01/12/2025
سوراب میں ریاستی رٹ کو کھلا چیلنج، کچے راستوں پر مسلح گروہوں کی حکومت، بدنام زمانہ پولیس اہلکار کے سرپرستی میں بھتہ خوری اور اسمگلنگ عروج پر، شہری عدم تحفظ کا شکار
بلوچستان کے ضلع سوراب میں ریاستی رٹ کو کھلے عام للکارا جا رہا ہے۔ سوراب کسٹم چیک پوسٹ کے پہلو میں بنائے گئے کچے کے خفیہ راستے ہر رات منظم اسمگلنگ، بھتہ خوری اور اسلحہ بردار گروہوں کی سرگرمیوں کا مرکز بن چکے ہیں، ایسا منظر جو پہلے صرف سندھ کے کچے کے ڈاکوؤں سے منسوب تھا۔اب کچے کے ڈاکو سوراب میں دوسرے روپ میں نمودار ہوگئے ہیں۔۔
باخبر ذرائع کے مطابق بدنام زمانہ (ڈاکو کے نام سے مشہور) ایک پولیس اہلکارکی سرپرستی میں کوچوں اور گاڑیوں میں منشیات، چھالیہ اور نان کسٹم سامان لوڈ کر کے کچے راستے سے گزارا جا رہا ہے۔
ان گاڑیوں کی باقاعدہ مسلح کانوائے کے ذریعے اسکارٹ کیا جاتا ہے۔ہر گاڑی سے 35 ہزار روپے بھتہ وصول کیا جاتا ہے۔ اس بھتے کی تقسیم یوں کی جاتی ہے کہ 10 ہزار روپے کچے پر کھڑے مسلح گروہ کو جبکہ 15 ہزار روپے مبینہ طور پر کسٹم اہلکاروں کے حصے میں جاتاہے اور بقایہ 10 ہزار روپے ایک بدنام اور متنازع پولیس اہلکار کو، جو اس پورے نیٹ ورک کا مبینہ سرپرست سمجھا جاتا ہے اس کو ملتاہے اُس پولیس اہلکا کو مبینہ طور پر ایس ایچ او سوراب کی مکمل حمایت حاصل ہے، جبکہ بھتہ سے حاصل رقم حثہ بقدر جثہ تقسیم ہوتی ہے۔۔۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ پولیس اہلکار کے خلاف شکایات پہلے بھی آئی جی پولیس بلوچستان تک پہنچ چکی ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ لائن سسٹم کا بھتہ وصول کرتا ہے، اس نے پرائیویٹ مسلح گروہ بھی بنا رکھا ہے،کسٹم کے سامنے کھلے عام اسلحہ لہرا کر گاڑیاں چھڑوا لیتا ہے۔ اس کی ایک تازہ مثال یہ ہے کہ دو دن قبل جب کسٹم نے چھالیہ اور نان کسٹم سامان سے بھری کوچ پکڑی۔ مذکورہ پولیس اہلکار مسلح افراد کے ساتھ کسٹم چوکی پر دھاوا بولتا ہوا پہنچا انہوں نے کسٹم اہلکاروں پر اسلحہ تان کر گاڑی زبردستی چھڑالی جس سے اہلکار شدید خوف اور دباؤ کا شکار رہے
یہ واقعہ ریاستی اداروں پر براہ راست حملہ اور قانون کی کھلی توہین قرار دیا جا رہا ہے۔
سوراب کے شہریوں کے مطابق منشیات، اسلحہ اور نان کسٹم پیڈ سامان کی مفت اور محفوظ ترسیل نے علاقے کا ماحول تباہ کر دیا ہے کیونکہ مسلح گروہ کھلے عام دندناتے ہیں جس کی بناء شام کے بعد شہری نقل و حرکت سے گھبراتے ہیں....
موجودہ صورتحال سے خوف و ہراس میں مبتلا سوراب کے عوام نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے
وزیراعلیٰ بلوچستان،کور کمانڈر،آئی جی ایف سی، آئی جی پولیس بلوچستان، جی او سی 33 ڈویژن، ایم پی اے سوراب، کمشنر قلات ڈویژن ڈی آئی جی خضدار سے فوری نوٹس لینے اور فیصلہ کن کاروائی کا مطالبہ کیا، کیونکہ یہ صورتحال ریاستی رٹ کو چیلنج، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی توہین، اسمگلنگ مافیا کو کھلی چھوٹ اور شہریوں کے مستقبل کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے۔