختونخوا
🇵🇰

ٹارگٹ تھا 14 اگست سے پہلے دیر پولیس لائن پر قبضہ کرنا، مگر دو درجن جوانوں نے سینہ تان کر گولیوں کی برسات میں ڈٹ کر مقابل...
15/08/2026

ٹارگٹ تھا 14 اگست سے پہلے دیر پولیس لائن پر قبضہ کرنا، مگر دو درجن جوانوں نے سینہ تان کر گولیوں کی برسات میں ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ 🇵🇰

نہ قدم پیچھے ہٹے، نہ حوصلے پست ہوئے۔
یہ چند جوان صرف پولیس لائن نہیں، اپنے وطن کا پرچم، اپنے لوگوں کا امن اور پاکستان کی عزت بچا رہے تھے۔

بعد ازاں قوم بھی میدان میں نکلی اور امن کے قیام میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔

سلام ہے ان بہادر جوانوں کو، جنہوں نے خوف کے سامنے جھکنے کے بجائے سینہ سپر ہونا قبول کیا۔
اور سلام ہے اُس قوم کو جو امن کے لیے متحد ہو کر کھڑی ہوئی۔ ❤️🇵🇰

امن قربانی مانگتا ہے، اور بہادروں کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔










🇵🇰




دو قبریں، ایک ماں اور ایک باپوزیرستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں دو دوست رہتے تھے—محمود اور رفیق۔بچپن سے دونوں ایک جان، دو...
14/08/2026

دو قبریں، ایک ماں اور ایک باپ

وزیرستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں دو دوست رہتے تھے—محمود اور رفیق۔

بچپن سے دونوں ایک جان، دو قالب تھے۔
فجر کی اذان ہوتی تو محمود، رفیق کے دروازے پر دستک دیتا:

"رفیق! اٹھو، اللہ بلا رہا ہے۔"

رفیق مسکرا کر جواب دیتا:

"محمود! چل، نماز دیر سے ہوئی تو جنت کا راستہ اور لمبا ہو جائے گا۔"

دونوں نے بچپن میں ایک خواب دیکھا تھا:

"ہم اپنی زمین، اپنے لوگوں اور اپنے دین کے لیے اچھا کام کریں گے۔"

وقت گزرا۔ محمود نے وردی پہن لی اور سرحد کی حفاظت پر مامور ہو گیا۔
رفیق نے علمِ دین حاصل کرنے کا راستہ اختیار کیا۔

ایک ماں کے لیے محمود اس کا بیٹا تھا،
اور ایک باپ کے لیے رفیق اس کا بڑھاپا۔

پھر ایک دن گاؤں میں ایسی آوازیں آنے لگیں جو پہلے کبھی نہیں سنی گئی تھیں۔

کسی نے محمود سے کہا:

"رفیق تمہارا دشمن ہے۔"

کسی نے رفیق سے کہا:

"محمود تمہارے دین کا دشمن ہے۔"

دونوں نے ایک دوسرے کو سمجھنے کے بجائے دوسروں کی باتوں پر یقین کر لیا۔

پھر وہ دن آیا جس کا کسی ماں نے خواب بھی نہیں دیکھا تھا۔

ایک پہاڑی راستے پر دونوں آمنے سامنے آ گئے۔

ایک طرف وردی تھی، دوسری طرف مذہب کا نعرہ۔

مگر دونوں طرف ایک ہی زمین کے بیٹے تھے۔

گولی چلی۔

محمود گر پڑا۔

دوسری طرف رفیق بھی گر گیا۔

کچھ لمحوں بعد دونوں کی زبان پر ایک ہی کلمہ تھا:

"لا الٰہ الا اللہ..."

جس دوست کے ساتھ کبھی فجر کی نماز پڑھنے جاتے تھے،
آج اسی دوست کی نمازِ جنازہ پڑھائی جا رہی تھی۔

محمود کی ماں نے اپنے بیٹے کا چہرہ دیکھا اور بس اتنا کہا:

"بیٹا! تم تو کہتے تھے اللہ کی راہ میں جینا ہے... یہ کس نے تمہیں اپنے ہی بھائی کے سامنے کھڑا کر دیا؟"

دوسری طرف رفیق کا بوڑھا باپ اپنے بیٹے کے جنازے کے پاس بیٹھا تھا۔

اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔

وہ بار بار کہتا:

"میرا بیٹا دین بچانے نکلا تھا... مگر میرے گھر کا چراغ ہی بجھ گیا۔"

جنازے ختم ہوئے۔

لوگ چلے گئے۔

نعرے ختم ہو گئے۔

پرچم خاموش ہو گئے۔

مگر دو گھروں میں قیامت باقی رہ گئی۔

محمود کی ماں کے گھر اب وہ آواز نہیں آتی تھی:

"امی، کھانا لگا دیں۔"

رفیق کے باپ کے دروازے پر اب وہ آواز نہیں آتی تھی:

"ابا، میں آ گیا ہوں۔"

کچھ دن بعد وہی لوگ دوبارہ آئے جنہوں نے دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف کیا تھا۔

کسی کے ہاتھ میں نعرہ تھا،
کسی کے ہاتھ میں پرچم،
کسی کے ہاتھ میں امداد کا لفافہ۔

لیکن محمود کی ماں نے لفافہ واپس کر دیا۔

اس نے کہا:

"مجھے پیسے نہیں چاہییں۔
اگر واقعی میرے بیٹے سے محبت ہے تو مجھے دوسرا بیٹا واپس کر دو۔
جسے تم نے میرے بیٹے کے خلاف کھڑا کیا تھا۔"

اور رفیق کے بوڑھے باپ نے بھی سر اٹھا کر کہا:

"مجھے شریعت کے نام پر نفرت نہیں چاہیے۔
مجھے وہ دن واپس چاہیے جب میرے بیٹے کا سب سے اچھا دوست محمود تھا۔"

پھر دونوں خاندان ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے۔

کچھ دیر تک کوئی بات نہ کر سکا۔

آخر محمود کی ماں نے رفیق کے باپ کا ہاتھ پکڑ لیا۔

اور کہا:

"آپ کا بیٹا میرے بیٹے کا دشمن نہیں تھا... دونوں کو دشمن بنایا گیا تھا۔"

بوڑھے باپ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔

اس نے جواب دیا:

"ہم نے اپنے بچوں کو دفن کیا ہے، لیکن اگر ہم نے نفرت بھی دفن نہ کی تو کل ہمارے دوسرے بچے بھی یہی قبریں بھریں گے۔"

اس دن گاؤں نے پہلی بار سمجھا:

دین کے نام پر نفرت پھیلانے والا ضروری نہیں کہ دین کا خیرخواہ ہو۔

جو تمہیں اپنے مسلمان بھائی کا دشمن بنائے، اس سے پہلے یہ ضرور پوچھو کہ تمہاری لڑائی سے فائدہ کس کو ہوگا؟

پرچم مختلف ہو سکتے ہیں،
نعرے مختلف ہو سکتے ہیں،
سوچ مختلف ہو سکتی ہے—

مگر ماں کے آنسو کا رنگ ایک ہے۔

محمود بھی کسی کا بیٹا تھا۔
رفیق بھی کسی کا بیٹا تھا۔

محمود کی قبر پر مٹی بھی وہی تھی،
رفیق کی قبر پر مٹی بھی وہی۔

رب دونوں کا ایک تھا۔
کلمہ دونوں کا ایک تھا۔
کفن دونوں کا سفید تھا۔

تو پھر نفرت نے دونوں کو ایک دوسرے کے سامنے کیوں کھڑا کیا؟

میرے پٹھان بھائیو!

اختلاف رکھو، مگر اپنے بھائی کو دشمن نہ بناؤ۔
سوال کرو، مگر اندھی نفرت میں فیصلہ نہ کرو۔
اپنے دین سے محبت کرو، مگر دین کے نام پر اپنے ہی لوگوں کا خون بہانے والوں کے ہاتھوں استعمال نہ ہو۔

کیونکہ جب لڑائی ختم ہوتی ہے تو نعرے لگانے والے چلے جاتے ہیں۔

گھر میں صرف ایک ماں رہ جاتی ہے...
ایک باپ رہ جاتا ہے...
ایک خالی چارپائی رہ جاتی ہے...
اور ایک قبر رہ جاتی ہے۔

یاد رکھو:

غیر تمہیں پرچم دے سکتا ہے، نعرہ دے سکتا ہے، پیسہ دے سکتا ہے—
مگر جب تمہارا بیٹا قبر میں اترے گا تو تمہارے گھر کا ماتم تمہیں ہی کرنا ہوگا۔

آؤ اپنے بچوں کو بندوق سے پہلے علم دیں،
نفرت سے پہلے شعور دیں،
اور ایک دوسرے کو دشمن سمجھنے سے پہلے بات چیت کا راستہ اختیار کریں۔

کیونکہ اسلام ہمیں انسانیت، انصاف اور امن کا راستہ دکھاتا ہے؛
اپنے ہی بھائی کو دشمن بنا کر اپنے گھر اجاڑنے کا نہیں۔

#وزیرستان













اگر ایماندار کو شہید کر دیا جائے تو یہ اس کی شکست نہیں، بلکہ معاشرے کا امتحان ہے۔ایماندار اپنے کردار کے ساتھ دنیا سے رخص...
11/08/2026

اگر ایماندار کو شہید کر دیا جائے تو یہ اس کی شکست نہیں، بلکہ معاشرے کا امتحان ہے۔
ایماندار اپنے کردار کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوتا ہے،
اور بے ایمان چاہے دنیا میں کتنا ہی مال جمع کر لے، آخرکار اسے بھی خالی ہاتھ جانا ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ ایک عزت اور کردار کی میراث چھوڑ جاتا ہے،
اور دوسرا اپنی دولت، عہدے اور مفاد کے باوجود انجامِ موت سے نہیں بچ سکتا۔
آخر موت سب کو آنی ہے۔
پھر کیوں نہ ایسی زندگی گزاری جائے کہ جانے کے بعد لوگ کہیں:
"وہ ایماندار تھا، حق پر تھا، اور اپنے فرض کے ساتھ وفادار تھا۔"
سبق ابھی بھی وقت ہے—
موت سے پہلے اپنے کردار کو سنوار لو۔
#ایمانداری













11/08/2026

غلامی ختم کرنے کے دو ہی راستے ہوتے ہیں:
یا تو بغاوت کی جائے، یا مالک خود غلام کو آزاد کر دے۔

لیکن نہ آپ بغاوت کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں، نہ اسٹیبلشمنٹ آپ کو اپنی مرضی سے آزاد کرنے والی ہے۔

اس لیے بہتر راستہ یہ ہے کہ سیاست کے نعروں سے نہیں بلکہ ایک پاکستانی بن کر آگے بڑھیں، اخلاق، شعور اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے لوگوں میں احساسِ ذمہ داری اور حق شناسی پیدا کریں۔

تبدیلی صرف نعروں سے نہیں آتی؛
تبدیلی شعور، اتحاد، کردار اور مسلسل پُرامن جدوجہد سے آتی ہے۔













🇵🇰

🖤 امن کے محافظوں کے لیے ایک سوالپولیس افسران کم تنخواہ اور محدود مراعات کے باوجود اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر عوام کے امن ...
09/08/2026

🖤 امن کے محافظوں کے لیے ایک سوال
پولیس افسران کم تنخواہ اور محدود مراعات کے باوجود اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر عوام کے امن و تحفظ کے لیے ڈیوٹی انجام دیتے ہیں۔ افسوس کہ شہادتوں کے باوجود عوامی عدمِ تعاون اور حکومتی خاموشی ان قربانیوں کی تکلیف کو مزید بڑھا دیتی ہے۔
دوسری طرف فتنۂ خوارج کے نام پر مسلمانوں ہی کا خون بہایا جا رہا ہے۔
مسلمانوں کو آپس میں بیٹھ کر اختلافات کا حل تلاش کرنا چاہیے؛ خون بہانے سے نہیں، مذاکرات اور امن سے مسئلہ حل ہونا چاہیے۔
پولیس کے شہداء کو سلام، امن کے لیے دعا، اور ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت۔ 🇵🇰🫡
#امن

ہر مشکل میں یاد آتی ہے پولیس،مگر پولیس والا بھی کسی کا بیٹا، بھائی اور باپ ہوتا ہے۔ 💔کم تنخواہ، لمبی ڈیوٹی اور ہر وقت خط...
09/08/2026

ہر مشکل میں یاد آتی ہے پولیس،
مگر پولیس والا بھی کسی کا بیٹا، بھائی اور باپ ہوتا ہے۔ 💔
کم تنخواہ، لمبی ڈیوٹی اور ہر وقت خطرہ…
جب وہ عوام کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہو جائے تو کم از کم اس کی وردی اور قربانی کی توہین نہ کریں۔
ہماری وردی کے پیچھے بھی ایک دھڑکتا ہوا دل ہے۔ 🇵🇰🫡
#پولیس #شہادت

05/08/2026

🇵🇰 وردی صرف کپڑا نہیں، ایک ذمہ داری ہے۔
ہم دن ہو یا رات، گرمی ہو یا سردی، عوام کے تحفظ اور امن کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہر محافظِ وطن کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ آمین۔ 🤲💙

ڈاکوؤں نے قافلہ لوٹا، پھر آپس میں ہی جھگڑنے لگے کہ حق کس کا ہے۔اور قافلے والے بھی لٹنے کے باوجود انہی ڈاکوؤں کے حق میں د...
30/07/2026

ڈاکوؤں نے قافلہ لوٹا، پھر آپس میں ہی جھگڑنے لگے کہ حق کس کا ہے۔
اور قافلے والے بھی لٹنے کے باوجود انہی ڈاکوؤں کے حق میں دلیلیں دینے لگے۔

یہی تو پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

Address

Charsadda Road Peshawar
Peshawar
25000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Latif ur Rahman official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category