23/12/2025
M***i shamail nadve Sahab
آج ہندوستان میں اہل سنت و الجماعت احناف دیوبند کے چشم و چراغ فاضل دارالعلوم ندوه جناب مفتی شمائل مفتی شمائل ندوی صاحب دامت فیوز ھم اور ملحد جاوید اختر کے درمیان وجود باری تعالی اللہ تعالی کے وجود پر ایک بڑا مناظرہ تھا۔ یہ مناظرہ انتہائی اچھے انداز میں اور طے شدہ اصول و ضوابط کے تحت منعقد ہوا۔
پورے مناظرے میں دونوں اطراف نے اپنے اپنے دلائل پیش کیے، لیکن علمی مناظروں میں کچھ باتیں انسان کو برتری دلاتی ہیں؟ وہ یہ کہ منتخب موضوع پر گفتگو کی جائے اور مخالف کی باتوں کا جواب دیا جائے۔
یہی وجہ تھی کہ مفتی شمائل پوری بحث میں واضحطور پر غالب نظر آ رہے تھے، جاوید اختر کا ایک نکتہ بھی ایسا باقی نہیں رہا جس کا مفتی شمائل نے جواب نہ دیا ہو۔ دوسری طرف جاوید اختر موضوع سے ہٹ کر بحث کر رہے تھے اور جذباتی باتوں کے ذریعے اپنا موقف ثابت کر رہے تھے، یہاں تک کہ ایک جگہ ثالث (حج) نے بھی انہیں یاد دلایا کہ مفتی شمائل کی باتوں کا جواب دیں۔
مفتی شمائل منطق اور استدلال کے مالک ہیں اور انگریزی زبان پر ایسی مہارت کہ ہر وقت انگریزی ڈائلاگ مارنے والے جاوید اختر کی بو لتی بند کر دی بالآخر جاوید اختر نے
آسان فہم زبان میں بات کرنے کی درخواست کی الحمد للہ آج تک کوئی مائی کا لال ایسا نہیں آیا کہ علماء دیوبند نے دلائل کے اس کو زیر نہ کیا ہو الحمد للہ ثم الحمد للہ۔